1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

محمدیہ پاکٹ بک

وحید احمد نے 'تحفظ ختم نبوت کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 3, 2015

  1. ‏ جون 22, 2015 #161
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ حرام :
    خلیفہ قادیان لکھتا ہے کہ میرے باپ سے:
    '' ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی بٹھائے رکھو لیکن لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں میں لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کردیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ حالانکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔'' (۱۱۳۲)
    -------------
    (۱۱۳۲) ایضاً ص۹۴
  2. ‏ جون 22, 2015 #162
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ جائز نہیں:
    '' غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی نہیں۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں اس لیے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں اس کے خیالات و اعتقادات کو اختیار کرلیتی ہیں اور اس اپنے دین کو تباہ کرلیتی ہیں۔'' (۱۱۳۳)
    '' حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو لڑکی نہ دے۔''(۱۱۳۴)
    '' جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقینا مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔'' (۱۱۳۵)
    -----------------------------------------------------------------
    (۱۱۳۳) برکات خلافت ص۷۳
    (۱۱۳۴) ایضاً ص۷۵
    (۱۱۳۵) ملائکۃ اللّٰہ ص۴۶
  3. ‏ جون 22, 2015 #163
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    مسلمانوں کی نماز جنازہ ناجائز
    مرزا قادیان کا اپنے فوت شدہ بیٹے سے سلوک
    خلیفہ قادیان اپنے باپ کے متعلق روایت کرتا ہے:
    '' آپ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق کرتا تھا جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہیں کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ایک دفعہ میں بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آگیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا ہے۔ اور یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ حضرت صاحب نے ان کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی۔ باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔'' (۱۱۳۶)
    فرمانبردار بیٹے سے جس گروہ کے بانی کا یہ سلوک ہو، ایسے گروہ کی مسلمانوں سے جیسی ہمدردی ہوسکتی ہے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے یہی خلیفہ قادیان از خود ایک سوال پیدا کرکے اس کا جواب دیتا ہے:
    '' غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح علیہ السلام کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟'' (۱۱۳۷)
    ------------------------------
    (۱۱۳۶) انوار خلافت ص۹۱ و خطبات محمود ص۳۲۰، ج۴ واللفظ لہ
    (۱۱۳۷) انوار خلافت ص۹۱
  4. ‏ جون 22, 2015 #164
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    کسی مسلمان کا جنازہ مت پڑھو:
    '' قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے۔ لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہوگیا ہے تو اس کا بھی جنازہ جائز نہیں (نہ معلوم یہ حکم کہاں ہے) پھر غیر احمدی کا جنازہ کس طرح پڑھنا جائز ہوسکتا ہے۔'' (۱۱۳۸)
    ----------------------
    (۱۱۳۸) ایضاً ص۹۲
  5. ‏ جون 22, 2015 #165
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    شعائر اللہ کی ہتک:
    تیرہ سو سال گزر چکے، مگر اس عرصہ میں شعائر اسلامی کی ہتک اور انتہائی توہین کی کوئی شخص جرأت نہیںکرسکا۔ مکہ و مدینہ کی فضیلت مسلمہ چیز ہے۔ قرآن پاک نے صاف الفاظ میں ان مقامات کی عزت و حرمت بیان فرمائی۔ مسلمانوں کی ان مقامات سے انتہائی محبت کا آج بھی یہ حال ہے کہ اطراف و اکناف عالم سے سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں فرزندان توحید شعائر اسلامی کی زیارت او ر فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خداوند کریم نے حج کو ایک صاحب توفیق پر فرض قرار دیا ہے اور صاف ارشاد فرمایا ہے کہ حج میں بے شمار برکتیں ہیں۔ مگر خلیفہ قادیان اپنے خیالات کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے:
    '' قادیان تمام بستیوں کی ام (ماں) ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جاوے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟'' (۱۱۳۹)
    -------------------------------------
    (۱۱۳۹) حقیقۃ الرویا ص۴۶
  6. ‏ جون 22, 2015 #166
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    سالانہ جلسہ در اصل قادیانیوں کا حج ہے:
    خلیفہ قادیان لکھتا ہے:
    '' ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔'' (۱۱۴۰)
    -----------------------------
    (۱۱۴۰) مرزا محمود کا خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل جلد ۲۰ نمبر ۶۶ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۳۲
  7. ‏ جون 22, 2015 #167
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    اب حج کا مقام صرف قادیان ہے:
    '' ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام (حج) کے لیے مقرر کیا ہے۔'' (۱۱۴۱)
    ----------------------
    (۱۱۴۱) مرزا محمود کا خطبہ جمعہ مورخہ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۱۴ مندرجہ الفضل مورخہ ۳؍ جنوری ۱۹۱۵ء و برکات خلافت ص۵ و خطبات محمود ص۲۳۶، ج۴ ملخصًا
  8. ‏ جون 22, 2015 #168
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    مسلمانوں سے انتہائی دشمنی کے ثبوت میں حسب ذیل حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

    مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنا:
    انتقام لینے کا زمانہ اب زمانہ بدل گیا ہے دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا مگر اب مسیح اس لیے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔ حضرت مسیح موعود نے مجھے یوسف قرار دیا ہے میں کہتا ہوں مجھے یہ نام دینے کی کیا ضرورت تھی۔ یہی کہ پہلے یوسف کی جو ہتک کی گئی ہے اس کا میرے ذریعہ ازالہ کردیا جائے پس وہ تو ایسا یوسف تھا جسے بھائیوں نے گھر سے نکالا تھا۔ مگر اس یوسف نے اپنے دشمن بھائیوں کو گھر سے نکال دیا۔ پس میرا مقابلہ آسان نہیں۔(۱۱۴۲)
    مخالفین کو سولی پر لٹکانا:
    '' خدا تعالیٰ نے آپ (مرزا غلام احمد) کا نام عیسیٰ رکھا ہے تاکہ آپ سے پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا مگر آپ زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔''(۱۱۴۳)
    ----------------------------------
    (۱۱۴۲) عرفان الٰہی ص۹۴، ۹۵
    (۱۱۴۳) تقدیر الٰہی ص۲۹
  9. ‏ جولائی 3, 2015 #169
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    بشارت اسمہ احمد

    وَاِِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یَابَنِیْ اِِسْرَآئِیلَ اِِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَاْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ اَحْمَدُ فَلَمَّا جَائَ ہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ۔(سورۂ الصف: رکوع۱)
    '' اور جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اے بنی اسرائیل تحقیق میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں ماننے والا اس چیز کو کہ آگے میرے ہے توریت سے اور خوشخبری دینے والا ساتھ ایک رسول کے کہ میرے بعد آے گا نام اس کا احمد ہے۔ پس جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی کھلی دلیلوں کے ساتھ آیا، تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا جادو ہے۔''
    ناظرین کرام! اس آیت مقدسہ میں ایک رسول کی آمد کا ذکر ہے جس کا نام احمد ہے اور اس کی تعیین ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ مگر قادیانی آپ کو اسمہ احمد والی پیشگوئی کا مصداق نہیں مانتے بلکہ ان کے نزدیک اس آیت کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مگر دراصل بات اور ہے۔ یہ لوگ نہ قرآن کو مانتے ہیں نہ حدیث نبوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس بات کی تشریح کردی ہے کہ میں اس کا مصداق ہوں۔
    (۱) عن جبیر بن مطعم قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الما حی الذی یمحو اللّٰہ بالکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علیٰ قدمی وانا العاقب الذی لیس بعدی نبی۔(۱۱۴۴)
    ''حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ میرے لیے نام ہیں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، اور میں ماحی ہوں مٹاوے گا اللہ میرے ساتھ کفر کو اور میں حاشر ہوں کہ اٹھائے جائیں گے لوگ میرے قدم پر، اور میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔''
    مندرجہ بالا حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پانچ نام بتائے ہیں۔ مگر پہلے دو ناموں کی تشریح نہیں کی کیونکہ وہ ذاتی نام ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم مگر دوسرے نام صفاتی ہیں لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریح کردی۔
    (۲) مشکوٰۃ المصابیح باب فضائل سید المرسلین میں ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں( ۱۱۴۵)
    وَسَاُخْبِرُکُمْ بِاَوَّلِ اَمْرِیْ دَعْوَۃُ اِبْرَاھِیْمَ وَبَشَارَۃَ عِیْسٰی اور اب خبر دوں تم کو ساتھ اول امر اپنے کے کہ وہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے اور خوشخبری دینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وَدَعْوَۃُ اِبْرَاھِیْمَ فرما کر اس دعائے خلیل کی طرف اشارہ کیا ہے جو پارہ اول سورہ البقر کے رکوع میں یوں مذکور ہے رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوَلاً مِّنْھمٌاے ہمارے رب بھیج ان عربوں میں ایک رسول ان میں سے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت عیسیٰ کے متعلق (وبشارۃ عیسیٰ) فرما کر اس نوید مسیحا کی طرف اشارہ کیا جو سورۃ الصف میں ہے۔
    اِسْمِیْ فِی الْقُرَانِ مُحَمَّد وَفِی الانجیل اَحْمَدُ میرا نام قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور انجیل میں احمد ہے۔ (خصائص الکبریٰ جلد اول ص۷۸۔ شرح الشفا جلد اول ص۴۸۹۔ مواہب اللّدنیّہ جلد اول ص۱۹۴)(۱۱۴۶)
    خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس بات کو لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام احمد تھا۔
    ۱۔ مسیح علیہ السلام کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ مبشرا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد الخ یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے۔(۱۱۴۷)
    ۲۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا۔ یَاتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔(۱۱۴۸)
    ۳۔ اور اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ اس لیے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (۱۱۴۹)
    ۴۔ رسالہ اربعین مطبوعہ ۱۹۰۲ء نمبر ۴ ص۱۵ پر لکھا ہے: '' تم سن چکے ہو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام ہیں (۱) ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ نام تورایت میں لکھا ہے دوسرا نام احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک اجمالی رنگ میں تعلیم الٰہی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے:
    وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحَمَدُ۔(۱۱۵۰)
    نکتہ(۱): ویَّاتِیْ مِنْ بَعْدِیْ کہ وہ میرے بعد آئے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک اپنے مثیل نبی کے آنے کی خبر دی ہے مگر یہ نہیں کہا کہ وہ میرے بعد آئے گا۔ اگر یہ ہوتا کہ قیامت تک کبھی آجائے۔ تو ان الفاظ (یَّاتِیْ مِنْ بَعْدِیْ) کی کوئی تعیین نہیں ہوتی بلکہ یہ بے معنی بات نعوذ باللہ قرآن نے کہہ دی اتنا کافی تھا مبشرا برسول اسمہ احمد۔
    نکتہ(۲): فلما جاء میں جاء ماضی کا صیغہ ہے اگر کوئی کہے کہ ماضی کے معنی مستقبل کے بھی ہوتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک کوئی قرینہ صارفہ نہ ہو۔ تب تک ماضی کے معنی مستقبل ہرگز نہیں ہوسکتے۔ پھر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔ پھر ہم کون ہیں۔ نیز جاء کا اطلاق عام طور پر فعل ماضی پر ہوتا ہے۔ بخلاف لفظ اتیٰ کے کہ یہ مضارع کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
    نکتہ (۳): قالوا ھٰذا سحر مبین میں قالوا ماضی کا صیغہ ہے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کہتے تھے وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ... وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ لِلْحَقِّ لَمَّا جَائَ ھُْ انْ ھٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مبین(سورۃ سبا پارہ۲۲) مگر مرزا صاحب کو تو کوئی ہندو یا عیسائی جادوگر نہیں کہتا۔ بلکہ دوسرے القاب سے یاد کرتے ہیں مثلاً دجال کذاب، مفتری علی اللہ وغیرہ وغیرہ۔(۱۱۵۱)
    نوٹ: مرزا صاحب کا نام غلام احمد تھا نہ کہ احمد، مرزا جی لکھتے ہیں کہ '' میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ'' (۱۱۵۲) اس چیز کی تصدیق مندرجہ ذیل کتاب سے ہوتی ہے۔(۱۱۵۳)
    ----------------------
    (۱۱۴۴) ترمذی مع تحفہ ص۳۰، ج۴ باب ماجاء فی اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم و فتح الباری ص۴۳۵، ج۶ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    (۱۱۴۵) اخرجہ احمد فی مسندہٖ ص۱۲۷، ۱۲۸،ج۴ والبدار فی مسندہٖ اوردہ الھیثمی فی کشف الاستار ص۱۱۳،۳ کتاب علامات النبوۃ باب قدم نبوتہ وابن حبان فی صحیحہٖ رقم الحدیث ۶۳۷۰ ص۱۰۶،ج۹ والطبرانی فی المعجم الکبیر ص۲۵۲ج۱۸ الحدیث ۶۲۹ والحاکم فی المستدرک ص۶۰۰، ج۲ کتاب التاریخ باب زکر اخبار سید المرسلین وقال صحیح الاسناد وأقرہ الذھبی وابو نعیم فی حلیۃ الاولیاء ص۸۹، ج۹ فی ترجمۃ ابوبکر الفسانی والبیھقی فی دلائل النبوۃ ص۱۳۰، ج۲ جماع ابواب المبعث باب الوقت الذی کتب فیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا، والبغوی فی شرح السنۃ ص۲۰۷،ج۱۳ کتاب الفضائل باب فضائل سید الاولین والاخرین محمد صلی اللہ علیہ وسلم الحدیث نمبر ۳۶۲۶ واوردہ مرزا محمود فی تفسیرہ ص۱۹۵، ج۲ الکبیر۔
    (۱۱۴۶) اے امام ابن عدی نے، الکامل میں روایت کیا ہے مگر اس میں ایک راوی اسحاق بن بشر بخاری کذاب ہے، دیکھئے میزان الاعتدال ص۱۸۴، ج۱ علامہ شوکانی فرماتے ہیں۔ فی اسنادہ وضاع، یعنی اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جو کہ احادیث گھڑ لیا کرتے تھے، الفوائد المجموعہ ص۳۲۶ جب صحیح حدیث موجود ہے کہ میرا نام احمد بھی ہے، جیسا کہ ۱۱۴۴، ۱۱۴۵ میں یہ حدیث گذر چکی ہے تو پھر ایسی من گھڑت حدیث بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ ابوصہیب
    (۱۱۴۷) آئینہ کمالات اسلام ص۴۲ و تفسیر مرزا ص۱۰۹، ج۸
    (۱۱۴۸) الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۱، ص۱۱ و ملفوظات مرزا ص۴۴۲، ج۱
    (۱۱۴۹) اشتہار مرزا مورخہ ۴؍ نومبر ۱۹۰۰ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ص۳۶۵، ج۳
    (۱۱۵۰) اربعین ۴ ص۱۳ و روحانی ص۴۴۳، ج۱۷
    (۱۱۵۱) پ۲۲ سبا آیت نمبر ۴۴
    (۱۱۵۲) کتاب البریہ ص۱۴۲ و روحانی ص۱۶۲ ج ۱۳
    (۱۱۵۳) تحفہ شہزادہ ویلز ص۲۹ مؤلفہ مرزا محمود ، وکشف الغطاء ص۲ و روحانی ص ۷۹، ج۴ اور دافع البلاء ص۱۳ و روحانی ص۲۳۳، ج۱۸ ، و تاریخ احمدیت ص۶۷، ج۱ و حیات طیبہ ص۱۱ و مجدد اعظم ص۱،ج۱ و سلسلہ احمدیہ ص۹ و حیات احمدص ۱۰۲، ج۴ و ذکر حبیب ص۳۴۰ و تذکرۃ المھدی ص۲۸۷، ج۱ و گلزار احمد ص۲۱، ج۱ و سیرۃ المھدی ص۱، ج۱ وغیرہ
  10. ‏ جولائی 3, 2015 #170
    وحید احمد

    وحید احمد رکن ختم نبوت فورم

    ڈاکٹر عبدالحکیم خاں:
    '' ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴؍ اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جاوے گا اور خدا اس کو ہلا ک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔'' (۱۱۵۴)
    '' اور دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے رو برو اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔'' (۱۱۵۵)
    مندرجہ بالا تحریرات میں مرزا صاحب نے بالہام خود ڈاکٹر عبدالحکیم خاں مرحوم کی ہلاکت اپنی زندگی میں بتائی ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب مرحوم مرزا صاحب سے کئی سال بعد فوت ہوئے۔
    اعتراض:
    ڈاکٹر عبدالحکیم اپنی پیش گوئی کو منسوخ کرچکا تھا۔ (۱۱۵۶)
    الجواب:
    ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کا ذکر نہیں ۔ بلکہ مرزا صاحب کی الہامی پیش گوئی پیش کی ہے:
    جن کا دعویٰ ہے کہ:
    '' میں امام الزمان ہوں۔ـ'' (۱۱۵۷) اور '' امام الزمان کی الہامی پیش گوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتی ہیں یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کرلیتے۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو۔'' (۱۱۵۸)
    کہ '' خدا اس کو میری زندگی میں ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔''
    اور یہ پیشگوئی از سر تا پا جھوٹی نکلی۔
    ----------------------
    (۱۱۵۴) چشمہ معرفت ص۳۲۱ تا ۳۲۲ و روحانی ص۳۳۷ اشتہارات مرزا ص۵۹۱، ج۳
    (۱۱۵۶) حاشیہ تذکرہ ص۷۳۹ و احمدیہ پاکٹ بک ص۸۱۵
    (۱۱۵۷) ضرورت الامام ص۲۴ و روحانی ص۴۹۵ ج ۱۳
    (۱۱۵۸) ایضاً ص۱۳ و روحان ص۴۸۳ج۱۳

اس صفحے کی تشہیر