1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں پانچواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 2, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ دسمبر 2, 2014 #21
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قادیانیوں کا علیحدگی کا رجحان)
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ آپ کی جماعت نے ہمیشہ ایک Separatist tendency adopt (علیحدگی کا رجحان اپنائے رکھا) کی،ایک علیحدگی کا رجحان رہاہے۔ آپ اپنے آپ کو مسلمانوں سے مختلف سمجھتے رہے ہیں۔ علیحدہ امت خیال کرتے رہے ہیں۔ اس پر آپ کچھ وضاحت کر چکے ہیں۔ میں چاہتا تھاکہ آپ کو بات واضح رہے کہ کس بارے میں سوالات پوچھ رہاہوں آپ سے۔
    مرزاناصر احمد: جی،جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اورآپ کی یہ کوشش رہی ہے کہ آپ کو Saparate treat (الگ سمجھا جائے) کیاجائے۔ آپ Saparate (علیحدہ) ہیں اور اس ضمن میں ایک دوحوالے ہیں جن کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتاہوں۔ ایک ہے جی ’’الفضل‘‘۱۶؍جولائی ۱۹۴۹ئ،16th July 1949۔
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اورمیرے…جو انفارمیشن مجھے دی گئی ہے…وہ غلط ہو سکتی ہے…اس کے مطابق یہ آپ کے خلیفۃ الثانی مرزابشیرالدین محمود صاحب سے منسوب کی گئی ہے۔ وہ اپنے کسی خطبے میں فرماتے ہیں جو ’’الفضل‘‘ میں شائع ہواہے،جس کی تاریخ ہے ۱۶؍جولائی: ’’لوگ705…‘‘ اور یہاں بریکٹ میں’’(احمدی)‘‘ لکھا ہواہے۔ وہاں بریکٹ میں ہے یا نہیں،میں نہیں جانتا…
    مرزاناصر احمد: ہم دیکھ لیںگے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
  2. ‏ دسمبر 2, 2014 #22
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (دشمن کے مذہب کو ہم کھا جائیں گے،قادیانی خلیفہ کا اعلان)
    مرزاناصر احمد: ہم دیکھ لیںگے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ ’’لوگ گھبراتے ہیں کہ ان کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی عداوت کیوں کی جاتی ہے کہ انہیں دکھ کیوں دیا جاتاہے۔ لیکن اگر دکھ دینے کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارا شکار ہیں توپھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے اور وہ کسی قسم کافکر…اورکسی قسم کا مکر کرنا… اور نہ کسی قسم کا فکرکرنا چاہئے۔ بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ دشمن…‘‘ یہاں بریکٹ میں’’(غیر احمدی مسلمان)‘‘لکھاہواہے۔ جو میرے خیال میں وضاحت کے لئے لکھاہے۔ ہوگانہیں وہاں۔ یہ میں خود ہی کہہ رہاہوں۔ وہاں ہوگا نہیں۔ یہ مجھے سمجھانے کے لئے ہے۔
    مرزاناصر احمد: جی،جی،ٹھیک ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…کہ دشمن…‘‘ وہاں ’’دشمن‘‘لکھا ہواہے: ’’…دشمن یہ محسوس کر تاہے کہ اگر ہم میں کوئی نئی حرکت پیداہوگی توہم اس کے مـذہب کو کھا جائیں گے۔‘‘
    تومرزاصاحب!یہاں یہ ہے کہ ’’دشمن‘‘سے ان کی کیامرادتھی؟میں نہیں کہتاکہ بریکٹ میں صحیح باتیں لکھی ہوئی تھیں…
    مرزاناصر احمد: ہاں،ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …اور یہ کس کامذہب تھا؟…
    مرزاناصر احمد: مذہب سے کیامرادہے؟
    706جناب یحییٰ بختیار: ہاں،کیامراد ہے؟اورکیاکھا جائیںگے؟اور پھر یہ’’میں اور وہ‘‘ گھبراتے ہیں’’اور‘‘ڈراتے ہیں اور’’فکر کرتے ہیں‘‘اور’’دکھ دیتے ہیں۔‘‘دوسیکشن Separate (الگ)ظاہر کررہاہے’’دشمن‘‘دو Different camps (علیحدہ کیمپ) ظاہر کررہاہے۔
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس پرآپ…
    مرزاناصر احمد: جی، یہ چیک کرکے…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، چیک کرنے کے بعد…
    مرزاناصر احمد: …Context میں دیکھ کے…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزاناصر احمد: …مجھے بھی پتہ لگے گا کہ اس طرح کیوں آگئی شکل۔ جس طرح وہابیوں کا اہل حدیث کے ساتھ کبھی جھگڑا رہا ہے۔ یا بریلویوں کا رہا مختلف فرقوں کا،تو یہ اس قسم کاجھگڑا یہاں کیسے پیداہوگیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اورمیرے دماغ میں جو اس سے اثرپڑا ہے۔ اس کے لئے Clarification (وضاحت)چاہتاہوں آپ سے…
    مرزاناصر احمد: جی،ٹھیک ہے، میں دیکھ کے…
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ یہ Tendency یہ ظاہرکررہاہے کہ آپ مسلمانوں سے مختلف ہیں اور ان کو دشمن سمجھتے ہیں…
    مرزاناصر احمد: جی،یہ عرض کردوںگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: …اور ان کو دشمن سمجھتے ہیں۔
    مرزاناصر احمد: تو یہ آج چھ بجے انشاء اﷲ meet (ملاقات)کریں جب تو اس وقت یہ اس کے اوپر روشنی…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاںجی۔ اور اسی کے ساتھ میں آپ کو ایک اوربھی…
    مرزاناصر احمد: جی،جی۔
    707جناب یحییٰ بختیار: …اس پر توجہ دیں تاکہ وہ بھی دیکھ سکیں۔ یہ بھی مرزاصاحب سے منسوب کیاگیاہے،اور یہ ہے ’’الفضل‘‘۳؍جولائی ۱۹۵۲ئ۔
    مرزاناصر احمد: ۳؍جولائی یا۳۰؍جولائی؟
    جناب یحییٰ بختیار: یہاں میرے پاس۳؍جولائی لکھاہواہے جی۔
    مرزاناصر احمد: اچھا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ممکن ہے غلط ہو،میں پھر چیک کرالیتاہوں…
    مرزاناصر احمد: نہیں،مجھے نہیں پتہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کیونکہ’’الفضل‘‘ کے کچھ ہمارے پاس پرچے ہیں اور کچھ آپ سے مانگے تھے وہ،مگر…
    مرزاناصر احمد: پہنچے نہیں ابھی۔
    جناب یحییٰ بختیار: پہنچے نہیں ہیں یا وہ ویسے بہت زیادہ ریکارڈ تھا،آپ نہیں پہنچا سکتے تھے۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، وہ میں سمجھ گیا۔ اگر اجازت دیں تو میں دو فقروں میں ویسے بتا دوں۔بہت دوستوں کے ذہن میں بھی ہوسکتاہے۔ ہماری لائبریری جو بڑی محنت سے اکٹھی کی گئی تھی۔ ۱۹۴۷ء میں ہم اس کا شاید۱۰فیصد بھی یہاں نہیں لاسکے۔ نہیں لانے دیاوہاں کی حکومت نے ظلم کرکے اورپرانے ریکارڈ میں سے بڑے قیمتی مواد، جو ویسے عیسائیوں وغیرہ کے خلاف بھی تھے۔ وہ ساری لائبریری وہاں چھوڑناپڑی اور یہاں کوئی ۱۰فیصد حصہ آیاہوگا۔ اس کے بعد ہم نے یہاں کوشش کی ہے۔ لیکن وہ پوری نہیں ہوسکی۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایک اورنقطہ نظر سے کہہ رہاتھا کہ مجھ سے جب یہاں کہا گیا کہ یہ ریکارڈ ہے، تو میں نے کہادیکھیں!ایک اخبار ہے، اس کا تیس سال کا ریکارڈ جو ہے۔ جب تک کہ ہم کم از کم منہ سے نہ کہہ دیں،بڑامشکل ہے لانا۔ پوری لاری لانی پڑتی ہے۔ تو یہ بھی Difficulty (مشکل)تھی۔ بعض چیزیں جو Definite تھیں…
    مرزاناصر احمد: ٹھیک،یہ چیک کر لیںگے۔
    708جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ چیک کرلیں۔ میرے خیال میں آپ کے پاس ہے، اور…
    مرزاناصر احمد: ۳؍جولائی یا تیس جولائی؟
    جناب یحییٰ بختیار: ۳؍جولائی۔
    مرزاناصر احمد: ۳؍جولائی۔۳؍جولائی؟
    جناب یحییٰ بختیار: …۱۹۵۲ء
    مرزاناصر احمد: …۱۹۵۲ء
    جناب یحییٰ بختیار: اس میں وہ میراخیال تھا…
    مرزاناصر احمد: یہ بھی چیک کرکے تواکٹھے ہی آجائے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ وہ، وہ جوخاص حوالہ ہے۔ جس کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتاہوں، وہ میں سنا دیتا ہوںآپ کو:
  3. ‏ دسمبر 2, 2014 #23
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (ہمارے دشمن کا حال ابوجہل جیسا ہوگا،قادیانی خلیفہ کااعلان)
    ’’ہم فتح یاب ہوںگے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔‘‘
    یہاں مرزاصاحب!آپ سے یہ گزارش ہے کہ ’’فتح‘‘ کا کیامطلب ہے؟’’مجرموں‘‘ سے کیا مرادہے؟ اشارہ کس،کن لوگوں کی طرف ہے کہ’’تمہارا وہی حشر ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہواتھا۔‘‘ اس پرآپ ذرا…
    مرزاناصر احمد: ہاں،یہ دیکھ لیںگے،چیک کرکے۔
  4. ‏ دسمبر 2, 2014 #24
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (۱۹۵۲ء گذرنے نہ پائے کہ دشمن احمدیت کی آغوش میں آگرے)
    جناب یحییٰ بختیار: پھر ایک اوراقتباس ہے جی ’’الفضل‘‘لاہور ج۶/۴۰ نمبر۱۴، مورخہ۱۶؍جولائی ۱۹۵۲ء ص۳، جس میں وہ فرماتے ہیں: ’’۱۹۵۲ء کوگزرنے نہ دیجئے۔ جب تک کہ احمدیت کارعب دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبور ہوکر احمدیت کی آغوش میں نہیں آگرے…‘‘ ممکن 709ہے کچھ نہ کچھ غلطی ہو۔
    مرزاناصر احمد: ہاں،ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ہے نا،اس پر کہ ’’دشمن‘‘…اس پراحمدیت کا رعب، دشمن پر…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں اس پررعب…
    جناب یحییٰ بختیار: …اور اس کا احمدیت کی آغوش میں آجانا…
    مرزاناصر احمد: آغوش میں آجانا…
    جناب یحییٰ بختیار: …یہ’’دشمن‘‘کون ہے؟یہ رعب کیسارعب ڈالنا ہے؟
    مرزاناصر احمد: یہ یہاں…وہ Context سے پتہ لگ جائے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اب پھر وہ فرماتے ہیں ایک اور اقتباس میں…وہی ہیں یا کسی اور کا،میں نہیں کہہ سکتا…مگریہ جو ہے نا،میں حوالہ دے دیتاہوں…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …’’الفضل‘‘۱۵؍جولائی۱۹۵۲ئ۱؎…
    مرزاناصر احمد: ۱۵؍جولائی۱۹۵۲ئ۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’ہاں اب آخری وقت آپہنچاہے۔ اب تمام علمائے حق کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے کرآج تک یہ خونی ملا…‘‘ پھر ہے:’’(عطاء اﷲ شاہ بخاری، مولانا مودودی، مولانااحتشام الحق)…‘‘ یہ بریکٹ میں ہے۔پتہ نہیں وہاں ہے کہ نہیں…
    مرزاناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …لیکن یہ میں اس واسطے کہہ رہاہوں…
    مرزاناصر احمد: ٹھیک ہے جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’(اورمفتی شفیع)…‘‘
    710اس کو بریکٹ میں لکھا ہواہے:’’…قتل کراتے آئے ہیں،ان سب کے خون کابدلہ لیا جائے گا۔‘‘ بہرحال، اس پر آپ بھی توجہ دیں کہ یہ ’’خونی ملا‘‘ کون تھے اور…
    مرزاناصر احمد: …اور’’خون کا بدلہ‘‘کا کیا مطلب ہے؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ (اخبار الفضل لاہور ج۶/۴۰ ش۱۶۶، مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۵۲ء ص۳،۴) پورا حوالہ یہ ہے: الفضل نے اداریہ لکھا جو ص۳ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی سرخی قائم کی ’’خونی ملا کے آخری دن‘‘ آگے ص۴ کالم۲ پر لکھا ہے۔ ’’ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ان تمام علمائے حق (قادیانی رہنماؤں) کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے لے کر آج تک یہ خونی ملا قتل کرواتے آئے ہیں۔ ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ (۱) عطاء اﷲ شاہ بخاری سے، (۲)ملا بدایونی سے، (۳)ملا احتشام الحق سے، (۴)ملا شفیع سے، (۵)ملا مودودی پانچویں سوار سے۔‘‘
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: …اورکیاانہوں نے کیا؟
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو یہ میں کہتاہوں کہ آپ توجہ دے دیں اورشام کو پھر آپ، یہ جو مسئلہ سامنے ہے…
    مرزاناصر احمد: ہاں، یہ تین حوالے جو آپ نے بتائے ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: چار حوالے میں نے دیئے۔
    مرزاناصر احمد: چار حوالے،ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اسی وجہ سے اس دن بھی جو میں نے دیا اور اس کو میںپھر ذرا Repeat (دہرا)کردیتاہوں تاکہ آپ کی یاد میں رہے…
    مرزاناصر احمد: نہیں،یہ لکھ لئے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،ایک اورتھا جی۔اس دن میں نے…۱۳؍نومبر ۱۹۴۶ء کا۔
    مرزاناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) لکھوجی،۱۳؍نومبر…
    جناب یحییٰ بختیار: …۱۹۴۶ء کا…
    مرزاناصر احمد: …۱۹۴۶ئ۔
    جناب یحییٰ بختیار: …جس کا ذکر "Impact" میں بھی تھا۔ وہ جو میں نے آپ کو بتایا۔
    مرزاناصر احمد: وہ وہ حوالہ…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،نہیں۔
    711مرزاناصر احمد: …الفضل کا…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں،نہیں،’’الفضل‘‘۱۳؍نومبر۱۹۴۶ء میں مرزاصاحب…
    مرزاناصر احمد: ہاں، یہ بھی شام کو ہو جائے گا۔
  5. ‏ دسمبر 2, 2014 #25
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (عیسائیوں اور پارسیوں کی طرح، قادیانی حقوق بھی)
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ جو ہے نا کہ: ’’میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلوا بھیجا کہ پارسیوں اورعیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں…‘‘
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تواقلیت میں ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی،عیسائی بھی تو مذہبی فرقے ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کر دو۔ اس کے مقابلہ میں میں دو دو احمدی پیش کرتاجاؤں گا۱؎۔‘‘
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک ہی Context ہیں۔ تاکہ آپ کو میرے…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ شام کو انشاء اﷲ ہو جائے گا۔ ویسے مختصراً تو میں نے، اس کا جواب میں نے دیاتھا۔ لیکن تفصیل مانگتے ہیں۔
  6. ‏ دسمبر 2, 2014 #26
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (انگریز کی اطاعت اسلام کا حصہ، مرزا قادیانی کا فرمان)
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! آپ کے عقیدے یا نقطہ نظر کے مطابق کیا انگریز کی اطاعت بھی اسلام کاحصہ ہے؟ انگریز،برٹش گورنمنٹ اس سے میری مراد ہے۔ کیونکہ اس پر مجھ سے کئی سوالات کئے گئے ہیں کہ اس کے بارے میں آپ …
    مرزاناصر احمد: جی، ہم سے پہلوں نے اور ہم نے اسلام کی جو تعلیم سمجھی، وہ یہ ہے کہ اگر غیر مسلم حکومت مذہب میں دخل نہ دے اورعبادات کرنے کی اجازت ہو، اور جو انسانی حقوق ہیں، و ہ ادا کررہی ہو،تو ہم سے پہلوں نے بھی، ہم نے بھی یہ عقیدہ رکھا کہ ان کے خلاف بغاوت جو ہے،وہ درست نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ جب کہتے ہیں کہ ’’وہ مذہب میں دخل یا دین میں دخل نہ دے‘‘پہلے آپ نے یہ فرمایا…
    712مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …پھرآپ نے حقوق کی دوسری بات کی…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: …تو آپ یہ ذراتفصیل سے فرمائیں کہ ’’دخل نہ دینے‘‘ سے آپ کا کیامطلب ہے کہ نماز، روزہ پڑھنے کی اجازت آپ کوہو، حج جانے کی اجازت
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ پہلے گذشتہ صفحات میں یہ مکمل حوالہ ہم حاشیہ میں نقل کرچکے ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    آپ کو ہو، اذان کی اجازت ہو؟
    مرزاناصر احمد: تمام وہ فرائض،احکام جو ہیں وہ میں پہلے…ایک ضمناً آیاتھا۔ ایک ضمناً بعد میں میں نے بتایاتھا کہ بعض حکم اسلام کے ہیں کہ ایسا ضرور کرناہے۔ بعض احکام یہ ہیں کہ ایسا جائز ہے،یعنی جواز…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Not obligatory?
    Mirza Nasir Ahmad: Not obligatory.
    تو وہ حکومت، جو اسلامی حکم ہے کہ ایساضرور کرنا ہے۔ ان احکام میں دخل اندازی نہیں دیتی۔ اس حکومت میں، اس حکومت کے خلاف بغاوت ہمارے عقیدے کے مطابق جائز نہیں، نہ ہم سے پہلوں میں سے بہت سے…
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا، خیر، میں آپ کا عقیدہ پوچھتاہوں،کیونکہ اس طرح سے لمبی بحث ہے۔
    مرزاناصر احمد: جی، وہ اپنے تسلسل میں پتہ لگتا ہے نا۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کے عقیدہ کے مطابق ایک مسلمان کے غلام ہونے کا تصور موجود ہے کہ غلام بھی ہو اور مسلمان بھی ہو؟
    مرزاناصر احمد: ہمارے نزدیک’’غلام‘‘ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو کس معنی کے متعلق آپ پوچھ رہے ہیں؟
    جناب یحییٰ بختیار: کہ حکومت، اقتدار، وہاں کسی غیر مسلم کا ہو۔میں سیاسی پہلے بات کر رہاہوں۔
    مرزاناصر احمد: یعنی’’غلام‘‘ کے معنی’’شہریت کا اختیار کرنا۔‘‘
  7. ‏ دسمبر 2, 2014 #27
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (غیرملکی غاصبین سے آزادی کیا بغاوت ہوگی؟)
    713جناب یحییٰ بختیار: شہریت کا اختیار کرنا اور وہ…اختیار کرنا نہیں۔اگر آپ جس ملک میں رہتے ہیں۔ جہاں آپ پیداہوئے ہیں۔ وہاں سے باہر سے کوئی فاتح آئے یا کسی طریقے سے آپ کے ملک پرقبضہ کرے اوروہ غیر اسلامی لوگ ہوں،اورحکومت کرے اس پر…
    مرزاناصر احمد: جب حکومت کریں اورکر رہے ہوںڈیڑھ سو سال سے یا سو سال سے…
    جناب یحییٰ بختیار: …تو اس حکومت کے خلاف آزادی حاصل کرنے کے لئے اگر کوئی جدوجہد کرے،وہ بغاوت شمار ہوگی؟
    مرزاناصر احمد: اگر وہ…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ کو اجازت ہے کہ نماز پڑھیں…
    مرزاناصر احمد: نہیں،میں سمجھ گیا بات جی۔میں سمجھ گیا۔سوال سمجھ گیا۔ اگر وہ قانون کے اندر رہ کے جدوجہد کرے تو بغاوت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر وہ فتنہ پیدا کرے اورخون خرابہ جس کے نتیجے میں پیدا ہو اوربہت سی معصوم جانیں خطرے میں آ جائیں اور بہت سے حقوق جو ہیں وہ ناجائز غصب ہونے کا امکان پیدا ہو جائے تو وہ کام نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ: ان اﷲ لایحب المفسدین
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب!ایک مشکل اس میں یہ آجاتی ہے کہ ایسے لوگ جو کہ قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ بھی بعض موقع پر ایسے سٹیج پر پہنچ جاتے ہیں کہ حکومت ایسے قدم لیتی ہے کہ وہ مجبور ہوکر قانون کے دائرے سے کچھ تجاوز کرنا پڑتاہے ان کو۔ میں آپ کی توجہ دلانا چاہتاہوں تحریک پاکستان کے دنوں میں چھ سال تک مسلسل جدوجہد ہوتی رہی۔ بات چیت ہوتی رہی۔ Negotiation ہوتے رہے۔ Demonstrations لیگل فارم میں جو ہوتے ہیں وہ ہوتے رہے۔ مگر آخر میں انگریز نے یہ کہا اور یہ اشارہ دیا کہ وہ ساری کی ساری گورنمنٹ کانگرس کو یا ہندوؤں کے حوالے کرے گا۔ جو بھی ہمارے ساتھ یا مسلم لیگ کے ساتھ یا مسلمانوں کے ساتھ جو بھی انہوں نے وعدے کئے تھے۔ اس پر وہ مکرگئے۔ گورنمنٹ کیا Interim گورنمنٹ کے بارے میں، اس سے مکرگئے۔ اسکیم جو تھی اس سے مکر گئے۔ Interim سکیم جو تھی اسی سے مکرگئے۔ تو ایک ایسا سٹیج پہنچا کہ قائداعظم نے بھی کہا کہ ’’ڈائریکٹ ایکشن۔‘‘
    714That means no longer the constitutional struggle.
    (اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے بعد مزید آئینی کوشش نہ کی جائے)
    Mirza Nasir Ahmad: I don't know whether 'direct action' means what you say.
    (مرزاناصر احمد: مجھے معلوم نہیں۔ راست اقدام کا وہی مطلب ہے جو آپ کہہ رہے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. I mean that--- what I say may be subject to correction---- may be that direct action was also a form of constitutional struggle. I don't say this. But supposing this is; now we can't....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں جو کہہ رہا ہوں وہی میرا مطلب ہے کہ راست سے مراد بھی آئینی کوشش ہی تھی۔ یہ میں نے نہیں کہا۔ لیکن فرض کریں وہ کہتے ہیں کہ…)
    مرزاناصر احمد: ڈائریکٹ ایکشن۔ انہوں نے اعلان کردیا۔ڈائریکٹ ایکشن کا۔
    جناب یحییٰ بختیار: جیسے مہاتما گاندھی نے کہا جی کہ آپ Quit India (ہندوستان چھوڑدو) اور وہ حالانکہ…
    مرزاناصر احمد: ڈائریکٹ ایکشن ہوگیانا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزاناصر احمد: مسلم لیگ کا۔
    جناب یحییٰ بختیار: مسلم لیگ کا۔ تواسی طرح میں…
    مرزاناصر احمد: اوراس کا میں جواب دوں؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،میں ذراتھوڑا سا Explain (واضح) کردوں…
    مرزاناصر احمد: اچھا،ہاں،ٹھیک ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: …تاکہ بعد میں…اسی طرح کانگریس جو تھی۔ ہندو جو تھے۔ ان کے لیڈر مہاتما گاندھی جو تھے۔ انہوں نے بھی اس اسٹیج پر یہ حکم دیا۔حالانکہ وہ Non violance (عدم تشدد)پر یقین کرتے تھے۔ Constitutional struggle (آئینی جدوجہد) پر بھی Believe (یقین) کرتے تھے اور Non violance (عدم تشدد)پر بھی۔ انہوں نے، جو رپورٹ آئی اورآپ نے دیکھی ہوگی۔ جو برٹش گورنمنٹ نے پبلش کی تھی۔ ان کی تصویریں، ان کی Instructions (ہدایات) ان میں یہ چیز آئی تھی Quit India Movement (ہند چھوڑ تحریک)میں، Cut down telephone wirles, cut down small bridges. (ٹیلی فون کی تاریں کاٹ دوپلوں کو تباہ کردو) اس قسم کی ہدایات کانگریس نے ایشو کی تھیں تو لوگوں نے مذاق کیا کہ If you cut down a bridge, however small it may be (اگر آپ پلوں کو تباہ کردیں خواہ وہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں)جو جانیںضائع ہو715جائیںگی وہ تو بہت بڑی ہوسکیںگی۔جب ٹرین نے ہی گر جانا ہے۔ تو ایسی چیزیں جو تھیں کسی سٹیج پرلوگ جو آزادی کاجذبہ رکھتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ کوئی اورمجھ پر حکومت نہ کرے۔میں اس وقت صرف سیاسی بات کر رہاہوں تاکہ آپ…
    مرزاناصر احمد: ہاں،ہاں،ٹھیک ہے۔میں سمجھتاہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کیونکہ وہ جو مسئلہ ہے اس پر بعد میں آؤں گا جوآپ کہہ رہے ہیں کہ ’’دین کی آزادی جو ہے‘‘اس پرعلامہ کہتے ہیں:

    ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
    ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد


    وہ ایک اورپہلو ہے۔
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس پر میں آپ کی توجہ دلاؤں گا کہ کیا مطلب ہے علامہ کا اور کیا چیز بنتی ہے۔ یہاں صرف سیاسی جو Struggle (کوشش)ہے…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں،ہاں، ہم یہاں پہنچے ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: میری خودداری میں…دیکھیں ناں جی۔میں پورا Explain (واضح کردوں۔
    مرزاناصر احمد: نہیں، میں اپنے سمجھنے کے لئے ایک بات کررہاہوں۔ آپ کا سوال ہی سمجھنا چاہتاہوں کیونکہ ہم پہنچے تھے قائداعظم صاحب کے ڈائریکٹ ایکشن کے سلسلے میں۔ میں نے وہاں اپنی سوچ ختم کردی تھی۔ کیونکہ وہیں ہم چلتے نا، ہمارا تعلق اسی سے ہے…قائد اعظم کے ڈائریکٹ ایکشن کا حکم۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں نے اس کے بعد کہا کہ ایسا حکم کانگریس والوں نے بھی دیا، تین سال پہلے اس سے۔
    مرزاناصر احمد: ہاں، لیکن We have nothing to do with that (ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں)
    جناب یحییٰ بختیار: میں مزید یہ عرض کر رہاتھا…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    716جناب یحییٰ بختیار: …کہ کسی ملک کے لوگ، رہنے والے، جن کو حب الوطنی کا جذبہ ہو، پہلے وہ کوشش کرتے ہیں قانون کی حدود میں رہ کر، مہذب طریقے سے اپنی آزادی حاصل کریں۔ مگر وہ کہتے ہیں: تنگ آمد بہ جنگ آمد۔ ایک اسٹیج وہ بھی آجاتاہے جب آزادی کے لئے ’’تنگ آمد بہ جنگ آمد‘‘ ہوتاہے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔ یہ میں چاہتا ہوں صرف سیاسی نقطہ نظر سے، مذہب کو چھوڑ دیجئے فی الحال…
    مرزاناصر احمد: قائداعظم نے ڈائریکٹ ایکشن کی تفصیلات کس حکم کے… کیا حکم دیاکیا کرو؟
    جناب یحییٰ بختیار: میں،مرزاصاحب! میں نے عرض کیا کہ ممکن ہے انہوں نے کہا کہ Constitution (آئین) کے دائرے میں رہو۔
    مرزاناصر احمد: نہیں،نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ میں نے اسی واسطے کہاتھا کہ میں نے…جب آپ نے قائداعظم کا حوالہ دیا، اﷲ تعالیٰ ان کو جزادے، انہوں نے بڑی خدمت کی ہے قوم کی…تو میں نے بس وہاں اگلی جوباتیں ہیں وہ میں نے… Disconnected (غیر متعلقہ)ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: میں پھر Repeat…
    مرزاناصر احمد: قائداعظم نے جب ڈائریکٹ ایکشن کا کہا…
    جناب یحییٰ بختیار: میں پھر Repeat (دوبارہ) کردیتا ہوں کہ میں نے کیا عرض کیا۔
    مرزاناصر احمد: …جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا کہ ممکن ہے کہ قائداعظم نے جب یہ کہا کہ ’’ڈائریکٹ ایکشن‘‘ تو ان کا یہی نظریہ ہو۔ ممکن ہے یہی Instructions (ہدایات) ہوں کہ باوجود Constitutional (آئینی) کوشش ختم ہونے کے پھر بھی یہ بھی Constitutional (آئینی) ہی رہے۔ یہ میں کہتاہوں ممکن ہے، کیونکہ ممکن ہے میں اسٹوڈنٹ تھا، مجھے یا نہ ہو…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    717جناب یحییٰ بختیار: …مگر قائداعظم کا اپنا مطلب یہی تھا اورہوگا کہ آپ جلسے کریں۔ Demonstration (مظاہرہ) کریں۔ جلوس نکالیں۔ احتجاج کریں۔ مگر ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ لوگوں کو ماریں۔ گھروں کوجلائیں۔ آگ لگائیں۔ کسی کونقصان پہنچائیں۔ نہیں، ہرگز نہیں۔ وہ اس اصول کے آدمی نہیں تھے۔ مگر جب ڈائریکٹ ایکشن ہوا۔ جس طرح لوگوں نے اس کو سمجھا اور جو کلکتہ میں جو تاریخ مقرر تھی…میرے خیال میں ۱۶؍ستمبر۱۹۴۶ء کی ، ۱۶؍اگست ۱۹۴۶ء تو نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہی دن میں میرے خیال میں کلکتے میں دس ہزار جانیں ضائع ہوگئیں۔ مسلمانوں اورہندوؤں کی ملا کے اور وہ ڈائریکٹ ایکشن کے بارے میں بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے پھر پاکستان بنا۔ ابھی آپ اس پرذرا…
    مرزاناصر احمد: میں توصرف اتنا کہہ سکتاہوں کہ قائداعظم کی ہر جدوجہد میں جماعت احمدیہ کے افراد کندھے سے کندھا ملاکے پاکستان کے لئے لڑتے رہے ہیں اور اس کی ایک… (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے فوٹو اسٹیٹ کی کاپی؟(اٹارنی جنرل سے) یہ ایک ریلیز ہے قائداعظم کی،اخبار ’’ڈان‘‘ ۸؍اکتوبر ۱۹۴۳ء اس کا عکس ہے یہ، قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے، جماعت احمدیہ قادیان کی مرکزی مراسلات پریس میں:
    Ahmadiyya community to support Muslim League. Qadian leader's guidence. Mr. M.A Jinnah has released the following correspondence to the Press. Letter from Nazim-e- Umoor-e- Aama of the... (یہ ہوگا مس ٹائپ) Umoor-e- Aama of the Ahmadiyya Movement, Qadian, addressed to Mr. Jinnah:
    "Dear Sir:
    I beg to enclose herewith a copy of the letter from Mohammad Sarwar Dani of village Marghazar Kurda district Rae-pur, addressed to Hazrat Amir-ul- Momineen, Khalifat-ul- Mashih 2nd, Head of the Ahmediyya community, and the reply thereto, for your kind perusal.
    yours faithfully."
    (احمدیہ جماعت مسلم لیگ کی حمایت کرے گی۔ رہنمایان قادیان کی ہدایت، مسٹر محمد علی جناح مندرجہ ذیل خط وکتابت اخبارات کو جاری کی ہے۔ احمدیہ جماعت کے ناظم امور عامہ قادیان کی طرف سے مسٹر جناح کے نام خط:
    جناب والا! … میں ایک خط منجانب محمد سرور دانی ساکن موضع مرگزار، ریاست رائے پور کی نقل جو کہ حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح ثانی جماعت احمدیہ کے نام ہے۔ بھیج رہا ہوں اور اس خط کا جواب بھی آپ کے ملاحظہ کے لئے۔ آپ کا مخلص!)
    "The text of the letter from Muhammad Sarwar referred to above: وہ متن آگے ہے۔
    (یہ محمد سرور کے اس خط کا متن ہے جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے)
    718"We have the honour to make a request and a query. We are a few Ahmadies here in this town and in the present election campaign we have been approached both by the League and the Congress for contributions and assistance to the respective parties and candidates. Kindly guide us whom we should support."
    Reply from the head of Ahmadia community:
    "You ought to support Muslim League in the present elections and offer them whatever means of cooperation and assistance you can possibly afford. Muslims do require a united front in the present crisis. There differences, if allowed to exist, will affect them adversly for hundreds of years to come."
    (’’ہم ایک درخواست کر رہے ہیں۔ جس کے متعلق آپ سے رہبری کے طالب ہیں۔ اس قصبہ میں ہم چند احمدی ہیں۔ الیکشن کی مہم کے دوران ہم سے (مسلم) لیگ اور کانگریس دونوں نے رابطہ کیا ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے امیدواروں کے لئے امداد کے خواستگار ہیں۔ از راہ کرم ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم کس کی حمایت کریں۔‘‘
    جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب: ’’موجودہ الیکشن میں آپ کو مسلم لیگ کی حمایت کرنی چاہئے اور ممکن حد تک جو بھی تعاون اور امداد آپ کر سکتے ہیں کریں۔ موجودہ بحران میں مسلمانوں کو متحدہ محاذ کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے اختلافات کو رہنے دیا گیا تو اس کے اثرات سو سال تک رہیں گے۔‘‘)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ جو میں دوسرا عرض کر رہا تھا ناں… Seperatists کے متعلق اس کے بارے میں یہ ہوسکتا ہے۔
    (چیئرمین کی رولنگ، مرزاناصر نے سوال کا جواب نہیں دیا)
    Mr. Chairman: The question of the Attorney- General is unanswered.
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل کے سوال کا جواب نہیں دیاگیا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Beg your pardon?
    Mr. Chairman: Your question has not been answered. (جناب چیئرمین: آپ کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That's why I said that relates to a different subject.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا اس (سوال) کا تعلق دوسرے موضوع سے ہے)
    Mr. Chairman: No, the question has not been answered as yet.
    (جناب چیئرمین: نہیں، سوال کا جواب ابھی تک نہیں دیاگیا۱؎)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That's why I am repeating that. کہ constitutional struggle becomes impossible and Muslims particularly find that they cannot achieve their
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ سوال تھا کہ آزادی کی جدوجہد کے لئے کسی مرحلہ پر ڈائریکٹ ایکشن ہوسکتا ہے۔ مرزاناصر نے جواب دیا کہ قادیانی جماعت نے لیگ کے امیدوار کو ووٹ دئیے۔ سوال گندم جواب چنا!
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    independence in thir own country and they adopt methods other than constitutional in order to obtain independence.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اسے دوہرا رہا ہوں۔ اگر آئینی کوششیں ناممکن ہو جائیں اور مسلمان یہ سمجھیں کہ وہ آئینی ذرائع کے علاوہ دوسرے ذرائع اختیار کئے بغیر اپنے ملک میں آزادی حاصل نہیں کر سکتے)
    مرزاناصر احمد: یعنی قانون شکنی کرتے ہیں۔ جانیں لیتے ہیں۔ لوٹتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: جانیں لینے کا میں نے نہیں کہا۔
    719مرزاناصر احمد: نہیں، میں ویسے وضاحت چاہ رہا ہوں۔ میں نے یہ نہیں کہا…
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے Unconstitutional (غیرآئینی) کہا۔ اس کی مثال میں یہی دیتاہوں،چھوٹی سی۔
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ وہ کہتے ہیں کہ ’’دفعہ۱۴۴ لگ گئی ہے۔ آپ جلوس نہ نکالیں‘‘وہ کہتے ہیں ’’ہم نکالیںگے…‘‘
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’…ہم اس کوتوڑیںگے۔‘‘ چھوٹی سے مثال ہے۔ Struggle (کوشش)جو ہے کہ Constitutional (آئینی) انہوں نے توڑ دی۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ گورنمنٹ نے زیادتی کی کہ ’’نہیں،آپ نہیں جائیںگے۔‘‘ یا گورنمنٹ نے قانون کو Enforce (نافذ)کیا، جو ان کی بھی ڈیوٹی سمجھی جاتی ہے۔ جب جلوس انہوں نے نکالا، لوگ زخمی ہوگئے۔ گولی چلی۔ لاٹھی چارج ہوا۔ اس طرح یہ چیز چلتے چلتے ایک ایسی پوزیشن پر پہنچ جاتی ہے جب گورنمنٹ کی مشینری بے حس ہو جاتی ہے…
    مرزاناصر احمد: گورنمنٹ مشینری…؟
    جناب یحییٰ بختیار: بے حس۔
    مرزاناصر احمد: بے حس۔
    جناب یحییٰ بختیار: بے حس، Paralysed (مفلوج) اورمجبور ہوکر جو فاتح ہے، حاکم ہے، اس کو ملک چھوڑنا پڑتاہے۔ جیسے انگریز کو چھوڑنا پڑا Ultimately …
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: Quit India Movement (ہند چھوڑ تحریک) اورمسلم لیگ موومنٹ ساری ایسی ہی ہیں۔ تو اس بارے میں میں پوچھتاہوں کہ یہ ان کو حق ہے کہ نہیں کہ اس قسم کی جدوجہد کریں تاکہ اپنی آزادی حاصل کرسکیں؟ میں جہاد کے مسئلہ کی طرف نہیں جارہا۔
    مرزاناصر احمد: نہیں،نہیں،میں سمجھ گیا۔ یہ جو ہے Constitutional struggle to regain one's independence constitutional struggle (آزادی حاصل کرنے کے لئے آئینی کوشش) مختلف معانی میں720 استعمال ہوسکتی ہے۔ جس وقت When the Govt. is paralysed, there is no law to obey لاء ہی نہیں رہتا۔
    When anarchy takes the place of Legal Government, then the question of breaking the law does not arise; one must struggle for one's survival.
    (جب حکومت مفلوج ہو جائے۔ ملک میں کوئی قانون نہ رہے اور قانونی حکومت کی بجائے افراتفری اور عذر کا سا عالم ہو تو ایسے حالات میں قانون شکنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اپنے بچاؤ کے لئے ہر کوئی خود کوشش کرتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I said deliberately a situation is created when the Government machinery gets paralized. I said, "delibrately."
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا کہ حکومتی مشینری جان بوجھ کر مفلوج کر دی جائے۔ میں نے کہا جان بوجھ کر)
    مرزاناصر احمد: نہیں،کون؟
    Deliberation on whose part?
    (جان بوجھ کر کس کی طرف سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: On the part of those who struggle for independence; they deliberately create a situation that the Government machinery becomes paralized.
    (جناب یحییٰ بختیار: ان کی طرف سے جو آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ حکومت مفلوج ہو جائے)
    مرزاناصر احمد: اگر وہ ان کی یہ پہلی ابتدائی جو کوشش ہے، وہ Under the constitutional right in any sense? (کسی بھی طور آئینی حقوق کے تحت)
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Constitution (آئینی)…
    مرزاناصر احمد: یعنی ان کے اپنے خیال میں؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،…
    مرزاناصر احمد: اگر ان کے اپنے ذہنوں میں، ان کی Struggle (کوشش) پھر بھی Constitutional (آئینی) ہے، اور نتیجہ وہ نکلتا ہے، تو I donot want to blame them (میں انہیں قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہتا)
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہوںگا۔ میں یہی عرض کروں گا کہ ان کے ذہنوں میں یہ بات Clear (صاف) ہے کہ Constitutional (آئینی جدوجہد) نہیں ہو سکتی۔اب ہم کو قانون شکنی کرنی پڑے گی۔ اپنے آپ کو…جیسا کہ وہ کہتے ہیں جی… گرفتاریوں کے لئے پیش کریںگے…میں اس کی بات کررہاہوں…جو قانون Deliberately (جان بوجھ کر)توڑیں گے۔ خواہ چھوٹا قانون ہو۔ وہ کہتے ہیں’’جلسہ مت کرو۔‘‘ وہ کہتے ہیں ’’کریںگے۔‘‘دفعہ ۱۴۴ لگے گی تواچھا۔ اس کوتوڑیںگے۔ میں ان کی کہہ رہا ہوں جو Deliberately (جان بوجھ کر)اس طریقے سے کوشش کر کے، لوگوں کی Attention draw (توجہ دلاکر) کرکے،لوگوں کی Unity (اتفاق) بڑھاکر،جسے کہتے ہیں قربانی کرنا721، بعض لوگ جیلوں میں گئے، بعض سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ جیلوں میں جائیں۔ بہرحال جو یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ہم پر…جو ہم پر حکومت ٹھونسی گئی ہے۔ وہ ہماری حکومت نہیں ہے۔ ہم نے آزادی حاصل کرنی ہے۔ اگر قانونی جدوجہد سے ہو تو بہتر، اگر نہ ہوسکے تو ہم غیر قانونی جدوجہد کریںگے اور اس گورنمنٹ کو Paralyse (مفلوج)کرکے، فیل کرکے مجبور کریں گے کہ یا تو ہمیں سارا اقتداردے یا چلی جائے، جیسا بھی ہو۔ تو میں اس Situation (حالت) کا کہہ رہاہوں کہ کیا کوئی جس کو آپ مسلمان کہتے ہیں یا جو بھی انسان ہو جو اپنی غیرت سمجھتا ہے کہ ’’بھئی!میں آزادہوں، I do not want anybody to rule me politically, do not want anybody to give me orders.''
    (میں کسی کو سیاسی طور پر اپنے اوپر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دیتا نہ ہی کسی کو میں اپنے اوپر حکم چلانے دوںگا)
    اب آپ نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی بات تھی کہ مارشل ایوب خان آئے۔ ہم میں سے ایک تھے، مسلمان تھے، پاکستانی تھے۔ انہوں نے ایک آئین دیا جس میں انہوں نے کہاکہ:
    "I, Field-Marshall Mohammad Ayub Khan do hereby give you this constitution."
    (میں فیلڈ مارشل ایوب خان آپ(عوام) کو آئین دیتاہوں۔ ) اور سارا ملک چیخ پڑا کہ ’’اس کا کوئی بزنس نہیں۔ We should give ourselves a Constitution
    (عوام نے کہا ہم اپنے آپ کو خودآئین دیںگے)
    ایک فرد نہیں دے سکتا۔ اب یہ تواپنافرد تھا۔ اب باہر سے، وائٹ ہاؤس سے آرڈر آتے رہے کہ آئندہ کا یہ Constitution (آئین)ہوگا، یہ ہوگا۔ یہ غیرت نہیں گوارہ کرتی تھی غیرت مند لوگوں کی، میں ان کاذکر کررہاہوں۔ میں ان کاذکرکررہا ہوں انہوں نے Struggle (کوشش) کی۔ انہوں نے قربانیاں دیں۔ اپنے نقطہ نظر سے، یہ سمجھ کر کہ اس گورنمنٹ کو ہم نے Paralyse (مفلوج) کرنا ہے۔ قانونی طریقے سے ہوگیا توٹھیک، قانونی طریقے سے نہ ہوا تو غیرقانونی طریقے سے بھی ہم کر یں گے۔ کیا یہ Struggle (کوشش) جو اس طریقے سے ہو، جو غیر قانونی طریقے سے ہو۔اس کو آپ جائز سمجھ سکتے ہیں یا اس کو بغاوت سمجھتے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: یہ کچھ انسان کی اپنی جو Thinking (سوچ)ہے ناں، وہ جواب میں تو بہرحال آئے گی۔ میں نے جواسٹڈی انگریزوں کی یہاں کی حکومت کے متعلق کی ہے۔ میں اس نتیجہ پرپہنچاہوں کہ جہاں بھی ہمیں، ان کی Vision (بیان)کے مطابق، قانون شکنی نظرآتی ہے۔ اس کی ابتداء خود قانون بنانے والے نے قانون توڑ کے کی تھی۔ تو جب حکومت خود اپنے قوانین توڑدیتی ہے۔ تو جو722 دوسرا جدوجہد کررہاہوتاہے اپنی آزادی کے لئے۔ اس کے اوپریہ الزام نہیں رکھاجاسکتا کہ قانون تھا اوراس نے توڑامثلاً میں مثال دیتاہوں دفعہ ۱۴۴۔ دفعہ ۱۴۴ ایک مستقل سپریم پریولیج Supreme privilege نہیں ہے ڈی ۔سی کا۔ مثلاً ڈی۔ سی۔ جو ہے، وہ دفعہ ۱۴۴ جائز بھی لگاسکتاہے اورناجائز طورپر بھی لگاسکتاہے۔ وہ ناجائز طور پر، جانتے بوجھتے ہوئے کہ مجھے نہیں لگانی چاہئے،اوپر سے حکم آگیا، وہ لگا سکتاہے۔ برٹش گورنمنٹ کا حکم آگیا ہے یا یہ کہ وہ غلط فہمی میں ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،مرزاصاحب!یہ تو…
  8. ‏ دسمبر 2, 2014 #28
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (انگریز خود قانون شکن تھا، مرزاناصرکااعلان)
    مرزاناصر احمد: نہیں،نہیں،میں…میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جس وقت… یعنی میں تویہ بتارہاہوںکہ میری سمجھ کے مطابق اس ساری Struggle (کوشش) میں قانون شکنی کی پہلی ذمہ داری انگریز نے اپنے سر پررکھی۔ اس واسطے ان کے مخالف جو جدوجہد ہورہی تھی۔ خواہ وہ کانگریس کی تھی یا مسلم لیگ کی تھی یا مسلمانوں کے کسی اورگروہ کی تھی۔میری یعنی جو میں نے سٹڈی کیاہے۔ میں اپنی رائے بتارہاہوں آپ کو، میری رائے کے نزدیک انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں پرقانون شکنی کا الزام لگایا ہی نہیں جا سکتا۔ خواہ بظاہر یہ نظر آرہا ہو۔ کیونکہ قانون شکنی کرنے والے وہ خود تھے۔ جنہوں نے قانون بنایا تھا مثلاً جلیانوالہ باغ ہے۔ انگریز کی حکومت نے وہاں Slaughter (خون ریزی) کی ان کو اجازت نہیں دی تھی۔ خود ان کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور اگر کوئی کہے کہ گولیاں چلیں اور تمہیں آرام سے بیٹھے رہنا چاہئے کیونکہ قانون شکنی نہیں جائز، تویہ توغلط ہے میرے نزدیک۔ جب انگریز نے قانون شکنی کردی تو ان کے خلاف جدوجہد جائز ہے اور Constitution (آئینی) ہے میرے نزدیک۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! آپ نے میرے لئے ایک دوسرا مشکل مسئلہ کھڑا کردیا ہے…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ…وہ اس واسطے میں عرض کرتاہوں…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    723جناب یحییٰ بختیار: …کہ ہم جو قانون پڑھتے ہیں، جو تھوڑا بہت سمجھتے ہیں۔ اس کے مطابق آپ کہتے ہیں انگریز نے قانون شکنی کی۔ انگریز کہتا ہے کہ اگر میں نے قانون شکنی کی تو اس کا فیصلہ آپ نہیں کریںگے۔ وہ عدالت کرے گی۔ اگر آپ نے کی، اس کا بھی فیصلہ عدالت کرے گی۔ توآپ کی سمجھ کے مطابق درست ہوگا یہ کہ دفعہ ۱۴۴ غلط لگائی گئی۔ مگر اس کے لئے عدالت جاناپڑتا ہے۔ وہاں Revision (نگرانی) اوراپیل ہے اس کے لئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ طریقہ ہم نے نہیں اختیار کیا۔ ہم نے کہا’’نہیں، ہم نہیں مانتے۔‘‘ تو یہ میں بات کر رہا ہوں…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: …کہ انہوں نے غلطی کی۔ یہ غیر قانون جدوجہد تھی کہ ۱۴۴ کو Violate (توڑا)کیا۔ آرڈرغلط تھا۔ آپ کی بات سوفیصد درست ہے کہ ڈی سی نے ناجائز طور پر لگایا مگر ہائی کورٹ میں Revision (نگرانی) ہے اس کی۔
    مرزاناصر احمد: جی، تویہ…آپ کا سوال ختم ہوجائے تو پھر مجھے بتادیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں کہہ رہاہوں وہ تو اورفیلڈ میں چلا جاتا ہے۔
    مرزاناصر احمد: انگریز کہتا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: قانون کہتاہے۔
    مرزاناصر احمد: نہیں،انگریز ،یعنی انگریزی حکومت۔ ہم نے وہ مثال لے لی ہے ناں ایک۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
    مرزاناصر احمد: انگریزی حکومت کہتی ہے کہ ’’ہم نے قانون شکنی نہیں کی‘‘…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    مرزاناصر احمد: …اور جو اس کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: ’’تم نے پہل کی قانون شکنی میں۔‘‘انگریزی حکومت کہتی ہے کہ ’’تم ہماراجوہے کورٹ، عدلیہ جو ہے، اس کے پاس جاؤ۔‘‘ اور وہ جو، جس پر وہ الزام لگاتے ہیں،غلط میرے نزدیک کہ تم قانون شکنی کر رہے ہو۔ وہ کہتا ہے کہ ’’تمہارا ڈی سی تو قانون شکنی کرنے والا ہے،اس کے پاس ہم کیسے جائیںگے؟‘‘
    724جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہائی کورٹ میں Revision ہوسکتی ہے۔
    مرزاناصر احمد: ساری ان کا وہ تو، ساری حکومت کا تانا بانا خراب ہوچکاتھا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو سب ٹھیک ہے۔ میںیہی، مرزاصاحب!عرض کر رہا ہوں کہ ناجائز قانون…روز قانون بنتے ہیں، وہ بظاہر ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان کا استعمال غلط ہوتا ہے۔ ورنہ یہ اختیار جو ہے اس پربھی کسی زمانے میں بڑے فائدے تھے اور بڑے لوگوں کو فائدہ بھی پہنچا۔ ابھی بھی بعض لوگ کہتے ہیںکہ بڑی جلدی ہمارے فیصلے ہو جاتے ہیں بشرطیکہ ڈی۔سی ۔ایماندار ہو، بشرطیکہ جرگہ ممبر ایماندارہو۔ جب یہ شرطیں آجاتی ہیں تو آپ کو پتہ ہے کہ معاملہ ذرا مشکل ہی ہوجاتاہے۔
    توبہرحال انگریز نے ایک سسٹم رکھاتھا کہ اگر میراقانون غلط استعمال ہوتاہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ غلط ہوا۔ کسی جگہ غلط آرڈر پاس کیا ہو۔ناجائز آرڈر پاس کیاہے۔قانون کے مطابق نہیں پاس کیا۔ توعدالت سے فیصلہ کراؤ گے۔توخود قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لوگے۔ میں کہتاہوں کہ جب لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ انگریز نے توبات ٹھیک کہی ہے۔ مگر آج دفعہ ۱۴۴ کاآرڈرہوتا ہے کہ کل جلسہ نہیں ہوگا۔ میں کہاں ہائی کورٹ پہنچوں۔ کیسے آرڈرلوں؟ یہ مشکلات آتی رہتی ہیں تو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم قانون شکنی اس طرح سے کرتے ہیں کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے۔ جلسہ ضرور کریںگے۔ جلوس ضرور نکالیںگے۔ Technically speaking, Sir, they do violate law.
    Mirza Nasir Ahmad: In the eyes of the foreign rulere.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, that is what I say any…
    مرزاناصر احمد: نہیں، اگر ہماری بھی آنکھوں میں یہی ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہی میں کہہ رہا ہوں کہ Foreign ruler جو ہے اس کے خلاف جدوجہد ہے۔ اس نے قانون بنایا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’میرا قانون یہ ہے کہ اگر میں ایک غلط فیصلہ لیتاہوں۔آپ عدالت میں جاکر اس کو درست کرا دیجئے۔ اگر غلط ہے Set aside کرادیجئے۔ مگر آپ اس کے خلاف قدم نہیں لیںگے۔‘‘ میں کہتاہوں کہ ’’صاحب! آپ 725نے آرڈر دیا ہے کہ کل جو میراجلسہ ہے وہ نہیں ہوگا کیونکہ دفعہ۱۴۴ آپ نے لگا دی ہے۔ یہ ناجائز ہے۔ ‘‘کہتا ہے’’Revision کرو۔‘‘ میں کہتاہوں:’’Revision کروں گا، جناب!تو مجھے دو تین دن کی ضرورت ہے۔ یا اگر ۴۷ گھنٹے کی ضرورت ہو۔ہائی کورٹ میں ایک دن میں پہنچ بھی جاؤں گا تو مجھے یہ سب انتظامات کینسل کرنے پڑیںگے۔‘‘ تو وہ کہتا ہے’’جلسہ پھر دو دن کے بعد کر لو۔‘‘ وہاں سے بھی Reasonable بات معلوم ہوتی ہے۔ یہاں سے بھی Reasonable بات معلوم ہوتی ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ ’’ہم توہائی کورٹ نہیں جا سکتے، اس پر کافی دیر لگے گی۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم جلسہ ضرور کریںگے۔‘‘ میں اس Situation کا کہہ رہا ہوں کہ آپ کہتے ہیں کہ انگریز نے قانون شکنی کی۔ انگریز کے نقطہ نظر سے قانون کی نظر سے اس نے قانون شکنی نہیں کی۔ قانون شکنی وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ’’جی ہم کر رہے ہیں، ہم اپنے آپ کو جیل جانے کے لئے Volunteer کر رہے ہیں۔ ہم جلسہ کریں گے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیںگے۔جہاں تک جلسہ جلوس کا تعلق ہے۔ میں ان کے فعل کے بارے میں کہہ رہا ہوں کہ ان کو آپ Justify کریںگے یا نہیں؟
    مرزاناصر احمد: یہاں اب دو سوال میرے ذہن میں اٹھتے ہیں۔ ایک میں نے یہ سوچا کہ کیامیرا اپنا دماغ مجبور ہو جائے گا کسی وقت کہ قانون شکنی،بظاہر قانون شکنی کئے بغیر میں اپنے سیاسی حقوق کو حاصل کرسکوں ؟ تو میرے دماغ نے جواب دیا،نہیں۔ میرے دماغ نے جواب دیا کہ تجھے اﷲ تعالیٰ… میں اپنی بات کررہاہوں…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
  9. ‏ دسمبر 2, 2014 #29
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (انگریزوں کو سمندر میں دھکیلا جاسکتا ہے، مرزاناصر)
    مرزاناصر احمد: …یا اپنی جماعت کی…وہ فراست دی ہے کہ ظاہری طور پر قانون شکنی کئے بغیر بھی،اس مثال میں،انگریزوں کو سمندر میں دھکیلا جاسکتاہے۔ یہ ایک جواب ہے۔
    دوسرا جواب ہے ان دوستوں کا جو یہ سمجھتے ہیں یقین، دیانت داری کے ساتھ، کہ انگریز نے قانون توڑ دیا اوروہ یقین رکھتے ہیں دیانت داری کے ساتھ کہ اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں سے اپنے حقوق کی حفاظت ہم حاصل کرسکیں۔ کیونکہ ان کی جو عدالت ہے۔ کورٹس ہیں، وہ بھی انہی کی ہیں اوراوپر کے حاکموں کے اشارے پروہ چل رہے ہیں۔ جو حصہ ہمارے ملک کا726… اور اب ہم بات کر رہے ہیں مسلم لیگ کی…یہ سمجھتاتھا اوردیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتاتھا کہ انگریز قانون توڑ چکاہے۔ ان کے اوپر میرے نزدیک دیانت داری سے یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے بغاوت کی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اچھاجی۔ اس کے بعد پھر میں دوسرے صفحے پر جاؤں گا…
    مرزاناصر احمد: یہ اگر پانچ منٹ رہ گئے ہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،اس لئے کہہ رہاہوں کہ پانچ منٹ میں چونکہ ابھی میں نے جانا تھا۔ اس تمہید کے ساتھ،۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی طرف، جس کو بعض لوگ انگریز کی طرح سے غدر کہہ دیتے ہیں۔ تو اس لئے اس پر میرے خیال میں کچھ ٹائم لگے گا۔
    مرزاناصر احمد: ہاں، ٹائم لگے گا۔
    Mr. Chairman: The Delegation is permitted to withdraw; to report at 6: 00 p.m. چھ بجے
    (جناب چیئرمین: وفد کو شام چھ بجے تک جانے کی اجازت ہے)
    The honourable members may keep sitting.
    (معزز ممبران تشریف رکھیں)
    (The Delegation left the Chamber)
    (وفد چیمبر سے باہر چلاگیا)
    (جناب چیئرمین: یہ کتابیں ان کی پہنچا دیں۔
    Hazrat Maulana Attaullah, a lawyer definitely needs five minutes of recess after he has finished his cross- examination; this is my feeling as a lawyer. So, for five minutes, allow Mr. Attorney- General to have a rest.
    (حضرت مولانا عطاء اﷲ صاحب جرح ختم کرنے کے بعد یقینا وکیل کو پانچ منٹ کاوقفہ درکار ہوتا ہے۔ یہ میرا خیال بطور وکیل کے ہے۔ اس لئے اٹارنی جنرل صاحب کو پانچ منٹ آرام کے لئے دئیے جاتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I had to go to the Defence College from 8 o'clock.
    (جناب یحییٰ بختیار: مجھے ایک تقریر کے سلسلے میں آٹھ بجے ڈیفنس کالج جانا تھا)
    Mr. Chairman: Yes. So, this is my personal request to Hazrat Maulana Attaullah.
    (جناب چیئرمین: جی ہاں! تو یہ میری ذاتی گذارش ہے۔ حضرت مولانا عطاء اﷲ کو)
    یہ کتابیں ان کو دے دیں ناں جی! یہ آپ کے لئے ہے۔ This is food for thought. Any then honourable members want to say anything. (یہ غور کرنے کا مقام ہے کیا کوئی معزز رکن کچھ کہنا چاہتے ہیں)
    میاں محمد عطاء اﷲ: ایک بات میں ضرور کہنا چاہتا ہوں…
    727جناب چیئرمین: ہاں جی، فرمائیے۔
  10. ‏ دسمبر 2, 2014 #30
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (میں مولانا نہیں، میاں عطاء اﷲ)
    میاں محمدعطاء اﷲ: …چیئرمین صاحب! کہ میں مولانا نہیں ہوں۔ نہ ہی مولانا کہلانے کا حق دار ہوں اورآپ سے پہلے ہمارے سپیکرصاحب تھے،ہمارے موجودہ صدر، انہوں نے ایک مرتبہ فرمایاتھا۔ میں نے ان کی خدمت میں مؤدبانہ عرض کی تھی کہ میں گناہ گار آدمی ہوں۔ میں اس قابل نہیں ہوں کہ مولاناکہلاؤں کیونکہ مولانا کا درجہ بہت اونچا ہوتا ہے اورمیں اپنے آپ کو ایک حقیر انسان سمجھتاہوں۔ اس واسطے یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ مہربانی سے مجھے مولانا نہ کہا کریں۔ ایک بات دوسری میں یہ عرض کرناچاہتاہوں کہ اٹارنی جنرل صاحب کو ہم جاکے کچھ چیزیں وقتاً فوقتاً عرض کرتے رہتے ہیں…
    Mr. Chairman: Nothing wrong with it.
    میاں محمدعطاء اﷲ: …تواگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو ہم نہیں بتائیں گے۔
    جناب چیئرمین: نہیں،نہیں،بالکل۔
    میاں محمدعطاء اﷲ: اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی فوری طور پر نشاندہی کرنی پڑتی ہے…
    جناب چیئرمین: لازمی،لازمی۔
    میاں محمدعطاء اﷲ: …کیونکہ وہ اس وقت کے سوالات کے متعلق Relevant ہوتی ہیں۔
    جناب چیئرمین: بالکل ٹھیک ہے۔ میں آپ سے Agree (اتفاق) کرتاہوں۔ صرف یہ ہے کہ پانچ منٹ کے لئے ان کو کبھی کبھی rest (آرام)…
    میاں محمد عطاء اﷲ: اس میں کوئی بات نہیں۔
    Mr. Chairman: جی! Should I adjorn the House?
    (جناب چیئرمین: کیا ایوان کا اجلاس ملتوی کردیاجائے)
    728The House Committee is adjourned to meet at 6: 00 p.m. Thank you very much.
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چھ بجے شام تک ملتوی کیا جاتا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ)
    ----------
    [The Special Committee adjourned for lunch break to meet a 6: 00 p.m]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے لئے ملتوی کیاجاتا ہے۔ شام چھ بجے تک)
    ----------
    [The Special Committee re-assembled after the lunch break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں)
    Mr. Chairman: Mr. Attorney- General, should we call them? And what about the Maulana?
    (جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل! کیا انہیں بلالیں اور مولانا کے متعلق کیا کہتے ہیں)
    پہلے ان کو تو فیصلہ کر لینے دیں ناں جی!
    Yes, Mian Attaullah, can we disengage you and call them?
    Mian Mohammad Attaullah: Call them, Sir.
    (میاں محمد عطاء اﷲ: جناب والا! انہیں بلالیں)
    Mr. Chairman: Call them.
    (جناب چیئرمین: انہیں بلا لیں)
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفد ہال میں داخل ہوا)
    Mr. Chairman: Mr. Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل)
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب!میں ایک سوال پوچھ سکتاہوں؟
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: کل مرزاصاحب! میں نے آپ کی توجہ چند حوالوں کی طرف دلائی تھی۔ ایک توچند بزرگ تھے جن کے متعلق کچھ توہین آمیز جملے تھے…
    مرزاناصر احمد: جی۔
    729جناب یحییٰ بختیار: …تو آپ نے کہا Verify (تصدیق) کریںگے اور پھر یہ بتائیں گے کہ ان کا مطلب کیاتھا۔
    مرزاناصر احمد: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو کیاآپ کچھ کہیں گے اب؟
    مرزاناصر احمد: جی۔ وہ جو حوالے جس میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔ جس کی طرف آپ نے میری توجہ دلائی تھی۔ وہ تاریخ کا ایک ورق ہے جس پرقریباً سترسال؟ستر سال گزر چکے ہیں اورتاریخی واقعات کی صحت اور…صحت سمجھنے کے لئے وہ تاریخ کا ماحول سامنے لاناضروری ہے، ورنہ اس کی سمجھ نہیں آسکتی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ درست ہے۔ یہ جملے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: یہ جملے ہیں،ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد آپ بیشک…
    مرزاناصر احمد: ہاں جی، یہ جملے ہیں۔ میں…وہ جملے ہیں…اس کے آگے Explaination (وضاحت)دے رہاہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر