مسجد الشَّفیہ
نبیِ کریم ﷺ کے سجدوں سے معطر ایک وادی
اسلامی تاریخ کے روشن اور روح پرور ابواب میں جب غزوۂ بنی مصطلق کا تذکرہ آتا ہے تو اس کے بعد واپسی کے سفر کی بھی ایک خاموش مگر بامعنی داستان سامنے آتی ہے۔ اسی سفر میں جب قافلۂ رحمت مدینہ منورہ کی جانب رواں دواں تھا تو راستے میں ایک پُرسکون وادی آئی جسے الشَّفیہ کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سی وادی تھی، مگر اس کی تقدیر میں ایک غیر معمولی لمحہ لکھا جا چکا تھا۔
اسی مقام پر خاتم الانبیاء حضرتمحمدﷺ نے قیام فرمایا اور یہاں نماز ادا کی۔ وہ چند لمحے محض ایک مسافر کا توقف نہ تھے، بلکہ زمین کے نصیب سنورنے کی گھڑی تھی۔ جن ذروں پر حضور ﷺ کے قدم مبارک پڑے وہ شرفِ نسبت سے مالا مال ہو گئے، اور جن پتھروں نے آپ ﷺ کے سجدوں کی جھلک دیکھی وہ رہتی دنیا تک تاریخ کی خاموش مگر معتبر گواہی بن گئے۔
زمانے کے اوراق پلٹتے رہے، نسلیں بدلتی رہیں، مگر محبتِ رسول ﷺ نے اس مقام کی یاد کو دلوں میں زندہ رکھا۔ چنانچہ جب خلافت کا دور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو نصیب ہوا تو انہوں نے اس بابرکت مقام کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں ایک مضبوط مسجد تعمیر کروائی، تاکہ یہ جگہ صرف روایت کی صورت میں محفوظ نہ رہے بلکہ عبادت اور روحانیت کا زندہ مرکز بن جائے۔
آج اگرچہ اس مسجد کی دیواریں کمزور ہو چکی ہیں، چھت باقی نہیں رہی اور پتھر جگہ جگہ بکھرے نظر آتے ہیں، مگر بصیرت کی آنکھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ محض ویران کھنڈر نہیں۔ یہ تو تاریخ کی سانسیں ہیں، ایک ایسی یادگار جس کے ذروں میں ابھی تک ان مبارک سجدوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
حجازِ مقدس کی قدیم شاہراہوں پر شرف الاثایہ، الشفیہ اور وادی العرج کے تاریخی و مذہبی مقامات کا تحقیقی مطالعہ
جزیرہ نما عرب کا مغربی خطہ جسے حجاز کہا جاتا ہے، اپنی جغرافیائی ہیئت اور تاریخی قدامت کے باعث عالمی تہذیبوں کے نقشے پر ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس خطے کی سنگلاخ وادیاں اور تپتے ہوئے ریگزار محض جغرافیائی اکائیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ اسلامی تاریخ کے ان گنت ایسے واقعات کے امین ہیں جنہوں نے انسانیت کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں واقع شرف الاثایہ، الشفیہ اور وادی العرج کے مقامات ان اہم ترین پڑاؤ میں شمار ہوتے ہیں جو عہدِ جاہلیت سے لے کر عہدِ اسلامی کے عروج تک تجارتی اور مذہبی قافلوں کی گزرگاہ رہے۔ ان مقامات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف قدیم تجارتی شاہراہوں کا حصہ تھے بلکہ نبی کریم ﷺ کے سفرِ ہجرت اور حجۃ الوداع جیسے عظیم الشان اسفار کے دوران آپ ﷺ کی قیام گاہیں اور مصلیٰ بھی رہے ۔ زیرِ نظر مقالہ ان مقامات کی تاریخی حیثیت، جغرافیائی حدود اور وہاں نبی کریم ﷺ کی جانب سے ادا کی گئی نمازوں کے مقامات کا علمی و تحقیقی احاطہ کرتا ہے، جس میں فراہم کردہ تصویری شواہد اور تاریخی ماخذات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
جغرافیائی حدود اور لسانی تشریح
شرف الاثایہ اور الشفیہ کے مقامات مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی جانب جانے والی قدیم شاہراہ پر واقع ہیں۔ انتظامی اعتبار سے یہ علاقہ صوبہ مدینہ کی گورنری بدر کے زیرِ انتظام آتا ہے اور مسیجید سے تقریباً 34 کلومیٹر جنوب کی سمت میں واقع ہے ۔ جغرافیائی طور پر یہ خطہ تہامہ کے دامن میں آتا ہے، جہاں پہاڑی سلسلے اور وسیع وادیاں ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ تہامہ الحرمین اسی جغرافیائی نسبت کو ظاہر کرتی ہے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع اس ساحلی اور نیم پہاڑی پٹی کا تاریخی نام ہے ۔
لفظ شرف عربی زبان میں بلندی یا ٹیلے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ اثایہ کا لغوی تعلق پانی کے کنوؤں یا چشموں سے ہے۔ تاریخی طور پر یہ مقام بئرِ اثایہ کے نام سے مشہور رہا ہے، جہاں مسافر اپنی پیاس بجھاتے تھے ۔ الشفیہ اس مقام کا جدید نام ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک بستی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ وادی العرج، جو ان مقامات کے شمال میں واقع ہے، اپنی وسعت اور ناہموار راستوں کی وجہ سے مشہور ہے ۔ قدیم جغرافیہ دانوں نے اس وادی کو حجاج کے راستے کا ایک کٹھن مرحلہ قرار دیا ہے، لیکن پانی کی دستیابی نے اسے ایک ناگزیر پڑاؤ بنا دیا تھا۔
چند ضروری مقامات کی لغات
الأثاية:وردت بضم الأول وفتحه وكسره..وهو علم ذكر في طريق الرسول إلى مكة حيث قصدها محرما ... وتذكر باسم: آبار الأثاية، و شرف الأثاية ... وتعرف اليوم عند أهل القوافل والديار باسم الشفيّة تصغير شفة، لأنها تشف من جهة على جهة أخرى. وحدد البلادي مكانها، بعد المسيجيد المنصرف على أربعة وثلاثين كيلا. والمسيجيد: تقع على الطريق المعبّد بين المدينة وبدر. [انظر مخطط الرويثة والأثاية] .
الأثاية:یہ لفظ پہلے حرف کے ضم، فتحہ اور کسرہ تینوں کے ساتھ مروی ہے۔ یہ ایک معروف مقام کا نام ہے جو رسولِ اکرم ﷺ کے مکہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں آتا تھا، جب آپ ﷺ احرام باندھ کر مکہ کا قصد فرماتے تھے۔ اس مقام کو آبار الأثایہ اور شرف الأثایہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آج کل قافلوں اور اس علاقے کے رہنے والوں کے نزدیک اسے الشفيۃ کہا جاتا ہے، جو لفظ شفہ (ہونٹ) کی تصغیر ہے، کیونکہ یہ جگہ ایک طرف سے دوسری طرف کو کچھ نمایاں اور ابھری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ محقق عاتق بن غيث البلادي نے اس کا مقام یوں متعین کیا ہے کہ یہ المنصرف نامی مقام (جسے آج کل المسيجيد کہا جاتا ہے) سے چونتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ المسيجيد مدینہ اور بدر کے درمیان پکی سڑک پر واقع ہے۔ (دیکھیے: الرويثۃاور الاثایہ کا نقشہ)
(المالم الاثیرۃ فی السنۃ و السیرۃ صفحہ18 مطبوعہ دارالقلم)
طريق الأنبياء:أو درب الأنبياء بين مكة والمدينة. وقد ورد عن النبي صلّى الله عليه وسلّم أن سبعين نبيا مرّوا في هذا الطريق. ويخرج هذا الطريق من مكة في عمرة التنعيم شمالا، وأول مرحلة، هي الجموم على مسافة اثنين وعشرين كيلا من مكة، والمرحلة الثانية، (عسفان) على بعد ثمانين كيلا من مكة، والمرحلة الثالثة، (الدف) على مائة كيل، ثم (طارق قديد) على مسافة 128 كيل وهي الرابعة، والمرحلة الخامسة،الجحفة،والمرحلة السادسة، ودّان ثم (السقيا) في وسط القاحة، ثم بئر الطلوب وتعرف اليوم الحفاة ، ثم شرف الأثاية ، ثم الرويثة ، ثم المنصرف ، ويعرف اليوم بالمسيجيد أو الروحاء، فهما متجاوران ثم السيالة ، ثم المدينة. فكانت ثلاث عشرة مرحلة.
طريق الأنبياء:اسے درب الأنبياء بھی کہا جاتا ہے اور یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک قدیم راستہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ اس راستے سے ستر انبیاء گزرے تھے۔ یہ راستہ مکہ سے شمال کی طرف تنعیم کی عمرہ گاہ سے نکلتا ہے۔ اس کی پہلی منزل الجموم ہے جو مکہ سے بائیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ دوسری منزل عسفان ہے جو مکہ سے اسی کلومیٹر دور ہے۔ تیسری منزل الدف ہے جو تقریباً سو کلومیٹر پر واقع ہے۔ اس کے بعد چوتھی منزل طارق قديد ہے جو ایک سو اٹھائیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پانچویں منزل الجحفۃ ہے، پھر چھٹی منزل ودّان ہے، اس کے بعد السقيا جو وادی القاحۃ کے وسط میں ہے۔ پھر بئر الطلوب آتا ہے جسے آج کل الحفاۃ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد شرف الاثایہ، پھر الرويثۃ، پھر المنصرف آتا ہے جسے آج کل المسيجيد یا الروحاء کہا جاتا ہے اور یہ دونوں قریب قریب ہیں۔ اس کے بعد السيالۃ آتا ہے اور پھر مدینہ منورہ پہنچا جاتا ہے۔ اس طرح اس راستے کی کل تیرہ منزلیں تھیں۔
(المالم الاثیرۃ فی السنۃ و السیرۃ صفحہ170،171 مطبوعہ دارالقلم)
الطّلوب:بفتح أوله وآخره باء موحدة: يقال بئر طلوب، أي: بعيدة الماء. قال البلادي:وتعرف اليوم باسم الحفاة من صدر القاحة على الطريق بين شرف الأثاية والسقيا، على مسافة ثمانية وثلاثين كيلا شمالا من السّقيا.
الطّلوب:اس کے پہلے حرف اور آخری حرف پر فتحہ ہے اور آخر میں باء موحدہ آتی ہے۔ کہا جاتا ہے بئرِ طلوب یعنی ایسا کنواں جس کا پانی دور گہرائی میں ہو۔ محقق عاتق بن غيث البلادي کہتے ہیں کہ آج کل یہ مقام الحفاۃ کے نام سے معروف ہے۔ یہ القاحۃ کے ابتدائی حصے میں اس راستے پر واقع ہے جو شرف الأثایۃ اور السقيا کے درمیان پڑتا ہے، اور السقيا سے شمال کی طرف تقریباً اڑتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(المالم الاثیرۃ فی السنۃ و السیرۃ صفحہ176 مطبوعہ دارالقلم)
العرج:بفتح أوله وسكون ثانيه. يتعدد هذا الاسم في بلاد العرب، وأشهرها اثنان:العرج: قرية في نواحي الطائف ينسب إليها الشاعر العرجي، وهذه لا تعنينا في هذا المعجم، والثاني: العرج: في الطريق بين المدينة ومكة، وهو المذكور في السيرة والحديث: وهو واد من أودية الحجاز، يسيل من مجموعة جبال عند شرف الأثاية، حيث يقطعه طريق الحاج القديم من رأسه، وفيه مسجد لرسول الله صلّى الله عليه وسلّم، ويقع الوادي جنوب المدينة على مسافة 113 كيلا.
العرج:اس کے پہلے حرف پر فتحہ اور دوسرے حرف پر سکون ہے۔ عرب کے علاقوں میں اس نام کے کئی مقامات ہیں، مگر ان میں دو زیادہ مشہور ہیں۔ پہلا العرج طائف کے نواح میں ایک گاؤں ہے جس کی نسبت معروف شاعر عبد الله بن عمر العرجي کی طرف کی جاتی ہے، لیکن اس لغت میں اس مقام کا ذکر مقصود نہیں۔ دوسرا العرج وہ مقام ہے جو مدینہ اور مکہ کے درمیان راستے میں واقع ہے اور یہی مقام سیرت اور احادیث میں مذکور ہے۔ یہ حجاز کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جو شرف الأثایہ کے قریب کئی پہاڑوں کے مجموعے سے بہہ کر نکلتی ہے، اور قدیم حاجیوں کا راستہ اس وادی کے ابتدائی حصے سے گزرتا تھا۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ایک مسجد بھی موجود ہے۔ یہ وادی مدینہ منورہ کے جنوب میں تقریباً 113 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
(المالم الاثیرۃ فی السنۃ و السیرۃ صفحہ188 مطبوعہ دارالقلم)
عہدِ نبوی ﷺ میں وادی العرج اور الاثایہ کی اہمیت
سیرتِ نبوی ﷺ کا گہرا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ان مقامات سے متعدد مرتبہ ہوا، جن میں ہجرتِ مدینہ اور حجۃ الوداع سب سے نمایاں ہیں۔ ان اسفار کے دوران آپ ﷺ نے جن مقامات پر قیام فرمایا اور جہاں جہاں نمازیں ادا کیں، وہ مقامات صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز بن گئے ۔
سفرِ ہجرت اور وادی العرج کا کلیدی موڑ
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی، تو قریش کے تعاقب سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے معروف تجارتی راستوں کے بجائے غیر روایتی اور دشوار گزار راستوں کا انتخاب فرمایا۔ اس سفر کے دوران وادی العرج ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ تاریخی روایات کے مطابق، اس وادی میں آپ ﷺ کی ملاقات بنو اسلم کے ایک فرد مسعود بن ہنیدہ سے ہوئی ۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓکی خدمت میں اپنا ایک اونٹ اور ایک غلام پیش کیا تاکہ سفر کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ مسعود بن ہنیدہ نے آپ ﷺ کو ثنیۃ الغائر کے راستے سے گزارنے کی تجویز دی، جو کہ ایک بلند پہاڑی درہ تھا اور تعاقب کرنے والوں کی نظروں سے اوجھل تھا ۔ یہ واقعہ نہ صرف وادی العرج کی جغرافیائی اہمیت کو واضح کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مقامی قبائل آپ ﷺ کی آمد سے کس قدر واقف اور آپ ﷺ کے لیے کس قدر جانثار تھے۔
حجۃ الوداع اور شرف الاثایہ میں نمازِ فجر
نبی کریم ﷺ نے جب زندگی کا آخری حج ادا فرمایا، تو مکہ کی جانب سفر کے دوران آپ ﷺ نے مختلف مقامات پر قیام فرمایا۔ تاریخی مصادر، جیسے کہ صحیح بخاری اور دیگر کتبِ سیرت، یہ صراحت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک رات وادی العرج میں بسر فرمائی اور اگلی صبح الاثایہ کے مقام پر پہنچے ۔ منگل کا دن آپ ﷺ نے العرج میں گزارا اور بدھ کی صبح آپ ﷺ شرف الاثایہ میں تشریف فرما تھے، جہاں آپ ﷺ نے نمازِ صبح (فجر) ادا فرمائی ۔ جس جگہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی، وہاں پانی کا ایک کنواں تھا جس سے مسافر فیض یاب ہوتے تھے۔ اس مقام کی نشاندہی بعد میں آنے والے ادوار میں ایک مسجد کی تعمیر سے کی گئی، جسے مسجد الاثایہ یا مسجدِ نبویﷺکہا جاتا ہے ۔
تصویری شواہد کا تجزیہ اور آثارِ قدیمہ
فراہم کردہ تصویر میں دکھایا گیا مقام الشفیہ (قدیم شرف الاثایہ) کے تاریخی آثار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تصویر میں تین اہم اجزاء نمایاں ہیں: پیش منظر میں موجود پتھروں کی ایک قطار، درمیانی منظر میں ایک کھلا میدان (مصلیٰ) اور پس منظر میں ایک جدید مسجد کا مینار۔
پتھروں کے نشانات اور قدیم مصلیٰ
تصویر کے پیش منظر میں پتھروں کی جو ترتیب نظر آ رہی ہے، وہ ان قدیم علامات (اعلام) کی باقیات ہیں جو تاریخی مقامات کی نشاندہی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔ مقامی روایات کے مطابق، یہ وہی جگہ ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے نماز ادا فرمائی تھی ۔ ان پتھروں کو مقامی سطح پر مصلیٰ العید کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ الشفیہ کے باشندے ایک طویل عرصے تک یہاں عیدین کی نمازیں ادا کرتے رہے ہیں، جو کہ اس جگہ کی قدامت اور مذہبی تقدس کا ثبوت ہے ۔ یہ پتھر محض اتفاقیہ نہیں رکھے گئے، بلکہ یہ ایک محراب نما شکل میں ترتیب دیے گئے ہیں جو قبلہ کی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مسجدِ الشفیہ اور مسجدِ منبجس
تصویر کے پس منظر میں نظر آنے والی جدید عمارت مسجدالشفیہ ہے، جو موجودہ آبادی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ تاہم، اس جدید مسجد کے بالکل قریب یا اس کے عقب میں وہ مقام ہے جسے تاریخی طور پر مسجدمنبجس کہا جاتا ہے ۔منبجس کا لفظ پانی کے پھوٹنے یا بہنے کے معنوں میں آتا ہے، جو کہ شاید اس کنویں (بئرِ اثایہ) کی طرف اشارہ ہے جو یہاں موجود تھا۔ محققین کا ماننا ہے کہ اس مقام پر دو مختلف جگہوں کے بارے میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وہاں نماز پڑھی، اور ان دونوں جگہوں پر مساجد کے آثار موجود رہے ہیں ۔
وادی العرج کے مخفی آثار
وادی العرج کے شمال میں ایک ٹیلے (تلعہ) کے پیچھے بھی ایک قدیم مسجد کے آثار کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ ، جو اتباعِ سنت میں اپنی مثال آپ تھے، اکثر اس مقام کی تلاش میں رہتے تھے ۔ روایات کے مطابق، وہ العرج سے کوچ کرنے کے بعد ایک ایسی جگہ رکتے تھے جہاں دو یا تین قدیم قبریں تھیں جن پر پتھروں کا ڈھیر (رضم) تھا ۔ وہ وہاں سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز ادا کرتے تھے، کیونکہ ان کے پاس یہ معلومات تھیں کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی مقام پر قیام فرمایا تھا ۔ یہ تمام شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ الشفیہ سے لے کر شمالی العرج تک کا پورا علاقہ نبوی قدموں کے لمس سے منور ہے۔
تجارتی شاہراہیں اور حجاج کے قافلے
شرف الاثایہ کی اہمیت صرف مذہبی نہیں تھی بلکہ یہ ایک سماجی اور معاشی مرکز بھی تھا۔ قدیم زمانے میں، جب آمد و رفت کا انحصار اونٹوں پر تھا، پانی کے ذرائع اور محفوظ قیام گاہیں کسی بھی شاہراہ کی زندگی کہلاتی تھیں ۔
مصری حج روٹ کا اہم پڑاؤ
تاریخی دستاویزات کے مطابق، الشفیہ (شرف الاثایہ) مصری حج راستے پر واقع ایک اہم منزل تھی۔ یہ راستہ مصر سے شروع ہو کر جزیرہ نما سینا، عقبہ، تبوک اور مدینہ منورہ سے ہوتا ہوا مکہ تک جاتا تھا ۔ حجاج کے قافلے جب مدینہ سے نکلتے تھے، تو الشفیہ ان کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہوتا تھا جہاں وہ تازہ دم ہوتے تھے۔ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست (Tentative List) میں شامل یہ راستہ اپنی تعمیراتی باقیات، جیسے کہ تالاب، کنویں اور سرائیں، کی وجہ سے ایک عظیم ورثہ قرار دیا گیا ہے ۔
قدیم بازار اور معیشت
فراہم کردہ معلومات اور مقامی شواہد کے مطابق، الشفیہ میں قدیم زمانے میں تجارتی دکانیں اور بازار موجود تھے ۔ یہ بازار حجاج اور تجارتی قافلوں کو خوراک، چارہ اور دیگر ضروریات فراہم کرتے تھے۔ وادی العرج کی جغرافیائی حیثیت ایسی تھی کہ یہاں مختلف قبائل، جیسے کہ بنو سالم اور بنو صُبح، آباد تھے جو ان راستوں کی حفاظت اور مسافروں کی خدمت کو اپنا فخر سمجھتے تھے ۔ ان قبائل کی سماجی زندگی اور ان کا معاشی ڈھانچہ مکمل طور پر ان شاہراہوں سے وابستہ تھا ۔
عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی تعمیرات اور مساجدِ نبوی کا تحفظ
اسلامی تاریخ میں ان مقامات کو محفوظ کرنے کا سہرا خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے مدینہ کی گورنری کے دوران ان تمام مقامات پر مساجد تعمیر کروائیں جہاں نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی تھی ۔
تعمیراتی اسلوب اور مواد
عہدِ نبوی ﷺکی ابتدائی مساجد انتہائی سادہ تھیں، جن میں پتھروں کی بنیادوں پر کچی اینٹوں (لبن) کا استعمال کیا جاتا تھا اور چھتیں کھجور کے تنوں اور پتوں سے بنائی جاتی تھیں ۔ تاہم، عمر بن عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ نے ان کی تجدید کے دوران تراشیدہ پتھروں اور چونے کا استعمال کیا تاکہ یہ مقامات موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں ۔ الشفیہ اور وادی العرج میں ملنے والے آثار اسی تعمیراتی دور کی عکاسی کرتے ہیں۔ تصویر میں نظر آنے والے پتھروں کے نشانات دراصل اسی قدیم مسجد کی بنیادیں یا بیرونی حدود ہو سکتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ منہدم ہو گئیں، لیکن ان کی یاد آج بھی مقامی لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے ۔
اتباعِ سنت کا جذباتی پہلو
ان مساجد کی تعمیر محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں تھا، بلکہ یہ صحابہ اور تابعین کے اس جذبہِ اتباع کا مظہر تھا جسے آثارِ نبویﷺ سے والہانہ لگاؤ کہا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا العرج کے بنجر ٹیلوں پر رک کر نماز پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک زمین کا وہ ٹکڑا جہاں رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا تھا، کائنات کی تمام آسائشوں سے بہتر تھا ۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ان مقامات کو مٹنے نہیں دیا اور آج چودہ سو سال بعد بھی ہم ان کی نشاندہی کرنے کے قابل ہیں ۔
وادی العرج کے گرد و نواح کے اہم جبال اور وادیاں
وادی العرج ایک وسیع جغرافیائی علاقے کا نام ہے، جس کے اطراف میں کئی ایسے پہاڑ اور وادیاں ہیں جن کا ذکر احادیث اور کتبِ سیرت میں ملتا ہے ۔
جبل صُبح اور مقامی قبائل
وادی العرج کے پہلو میں جبل صُبح کا بلند پہاڑی سلسلہ واقع ہے ۔ یہ پہاڑ قبیلہ صُبح کا مسکن رہا ہے، جو کہ حرب قبیلے کی ایک شاخ ہے۔ یہ قبیلہ اپنی بہادری اور مہمان نوازی کے لیے مشہور تھا اور ہجرت کے سفر میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ پہاڑی کی بلندیوں سے قافلوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی تھی، جو کہ دفاعی اعتبار سے ایک اہم پہلو تھا
وادی الرویثہ اور المنصرف
العرج سے مدینہ کی طرف واپسی پر وادی الرویثہ اور المنصرف کے مقامات آتے ہیں ۔ المنصرف وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے جنگِ بدر سے واپسی پر یا مکہ جاتے ہوئے قیام فرمایا تھا ۔ ان تمام مقامات کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اور یہ ایک مکمل تاریخی راہداری تشکیل دیتے ہیں جسے دربِ انبیاء کہا جاتا ہے ۔
جدید دور میں آثارِ قدیمہ کی تحقیقات
سعودی ہیئت التراث نے حال ہی میں ان قدیم حج راستوں پر تحقیق کے لیے بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مل کر کام شروع کیا ہے ۔
سعودی برطانوی مشترکہ منصوبہ
2025 میں شروع ہونے والے ایک بڑے منصوبے کے تحت، یونیورسٹی آف ایکسیٹر (UK) اور سعودی ماہرین وادی العرج اور الشفیہ کے گرد و نواح میں کھدائی اور نقشہ سازی کر رہے ہیں ۔ اس تحقیق کا مقصد ان مقامات کی صحیح تاریخ کا تعین کرنا ہے جو نویں صدی عیسوی (تیسری صدی ہجری) کے بعد نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے ۔ ان مقامات پر ملنے والے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے (Ceramics)، قدیم سکے اور پتھروں پر لکھی تحریریں اس دور کی سماجی اور معاشی زندگی کے نئے گوشے بے نقاب کر رہی ہیں ۔
ڈیجیٹل دستاویزی ریکارڈ
جدید ٹیکنالوجی، جیسے کہ ڈرون فوٹوگرافی اور تھری ڈی اسکیننگ، کے ذریعے ان مساجد اور مصلیٰ کے آثار کو محفوظ کیا جا رہا ہے ۔ تصویر میں نظر آنے والے پتھروں کی ترتیب کو اگر ہم ہوائی منظر سے دیکھیں، تو وہ ایک منظم مسجد کے نقشے کی عکاسی کرتے ہیں جس کا محراب عین قبلہ کی سمت میں واقع ہے ۔ یہ ڈیجیٹل ریکارڈ مستقبل کے محققین کے لیے ایک بیش قیمت اثاثہ ثابت ہوگا ۔
مذہبی و تاریخی تناظر میں شرف الاثایہ کی انفرادیت
شرف الاثایہ کا مقام صرف ایک کنویں یا ایک مسجد تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی تاریخ کے دو اہم ترین ادوار کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ سفرِ ہجرت کی مشکلات کی یاد دلاتا ہے، اور دوسری طرف یہ فتحِ مکہ کے بعد اسلام کے استحکام اور حجۃ الوداع کی عظمت کا شاہد ہے ۔
ضیاعِ ناقہ کا واقعہ
حجۃ الوداع کے موقع پر العرج میں پیش آنے والاضیاعِ ناقہ(اونٹنی کے گم ہونے) کا واقعہ صبر اور توکل کی ایک عظیم مثال ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا اس موقع پر پرسکون رہنا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پریشانی پر انہیں تسلی دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ، چاہے وہ ایک عام مسافرانہ مشکل ہی کیوں نہ ہو، امت کے لیے ایک سبق ہے ۔ بنو سعد کے لوگوں کا کھانا پیش کرنا اور نبی کریم ﷺ کا ان کے لیے دعا فرمانا اس علاقے کی مٹی میں برکت کے بیج بو گیا ۔
شرف الاثایہ میں برکت کی دعائیں
روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تہامہ اور حجاز کے ان علاقوں کے لیے برکت کی دعائیں فرمائیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ اور اس کے گرد و نواح کے پھلوں اور پیمانوں میں برکت کی دعا فرمائی، جس کے اثرات آج بھی الشفیہ کے ہرے بھرے باغات کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ یہ برکت صرف مادی نہیں تھی، بلکہ اس نے ان بنجر وادیوں کو تاریخ کا حصہ بنا دیا ۔
الشفیہ اور شمالی العرج کے مساجد کا تقابلی جائزہ
اگر ہم الشفیہ کی مسجد کا موازنہ مدینہ کے دیگر تاریخی مساجد، جیسے کہ مسجدِ قبا یا مسجدِ قبلتین، سے کریں، تو ہمیں ایک واضح فرق نظر آتا ہے ۔ مدینہ کی مساجد کو ہر دور کے حکمرانوں نے شاہانہ انداز میں تعمیر کیا، لیکن راستوں پر واقع مساجد، جیسے کہ مسجدِ الاثایہ یا مسجدِ العرج، اپنی اصل اور سادہ حالت میں برقرار رہیں ۔
تصویر میں موجود پتھروں کی قطار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہاں ایک چبوترہ نما مسجد تھی، جسے مسجدِ صخرہ(چٹان والی مسجد) کے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اس قسم کی مساجد اکثر ان مقامات پر بنائی جاتی تھیں جہاں زمین ناہموار ہو اور نبی کریم ﷺ نے کسی بلند چٹان یا پتھر کے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھی ہو ۔
جغرافیائی و تاریخی مطالعہ کا خلاصہ
شرف الاثایہ، الشفیہ اور وادی العرج کے مقامات اسلامی جغرافیہ کے وہ گوہرِ نایاب ہیں جن کی اہمیت وقت کی گرد میں چھپ نہیں سکی ۔ فراہم کردہ تصویر اور اس کے ساتھ ملحقہ معلومات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ:
۱. تاریخی حیثیت: یہ مقامات قدیم تجارتی اور مذہبی شاہراہوں کا قلب تھے، جہاں سے گزرے بغیر مکہ اور مدینہ کا زمینی سفر نامکمل تھا ۔
۲. نبوی نسبت: نبی کریم ﷺ نے یہاں ہجرت کے دوران پناہ لی اور حجۃ الوداع کے دوران نمازیں ادا فرمائیں، جو کہ ان مقامات کو ابدی تقدس عطا کر گیا ۔
۳. آثار کا تسلسل: الشفیہ کی جدید مسجد کے سائے میں موجود قدیم پتھر اور مصلیٰ العید ان تاریخی سجدوں کی یاد دلاتے ہیں جو چودہ صدیاں قبل یہاں کیے گئے تھے ۔
۴. علمی و تحقیقی ضرورت: ان مقامات پر ہونے والی جدید کھدائیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ حرمین کے درمیان واقع اس پوری مقدس راہداری کو ایک عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر محفوظ کیا جائے ۔
ان تمام تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فراہم کردہ تصویر محض ایک ویران جگہ کی نہیں ہے، بلکہ یہ اس مقام کی ہے جہاں کائنات کے سب سے معزز انسان ﷺ کے قدم مبارک پڑے، جہاں وحی کے امین نے سجدہ کیا، اور جہاں تاریخِ اسلام کے کئی اہم ابواب رقم ہوئے۔ ان مقامات کی زیارت اور ان کے بارے میں معلومات کا حصول ایک مسلمان کے لیے نہ صرف علمی بالیدگی کا باعث ہے بلکہ یہ ایمان کی تازگی اور اتباعِ رسول ﷺ کے جذبے کو جلا بخشنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے ۔ الشفیہ اور وادی العرج کی فضائیں آج بھی ان دعاؤں کی خوشبو سے مہک رہی ہیں جو زبانِ نبوی ﷺ سے ان وادیوں کے حق میں نکلی تھیں۔