مرزا قادیانی مسیح گالی باز
مرزا غلام قادیانی جس نے نبوت،مسیحیت،مہدیت کے دعویٰ جات کے علاوہ اور بہت سے دعوے کئے وہ اپنے مخالفین کی نسبت کہتا ہے کہ :
إِنَّ الْعَدَا صَارُوا خَنَازِیرَ الْفَلَا وَنِسَاءُ ہُمْ مِنْ دُونِہِنَّ الأَکْلَبُ
دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور اُن کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔
(روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53)
مخالفین کے لیے حیوانی اور نسوانی تحقیر
یہ عبارت مرزا غلام قادیانی کی اس طرزِ تحریر کی نمائندہ ہے جس میں اختلافِ رائے کو علمی جواب دینے کے بجائے براہِ راست گالی، تحقیر اور اخلاقی پستی کا سہارا لیا گیا۔ مخالفین کو ”بیابانوں کے خنزیر“ کہنا محض سخت زبان نہیں بلکہ دانستہ طور پر انہیں انسانیت کے دائرے سے خارج کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ خنزیر اسلامی معاشرت میں نجاست اور کراہت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور اسی علامت کو استعمال کر کے مخالف فریق کو حقیر ثابت کرنا مقصود ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو مخالفین کی عورتوں کو” کتیوں سے بڑھ کر“ کہنا ہے، جو نہ صرف شدید اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے بلکہ نسوانی شرف اور انسانی وقار پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔ یہاں عورتوں کو کسی فکری یا اعتقادی اختلاف کا فریق بنائے بغیر محض مردوں سے دشمنی کے جرم میں گالی کا نشانہ بنایا گیا، جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ زبان کسی دینی غیرت یا علمی حمیت کا نتیجہ نہیں بلکہ نفسانی غصے اور تحقیر پسند ذہنیت کا اظہار ہے۔
اس عبارت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کے قلم سے نکلی جس نے اپنے لیے مسیحیت، مہدویت بلکہ نبوت جیسے عظیم دعوے کیے، جبکہ انبیاء علیہم السلام کے اسوہ میں دشمنوں کے لیے بھی حلم، صبر اور اخلاقی بلندی کی مثالیں ملتی ہیں۔ اس کے برعکس یہاں نہ صرف سخت الفاظ ہیں بلکہ جانوروں کی تمثیل کے ذریعے اجتماعی توہین کی گئی ہے، جو خود اس دعوے کی عملی تردید بن جاتی ہے۔” مسیح گالی باز“کے عنوان کے تحت یہ حوالہ اس بات کا اولین ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریروں میں گالی کوئی وقتی لغزش نہیں بلکہ ایک منظم اسلوب تھا، جس میں مخالفین کی تذلیل، ان کی عورتوں کی بے حرمتی اور سماجی نفرت کو ہوا دینا مرکزی عنصر کے طور پر موجود ہے۔
اسلوبِ گالی اور حیوانی تشبیہ کا فکری پس منظر
زیرِ بحث عبارت میں مرزا غلام قادیانی نے اپنے مخالفین کو” بیابانوں کے خنزیر“اور ان کی عورتوں کو” کتیوں سے بڑھ کر“ قرار دے کر محض سخت الفاظ استعمال نہیں کیے بلکہ ایک پورا فکری سانچہ تشکیل دیا جس میں انسان کو جانور کے درجے میں گرا دیا جاتا ہے۔ علمی اختلاف میں حیوانی تشبیہات کا استعمال ہمیشہ دلیل کی کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت سمجھا گیا ہے، کیونکہ جب فکر دلیل سے عاجز آ جائے تو زبان تحقیر کا سہارا لیتی ہے۔ یہاں مخالفین کے اعمال یا افکار پر گفتگو کے بجائے ان کی ذات، عزت اور خواتین کی عصمت کو نشانہ بنایا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ طرزِ کلام کسی علمی مناظرے کا حصہ نہیں بلکہ گالی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی شعوری روش ہے۔ یہی اسلوب” مسیح گالی باز“ کے تصور کی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ دعویٰ خواہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، زبان کا اخلاقی معیار اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔
عورتوں کی تحقیر اور اسلامی اخلاقیات
اس عبارت میں مخالفین کے ساتھ ساتھ ان کی عورتوں کو بھی براہِ راست گالی کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اسلامی اخلاقیات میں عورت کی عزت و حرمت کو غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
(سورہ حجرات آیت 11)
اس آیت میں عمومی ممانعت ہے کہ طعن، لقب تراشی اور تحقیر ایمان کے منافی ہے، جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ عورتوں کو جانوروں سے تشبیہ دے کر ان کی اجتماعی بے عزتی کی گئی۔ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں۔
(ابن ماجہ 1977)
اس معیار کے ہوتے ہوئے کسی بھی دینی دعوے دار کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ عورتوں کی تحقیر کو اپنا اسلوب بنائے اور پھر بھی اخلاقِ نبویﷺ کا دعویٰ کرے۔
دعویٔ مسیحیت اور اخلاقِ انبیاء کا تقابل
انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ شدید ترین مخالفت کے باوجود ان کی زبان وقار، صبر اور خیر خواہی سے خالی نہیں ہوئی۔ قرآن مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان کرتا ہے:
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ
ترجمہ کنزالایمان: تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے۔
(سورہ طہٰ 44)
جب فرعون جیسے سرکش کے لیے بھی نرم گفتگو کا حکم ہے تو عام مخالفین کے لیے خنزیر اور کتے جیسے الفاظ کس نبی کے اسوہ سے ماخوذ ہو سکتے ہیں۔ اس تقابل سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زیرِ بحث عبارت نہ صرف دعویٔ مسیحیت سے متصادم ہے بلکہ انبیائی اخلاق کے بالکل برعکس رخ پر کھڑی ہے، اور یہی تضاد اس دعوے کی صداقت پر بنیادی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
گالی بطور دلیل، علمی افلاس کی علامت
علمی دنیا میں یہ اصول مسلم ہے کہ دلیل دلیل سے رد کی جاتی ہے، نہ کہ گالی سے۔ مرزا قادیانی کی اس عبارت میں نہ کوئی عقلی استدلال ہے، نہ نصوصِ شرعیہ سے استشہاد، بلکہ محض تحقیر آمیز تشبیہات ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ
مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بےحیاء اور بدزبان نہیں ہوتا ہے۔
(ترمذی 1977)
اس حدیث کی روشنی میں یہ طرزِ کلام ایمان کے دعوے سے متصادم نظر آتی ہے، چہ جائیکہ نبوت یا مسیحیت کے دعوے کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ بنتا ہو۔ اس طرح گالی خود دلیل کے فقدان کی شہادت بن جاتی ہے اور قاری کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ یہاں علمی قوت نہیں بلکہ لسانی تشدد کارفرما ہے۔
مسیح گالی باز ، ایک عنوان کی معنوی تکمیل
یہ حوالہ” مسیح گالی باز“کے عنوان کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مستند علمی حقیقت بنا دیتا ہے۔ جب ایک شخص کی تحریروں میں بار بار مخالفین، ان کی عورتوں اور ان کے معاشرتی تشخص کو جانوروں سے تشبیہ دی جائے تو یہ اتفاقی لغزش نہیں رہتی بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنایا گیا اسلوب بن جاتی ہے۔ قرآن مجید میں واضح اصول بیان کیا گیا ہے:
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
ترجمہ کنزالایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
(سورہ ق 18)
اس اصول کے تحت یہ گالیاں خود اپنے قائل کے لیے دائمی شہادت بن جاتی ہیں۔ اسی لیے” مسیح گالی باز“ کے تحت اس حوالہ کو رکھنا محض تنقید نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور اعتقادی مقدمہ ہے جو زبان، دعوے اور کردار کے باہمی تضاد کو پوری شدت کے ساتھ قاری کے سامنے رکھ دیتا ہے۔
مرزا قادیانی ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ :
ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔
(روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31)
نسب پر حملہ اور اخلاقی دیوالیہ پن
یہ عبارت مرزا غلام قادیانی کے اس اسلوب کی ایک نہایت سنگین مثال ہے جس میں فکری اختلاف کو اخلاقی گالی میں بدل دیا جاتا ہے۔” ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا“ جیسے دعوائی جملے کے بعد فوراً مخالف کی نسبی حیثیت پر حملہ کر کے اسے” ولد الحرام “اور” حلال زادہ نہیں“کہنا اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ یہاں دلیل کی جگہ جبرِ لسانی نے لے لی ہے۔ علمی دنیا میں کسی دعوے کو نہ ماننے کی سزا یہ نہیں ہوتی کہ مخاطَب کی ماں، نسب اور شرف کو نشانہ بنایا جائے، بلکہ یہ طرزِ بیان خود اس دعوے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ نسب پر حملہ ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب قائل کرنے کے لیے دلیل باقی نہ رہے، اور یہی پہلو اس عبارت کو” مسیح گالی باز“ کے تصور میں مرکزی حیثیت دیتا ہے۔
نسب کی حرمت اور قرآنی اصول
اسلام میں نسب اور خاندانی عزت کو غیر معمولی تقدس حاصل ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ
ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔
(سورہ حجرات 11)
اس آیت کی روشنی میں کسی کو”ولد الحرام “کہنا صریحاً تنابز بالالقاب اور بہتان کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ یہ الزام نہ کسی ثبوت پر مبنی ہے اور نہ ہی اس کا اختلافِ رائے سے کوئی تعلق ہے۔ اس طرح یہ عبارت نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ قرآنی اصولوں کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
حدیثِ نبویﷺ اور نسب پر طعن کی ممانعت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کے اس طرح کے استعمال کو ایمان کے منافی قرار دیا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے:
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔
(بخاری 48)
نسب پر حملہ تو عام گالی سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ اس میں براہِ راست ایک پاک دامن ماں کی طرف بہتان کا پہلو نکلتا ہے، اور بہتان کو قرآن نے سخت ترین گناہوں میں شمار کیا ہے۔ ایسے میں نبوت یا مسیحیت کے دعوے کے ساتھ اس زبان کا جمع ہونا کسی طور قابلِ فہم نہیں رہتا۔
دعویٔ فتح اور جبرِ اعتقاد کا مسئلہ
اس عبارت کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی ”فتح“ کو ایک عقیدے کی حیثیت دے کر اس کے انکار کو اخلاقی اور نسبی جرم بنا دیا۔ یعنی جو شخص اس دعوے کو نہ مانے وہ محض غلطی پر نہیں بلکہ” ولد الحرام بننے کا شوقین“ ہے۔ یہ طرزِ فکر علمی دعوت نہیں بلکہ جبرِ اعتقاد ہے، جس میں اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ قرآن مجید کا اصول اس کے بالکل برعکس ہے:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
ترجمہ کنزالایمان: کچھ زبردستی نہیں دین میں۔
(سورہ البقرۃ 256)
جب دین میں جبر نہیں تو کسی شخصی دعوے کی”فتح“ کو نہ ماننے پر نسبی گالی دینا کس شریعت اور کس اخلاق کا تقاضا ہو سکتا ہے؟
مسیح گالی باز: عنوان کی مزید توثیق
یہ حوالہ”مسیح گالی باز “ کے عنوان کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیتا ہے، کیونکہ یہاں گالی محض طعن یا تمسخر تک محدود نہیں بلکہ نسب اور ماں کی عزت تک جا پہنچتی ہے۔ اس درجے کی زبان کسی وقتی اشتعال یا جذباتی لغزش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسلوب کی عکاسی کرتی ہے جس میں مخالف کو دلیل سے نہیں بلکہ ذلت سے زیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قرآن کے اصول
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
ترجمہ کنزالایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
(سورہ ق 18)
کے تحت یہ الفاظ خود اپنے قائل کے خلاف مستقل گواہی بن جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ حوالہ اس رسالے میں محض بطور اقتباس نہیں بلکہ ایک اخلاقی و اعتقادی فردِ جرم کی حیثیت رکھتا ہے، جو دعویٰ، زبان اور کردار کے تضاد کو پوری وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے۔
گالی کا جواب گالیوں سے مرزا کا قاعدہ
وانما نرد سبّ السابّین علی وجوھھم جزآء للمفتریات ۔
اور صرف ہم گالی دینے والوں کی گالی ان کے منہ کی طرف واپس کرتے ہیں تا ان کے افتراکی پاداش ہو ۔
(روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 80)
گالی کو جوابی حق بنانے کی کوشش
مرزا غلام قادیانی کا یہ جواب دراصل اس کے پورے اسلوبِ سبّ و شتم کا اعتراف بھی ہے اور اس کا ناکام جواز بھی۔ وہ صاف تسلیم کرتا ہے کہ وہ گالیاں دیتا ہے، مگر ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ گالیاں ابتداءً نہیں بلکہ جواباًہیں۔ علمی و دینی اعتبار سے یہی نکتہ سب سے زیادہ کمزور اور قابلِ گرفت ہے، کیونکہ انبیاء اور اولیاء کے اسوہ میں” جوابی گالی“ نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔
اعترافِ جرم، انکار نہیں
اس عبارت میں مرزا قادیانی یہ نہیں کہتا کہ میں گالی نہیں دیتا، بلکہ کہتا ہے کہ ہم گالی دینے والوں کی گالی واپس کرتے ہیں۔ یہ بات خود اس امر کا اقرار ہے کہ اس کی تحریروں میں سبّ و شتم موجود ہے۔ یوں” مسیح گالی باز“ محض الزام نہیں رہتا بلکہ خود مدعا علیہ کی زبان سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ایک مدعیٔ نبوت یا مسیحیت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے قول و فعل کو انبیائی معیار پر پرکھے، نہ کہ عام لوگوں کے طرزِ عمل کو جواز بنا کر اپنی بدزبانی کو درست ثابت کرے۔
قرآنی تعلیم برائی کا جواب برائی سے نہیں
قرآن مجید نے برائی کے جواب میں برائی کو اخلاقی معیار نہیں بنایا بلکہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
ترجمہ کنزالایمان: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔
(سورہ فصلت 34)
اس آیت میں واضح اصول دے دیا گیا کہ بدی کا جواب بدی نہیں بلکہ احسن طریقے سے دیا جائے۔ اگر کوئی شخص گالی دے تو اس کے جواب میں گالی دینا قرآنی تعلیم نہیں بلکہ اسی سطح پر اتر آنا ہے، جس سے اخلاقی برتری ختم ہو جاتی ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ جواز براہِ راست اس قرآنی اصول سے متصادم ہے۔
نبی کریم ﷺ کا اسوہ شدید گالیوں پر بھی صبر
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے مجنون، ساحر، شاعر اور نہ جانے کیا کیا کہا، مگر سیرت کا کوئی معتبر باب یہ نہیں بتاتا کہ آپ ﷺ نے جواباً انہیں ماں، نسب یا جانوروں کی گالیاں دیں۔یہاں جوابی گالی کی کوئی استثنائی شق موجود نہیں۔ اگر جواباً گالی دینا جائز ہوتا تو نبی کریم ﷺ سب سے پہلے اس کے حق دار ہوتے، مگر آپ ﷺ نے اس راستے کو اختیار نہیں کیا۔
” جزاءً للمفتریات “کا غلط مفہوم
مرزا قادیانی نے اپنی گالیوں کو” جزاءً“ یعنی سزا قرار دیا، حالانکہ اسلام میں سزا کا اختیار نہ فرد کو ہے نہ قلم کو، بلکہ شریعت اور عدالت کو ہے۔ کسی پر افترا کا الزام ہو تو اس کا شرعی طریقہ موجود ہے، گالی نہیں۔ قرآن مجید افترا کے بارے میں سخت احکام بیان کرتا ہے، مگر کہیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ تم بھی بدزبان ہو جاؤ۔ یوں یہ جواز نہ فقہی طور پر درست ہے، نہ اخلاقی طور پر، اور نہ ہی قرآنی نصوص سے ثابت۔
دعویٔ مسیحیت اور عام انسان کا معیار
یہ سب سے بنیادی سوال ہے کہ اگر ایک عام مسلمان کے لیے بھی گالی دینا فسق ہے، تو جو شخص اپنے آپ کو مسیحِ موعود، مہدی بلکہ نبی کہتا ہو، اس کے لیے یہ عذر کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے کہ” وہ مجھے گالی دیتے ہیں اس لیے میں بھی دیتا ہوں“۔ یہ منطق تو ایک عام جھگڑالو انسان کی ہو سکتی ہے، کسی آسمانی منصب کے مدعی کی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حوالہ” مسیح گالی باز“ کے عنوان کو غیر معمولی قوت دیتا ہے، کیونکہ یہاں نہ صرف گالی موجود ہے بلکہ اس پر فخر آمیز دفاع بھی کیا گیا ہے۔
یہ عبارت اس حقیقت کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیتی ہے کہ مرزا قادیانی کے ہاں گالی کوئی حادثاتی لغزش نہیں بلکہ ایک باقاعدہ نظریہ اور پالیسی تھی، جسے وہ” جوابی کاروائی“ اور ”جزاء“ کا نام دے کر جائز ثابت کرنا چاہتا تھا۔ قرآن، حدیث اور اسوۂ نبویﷺ کی روشنی میں یہ جواز سراسر باطل ہے، اور اسی بطلان میں” مسیح گالی باز“ ایک تحقیقی عنوان سے بڑھ کر ایک ثابت شدہ اخلاقی فیصلہ بن جاتا ہے۔
جامع خلاصہ
سابقہ گفتگو میں مستند حوالہ جات کے ساتھ یہ حقیقت واضح کی گئی کہ مرزا غلام قادیانی کی تحریروں میں مخالفین، عام مسلمانوں بلکہ ان کی عورتوں اور نسب تک کو نشانہ بنانے والی گالیاں موجود ہیں، اور خود مرزا قادیانی نے ان گالیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیںجوابی کارروائی کا نام دیا۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ گالی، طعن، تحقیر اور بدزبانی نہ صرف ایمان کے منافی ہے بلکہ انبیاء علیہم السلام کے اسوہ اور اخلاقِ نبوی ﷺ کے سراسر خلاف ہے، خواہ وہ ابتداءً ہو یا جواباً۔ بدی کا جواب بدی سے دینا اسلامی تعلیم نہیں، بلکہ نیکی اور حلم کے ذریعے اصلاح کرنا اصل معیار ہے۔
قادیانیوںکو دعوتِ اسلام
اسی بنیاد پر قادیانی حضرات کے سامنے خلوص کے ساتھ یہ دعوت رکھی جاتی ہے کہ وہ شخصیات کے دفاع کے بجائے قرآن، سنتِ رسول ﷺ اور اجماعِ امت کو معیار بنائیں، دعووں کو اخلاقِ انبیاء پر پرکھیں، اور ختمِ نبوت جیسے بنیادی عقیدے پر امتِ مسلمہ کے متفقہ مؤقف کو قبول کریں۔ اسلام کسی فرقہ یا شخصیت کا نام نہیں بلکہ قرآن و سنت کا نام ہے، اور اسی میں دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔ ہم نفرت نہیں بلکہ حق کی دعوت دیتے ہیں، اور یہ دعوت ہے کہ خالص اسلام کی طرف لوٹ آئیے، جہاں گالی نہیں، دلیل ہے،جہاں جبر نہیں، ہدایت ہے، اور جہاں نبی آخر الزمان ﷺ کے اخلاق ہی ایمان کا معیار ہیں۔
قرآن پر بہتان اور بدزبانی کا نیا جواز
مرزا قادیانی کو جب لوگوں نے روکا کہ تو گالیاں مت نکالاکر تو اس نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ :
سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔
(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 109)
مرزا غلام قادیانی کا یہ کہنا کہ” سارا قرآن شریف گالیوں سے بھرا ہوا ہے“دراصل اپنی بدزبانی سے جان چھڑانے کی ایک ناکام کوشش ہی نہیں بلکہ قرآنِ مجید پر صریح بہتان بھی ہے۔ قرآن حکیم جس کتاب کو خود ہدایت، حکمت اور اخلاقِ عالیہ قرار دیتا ہے، اسے گالیوں کا مجموعہ کہنا کلامِ الٰہی کی روح سے ناواقفیت یا دانستہ تحریفِ مفہوم کی علامت ہے۔ قرآن جہاں باطل افکار کی تردید کرتا ہے وہاں الفاظ دلیل، تمثیل اور حکیمانہ اسلوب میں آتے ہیں، نہ کہ نسب، عورتوں یا اشخاص کو جانوروں سے تشبیہ دے کر۔ اس فرق کو مٹانا علمی خیانت ہے۔
قرآنی اسلوبِ کلام اور حسنِ گفتار کا اصول
قرآن مجید واضح طور پر زبان کے پاکیزہ استعمال کا حکم دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
ترجمہ کنزالایمان:اور میرے بندوں سے فرماؤ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو۔
(سورہ اسراء آیت 53)
اس آیت میں عمومی حکم ہے کہ گفتگو کا معیار ”احسن“ ہو، یعنی بہترین، نرم اور شائستہ۔ اگر قرآن خود گالیوں سے بھرا ہوتا تو” احسن قول“ کا یہ حکم بے معنی ہو جاتا۔ اسی طرح قرآن نبی کریم ﷺ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرماتا ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
ترجمہ کنزالایمان: اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے۔
(سورہ القلم آیت 4)
عظیم اخلاق گالی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
تردید اور سبّ میں بنیادی فرق
قرآنِ مجید میں جہاں کفر، شرک اور باطل عقائد کی تردید ہے وہاں موضوع” عمل اور عقیدہ “ہے، نہ کہ ذاتیات۔ مثلاً باطل معبودوں کی بے بسی بیان کی جاتی ہے، مگر یہ اسلوب دلیل اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ فحش کلامی پر۔ مرزا قادیانی نے اس علمی تردید کو شخصی گالیوں کے ہم معنی قرار دے کر قرآن کے اسلوب کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ یہ طرزِ فکر دراصل اس حقیقت سے فرار ہے کہ قرآن کی کسی آیت سے ماں، نسب یا عورتوں کی گالی کا جواز نہیں نکلتا۔
اخلاقِ نبوی ﷺ اور قرآنی نمونہ
قرآن نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ
ترجمہ کنزالایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ او ر ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔
(سورہ آل عمران آیت 159)
یہ نرمی اس وقت بھی تھی جب شدید مخالفت، طعن اور اذیت موجود تھی۔ اگر قرآن کا مزاج گالی ہوتا تو اس نرمی کی تعلیم کیوں دی جاتی؟ اس کے برعکس قرآن اصلاح، نصیحت اور حکمت کے ذریعے دل جیتنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
نتیجہ اور دعوتِ فکر
یہ حوالہ” مسیح گالی باز“کے باب میں اس لیے نہایت اہم ہے کہ یہاں گالی کے دفاع میں بات آگے بڑھ کر قرآن پر ہی ڈال دی گئی۔ یہ نہ صرف اخلاقی کمزوری بلکہ فکری بے بسی کا اعلان ہے۔ قادیانی حضرات کے لیے خلوص کے ساتھ دعوت ہے کہ قرآن کو اس کے اپنے بیان کردہ معیار پر پرکھیں، اس کے اسلوبِ ہدایت کو گالی کے پردے میں نہ چھپائیں، اور محمد رسول اللہ ﷺ کے عظیم اخلاق کو ایمان کا اصل پیمانہ بنائیں۔ قرآن دلیل، حکمت اور حسنِ کلام کی دعوت دیتا ہے۔آئیے اسی خالص اسلام کی طرف لوٹ آئیں جہاں زبان پاکیزہ اور عقیدہ واضح ہوتا ہے۔
قرآن پر بہتان، تفسیر کی تحریف اور گالی کو دلیل بنانے کی ناکام کوشش
قرآؔ ن شریف جس آوازبلند سے سخت زبانی کے طریق کواستعمال کر رہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلًازمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پرلعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفارکو سُنا سُنا کر ان پرلعنت بھیجتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن شریف میں بعض کا نام ابو لہب اوربعض کانام کلب اور خنزیر کہا اور ابو جہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید (بن) مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔
(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 115،116 حاشیہ)
مرزا غلام قادیانی کی یہ عبارت محض بدزبانی کا دفاع نہیں بلکہ قرآنِ مجید کے اسلوب پر صریح بہتان، مفہوم کی تحریف اور آیاتِ قرآنیہ کو عوامی گالیوں کے برابر لاکھڑا کرنے کی جسارت ہے۔ اس نے قرآن کی وعید، تردید اور اخلاقی فیصلہ کو جان بوجھ کر بازاری گالی کے ہم معنی قرار دینے کی کوشش کی، حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
لعنت کو گالی قرار دینا،قرآنی اصطلاح کی تحریف
مرزا قادیانی کہتا ہے کہ قرآن کفار پر لعنت بھیجتا ہے اور یہ گالی ہے، حالانکہ لعنت قرآن کی اصطلاح میں کسی کو گالی دینا نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے محرومی کا اعلان ہے، جو ایک عدالتی اور اعتقادی فیصلہ ہوتا ہے، نہ کہ فحش کلامی۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا
ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،۔
(سورۃ الأحزاب آیت: 64)
یہاں نہ کوئی ذاتی طعن ہے، نہ نسب پر حملہ، نہ عورتوں کی تحقیر، بلکہ ایک الٰہی فیصلہ ہے جو عقیدے کی بنیاد پر صادر ہوا ہے۔ اس کو عام انسانی گالی کہنا علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔
ابو لہب کو گالی کہنا،جہالت یا دانستہ فریب
مرزا قادیانی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ قرآن نے کسی کا نام” ابو لہب“ رکھ کر اسے گالی دی، حالانکہ ابو لہب اس شخص کی کنیت تھی جو خود عرب معاشرے میں مشہور تھی، اور قرآن نے اسی معروف نام کو استعمال کیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
ترجمہ کنزالایمان: تباہ ہوجائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہوہی گیا۔
(سورہ اللھب آیت 1)
یہاں قرآن نے اس کے اعمال کی خبر دی ہے، نہ کہ اس کی ماں، نسب یا عورتوں کو گالی دی، جیسا کہ مرزا قادیانی اپنی تحریروں میں کرتا ہے۔
بندر اور خنزیرکا ذکر، مسخِ کردار، نہ کہ گالی
مرزا قادیانی نے قرآن کے اس بیان کو بھی گالی قرار دیا جس میں بعض قوموں کے عذاب اور مسخ کا ذکر ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُولَٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ
ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سور اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے۔
(سورہ المائدہ آیت 60)
یہ آیت سزا اور عذاب کے بیان میں ہے، کسی زندہ مخالف کو گالی دینے کے لیے نہیں۔ اس کو عام گالیوں پر قیاس کرنا قرآن کے بیان کردہ تاریخی و اخلاقی تناظر کو مسخ کرنا ہے۔
ولید بن مغیرہ کے بارے میں سخت الفاظ
قرآن نے ولید بن مغیرہ کے اعمال، نیت اور باطنی کیفیت کو بیان کیا، مگر ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو فحش، بازاری یا نسبی گالی کے زمرے میں آئے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ، فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ
ترجمہ کنزالایمان: بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی۔تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی۔
(سورہ المدثر آیت: ,18–19)
یہ تحلیلِ کردار ہے، نہ کہ گالی۔ قرآن فرد کے فعل کو موضوع بناتا ہے، مرزا قادیانی کی طرح اس کی ماں، نسب یا عورتوں کو نہیں۔مرزا غلام قادیانی کا یہ دعویٰ کہ قرآن سخت گالیوں کا مجموعہ ہے، دراصل اپنی بدزبانی کو الٰہی رنگ دینے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ قرآن گالی نہیں دیتا، فیصلہ سناتا ہے؛ نسب نہیں اچھالتا، کردار واضح کرتا ہے؛ عورتوں کو نشانہ نہیں بناتا، اعمال پر حکم لگاتا ہے۔قادیانی حضرات کے لیے خلوص کے ساتھ دعوت ہے کہ وہ قرآن کو مرزا قادیانی کی عینک سے نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ، امت کے متفقہ فہم اور خود قرآن کے بیان کردہ معیار کے مطابق سمجھیں۔ یہی خالص اسلام ہے، اور اسی میں ہدایت، اخلاق اور نجات ہے۔
اقراری ثبوت: خود مرزا قادیانی کی زبان سے فیصلہ
ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔
(روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133)
یہ جملہ” — ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے“ — مرزا غلام قادیانی کی اپنی تحریر سے ایک ایسا اقراری ثبوت ہے جو کسی خارجی استدلال کا محتاج نہیں رہتا۔ جب کسی شخص کے قلم سے یہ اصولی قاعدہ ثابت ہو جائے کہ ناحق گالی دینا کمینگی اور سفالت ہے، اور اسی شخص کی دیگر کتب میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کو دی گئی ہزاروں ناحق گالیاں موجود ہوں، تو فیصلہ خود بخود اسی کے اپنے معیار پر صادر ہو جاتا ہے۔
یہاں اصل نکتہ یہ نہیں کہ مخالفین نے کیا کہا، بلکہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خود گالی کو اخلاقی پستی قرار دیا، پھر اسی قاعدے کی بار بار خلاف ورزی کی۔ یہ تضاد محض لغزش نہیں بلکہ ایک مستقل روش کی نشان دہی کرتا ہے، جس میں دعویٰ کچھ اور ہے اور عمل اس کے بالکل برعکس۔ ایسے میں دفاع کے تمام عذر — جوابی گالی، قرآن پر تہمت، یا سخت کلامی کو گالی بنا کر پیش کرنا — خود اسی اقراری اصول کے سامنے بے وزن ہو جاتے ہیں۔
علمی نتیجہ
جب اصول بھی قائل کا ہو اور اطلاق بھی اسی پر لازم آئے، تو یہ خود احتسابی کی ناکامی نہیں بلکہ خود الزام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حوالہ” مسیح گالی باز“کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں گالیوں کی کثرت پر بحث نہیں، بلکہ گالی کی اخلاقی حیثیت پر خود مرزا قادیانی کا فیصلہ موجود ہے، جو اس کے اپنے طرزِ عمل کے خلاف گواہی بن جاتا ہے۔
قادیانی حضرات کے لیے خیرخواہانہ دعوت ہے کہ شخصیات کے دفاع کے بجائے اصول کو تھامیں۔ اگر ناحق گالی واقعی سفالت ہے تو پھر اس اسلوب سے براءت اختیار کیجیے، اور اس اسلام کی طرف لوٹ آئیے جو قرآن و سنت، اخلاقِ نبوی ﷺ اور ختمِ نبوت پر قائم ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں دلیل ہے، وقار ہے اور نجات ہے۔
توہین کا بالواسطہ طریقہ، بہتان اور خود اقراری معیار
مرزا قادیانی نے عیسائی پادری عبداللہ آتھم کی طرف ایک بات منسوب کرتے ہوئے کہا کہ :
یہ پادری آنحضرت ﷺ کو دجال کہتا ہے۔(نقل کفر کفر ناباشد)
(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 6)
یہ واقعہ مرزا غلام قادیانی کے اس اسلوب کو نمایاں کرتا ہے جس میں گالی یا توہین کو براہِ راست کہنے کے بجائے کسی دوسرے کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے۔ مرزا نے عیسائی پادری عبداللہ آتھم کی طرف یہ بات منسوب کی کہ وہ آنحضرت ﷺ کو” دجال“ کہتا ہے، حالانکہ اس نسبت پر عیسائی حلقوں کی طرف سے اجتماعی تردید سامنے آئی کہ ہم مسلمانوں کے نبی ﷺ کے لیے ایسا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اس صورتِ حال میں اصل مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ نسبت کس نے کی، بلکہ یہ ہے کہ توہین آمیز لفظ خود مرزا کی تحریر میں آیا اور اسی کے ذریعے عام قارئین تک پہنچا۔
بالواسطہ گالی بھی گالی ہے
گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے جیسے کوئی شخص کسی کو اپنے مونہہ سے تو حرامزادہ نہ کہے مگر یہ کہہ دے کہ فلاں شخص آپ کو حرامزادہ کہتا تھا یہ بھی گالی ہو گی جو اس نے دوسرے کو دی گو دوسرے کی زبان سے دلائی ۔
(قادیانی اخبار الفضل 3 ستمبر 1935 صفحہ 6)
اصولی طور پر اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں توہین آمیز لفظ خود نہ کہے مگر یہ کہہ دے کہ ”فلاں تمہیں یہ کہتا تھا“، تو توہین کا اثر وہی رہتا ہے، کیونکہ لفظ اسی کے قلم یا زبان سے منتقل ہوا۔ اسی نکتے کی وضاحت قادیانی اخبار الفضل میں خود قادیانی حلقوں کی طرف سے کی گئی کہ دوسرے کی طرف منسوب کر کے گالی بیان کرنا بھی گالی ہی شمار ہوتی ہے۔ یوں یہ اصولی بات مرزا قادیانی کے اس طرزِ بیان پر براہِ راست منطبق ہوتی ہے۔
جب کسی فرد یا گروہ کی طرف ایک ایسی بات منسوب کی جائے جس کی وہ صراحتاً تردید کرے، تو وہ محض نقلِ قول نہیں رہتی بلکہ بہتان بن جاتی ہے۔ یہاں عیسائی پادری کی طرف منسوب نسبت کی تردید سامنے آنے کے بعد بھی یہ حقیقت برقرار رہتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے لیے” دجال“ جیسے لفظ کا تذکرہ مرزا کے متن میں داخل ہوا، جو احترامِ رسالت ﷺ کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ اسی قسم کی ایک حرکت انجینئر مرزا محمد علی نے بھی کی اور اس کی پاداش میں پاکستانی قانون کے مطابق اس پر 295C کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو تاحال جاری ہے اور اس کی سزا پاکستانی قانون میں پھانسی ہے ۔