1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قادیانیوں کے ایک مضمون کا جواب چاہیے

ساجد خان نقشبندی نے 'میرا سوال یہ ہے کہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 18, 2015

  1. ‏ نومبر 30, 2016 #11
    خدمت گذار

    خدمت گذار رکن ختم نبوت فورم

    حضرت مرزا صاحب پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے گالیاں دی ہیں۔ اس کا جواب آئیے انہی کی زبانی سنتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :۔

    "میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔ اگر ہر ایک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کے کہ مرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کرسکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔ کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور انکے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں، بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی۔ کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کرکے یہ فرمانا کہ انکم وماتعبدون من دون اللّٰہ حصب جہنم۔ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی نہیں ہے ؟ "

    پھر اس کا حل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔

    "جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شرّالبریہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریّت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقودالنار اور حصب جہنم ہیں تو ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو بُلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قراردیا اور ان کے بزرگوں کو شرّالبریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقودالنار رکھا ۔۔۔۔میں تجھے خیرخواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت ﷺ نے جواب میں کہا کہ اے چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ۔۔۔۔۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے۔ میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا۔۔۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے ابوطالب کے اعتراض کا خود اپنی زبان مبارک سے جواب دیا درحقیقت وہی جواب ہر ایک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے۔ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچادیوے پھر اگر وہ سچ کو سُنکر برافروختہ ہو تو ہوا کرے۔۔"

    (ازالہ اوہام ۔ صفحہ 108تا113)

اس صفحے کی تشہیر