1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ

قومی اسمبلی میں پہلا دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 2, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ نومبر 23, 2014 #41
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مجاز اتھارٹی قانون بناسکتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Competent authority. That is, they will make law and the court will carry out public morality?
    (جناب یحییٰ بختیار: مجاز اتھارٹی کے پاس یعنی کہ وہ اس سے متعلق قانون بنائے گی اور کچہریاں بروئے اخلاقیات عامہ عمل کروائیں گی؟)
    Mirza Nasir Ahmad: By the competent authority.
    (مرزاناصر احمد: اتھارٹی مجاز رکھنے والی ہو)
    92Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, by the competnet authority. I do not want to ask you further questions because you mean legislature and courts. One will make the law and the other will interpret.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں جناب! مجاز اتھارٹی ہی کرے گی۔ میں اب آپ سے اور زیادہ سوال نہیں کرتا۔ کیونکہ آپ نے قانون ساز ادارے کو ذہن میں رکھ رکھا ہے اور کچہریوں کو کہ ایک ادارہ قانون سازی کرے اور دوسرا اس کے مفہوم کی توضیح کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: By competent authority I do mean competent authority.
    (مرزاناصر احمد: میں کہتا ہوں مجاز اتھارٹی۔ میرا بالکل مطلب مجاز اتھارٹی سے ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you do not want to define it any further?
    (جناب یحییٰ بختیار: اور آپ اس لفظ کی مزید تشریح نہیں کرنا چاہتے مجاز اتھارٹی کی)
    Mirza Nasir Ahmad: I need not.
    (مرزاناصر احمد: مجھے مزید تشریح کی ضرورت نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you don't mean ....
    Mirza Nasir Ahmad: It is quite clear.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. So, this freedom of religion is subject to law; the law cannot say that inspite of the fact that a particular group of people ...........
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی یہ ہوئے کہ آزادی مذہب قانون کے نیچے ہے اور قانون یہ نہیں کہہ سکتا کہ باوجود اس کے کہ لوگوں کا ایک خاص طبقہ …)
    مرزاناصر احمد: اچھا، یہاں میں وضاحت کردوں۔ اخلاق جو ہے ناں Public Morality اس کو دو معنوں میں ہم استعمال کرتے ہیں۔ ایک مذہبی معنی میں مثلاً اسلام نے بڑا تفصیلی Code of Morality (ضابطہ اخلاق) ہمیں دیا ہے اور ایک وہ Morality (اخلاق) ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ہے۔ In the very nature of man. (افتاد طبع میں ہے) وہ خداتعالیٰ نے اس کو دی ہے جس کے اوپر مثلاً وہ قومیں بھی عمل کر رہی ہیں جو اﷲتعالیٰ پر ایمان ہی نہیں لائیں۔ لیکن ان کی فطرت کے اندر یہ ہے کہ یہ Morality (اخلاق) ہے۔ یہ اخلاق نہیں۔ ہمیں ان کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس کی موٹی مثال چین کی ہے۔ چیئرمین ماؤزے تنگ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ طلباء جو ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھ کر باہر نکلیں، پوری طرح بااخلاق ہوں۔ تو ’’وہ بااخلاق ہوں‘‘ کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ جو اسلام نے اخلاق پیش کئے ہیں۔ اس کے مطابق با93اخلاق انسان کے سامنے پیش کئے ہیں۔ ان کے سامنے بااخلاق ہوں تو یہ جو اس سے بھی نیچے گرتا ہے وہ تو پھر مذاق ہے Subject to Morality (حسن اخلاق وعمل کی شرط) کا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Subject to morality, but the concept of morality changes from time to time, from area to area, and from place to place.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ حسن عمل واخلاق سے مشروط ہے۔ مگر اخلاق کا ذہن تصور بدلتا رہتا ہے۔ جگہ جگہ وقت وقت خطے خطے سے)
    Mirza Nasir Ahmad: As for as a non-religious type of morality is concerned, you are right. As far as Islam is concerned, the fundamental truths and realities of morality do not change ever.
    (مرزاناصر احمد: جہاں تک غیرمذہبی قسم کے اخلاق کا تعلق ہے آپ کی بات صحیح ہے۔ مگر جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ بنیادی اصول صدق اور اخلاقیات کے حقائق واقعی کبھی نہیں تبدیل ہوتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. But if a person does not observe "Purdah" or goes about semi-naked, do you call it immoral? In some cases, it will not be considered immoral.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! اگر کوئی پردہ نہیں اختیار کرتا اور بے پردہ ہے یا نیم برہنہ پھرتا ہے تو کیا آپ اس کو غیر اخلاقی کہیں گے کچھ صورتوں میں یہ بداخلاقی نہیں سمجھی جائے گی)
    Mirza Nasir Ahmad: Why call it immoral? Call it against the laws of Quran.
    (مرزاناصر احمد: بداخلاقی کیوں کہتے ہیں۔ یہ کہئے کہ قرآنی قانون کے خلاف ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: You call everthing against the law of Quran? Not ....
    (جناب یحییٰ بختیار: تو ہر چیز کو آپ کیا قرآنی قانون کے خلاف کہیں گے؟ نہیں…)
    Mirza Nasir Ahmad: I call everything against the law of Quran when we find a law in Quran about it.
    (مرزاناصر احمد: میں ہر اس چیز کو قرآنی قانون کے خلاف کہوں گا جہاں ہم قرآن میں اس کے لئے قانون پائیں گے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... not otherwise.
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... a person is a Christian and he says that it is my right, I am not a Muslim ....
    (جناب یحییٰ بختیار: ایک شخص عیسائی ہے وہ کہتا ہے یہ میرا حق ہے۔ میں مسلمان نہیںہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: He has got every right. You cannot interfere.
    (مرزاناصر احمد: بیشک ایسا کہنا اس عیسائی کا حق ہے۔ آپ مداخلت نہیں کر سکتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: He can go about naked?
    (جناب یحییٰ بختیار: چاہے وہ ننگا پھرے)
    94Mirza Nasir Ahmad: Not naked, without "purdah".
    (مرزاناصر احمد: ننگا نہیں۔ بغیر پردے کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why not?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں؟)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    • Like Like x 2
  2. ‏ نومبر 23, 2014 #42
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آزادی مشروط ہے کہ دوسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why not? If you say the man is born free, man is born naked, why wear clothes?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہ پھرے ننگا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ ننگا پیدا ہوا ہے تو کیوں کپڑے پہنے وہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Because it is against the right of other people.
    (مرزاناصر احمد: اس لئے کہ دوسروں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That means that you can exercise your freedom of religion so long as you do not affect others or deprive others of their rights?
    (جناب یحییٰ بختیار: بالکل ٹھیک! اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ تاوقتیکہ آپ دوسروں پر اثر انداز نہ ہوں یا دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کریں)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite, quite.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.
    (جناب یحییٰ بختیار: شکریہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, if this sect of Hippies who call themselves Christians ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اچھا جناب!! اب یہ جو ’’ہیپی‘‘ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے۔ میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it a fact?
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just giving you a ridiculous example.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)
    مرزاناصر احمد: میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے ۱۹۷۰ء میں ویسٹ افریقہ اور یورپ کا بھی دورہ کیا۔ وہاں مجھ سے یہ سوال انہوں نے کیا کہ Hippies (ہیپی) کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ میرے نزدیک تو انسانوں کی سی زندگی وہ نہیں گزارتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔ یا حقارت کے نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان پر رحم آتا ہے95۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ انسانی اقدار کو سمجھنے لگیں۔ ہماری بنیادی چیز جو اسلام نے ہمیں دکھائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو پہلے انسانی اقدار سیکھنی چاہی اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔ تب روحانی ترقیات کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, all these examples were simply meant to show that freedom of religion, as given, is subject to restrictions, and it may be by law. All I was submitting was that this freedom of religion is subject to restrictions which could be made by law, imposed by law. That was all I was saying.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب جس قدر یہ مثالیں دی گئی ہیں۔ اس مدعا سے دی گئی ہیں کہ یہ بتایا جائے کہ مذہبی آزادی جو میسر ہے وہ پابندیوں سے مشروط ہے۔ چاہے وہ پابندیاں قانون کی طرف سے ہوں۔ میرا مفروضہ یہ تھا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی پر قدغن ہے۔ چاہے قانون ضابطہ بنا کر پیش کرے یا قانون ضابطہ پر عمل کرائے۔ میں یہی کچھ کہنا چاہتا تھا)
    Mirza Nasir Ahmad: Very carefully and extremely rationally applied.
    (مرزاناصر احمد: ہاں مگر بہت احتیاط سے عمل کروائے انتہائی معقول طور پر عقلیت کے ساتھ)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Rationally.
    (جناب یحییٰ بختیار: معقول طور پر)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally, because we persume the law is rational, we presume the courts are working honestly and properly. That presumtion is there.
    (جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں ہی کہ قانون معقول ہوا کرتے ہیں اور ہم نے یہ بھی مان رکھا ہے۔ پہلے سے یہ کچہریاں ایماندارانہ صحیح طور پر اپنا کام کرتی ہیں۔ یہ مفروضہ تو ہم نے تسلیم کر ہی رکھا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: And we hope that those who execute these laws are also very honest and rational.
    (مرزاناصر احمد: اور ساتھ ہم امید کرتے ہیںکہ جو قانون پر عمل کرواتے ہیں۔ وہ بھی ایماندار اور معقول ہوں گے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, rational and honest, that is presumed.
    (جناب یحییٰ بختیار: بیشک! معقول اور ایماندار۔ یہ مانی ہوئی بات ہے)
    Now. Sir, you have seen the Constitution of Pakistan, In the preamble of the Constitution, the title is called: "The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan". That shows what sort of character is aimed at or it has, that will be for anybody to judge. Then in the Preamble, it is stated, among other things, that
    "Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in 96accordance with the teachings and requirements of Islam as said out in the Holy Quran and Sunnah."
    (اب جناب! آپ نے پاکستان کا دستور دیکھا ہے۔ دستور کی افتتاحیہ تمہید بھی دیکھی ہے۔ دستور کا نام ہے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور‘‘ اس سے پتہ لگتا ہے کہ دستور کی نوعیت کی قسم کیا ہے۔ ہر شخص اپنا فیصلہ کر سکتا ہے تو دستور کی افتتاحیہ تمہید میں دیگر باتوں کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں۔‘‘ تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات وضروریات اسلام کے بموجب گذار سکیں جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی)
    Mirza Nasir Ahmad: And as they believe.
    (مرزاناصر احمد: اور بموجب مسلمانوں کے اعتقاد کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally every sect is free.
    (جناب یحییٰ بختیار: قدرتی طور پر ہر فرقہ آزاد ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں Every sect is free.
    (مرزاناصراحمد: کہ ہر فرقہ آزاد ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Every sect as they believe. Now, but that shows, you known, that religion is part of the duty imposed on the legislature to see that the Muslims .......
    (جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے قدرتی بات ہے۔ ہر فرقہ آزاد ہے۔ بہرحال اس تمہید سے یہ اخذ ہوا کہ مقننہ نے مقننہ پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ اس پر نظر رکھے کہ مسلمان …)
    Mirza Nasir Ahmad: That all sects of Muslims.
    (مرزاناصر احمد: مسلمانوں کے سارے فرقے)
    • Like Like x 2
  3. ‏ نومبر 23, 2014 #43
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (میری بات پوری ہونے دیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: All sects, I am not excluding anybody, I am not excluding, you need not jump to conclusions that I am excluding you.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں سارے فرقے مسلمانوں کے ہیں۔ میں کسی کو خارج نہیں کر رہا۔ آپ کو میری بات کے اختتام سے پہلے کودنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کو خارج والوں میں شامل کروں گا)
    • Like Like x 2
  4. ‏ نومبر 23, 2014 #44
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاناصر کی معافی)
    Mirza Nasir Ahmad: I am sorry.
    (مرزاناصر احمد: معاف کیجئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: The point is simple....
    "Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam..."
    So, that means that the Legislature Will see to it that it frames laws which require the Muslim to live their lives in accordance with the requirements of Quran and Sunnah as interpretted by different sects?
    (جناب یحییٰ بختیار: میرا پوائنٹ سادہ ہے۔ تمہید کے الفاظ ’’تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات وضروریات اسلام کے بموجب گزار سکیں۔ جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی کے موافق جیسے کہ مختلف فرقوں نے ان کا مفہوم لیا ہو۔‘‘)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں as interpretted.
    (مرزاناصر احمد: جیسا انہوں نے سمجھا ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That means there is a duty imposed on the Legislature to make laws in religious matters? That is my first question.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی ہوئے کہ مجلس قانون ساز پر فرض عائد کر دیا گیا ہے کہ مذہبی امور میں قانون سازی کرے۔ کیا ایسا نہیں ہے۔ یہ میرا پہلا سوال ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: We should not generalise.
    (مرزاناصر احمد: ہمیں قاعدہ کلیہ نہیں بنانا چاہیے)
    97Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking that because they have to make laws to see to it that they live their lives in accordance with the injunctions of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: ایسا نہیں ہے۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ چونکہ مقننہ کو قانون سازی کرنی ہے۔ اس مقصد سے مسلمان اپنی زندگیوں کو احکام اسلامی کے مطابق بنا کر رہ سکیں…)
    مرزاناصر احمد: اس کا مطلب یہ ہے کہ …
    Mr. Yahya Bakhtiar: I won't say that because a law is made by a Sunni .....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ایک سنی نے قانون بنایا…)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, ....
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... it should be enforced on a Shia.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو شیعہ پر اس کو لاگو کرنا چاہیے)
    مرزاناصر احمد: اس میں کوئی جھگڑا ہی نہیں آپس میں۔ وہ جھگڑا نہیں میرے ذہن میں اس وقت اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ اگر جماعت احمدیہ یہ سمجھتی ہے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق قبروں پر چڑھاوے نہیں چڑھانے چاہئیں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am not suggesting this.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس طرف اشارہ نہیں کر رہا ہوں)
    مرزاناصر احمد: نہیں نہیں… تو ان کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ جماعت احمدیہ قبروں پر چڑھاوے نہیں چڑھاتی۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
    مرزاناصراحمد: ٹھیک ہے، یہ ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I say but they can make laws? I am only concerned with the principle that Legislature and the Parliament can make laws on this subject. Second thing is, Sir .....
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ٹھیک ہے، یہی میں کر رہا ہوں کہہ وہ قانون بنا سکتے ہیں۔ میرا مطلب تو اصولوں سے ہے کہ مقننہ اور پارلیمنٹ اس بارے میں قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ جناب …)
    • Like Like x 2
  5. ‏ نومبر 23, 2014 #45
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قانون سازی بنیادی عقائد کے مطابق)
    Mirza Nasir Ahmad: In the liht of the fundamental belief....
    (مرزاناصر احمد: قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں بنیادی اعتقاد کے موافق…)
    98Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... of every sect.
    (مرزاناصراحمد: ہر فرقے کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: You are going, Sir, in deatils. But, Sir, I am saying in principle you give this power to the Legislature?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب آپ تو تفصیل میں جارہے ہیں۔ میں اصول کی بات کر رہا ہوں کہ ان کو آپ نے یہ قانون سازی کا حق دیا ہے)
    مرزاناصر احمد: میں اس لئے Detail (تفصیل) میں جارہا ہوں کہ یہ نہ ہو کہ کل کو ہم Detail (تفصیل) بھول جائیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی نہیں۔ You can explain and add to anything which you say in answer to my question. I am not ....
    (آپ میرے سوال کے جواب میں وضاحت کر سکتے ہیں۔ اپنا جواب دیتے وقت گھٹا بڑھا سکتے ہیں)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔ نہیں، ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... suggesting that. But I am just saying that in principle this is a duty imposed by the Constitution?
    (جناب یحییٰ بختیار: اس وقت میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اصولی طور پر دستور نے مجلس قانون ساز پر یہ فرض عائد کیا ہے)
    (Interruption)
    مرزاناصراحمد: یہ (مائیک) کام نہیں کر رہا شاید۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: The other one?
    مرزاناصراحمد: … یا مرضی نہیں کام کر رہی، یہاں نقصان نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just submitting that, in principle, the Constitution has imposed a duty on the National Assembly or the Parliament, that they should see to it, by making laws, that the Musalamans live their lives in accordance with the injunctions of Quran and Sunnah?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ اصولی طور پر دستور نے قومی اسمبلی پر یہ فرض عائد کیا ہے۔ یعنی پارلیمنٹ پر کہ وہ یہ دیکھے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جس کے باعث مسلمان اپنی زندگیاں احکام قرآن وسنت کے موافق گزار سکیں)
    99Mirza Nasir Ahmad: That Ahmadis live their lives in accordance with their interpretation?
    (مرزاناصر احمد: احمدی لوگ اپنی زندگیاں اپنے مفہوم احکام کے مطابق گزار رہے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: And Wahabis live their lives in accordance with their interpretation?
    (مرزاناصر احمد: وہابی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: And Barelvi, .... yes.
    (مرزاناصراحمد: اور بریلوی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am only asking ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میرا مدعا کہنے کا یہ ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that the Legislature can do it?
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ مقننہ ایسا کر سکتی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: With that detail ....
    (مرزاناصراحمد: بشرط اس تفصیل کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... I quite agree with it.
    (مرزاناصراحمد: جو میں نے بتائی ہے اس کے مطابق صحیح ہے۔ میں بالکل مانتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, the next provision of Constitution to which I respectfully draw you attention is Article:2 of the Constitution.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! دستور کی اگلی دفعہ یہ ہے کہ میں بصد احترام آپ کی توجہ منعطف کراتا ہوں۔ دستور کی دفعہ نمبر۲ یہ ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It says: "Islam shall be the state religion of Pakistan."
    (جناب یحییٰ بختیار: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)
    Mirza Nasir Ahmad: This is Preamble.
    (مرزاناصر احمد: یہ تمہید ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, this is Article:2, this is not Preamble.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ یہ دفعہ نمبر۲ ہے تمہید یہ نہیں ہے)
    100مرزاناصراحمد: (اپنے وفد کے رکن سے) دکھاؤ کانسٹی ٹیوشن ہے یہاں؟
    جناب یحییٰ بختیار: کانسٹی ٹیوشن دے دیجئے۔
    مرزاناصراحمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) آرٹیکل نمبر:۲ نکالنا۔
    This is Introduction. Yes.
    Mr. Yahya Bakhtiar: This is Article:2.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ دفعہ نمبر:۲ ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں! In the Introduction. Very wise.
    Mr. Yahya Bakhtiar: And if you could kindly tell us what are the implications of this; what does it mean?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ براہ کرم یہ بتاسکیں گے کہ اس کا کیا مطلب ہوا۔ اس سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: It is quite clear. Islam is the religion of the State.
    (مرزاناصر احمد: یہ ایک صاف بات ہے۔ حکومت کا مذہب اسلام ہوگا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It means that, in our Constitution, politics and religion are not kept separately. We are not a secular state and that....
    (جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہے کہ سیاست اور مذہب علیحدہ علیحدہ رکھے گئے ہیں۔ ہم غیرمذہبی حکومت نہیں ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: I don't know. To my mind, it means that the politics takes on itself the responsibility to guard the interests of the religion.
    (مرزاناصر احمد: میں کہہ نہیں سکتا۔ میرے خیال میں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت کی سیاست مذہب کے مفاد کی حفاظت کی ذمہ دار ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, exactly, because of the difference.... (جناب یحییٰ بختیار: بالکل صحیح۔ قطعاً)
    Mirza Nasir Ahmad: Because something different. And it is not the mixture of the two.
    (مرزاناصر احمد: کیونکہ کچھ چیزیں مختلف ہیں اور یہ کہ ان دونوں کا یہ کوئی مرکب نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that, under the American Constitution, it is provided that the State shall not establish any religion or another, it will not side with one sect or another; it will be absolutely neutral in religious matters. But ....
    (جناب یحییٰ بختیار: امریکہ کے دستور میں یہ ہے کہ حکومت مذہب کے اندر قائم نہیں ہوگی۔ یعنی کہ اس مذہب کی یا اس مذہب کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی۔ ایک فرقہ کی یا دوسرے فرقہ کی حمایت نہیں کرے گی اور مذہبی معاملات میں قطعاً غیرجانبدار رہے گی)
    101Mirza Nasir Ahmad: They also mean that State will not side with one religion or the other.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں۔ حکومت کسی ایک خاص مذہب کا ساتھ نہیں دے گی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but here ....
    Mirza Nasir Ahmad: It only says on the opposite side, you know, that the politics of this country takes upon itself the responsibility to safeguard the interests of Islam.
    (مرزاناصر احمد: لیکن ادھر یہ بات ہے کہ جیسے آپ جانتے ہیں کہ اس ملک کی حکومت نے اسلام کے مفاد کی حفاظت کے لئے ذمہ داری اٹھالی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! یہی تو میں کہہ رہا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: It does not say that we would not be partial to these who do not believe in Islam.
    (مرزاناصراحمد: لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو لوگ اسلام کے معتقد نہیں ہیں ان کے ساتھ ہم جانبدار رہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not saying that. No that is their fundamental rights.... No, not in the least, not as far the non-Muslims are concerned....
    Mirza Nasir Ahmad: That clears the matter now.
    (مرزاناصر احمد: اس سے اب یہ بات صاف ہوگئی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: As far as the Muslims are concerned, it will encourage them to see that they live their lives in accordance with the injunctions of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: مسلمان اپنی زندگی احکام اسلام کے مطابق گذاریں گے)
    Mirza Nasir Ahmad: They say their prayers, they don't drink, they pay their Zakat, things like that.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں گزار رہے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں۔ شراب نہیں پیتے۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, there is further provision in the Constitution, Article:41 and Article:91....
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب دستور میں ایک دفعہ نمبر۴۱ اور نمبر۹۱ بھی ہے…)
    Mirza Nasir Ahmad: That is ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that requires that the President and the Prime Minister shall be Muslims.
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ صدر اور وزیراعظم مسلمان ہوں گے)
    Mirza Nasir Ahmad: That is not the fundamental.... (مرزاناصر احمد: یہ بنیادی نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, this is part of the Constitution.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ یہ بات دستور کا حصہ ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Under the heading?
    102Mr. Yahya Bakhtiar: This is not a directly part but obligatory part.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ہدایت نہیں ہے بلکہ لازمی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Obligatory part?
    (مرزاناصراحمد: لازمی حصہ ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because Preamble is not enforceable. (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ تمہید نافذ العمل نہیںہوتی)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: But this part ....
    Mirza Nasir Ahmad: This is enforceable?
    (مرزاناصراحمد: یہ بات نافذ العمل ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Enforceable part.
    (جناب یحییٰ بختیار: نافذ العمل ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: This is after the Principles of Policy. Yes. (مرزاناصراحمد: یہ اصول پالیسی کے تحت ہے۔ جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am going again to give that example. Supposing somebody, a very important man, a very popular man in our country, but not a Muslim, he files a declaration that "I am a Muslim and want to contest a election." Can anybody question that?
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! فرض کریں کوئی شخص کوئی اہم شخص کوئی ہمارے ملک کا بڑا ہر دلعزیز آدمی جو مسلمان نہیں ہے۔ یہ ڈکلیئریشن لگا دیتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور اس عہدے کے لئے لڑنا چاہتا ہوں کیا کوئی شخص اس پر اعتراض کر سکتا ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: He could neither be pious nor great.
    (مرزاناصر احمد: ایسا آدمی نہ اہم ہوسکتا ہے نہ بڑا اور نہ خداترس پارسا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: If he is not a Muslim?
    (جناب یحییٰ بختیار: اسی صورت میں کہ اگر وہ مسلمان نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, i f he files this declaration, how could you call him a pious man and a great man?
    (مرزاناصر احمد: نہیں اگر ایسا شخص ڈکلیئریشن لگاتا ہے تو آپ اس کو کیسے متقی اور بڑا کہہ سکتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but he makes a false declaration. People say: "Well somehow we made a mistake; we want to ...."
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ لیکن وہ ایک جھوٹا اعلان کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ: ’’کسی نہ کسی طرح ہم نے ایک ایک غلطی کی ہے ہم چاہتے ہیں…‘‘
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, if he files such on horrid declaration, then he is neither pious nor great.
    (مرزاناصر احمد: اگر وہ ایسا سخت قابل اعتراض ڈکلیئریشن لگاتا ہے تو وہ نہ پارسا ہے اور نہ بڑا آدمی)
    103Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am just asking. Supposing a person....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ فرض کریں ایک شخص …)
    Mirza Nasir Ahmad: It is not possible.
    (مرزاناصر احمد: یہ ممکن نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: A pious man to file a false declaration?
    (مرزاناصراحمد: ایک پارسا آدمی کے لئے کہ وہ جھوٹا ڈکلیئریشن کرے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, let's take an example neither a Christian nor a Hindu. Supposing a person who does not believe in one, or two of the essentials of Islam....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! چلیں ایک مثال لیتے ہیں۔ نہ وہ کسی عیسائی کی ہے نہ کسی ایک ہندو کی۔ فرض کریں ایک ایسا شخص ہے جو اسلام کی لازمی ضروریات میں سے کسی ایک یا دو کا انکار کر دیتا ہے)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... like he denies Zakat, is Munkir of Zakat, and he files a declaration that 'I am a Muslim', and still he says he is a Muslim....
    (جناب یحییٰ بختیار: مثلاً زکوٰۃ ہے۔ وہ زکوٰۃ کو منع کرتا ہے۔ منکر زکوٰۃ ہے اور ساتھ ہی وہ ڈکلیئریشن لگاتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور بااصرار کہتا ہے میں مسلمان ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: And he ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... still says he is a Muslim.... (جناب یحییٰ بختیار: بااصرار کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں! Can he say? A pious Muslim files a declaration and ....
    (مرزاناصراحمد: ایک پارسا مسلمان جھوٹا ڈکلیئریشن دے۔ کیا وہ ایسا کہہ سکتا ہے…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am not talking of a pious Muslim. (جناب یحییٰ بختیار: میں کسی پارسا مسلمان کی بات نہیں کر رہا)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, I am; I am talking about him. And the authority declares that he is not. Just the opposite of what you say; and opposite is also possible.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking whether somebody has a right to declare him one way or the other?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں پوچھتا ہوں کہ کسی کو اختیار ہے نا۔ اعلان کرنے کا کہ متنازعہ شخص ادھر کا ہے یا ادھر کا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Nobody has got the right to say that he is a Muslim when he feels, he thinks ....
    (مرزاناصر احمد: کسی کو حق نہیں پہنچتا کہنے کا کہ وہ مسلمان ہے۔ جب کہ وہ کہتا ہے اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ نہیں ہے)
    104Mr. Yahya Bakhtiar: But supposing ....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن فرض کریں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and believes that he is not .... (مرزاناصراحمد: اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing he has done it, has filed a form ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں اس نے ایسا نہیں کیا اور فارم داخل کرتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: But he is a Muslim, but the authority concerned declares him as non-Muslim, then?
    (مرزاناصر احمد: لیکن وہ ایک مسلمان ہے۔ لیکن اتھارٹی کہتی ہے کہ وہ غیرمسلم ہے۔ تب؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will just give the opposite example, you know. I agree with you, that is possible. He will go to the court tell the court.....
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ جانتے ہیں کہ میں نے صرف آپ کو مخالف مثال دی ہے۔ میں آپ کے ساتھ متفق ہوں۔ یہ ہوسکتا ہے وہ عدالت جائے گا اور عدالت میں کہے گا)
    مرزاناصراحمد: ہاں! So, there is one way open to him. (تو اس کے لئے ایک راستہ کھلا ہوا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say. So, for a person who formally declares that he is a Muslim, when he denies one of the fundamentals of Islam or two fundamentals of Islam, openly denies, and still he says that he is a Muslim....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! یہی میں کہتا ہوں کہ ایک شخص جو باضابطہ طور پر مسلمان ہونے کا مدعی ہے۔ مگر ایک ضروری اسلام کی بنیادی شرط کو نہیں مانتا یا دو شرطوں کا کھلم کھلا انکاری ہے اور پھر بھی کہتا ہے میں مسلمان ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: Then the Government should go to the Court.
    (مرزاناصر احمد: تو اس صورت میں حکومت کو کورٹ میں جانا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: The Government is interested that he should be elected, he is a popular, I say. Can anybody go to the Court and say "no"?
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں گورنمنٹ کو دلچسپی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ الیکشن میں کامیاب ہو جائے۔ وہ ہردلعزیز ہے تو کیا کسی شخص کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کورٹ کو رجوع کرے اور کہے۔ یہ غلط ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Well, I personally condemn that Government.
    (مرزاناصر احمد: میں ایسی حکومت کی ذاتی طور پر مذمت کرتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Government I ....
    Mirza Nasir Ahmad: I don't know about the others. (مرزاناصراحمد: اوروں کے لئے تو نہیں کہہ سکتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Government is not the member of the Assembly we elect; Government is nobody in the Assembly. (جناب یحییٰ بختیار: اسمبلی میں حکومت کی کوئی شخصیت نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No?
    (مرزاناصراحمد: نہیں؟)
    105Mr. Yahya Bakhtiar: It is the members of the Assembly who elect; Government is nobody in the Assembly.
    Mirza Nasir Ahmad: No, you used the word "Government", that is why I repeated that.
    (مرزاناصر احمد: جی نہیں۔ حکومت کا لفظ آپ نے استعمال کیا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, because ....
    Mirza Nasir Ahmad: You change the word and I will change that word.
    (مرزاناصراحمد: اگر آپ لفظ تبدیل کر دیں تو میں بھی تبدیل کر دوں گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because you have been saying again and again, 'the Government'; I think you meant Legislature.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ باربار خود کہتے رہے ہیں کہ حکومت کو مقننہ سمجھا جائے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, whoever is the authority concerned. (مرزاناصراحمد: نہیں! جو بھی متعلقہ اتھارٹی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: Whichever is the proper authority. (مرزاناصر احمد: جو بھی صحیح اتھارٹی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing he thinks he is a popular man, he is a nice man, he is a man of character, his religious beliefs are somehow fair, but he does not believe in Zakat, Jehad or something, but we are not concerned. He says he is a Muslim, but he openly says "No, I don't accept Zakat as part of Islam and I don't think it is necessary"....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں وہ سمجھتا ہے میں ہردلعزیز ہوں۔ اچھا آدمی ہوں۔ باکردار ہوں۔ مذہبی لیکن زکوٰۃ میں یا جہاد میں اعتقاد نہیں رکھتا۔ وہ صاف کہتا ہے۔ نہیں! میں زکوٰۃ کو اسلام کا حصہ نہیں سمجھتا اور اس کو ضروری خیال نہیں کرتا)
    Mirza Nasir Ahmad: They should not support him. (مرزاناصر احمد: ان کو اس کی تائید نہیں کرنی چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing they support him, can that be questioned ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ لیکن فرض کریں وہ اس کی تائید کرتے ہیں تو کیا قانوناً اس پر سوال جواب ہوسکتا ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں… ہیں۔ (Pause)
    106Mr. Yahya Bakhtiar: .... or his declaration is enough under the law? I am speaking of law.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا اس کا ڈکلیئریشن قانون کے اعتبار سے کافی۔ میں قانون کی بات کر رہا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: Is there a provision in this constitution that when such a thing is suspected, it should be settled by a court or, if it is not there, then who is going to decide? Suppose there is one member of this august House who says that the declaration is false,....
    (مرزاناصر احمد: کیا دستور میں یہ ہے کہ اگر اس طرح کی کوئی بات شبہ کی آجائے تو کورٹ اس کا فیصلہ کرے اور اگر کورٹ نہیں ہے تو کون فیصلہ کرے گا۔ فرض کریں ایک اسی جلیل القدر ہاؤس کے ممبر صاحب یہ کہتے ہیں کہ ڈکلیئریشن جھوٹا ہے…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... a members from the Opposition, you know.
    (مرزاناصراحمد: حزب اختلاف کے کوئی ممبر صاحب۔ آپ جانتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, member of the Opposition can tell the Chief Election Commissioner when form is filled.
    (جناب یحییٰ بختیار: حزب اختلاف کے ممبر صاحب چیف الیکشن کمشنر صاحب کو کہہ سکتے ہیں جب فارم داخل کیا جارہا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: And his word is final.
    (مرزاناصر احمد: اور اس کا فیصلہ حتمی ہوگا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, his word is final as far as they are concerned. But, If the objection is raised by one person that this man is not Muslim,....
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص اعتراض اٹھاتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... can, on the basis of your argument, the candidate say that it is none of your buiness?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو کیا آپ کی بحث کی بنیاد پر امیدوار کہہ سکتا ہے۔ آپ کا اس سے کوئی سروکار نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: What is the basis?
    (مرزاناصراحمد: بنیاد کیا ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why? Declaration is the final word.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں! جو میں نے ڈکلیئریشن دیا ہے وہ قطعی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: What is the basis of existing law? I must know that before I ....
    (مرزاناصر احمد: موجودہ قانون اس پر کیا کہتا ہے۔ مجھے بتایا جائے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Chief Election Commissioner can see. But the conduct ....
    (جناب یحییٰ بختیار: چیف الیکشن کمشنر کہہ سکتا ہے کہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it the Chief Election Commissioner? (مرزاناصر احمد: اس صورت میں الیکشن کمشنر ہے؟)
    107Mr. Yahya Bakhtiar: .... of the President cannot be questioned in the court of law.
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ صدر کے طور طریق پر کورٹ میں فیصلہ نہیں اٹھایا جاسکتا)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it the Election Commissioner who decides....
    (مرزاناصراحمد: تو ایسی صورتوں میں چیف الیکشن کمشنر ہے جو فیصلہ کرتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... in such cases ....
    (مرزاناصراحمد: ان معاملات میں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. He scrutinizes the form; he has to see to it ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! فارم کی وہی چھان بین کرتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: .... that whether he is qualified for Presidentship ....
    (مرزاناصر احمد: کہ وہ صدارت کے لئے اہل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. And he is to take oath before him.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! اور اس کو اس کے سامنے حلف لینا ہوگا)
    Mirza Nasir Ahmad: .... that he is qualified or not. (مرزاناصر احمد: …کہ وہ اہل ہے یا نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Oath is taken later, but he has to file the form before him that he is a Muslim, because....
    Mirza Nasir Ahmad: Has he got the right to question that oath?
    (مرزاناصراحمد: تو کیا وہ حلف پر شک کا اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: There scrutiny takes place.
    Mirza Nasir Ahmad: No, no; he takes; has he got the right?
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I am asking you. Supposing somebody ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں بلکہ آپ بتائیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, I must know the law before I can....
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں۔ جواب دینے سے قبل مجھے قانون تو معلوم ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... answer that question.
    108Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing some Christian files a form ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں۔ چند عیسائی فارم پر کرتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: And ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... The Chief Election Commissioner can throw it out and say, no, only Muslims can do it ....
    (جناب یحییٰ بختیار: چیف لیکشن کمشنر کہتا ہے نہیں۔ صرف مسلمان ڈکلیئر کر سکتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No .....
    (مرزاناصراحمد: جی نہیں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... for the Presidentship or the Prime-Ministership.
    (جناب یحییٰ بختیار: صدارت کے عہدے کے لئے یا وزارت عظمیٰ کے لئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Supposing a Christian is faithful to himself and does it ....?
    (مرزاناصر احمد: فرض کریں ایک عیسائی حلف اٹھاتا ہے اس کے لئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, .....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... then he takes the oath before the Election Commissioner....
    (مرزاناصراحمد: اس نے الیکشن کمشنر کے سامنے حلف اٹھایا تب)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... the Election Commissioner has got the right to refuse to take his oath or not? (مرزاناصراحمد: الیکشن کمشنر کو حق نہیں پہنچتا کہ حلف کو نامنظور کر دے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not talking of oath yet; that comes after the election. I am at the stage of filling nomination papers. When the nomination papers are filed, the Chief Election Commissioner will look at them. The first thing he is to see is that the papers carried a certificate that a person is 45 yesrs old. If the person is 30 years old, the Chief Election Commissioner say, "Well, I am sorry, you are not qualified."
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ میں حلف کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ وہ تو الیکشن کے بعد کی بات ہے۔ میں تو ابھی کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے مقام پر ہوں۔ جب کاغذات نامزدگی داخل ہوں گے چیف الیکشن کمشنر ان پر نظر ڈالے گا۔ پہلی چیز وہ یہ دیکھے گا کہ کاغذات میں سرٹیفکیٹ ہے کہ وہ شخص ۴۵برس کی عمر کا ہے۔ اگر وہ تیس برس کا ہے تو چیف الیکشن کمشنر کہے گا جناب افسوس ہے آپ اہل نہیں ہیں)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because the Contitution says ....
    109مرزاناصراحمد: ہاں! Under age
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, I say, he is the authority on the spot to say that your papers are rejected.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو میرا مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اس موقعہ پر وہی اتھارٹی ہے جو مجاز ہے کہنے کا تمہارے کہنے کاغذات مسترد ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: But can he reject? Can he reject his papers on the assumption that his declaration as a Muslim is incorrect?
    (مرزاناصر احمد: لیکن کیا وہ کاغذات کو مسترد کر سکتا ہے۔ اس مفروضہ کے تحت کہ اس کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا غلط ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am saying on the assumption, he cannot do it; but supposing the objection is raised ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! اپنے مفروضہ پر وہ نہیں کہہ سکتا۔ مگر فرض کریں کہ اعتراض اٹھتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Who is going to decide?
    (مرزاناصر احمد: تو فیصلہ کون کرے گا؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: He.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہی)
    Mirza Nasir Ahmad: That Election Commissioner.... whether he is a Muslim or not?
    (مرزاناصر احمد: چیف الیکشن کمشنر کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am asking you if somebody objects that....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں آپ سے پوچھ رہا ہوں اگر کوئی اس پر اعتراض کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: Well I am very sorry, I cannot.... I find myself just incapable of....
    (مرزاناصر احمد: مجھے معاف کیجئے۔ میں اپنے آپ کو ناقابل پاتا ہوں کہ…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if you kindly hear for a minute.
    Mirza Nasir Ahmad: .... making you understand what I want to know. My question is that I can form....
    (مرزاناصراحمد: میں آپ کو سمجھا سکوں کہ میں کیا معلوم کرنا چاہتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: If you kindly listen to my question.
    Mirza Nasir Ahmad: .... I can form my opinion when I know the law.
    (مرزاناصراحمد: میر امفروضہ یہ ہے کہ میں اپنی رائے اسی وقت پیش کر سکتا ہوں جب مجھے معلوم ہو کہ قانون کیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am not talking about the law. The law is ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں قانون کی بات نہیں کر رہا ہوں)
    110Mirza Nasir Ahmad: My opinion would be formed on the knowledge of the law....
    (مرزاناصر احمد: میں تو اپنی رائے اسی وقت دے سکتا ہوں جب قانون کا مجھے علم ہو…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Will you please....
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ مہربانی کریں گے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and not otherwise.
    (مرزاناصراحمد: ورنہ نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... let me explain the case again? (جناب یحییٰ بختیار: میں دوبارہ کیس کو سمجھاتا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں Yes, yes, جزاک اﷲ
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now you have said that if a person announces, declares, proclaims, that he is a Muslim, nobody has any right to question his declaration.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ہے کہ اگر ایک شخص اعلان کرتا ہے۔ بیان دیتا ہے۔ باضابطہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کے اعلان کرنے پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite.
    (مرزاناصر احمد: بالکل!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if a person files a false form....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب ایک شخص ہے جو جھوٹا فارم بھر دیتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: If such a person ......
    (مرزاناصر احمد: اگر ایسا شخص …)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. No. Any person....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ کوئی بھی شخص…)
    مرزاناصراحمد: ہاں، Any person.
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is the principle.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ اصول ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں، جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: A person can be a Christian or anybody. That declaration cannot be questioned. Now supposing a man files his nomination paper for the office of the President of Pakistan and he says he is a Muslim, he writes there and declares that 'I am a Muslim', but some members or voters of Senate or National Assembly know that he denies certain fundamentals of Islam .....
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ شخص عیسائی ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس پر اعتراض نہیں کیاجاسکتا۔ اب فرض کریں کہ ایک شخص صدارت کے عہدے کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، تحریر میں دیتا ہے۔ لیکن کچھ ممبران یا ووٹر قومی اسمبلی یا سینیٹ کے جانتے ہیں کہ یہ شخص اسلام کے کچھ بنیادی اصول سے انکار کرتا ہے…)
    111Mirza Nasir Ahmad: And the knowledge....
    (مرزاناصراحمد: اور ان کا یہ علم…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... and they raise ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... is based on facts which they got to know two days ago? There might be a change within these two days.
    (مرزاناصر احمد: ان واقعات پر مبنی ہے جو انہیں دو دن پہلے معلوم ہوئے تو ممکن ہے کہ ان دو دن میں کچھ تبدیلی آگئی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am coming, I am coming to that. I have to explain the whole case.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس بات پر آرہا ہوں۔ پوری صورتحال واضح کروں گا)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, after the nomination papers are filled, the date of scrutiny of papers is fixed.
    (جناب یحییٰ بختیار: کاغذات نامزدگی کے بعد جانچ پڑتال کی تاریخ مقرر ہوتی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: They see he is 45 years old.
    (مرزاناصراحمد: دیکھا جاتا ہے کہ وہ ۴۵برس کا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They see he declares himself to by Muslim.
    (جناب یحییٰ بختیار: دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: He is otherwise qualified.
    (مرزاناصر احمد: مگر ویسے وہ اہل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Otherwise qualified on the face of it.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! ویسے وہ اہل ہے ظاہری طور پر)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ناں۔ Yes.
    Mr. Yahya Bakhtiar: But objection is raised....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن اعتراض اٹھتا ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں، ناں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... objection is raised that he says he is a Muslim, but in fact he is not, because he denies certain essentials of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: اعتراض اٹھتا ہے اور وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں۔ جب کہ دراصل وہ مسلمان ہے نہیں۔ کیونکہ چند اسلام کی بنیادی باتوں سے انکار کرتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: For instance?
    (مرزاناصراحمد: مثلاً بتائیں؟)
    112Mr. Yahya Bakhtiar: Zakat for instance
    (جناب یحییٰ بختیار: مثلاً زکوٰۃ)
    Mirza Nasir Ahmad: He says that?
    (مرزاناصراحمد: وہ کیا کہتا ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: "It is not necessary; I don't believe in it."
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ضروری نہیں ہے۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا)
    Mirza Nasir Ahmad: This institution of Zakat should be abolished?
    (مرزاناصر احمد: وہ کہتا ہے کہ ادارۂ زکوٰۃ کو منسوخ کر دو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Abolished or it never existed; "I do not believe in it."....
    (جناب یحییٰ بختیار: منسوخ کر دو یا اس کا کبھی وجود ہی نہ تھا میں اس میں اعتقاد نہیں رکھتا…)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that is his view. The Chief Election Commissioner asks, "Is it so?" he says, "Yes, Sir, but you are not concerned. You are concerned only with my declaration. I have written I am a Muslim. It is none of your business whether I believe in one tenant or not, or I believe in others or not." What will the Chief Election Commissioner do? Has he the right to interfere or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کے تأثرات ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس سے پوچھتا ہے کیا ایسا ہے وہ کہتا ہے ہاں۔ لیکن آپ کا اس سے مطلب نہیں۔ آپ کو تو صرف میرے ڈکلیئریشن سے مطلب ہے جس میں نے لکھ دیا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اس سے کیا مطلب۔ آپ کو اس سے کیا غرض کہ میں کسی عقیدہ پر اعتراض رکھتا ہوں یا نہیں اور چیف الیکشن کمشنر کا اس سے کیا تعلق کہ میں کیا عقیدہ رکھتا ہوں اس کو دخل اندازی کا کیا حق ہے۔
    Mirza Nasir Ahmad: What will the members of this House do?
    (مرزاناصر احمد: اس ہاؤس کے ممبران بتائیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Members of the House are not under oath to give evidence, Sir.
    (جناب یحییٰ بختیار: ممبران نے حلف نہیں اٹھایا ہے کہ وہ گواہ ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no.
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: You are asking ....
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ کہہ رہے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: They are supposed to elect or reject.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you will guide them. In such circumstances, you will tell us that in the light of your interpretation of Article:20, the Chief Election Commissioner says, 'Yes, I will have to accept the declaration on the face of it?"
    (جناب یحییٰ بختیار: ان حالات میں دفعہ نمبر۲۰ کی اپنے مفہوم کے رو سے اگر چیف الیکشن کمشنر کہتا ہے کہ اس ڈکلیئریشن کو ظاہری حالت میں قبول کرنا پڑے گا تو پھر؟)
    113Mirza Nasir Ahmad: I have already humbly submitted so many times that these extreme examples, these imaginary examples, cannot solve the problem we are facing today. Let us face facts. You know .....
    (مرزاناصر احمد: میں نے کئی بار گذارش کی ہے کہ اس طرح کی انتہائی سخت مثالیں اس طرح کی خیالی مثالیں ان پرابلم کو حل نہیں کر سکتیں۔ جن کا ہم کو آج کل سامنا ہے۔ واقعاتی حالات کو سامنے رکھیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I think we will continue after....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب میرے خیال میں اس پر بعد میں بات ہونی چاہئے)
    Mr. Chairman: Yes, the Delegation is permittid to withdraw, to be in the House at 6: 00 pm.
    (جناب چیئرمین: درست ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے اور شام چھ بجے پھر آجائیں)
    (The Delegation left the Chamber)
    Mr. Chairman: The Special Committee is ....
    بات کرنی ہے جی؟
    Maulana Shah Ahmad Noorani: If you permit me.
    (مولانا شاہ احمد نورانی: آپ کی اجازت ہے)
    جناب چیئرمین: ہاں جی! مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی۔
    • Like Like x 2
  6. ‏ نومبر 23, 2014 #46
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    EVASIVE ANSWERS TO QUESTION IN THE
    CROSS- EXAMINATION

    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ یہ آنریبل اٹارنی جنرل جو ہیں، جو سوالات کرتے ہیں، تو اس کا Definite (قطعی صاف صاف) جواب جو ہے وہ نہیں دے پاتے۔ آپ میرے خیال میں ان کو Bound (مجبور) کریں کہ وہ Definite (قطعی صاف صاف) جواب دیں۔
    Mr. Chairman: This matter can be taken up with the Attorney General.
    (جناب چیئرمین: اس بات کے لئے اٹارنی جنرل سے رجوع کریں)
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: یہ آپ کی پریولیج میں ہے۔
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ میں نے ان کو…
    114مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: آپ کو رائٹس ہیں یہ۔
    جناب چیئرمین: ہاں؟
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: وہ ادھر ادھر ٹال جاتے ہیں اور الٹا اٹارنی جنرل صاحب سے سوال کر لیتے ہیں۔
    ایک رکن: جناب ایسا لگتا ہے وہ جرح کر رہے ہیں۔
    جناب چیئرمین: نہیں۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: اس کا یہ طریقہ غلط ہے۔
    جناب چیئرمین: یہ بات میں نے ان سے کی تھی۔
    جناب یحییٰ بختیار: سر! میں ذرا جارہا ہوں۔
    جناب چیئرمین: آپ بالکل اس میں مطمئن رہیں۔ He has got his own method. (ان کا اپنا طریقہ ہے)
    A Member: All right, Sir.
    (ایک رکن: بہت اچھا)
    جناب چیئرمین: کہیں سے ایک Portion (حصہ) ہوتا ہے، کہیں سے دوسرا۔
    جناب یحییٰ بختیار: کوئی Object (اعتراض) کر سکتا ہے کہ آپ نہیں مانتے۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: صحیح ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں نہیں جانا چاہتا اس میں۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بیشک۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک نہیں ہے، تیز نہیں ہوسکتا۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: لیکن سر! ایک بات ضرور ہے۔ سر! میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا…
    115مولانا غلام غوث ہزاروی: ایک بات واضح ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کا سوال تو ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ان کا جواب سمجھ میں نہیں آتا۔
    Mr. Chairman: The Special Committee is adjourned to meet at 6 : 00 pm.
    In the meantime, the honourable members can discuss the questions, or methods of putting them, with the Attorney- General.
    Thank you very much.
    (جناب چیئرمین: خصوصی کمیٹی اب شام چھ بجے بیٹھے گی۔ اس دوران ممبران صاحب ان سوالات پر بحث کر سکتے ہیں جو پوچھے جائیں گے یا کیسے ان سوالات کو پوچھا جائے۔ اس کے طریقہ کار کو اٹارنی جنرل سے مشورہ کر کے متعین کریں۔ شکریہ!)
    A Member: In your Chamber, Sir?
    (ایک رکن: آپ کے چیمبر میں)

    (The Special Committee adjourned to meet at 6 : 00 pm)
    ----------
    {The Special Committee re-assembled after the break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.}
    (ہاؤس کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں دوبارہ شروع ہوا)
    Mr. Chairman: A suggestion, Mr. Attorney General, from certain members, that certain questions put by you, the witness avoids, to answer, and there is a suggestion that a second question may be put. When a definite answer is to be given by the witness, Yes or no, he say 'I don't want to give.'
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر، کچھ ممبران کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ چند ایک سوال جو آپ نے کیئے ہیں ان کا جواب گواہ ٹال دیتا ہے اور یہ تجویز ہے کہ اگلا دوسرا سوال تب ہی کیا جائے جب کہ پہلے سوال کا صاف صاف جواب گواہ دے دے۔ یعنی یا تو وہ کہے ہاں یا کہے ناں یا کہے مجھے نہیں معلوم)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I said in the beginning that we can't compel the witness. And the House can draw its own inference that he is avoiding the answer to the question and if he gives the answer, probabley that will be not favourable to him. So, this is for the Court, as they say, to decide.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے شروع ہی میں کہہ دیا تھا کہ ہم گواہ کو جواب پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اس لئے گواہ کے جواب سے جو بھی وہ دے ممبران مطلب خود اخذ کر لیں اور دیکھ لیں کہ وہ جواب کو ٹال رہا ہے۔ اگر وہ مجبوری جواب دے گا تو غالباً وہ اس کے خلاف ہوگا اور مناسب حال نہ ہوگا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ گواہ کا جواب دیکھ کر پھر فیصلہ کیا کرتی ہے)
    جناب چیئرمین: نہیں، ابھی نہیں۔ اس کو یہاں بلوالیں، ادھر بٹھادیں۔

    (Interruption)
    116Mr. Chairman: Yes, they may be called.
    جناب چیئرمین: ہاں! اب ان کو بلالو۔
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفد چیمبر میں داخل ہوتا ہے)

    CROSS- EXAMINATION OF THE QADIAN
    GROUP DELEGATION

    Mr. Chairman: Yes, the Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل صاحب)
    • Like Like x 2
  7. ‏ نومبر 24, 2014 #47
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (احمدیوں کی تعداد کتنی ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, before I proceed, my attention has been drawn by some members. For some members, some further clarification on the question of the number of Ahmadis in Pakistan.
    In a Memorandum signed on behalf of the Ahmadiyya Community before the Boundary Commission in 1947, the figure given is about two Lakhs. This is an official document.
    (جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! پیشتر اس کے کہ میں آگے بڑھوں۔ کچھ ممبران نے میری توجہ مزید وضاحت کے لئے مبذول کرائی ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کیاہے۔ ۱۹۴۷ء کے باؤنڈری کمیشن کے سامنے احمدی فرقہ کی طرف سے جو یادداشت دستخط شدہ پیش کی گئی اس میں تعداد تقریباً دو لاکھ تھی۔ یہ سرکاری دستاویز ہے)
    مرزاناصر احمد: یہ ڈاکومنٹ ہے آپ کے پاس؟ یہ دے دیں آپ۔ Half a million (پانچ لاکھ)

    (ان دو میں سے ایک بات غلط ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Half a million in the whole of India, including Pakistan, at that time, because it was done before that.
    Now you said this morning that at the time of the death of Mirza Ghulam Ahmad, the number of Ahmadis in 1908, was about 4 lakhs. Now, in the course of these 30 years or so, has the number gone down to such extent, or was this an incorrect figure?
    (جناب یحییٰ بختیار: پانچ لاکھ پورے ہندوستان میں مع پاکستان کے اس وقت کیونکہ رائے شماری اس سے پہلے ہوئی تھی۔ آج صبح آپ نے کہا کہ مرزاغلام احمد کی وفات کے وقت احمدیوں کی نفری ۱۹۰۸ء میں تقریباً چارلاکھ تھی۔ تو اس تیس سال کی یا کم وبیش مدت بعد تعداد اس قدر گر گئی یا جو تعداد اس وقت بتائی گئی ہے وہ غلط ہے یا پہلے والی غلط تھی)
    مرزاناصر احمد: میں نے کوئی عدد بھی…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Approximately ?
    (جناب یحییٰ بختیار: تقریباً…)
    مرزاناصر احمد: … وثوق کے ساتھ نہیں کہا اور چونکہ مردم شماری نہیں ہوئی۔ جہاں تک117 مجھے یاد ہے، میں نے تو ایک دفعہ اس بات کو واضح کہا تھا کہ سارے اندازے مختلف وقتوں میں کئے۔ آپ نے بھی ایک اندازہ دولاکھ کا بتایا نہیں؟ تو اسی طرح یہ کسی سیاسی پارٹی نے ۱۹۷۰ء میں لکھ دیا کہ فلاں پارٹی اس لئے جیت گئی ہے کہ ۲۱لاکھ بالغ رضاکاران کی مدد کر رہے تھے تو ۲۱لاکھ بالغ رضاکار احمدی اگر ہیں تو احمدیوں کی تعداد ایک کروڑ ہونی چاہئے۔ تو یہ کوئی فگرز جو ہیں، اوّل تو یہ صرف غیریقینی ہے۔ اعداد وشمار کے بغیر۔ دوسرے اس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اگر…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں…
    مرزاناصر احمد: … پانچ آدمیوں پر بھی ناجائز ظلم کیا جائے تو اتنا ہی برا ہے جو…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ ایک آدمی پر بھی ظلم کیا ہے، وہ ناجائز ہے۔
    I am not saying this. I only wanted that we are preparing a record and we could have....
    (میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں چاہتا تھا کہ چونکہ ہم ایک ریکارڈ تیار کر رہے ہیں تو ہمارے پاس…)
    مرزاناصر احمد: ہاں،نہیں، وہ…
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... on exact and approximate idea of the number of Ahmadis in Pakistan. So, which figure you think is correct? The figure given by the Jamaat-i-Ahmadyia.....
    (جناب یحییٰ بختیار: احمدیوں کی پاکستان میں تعداد کی بالکل صحیح یا تقریباً صحیح تعداد ہو تو کون سا عدد آپ کے خیال میں درست ہے۔ یعنی احمدیہ جماعت نے…)
    مرزاناصر احمد: میں نے، میں نے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... in 1947 ....
    (جناب یحییٰ بختیار: ۱۹۴۷ء میں جو عدد فراہم کیا…)
    مرزاناصر احمد: میں نے یہ عرض کی تو میرے نزدیک آج کل پاکستان میں ۳۵ سے ۴۰ لاکھ کے درمیان احمدی ہیں۔ بچوں، بڑوں، مردوں، عورتوں کو ملا کر۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور ۱۹۴۷ء میں آپ کی جماعت کے مطابق دو لاکھ تھے، سارے ا118نڈیا میں اڑھائی لاکھ۔
    مرزاناصر احمد: نہیں۔ پانچ لاکھ ہندوستان میں تھے۔ لیکن اس میں سے میرا خیال ہے کہ وہاں جب ہم نے ہندوستان کو چھوڑا ہے سب نے ۱۹۴۷ء میں تو کوئی چالیس پچاس ہزار وہاں رہ گئے ہوں گے۔ کیونکہ یہ تعداد جو تھی یہ جمع تھی۔ گورداسپور کے ضلع میں جو اکیلے اس ضلع میں لاکھوں میں تھے اور ساتھ ہوشیار پور کا ضلع تھا اور ادھر فیروزپور کے علاقے اور پیچھے لدھیانہ کے علاقے میں، اور یہاں بہت بھاری تعداد ارباب جماعت احمدیہ کی تھی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, in 1900-1901.... (جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! ۱۹۰۰ئ، ۱۹۰۱ء میں)
    مرزاناصر احمد: نہیں۔ آپ تو جو فگرز کا مقابلہ کریں گے تو…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ Different Question (مختلف سوال) ہے۔
    مرزاناصر احمد: … اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچیں گے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں I am asking a different question now. In 1901, Mirza Ghulam Ahmad Sahib had requested the Government to mention the Ahmadis separately in the census. Then they have been mentioned in 1901, 1911, 1921 and 1931, I understand, up to that....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دوسری بات کہہ رہا ہوں۔ ۱۹۰۱ء میں مرزاغلام احمد نے حکومت سے استدعا کی تھی کہ مردم شماری میں احمدیوں کو علیحدہ بتایا جائے۔ پھر احمدیوں کی تعداد ۱۹۰۱ء میں، ۱۹۱۱ء میں، ۱۹۲۱ء میں اور ۱۹۳۱ء میں بتائی گئی۔ یہاں تک میں سمجھتا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: And in no census the figures were correct.
    (مرزاناصر احمد: مردم شماری کی تعداد کوئی صحیح نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, that may not be correct, Sir.... (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں! نہ ہو صحیح…)
    مرزا ناصر احمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... but I want to know why this practice was given up after 1931? Why are not they separately mentioned? Have you requested them or the Government itself did that?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ۱۹۳۱ء کے بعد کیوں مردم شماری منقطع کر دی گئی۔ کیوں علیحدہ سے ان کو نہیں بتایا گیا۔ کیا آپ نے حکومت سے کہا کہ علیحدہ نہ بتائے یا حکومت نے خود ایسا کیا)
    119Mirza Nasir Ahmad: As far as I know, no, we have not requested anybody to alter it.
    (مرزاناصر احمد: نہیں! ہم نے کسی سے ایسی درخواست نہیں کی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Not to mention it separately? (جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ کہ علیحدہ تعداد نہ بتائی جائے)
    Mirza Nasir Ahmad: No. پہلے بھی اس پر عمل نہیں ہوا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: And, Sir, one more clarification. You had stated this morning that your followers call you Imam of the Jmaat, but actually your designation is that of Khalifa-tul......
    (جناب یحییٰ بختیار: اور جناب ایک اور وضاحت درکار ہے۔ آپ نے آج صبح کہا کہ آپ کے پیرو آپ کو امام جماعت کہتے ہیں۔ لیکن آپ کا لقب دراصل خلیفۃ…)
    Mirza Nasir Ahmad: .... Masih-us-Salis.
    جناب یحییٰ بختیار: مسیح الثانی؟
    مرزاناصر احمد: ثالث۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Third?
    (جناب یحییٰ بختیار: تیسرا؟)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, this word "Imam" could you kindly explain its significance as to in which sense they call you Imam? What is idea significance? Because, you know....
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ لفط امام،براہ کرم اس کی اہمیت واضح کریں کہ کس معنی میں وہ لوگ آپ کو امام کہتے ہیں؟ اہمیت کیا ہے؟)
    مرزاناصر احمد: جی! میں نے آج تک کسی کو نہیں کہا کہ مجھے امام کہو اور نہ یہ کہا ہے کسی کو کہ امیرالمؤمنین کہو اور یہ امام جماعت احمدیہ، یہ ہماری ہی جماعت میں عام طور پر نہیں استعمال ہوتا۔ پاکستان میں، باہر کے ممالک کر لیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں کچھ جو استعمال ہوتا ہے وہ ’’امیرالمؤمنین‘‘ ہے اور اس کے متعلق میں بتاچکا ہوں کہ ’’امیرالمؤمنین‘‘ سے مراد وہ ہیں جومبائع ہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, may I remind you that the day you came to address this House, you corrected the Chairman and told him that you are Imam of the Jamaat?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ جس روز آپ اس ہاؤس میں تقریر کرنے آئے تھے تو آپ نے چیئرمین صاحب کو ٹوکا تھا اور درست کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ جماعت کے امام ہیں)
    120مرزاناصر احمد: میں نے یہ کہا تھا، مجھے یاد ہے، میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے صدر، صدر انجمن احمدیہ نہ کہیں۔ کیونکہ میں صدر، صدر انجمن احمدیہ نہیں۔ اس کی بجائے مجھے امام جماعت احمدیہ کہہ دیں۔ میرے ذہن میں اس وقت Head of the Community تھا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں نہیں I just want to clarify what.... (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف وضاحت چاہتا ہوں…)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں! بالکل میں نے کہا تھا۔ مجھے یاد ہے خود اچھی طرح۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you know what the significance of the word "Imam" is among the Muslims generally and among Shia Muslims particularly?
    (جناب یحییٰ بختیار: اور آپ جانتے ہیں کہ اس لفظ امام کی مسلمانوں میں عام طور پر اور شیعہ مسلمانوں میں خاص طور پر کیا اہمیت ہے)
    مرزاناصر احمد: مجھے یہ علم ہے کہ جو ’’امام‘‘ کا مفہوم شیعہ Sect میں ہے۔ وہ دوسرے کسی Sect میں نہیں ہے۔ فرقے میں نہیں ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you don't use that in that sense? (جناب یحییٰ بختیار: لیکن آپ نے وہ مطلب نہیں لیا وہ معنی)
    Mirza Nasir Ahmad: Oh, no, certainly not.
    (مرزاناصر احمد: جی نہیں۔ یقینا نہیں)
    • Like Like x 2
  8. ‏ نومبر 24, 2014 #48
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانی خلیفہ مستعفی نہیں ہوسکتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, the next point which I wanted to know this morning which I didn't ask, can you, as Head or Khalifa or Imam of your Jamaat, resign your office or you are not allowed?
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! اگلا نکتہ یہ ہے جو میں صبح معلوم کرنا چاہتا تھا۔ مگر نہیں پوچھ سکا کہ کیا آپ بحیثیت ہیڈ یا خلیفہ یا جماعت کے امام کے اپنے عہدے سے مستعفی ہوسکتے ہیں یا آپ کو مستعفی ہونے کی اجازت نہیں ہے)
    مرزاناصر احمد: نہیں، جب خداتعالیٰ نے، یعنی ہمارے عقیدے کے مطابق اﷲتعالیٰ کی طرف سے یہ ملتی ہے چیز، تو یہ اجازت نہیں ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: You are not allowed to resign? (جناب یحییٰ بختیار: آپ کو استعفیٰ دینے کی اجازت نہیں ہے)
    مرزاناصر احمد: ہاں!
    • Like Like x 2
  9. ‏ نومبر 24, 2014 #49
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (الیکشن کمشنر امیدوار کے کاغذات میں مسلم، غیرمسلم پر غور کر سکتا ہے)
    121Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, before we adjourned this morning, I was asking you a certain question with regard to the office of the Persident and I asked you that supposing a person.... because Article:41 says that he shall be a Muslim.... then I ask you supposing a person applies or his name is proposed as a candidate for the office of Persident of Pakistan and therein his declaration is filed that 'I am a Muslim, of age over 45', whatever it may be 50 or 60 and somebody objects at the time of the scurtiny of nomination papers that he is not a Muslman because he does not believe in one of the essentials of Islam, he does not believe for instance, that Zakat is a compulsory or necessary part of Islam. Now I ask you whether the Election Commissioner has a right, will be justified to return, to refuse his nomination paper, reject it, or just because he has declared that he is a Muslim that should be sufficient?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب آج صبح اجلاس کے ملتوی ہونے سے قبل آپ سے ایک سوال میں صدر کے عہدے کے بارے میں کر رہا تھا اور میں نے یہ دریافت کیا تھا کہ بروئے دفعہ ۴۱ صدر کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ فرض کریں کہ ایک شخص صدارت کا امیدوار بنتا ہے اور ڈکلیئریشن داخل کرتا ہے کہ میں چالیس برس کا یا جو بھی عمر ہے پچاس ساٹھ برس کا ہوں اور میں مسلمان ہوں اور جب چھان بین ہوتی ہے کاغذات نامزدگی کی اس وقت کوئی اعتراض کرتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام کے ایک بنیادی اصول پر یہ اعتقاد نہیں رکھتا۔ مثلاً وہ نہیں اعتقاد رکھتا کہ زکوٰۃ لازمی ہے اور دین اسلام کا ضروری حصہ ہے تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا الیکشن کمشنر کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کے کاغذات رد کر دے انکار کر دے۔ واپس کر دے یا برعکس اس کے وہ قبول کر لے اور اس کا ڈکلیئریشن مسلمان ہونے کا مان لے؟)
    مرزاناصر احمد: الیکشن کمشنر جو ہیں ان کو ان قوانین کی پابندی کرنی چاہئے جو پاکستان نے ان کے لئے بنائے ہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you, Mirza Sahib.
    (جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! آپ کا شکریہ)
    مرزاناصراحمد: میرا تو اس میں کوئی دخل نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
    Supposing that the man says himself, when he is asked:
    "Is it true that you don't accept Zakat as necessary part of Islam and one of tha essentials?" He says: "Yes. I do not believe, I do not think it is a part of Islam, but I am still a Muslim." Now, at this stage. I only ask whether the Election Commissioner, Chief Election Commissioner can reject his nomination papers?
    (فرض کریں اس شخص سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ تم زکوٰۃ کو اسلام کا ضروری حصہ نہیں سمجھتے اور یہ کہ زکوٰۃ اسلام کے ارکان میں سے نہیں ہے۔ اگر وہ جواب میں کہتا ہے ٹھیک۔ میں یہی اعتقاد رکھتا ہوں میں نہیں سمجھتا کہ زکوٰۃ اسلام کا ضروری حصہ ہے۔ لیکن میں پھر بھی مسلمان ہوں۔ تو اس صورت میں آپ سے صرف سوال کرتا ہوں کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اس کے کاغذات کو رد کر سکتا ہے)
    مرزاناصر احمد: میں کوئی ایسا مشورہ دے دوں جو قانون اجازت نہ دیتا ہو تو بہت بری بات ہو گی۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر اس مسئلے پر کوئی قانون بن جائے تو سب کو ٹھیک ہو گا۔ ناں جی122؟ قانون…
    If the Law is made what is a Muslim?
    (اگر قانون یہ بنایا جائے کہ مسلمان کیا ہے؟)
    مرزاناصر احمد: اگر یہ قانون ہو کہ مسلمان وہ ہے جو پانچ ارکان جو ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    مرزاناصر احمد: … ان پر کم ازکم عقیدہ رکھتا ہے… عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا…
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, you think that, in the country, the State has the right to make the law to lay down what is a Muslim because Consitution requires that President has to be a Muslim, a Prime Minister has to be a Muslim or other way.....
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! آپ کہتے ہیں کہ حکومت کو قانون سازی کا حق ہے کہ بتائے کہ قانون کیا ہے۔ کیونکہ دستور مطالبہ کرتا ہے کہ صدر کو مسلمان ہونا ہے۔ وزیراعظم کو مسلمان ہونا ہے…)
    مرزاناصر احمد: میری رائے یہ ہے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... or in other way I can put it that way..... (جناب یحییٰ بختیار: بالفاظ دیگر میں کہتا ہوں…)
    مرزاناصراحمد: میری رائے یہ ہے کہ کسی اسلامی حکومت کو کوئی ایسا قانون نہیں بنانا چاہئے جو نبی اکرمﷺ کے ارشاد کے مطابق نہ ہو۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, if they make it in accordance with the Injunction of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں اگر وہ قانون بناتے ہیں کورٹ کے اندر احکام اسلام کے حدود میں)
    مرزاناصر احمد: اگر آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہے تو ہر مسلمان جو ہے اس کو قبول کرتا ہے۔
    • Like Like x 2
  10. ‏ نومبر 24, 2014 #50
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (حکومت قانون سازی کر سکتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: تو That means that they can make a law laying down what a Muslim is or who is not a Muslim in a nagative form, or in a positive form, and then the Election Commissioner, in the light of that law, can reject the nomination paper.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے یہ معنی نکلے کہ وہ قانون سازی کر سکتے ہیں۔ قطعی طور پر یہ حکم دیتے ہوئے کہ کون مسلمان ہے۔ بالتصریح اور کون مسلمان نہیں ہے۔ یعنی منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر حکم دے سکتے ہیں تو اس کے بعد الیکشن کمشنر اس ساختہ قانون کی روشنی میں اس کے کاغذات کو رد کر سکتا ہے)
    123مرزاناصر احمد: ہاں! اگر آنحضرتﷺ کے ارشادات کے مطابق ہے اور قانون ہے۔ کیونکہ الیکشن کمشنر کو آنحضرتﷺ کے ارشادات اس طرح Bind نہیں کرتے۔ جس طرح قانون Bind کرتا ہے اور اگر قانون ہے تو اس کو قانون کی پابندی کرنی چاہئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو اس قسم کا قانون بن سکتا ہے اور بننا چاہئے؟
    مرزاناصر احمد: ’’بن سکتا ہے‘‘ تو میں نہیں کہہ رہا…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،…
    مرزاناصر احمد: … میں کہتا ہوں کہ اگر قانون ہو تو اس کی پابندی کرنی چاہئے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور اگر قانون نہ ہو تو وہ دخل نہیں دے سکتا؟ پھر تو…
    مرزاناصر احمد: اگر قانون نہ ہو تو وہ دخل نہیں دے سکتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! ٹھیک ہے۔
    Sir, while referring to the Declaration of Human Rights, you have not relied on any Article of the Declaration of Human Rights, but only on the opinion of one of the draftsmen? Isn't it so?
    (جناب! آپ نے جب انسانی حقوق کے ڈکلیئریشن کی بات کی تھی تو آپ نے اس کی کسی دفعہ پر بھروسہ نہیں کیا۔ بلکہ صرف ان آراء پر جو دستاویزوں کے مسودہ بنانے والوں کے ساتھ تھے۔ کیا ایسا نہیں ہے)
    مرزاناصر احمد: میں سمجھا نہیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Annexure-I is opinion of Dr. Charles Malik of Lebanon. Is it not any Article of.....
    (جناب یحییٰ بختیار: ذیلی کاغذ نمبر:۱، یہ تو رائے ہے ڈاکٹر چارس ملک آف لبنان کی۔ کیا یہ تحریر میں نہیں ہے…)
    مرزاناصر احمد: یہ ہمارے محضر نامہ میں ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں! You have filed the Annexture.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے ذیلی کاغذ لگایا ہے نہ)
    مرزاناصر احمد: اس کی دفعہ…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Appendix.
    مرزاناصراحمد: …۱۸ ہے، وہ نوٹ کر لیں۔
    124جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! تو Have you seen other provisions also? (آپ نے دوسری دفعات بھی پڑھی ہیں یا نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, I have.
    (مرزاناصر احمد: ہاں! پڑھی ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: What is Article 29?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو بتائیں دفعہ نمبر۲۹ کیا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, I do not remember.
    (مرزاناصر احمد: یوں مجھے یاد نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That....
    مرزاناصراحمد: نہیں، تو میں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو بتا رہا ہوں، آپ نے اگر دیکھا ہے یا نہیں اس کو…
    مرزاناصر احمد: میں نے بہت سے پمفلٹ دیکھے، ایک دو کتابیں دیکھیں۔ لیکن جس چیز میں مجھے دلچسپی نہیں ہوتی اس کو میرا حافظہ یاد نہیں رکھتا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں Probably. But Sir, just like our Constitution says that you have the freedom of religion subject to law, Public order and morality, Article:29 places similar restriction.... similar.... I don't say exactly the same.... on the Human Rights that they also have to be subject to some sort of restirction.
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن جناب جس طرح ہمارا دستور کہتا ہے کہ آپ کو قانون کے اندر رہ کر اور امن عامہ اور اخلاقیات کا خیال رکھتے ہوئے پابندیوں کے ساتھ مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے تو اسی نوعیت کی اس سے تقریباً ملتی جلتی انسانی حقوق پر بھی پابندیاں عائد ہیں)
    مرزاناصر احمد: نہیں، یہ پھر جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ۱۹۴۸ء میں Universal Declaration of Human Rights (انسانی حقوق کا عالمگیر منشور) کی ابتداء ہوئی اور یہ محض اصولی چیز ہے۔ جس کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ ان تمام ممالک نے جو یو۔این۔او میں شامل ہوئے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں I am not disputing that. I am just saying that the Right is also not absolute, but subject to restrictions.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس سے اختلاف نہیں کر رہا ہوں۔ حق قطعی نہیں ہے پابندیوں سے مشروط ہے)
    125مرزاناصر احمد: ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! This is all? (بس یہی بات ہے)
    مرزاناصر احمد: لیکن نہیں۔ میں اس سے بھی زیادہ کوئی بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد ایک بہت بڑا شعبہ قائم ہوا اور بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ بہت خرچ اس کے اوپر ہورہا ہے اور انہوں نے ایک ایک Human Right (انسانی حق) کو لے کر اس کے Covenants draw کرنے شروع کئے ہیں اور چونکہ ان لوگوں کو مذہب سے اتنی دلچسپی نہیں۔ اس لئے Freedom of speech (آزادی گفتار) اور دوسرے جو تھے، کچھ Covenants بنالئے ہیں۔ کچھ پوائنٹس پر، اور کچھ ابھی نہیں بنے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پڑھ رہا ہوں جو آپ نے فائل کیا ہوا ہے۔
    مرزاناصر احمد: ہاں جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: The philosophy of the Bill of Rights was put into enduring word by the Arab scholar and Philosopher Dr. Charles Malik of Lebanon. Dr. Malik who was a member of the Commission on Human Rights of the United Nations, helped draft a Declaration of Human Rights for the United Nations. Dr. Malik stated that he deemed to be fundamental principles of civil rights:
    1- That human person is more important than racial, national or other group to which he may belong.
    2- The human person's most sacred and inviolable possessions are his mind and his conscience, enabling him to perceive the truth, to choose freely, and to exist."
    Now, Sir, I would respectfully ask you that......
    (جناب یحییٰ بختیار: انسان حقوق کے بل کے پیچھے جو فلاسفی کار فرما تھی اس کو فلسفے کے ایک عرب اسکالر ڈاکٹر چارلس ملک آف لبنان نے ابدی الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ ڈاکٹر ملک جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ممبر تھے۔ اقوام متحدہ کے لئے انسانی حقوق کا منشور بنانے میں مددگار تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اجتماعی معاشرتی حقوق کا بنیادی اصول یہ معلوم ہوتا ہے:
    ۱… ایک انسان نسلی، قومی یا دوسرے گروہوں سے زیادہ اہم ہے جن کا وہ ایک رکن ہوسکتا ہے۔
    ۲… ایک انسان کی مقدس ترین ملکیت اس کا ذہن اور ضمیر ہیں جو اسے سچ کو پہچاننے، آزادانہ انتخاب کرنے اور موجود ہونے کے قابل بناتے ہیں۔
    اب میں بصد احترام عرض کروں گا)
    مرزاناصر احمد: وہ Universal Declaration of Human Rights. (انسانی حقوق کا عالمگیر منشور) جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اس کی جو دفعہ نمبر۱۸ ہے۔
    126جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! ٹھیک ہے۔ لیکن میں یہاں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس پر Rely کیا۔
    Has any motion or resolution before the House suggested even in the most remotest way that anybody will not be allowed....
    (مگر کیا کسی ریزولیوشن یا قرارداد نے ایوان کے سامنے دور دور بھی یہ تجویز رکھی ہے کہ کسی کو مداخلت کا حق نہیں ہوگا…)
    مرزاناصر احمد: نہیں۔ وہ تو ایک شخص کی رائے، جس کی اہمیت ہے کچھ، صرف یہ کہنے کے لئے کہ انسان کے اندر اس کا جو دل ودماغ ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: کسی نے یہ تو نہیں Suggest (تجویز) کیا کہ آپ کو سوچنے کی آزادی نہیں ہے۔
    That you have not the freedom of thought or mind or conscience or the way you seek the truth. Nobody has suggested it anywhere. On the contrary, the Resolution which has come before the House.....
    (کہ آپ کو سوچ کی آزادی نہیں ہے یا فہم وعقل یا ضمیر کی آزادی نہیں ہے۔ حق کی تلاش میں کسی نے کہیں بھی اس کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ بلکہ دوسری طرف جو ریزولیوشن کہ ایوان کے سامنے آیا ہے)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں! میں اب سمجھ گیا پوائنٹ۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں .... guarantees that you will have your human rights and fundamental right,....
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کی گارنٹی دیتا ہے کہ آپ کا اپنا انسانی حق برقرار ہے اور ساتھ ہی بنیادی حق)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... right to practise and profess and....(جناب یحییٰ بختیار: کہ اس پر اعتقاد رکھیں اور عمل پیرا ہوں)
    • Like Like x 2
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر