1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ

"آیات ختم نبوت" ازمولانا سیفُ الرحمٰن صاحب حفظہُ اللہ تعالی

محمدابوبکرصدیق نے 'آیات ختم نبوت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 21, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ نومبر 22, 2015 #31
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    چودھویں دلیل : فتح مکہ کے بعد نبی کریمﷺ کا خطبہ،مکہ مکرمہ کی حرمت دائمی ہے

    سنہ ۸ھ کو مکہ مکرمہ فتح ہوا فتح کے دوسرے دن آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں خطبہ ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثنا کہی پھر فرمایا بے شک مکہ کو اللہ نے عزت دی اور لوگوں نے اس کو عزت نہیں دی جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایما ن رکھتا ہے اس کے لئے حلال نہیں کہ اس میں خون بہائے یا اس میں درخت کاٹے پھر اگر کوئی اس میں اللہ کے رسول ﷺ کی لڑائی سے دلیل بنائے تو کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تم کو اجازت نہ دی اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے اجازت دی گئی اور اس کی حرمت آج ایسے ہی لوٹ آئی جیسے کل تھی اور لازم ہے کہ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچا دے (بخاری ج۲ص۶۱۵طبع کراچی ،بخاری بتحقیق محمد فؤاد عبدالباقی ج۳ص۱۵۱رقم۴۲۹۵) اس خطبہ میں نبی ﷺ نے مکہ کی حرمت کو ہمیشہ کے لئے بیان کیا اور یہ نہ فرمایا کہ یہ حرمت کسی نئے نبی کی آمد تک ہے ۔اس طرح یہ خطبہ اس کی ٹھوس دلیل ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  2. ‏ نومبر 22, 2015 #32
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    پندرھویں دلیل:غزوہ تبوک ختم نبوت کی دلیل، غزوہ تبوک میں اعلان ختم نبوت

    غزوہ تبوک اہم غزوات میں ہے نبی کریم ﷺ کو پتہ چلا کہ قیصرروم نے مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا ہے آپ نے فیصلہ کیا کہ اس سے جا کروہاں مقابلہ کیا جائے صحابہ کرام کو نکلنے کا حکم دیا گرمی کا موسم تھا کھجوروں کے پکنے کا زمانہ تھا اس لئے اس کیلئے نکلنا بہت بڑامجاہدہ تھا منافقین نے ادھر ادھر کے بہانے بنائے اور گھروں میں بیٹھے رہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑے جوش وخروش سے نکلے اور جوصحابہؓ پیچھے رہے انہوں نے بڑی سچی توبہ کی۔ غزوہ تبوک ختم نبوت کی گواہی دیتا ہے وہ اس طرح کہ آپ نے حضرت علیؓ کومدینہ میں رہنے کاحکم دیا انہوں نے عرض کیا کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑکے جارہے ہیں تو آپ نے فرمایا
    ’’أَلَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا أَنَّہٗ لَیْسَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ
    (بخاری ج۲ص۶۳۳طبع کراچی ،بخاری بتحقیق محمد فؤاد عبدالباقی ج۳ص۱۷۶رقم۴۴۱۶) ‘‘
    کیا تو اس بات پر خوش نہیں کہ مجھ سے ایسے ہوجیسے حضرت موسی(علیہ السلام ) سے ہارون(علیہ السلام ) تھے ہاںاتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  3. ‏ نومبر 22, 2015 #33
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    سولہویں دلیل:حج سے ختم نبوت کا مسئلہ سمجھ آتا ہے،حج میں خاتم النبیین کے پسندیدہ قبلہ کا قصدکیاجاتاہے

    اللہ تعالیٰ نے استطاعت رکھنے والے مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کیا ہے ارشاد باری ہے{ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورہ آل عمران۹۷)’’اور اللہ کیلئے لوگوں کے اوپر حج کرنا ہے اس گھر کا جو قدرت رکھتا ہو اس کی طرف راہ چلنے کی‘‘۔
    حج کی نسبت بیت اللہ کی طرف ہے اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ بیت اللہ حضرت خاتم النیین ﷺکا پسندیدہ قبلہ ہے نیز حج کے لئے احرام بھی ضروری ہے اور طواف بھی اور دونوں کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور تشہدمیں یوں کہا جاتاہے{أَشْھَد ُاَنْ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدََا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ}اور درود شریف پڑھا جاتاہے ۔اگر کسی اور نبی کو آنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ حج کا مرکز اس قبلہ کو نہ بناتاجو حضرت محمدﷺکا پسندیدہ ہے ۔ اور حج میں ایسے اعمال کا حکم نہ دیتا جن میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا اعلان ہے بعد والے کسی نبی کا کوئی ذکر نہیں۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  4. ‏ نومبر 22, 2015 #34
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    سترھویں دلیل:عمرے کی مشروعیت دلیل ختم نبوت،عمرہ کو پورا کرنے کا حکم

    ارشاد فرمایا {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ} (البقرۃ آیت نمبر۱۹۶) (اور پورا کرو حج اور عمرے کو اللہ کے لئے) عمرے کا تعلق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پسندیدہ قبلہ سے ہے اگر آپ کے بعد کسی اور نبی کو آنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایسی عبادت کو باقی نہ رہنے دیتا۔پھرعمرے کے احرام اور طواف کے ساتھ دو دو رکعت پڑھی جاتی ہیں اور قعدے میں کہاجاتا ہے {أَشْھَدُ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدََا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ}پھر درود شریف پڑھا جاتا ہے اور یہ بات بارہا گزرچکی ہے کہ نماز میں اس کلمہ کا اب تک پایا جاناختم نبوت کی دلیل ہے
    اگر کسی مرزائی سے بات ہوجائے توا س کو کہو کہ تجھے تو تشہد بھی نہیں آتا اگر سنائے تو جب کلمہ شہادت پر آئے پکڑ لو کہ تو عجیب خر دماغ آدمی ہے قادیانی کی نبوت کا قائل کرناچاہتا ہے اور شہادت محمد رسول اللہ کی نبوت کی دے رہاہے کیا آج تک کسی مسلمان نے عیسائی کو ایسا کلمہ پڑھ کر مسلمان کیا جس میں {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ} نہ ہو۔اسی طرح اذان اقامت وغیرہ سن کر مرزائی کو لاجواب کیا جاسکتا ہے۔الغرض مرزائئیوں کے پاس قادیانی کے نام پر مشتمل اذان اقامت اور نماز تو تھی نہیں کلمہ بھی اس کے نام کانہیں لاسکتے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدئہ ختم نبوت کی قدر عطا فرمائے آمین۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  5. ‏ نومبر 22, 2015 #35
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اٹھارھویں دلیل: مقام ابراہیم کے پاس نبی ﷺ کی رسالت ہی کا اعلان،طواف کی رکعتوں میں کلمہ شہادت ہی ہے

    بخاری طبع کراچی ج۲ ص۶۴۴ میں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرنے کی تو یہ آیت نازل ہوئی { وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} (اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لیاکرو)حضرت مفتی اعظم ؒ فرماتے ہیں حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پا س پہنچے وہاں یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس طرح دو رکعت نماز پڑھی کہ مقام ابراہیم کو درمیان میں رکھتے ہوئے بیت اللہ کا استقبال ہوجائے (معارف القرآن ج۱ص۳۲۲وانظرمسلم ج۲ص۸۸۷،۸۸۸ رقم ۱۲۱۸)
    اس سے ختم نبوت پر دلیل یوں ہے کہ ان رکعتوں میں بھی قعدہ کے اندر {أَشْھَدُاَنْ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدََا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ} پڑھ کرنبی ﷺ ہی کی نبوت کی گواہی دی جاتی ہے اس کے بعد آپ کا نام لے کر درود شریف پڑھاجاتاہے۔گویا مقام ابراہیم بھی ان لوگوں کا گواہ ہوگا جو نبی ﷺکی نبوت کی گواہی دیتے ہیں اور آپ کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتے۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  6. ‏ نومبر 22, 2015 #36
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    انیسویں دلیل: نبی ﷺ کے امیر حج کا اعلان ختم نبوت کی دلیل، اس اعلان کے احکام قیامت تک کیلئے ہیں

    نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے سنہ ۹ھ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کرحج کے لئے روانہ کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سال دس ذوالحجہ کے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کوایک جماعت کے ساتھ بھیجا کہ یہ اعلان کریں۔
    {لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَّ لَا یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ} ترجمہ: اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے)
    (بخاری طبع کراچی ج ۲ ص۶۲۶،بخاری بتحقیق محمد فؤاد عبدا لباقی ج۳ص۱۶۶)
    اور یہ اعلان نبی کریمﷺ کے حکم سے ہوا تھا اوراس اعلان میں یہ کہنا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے یہ اس کی دلیل ہے کہ یہ روکنا ہمیشہ کے لئے تھا اور اس سے یہ ثابت ہو ا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  7. ‏ نومبر 22, 2015 #37
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بیسویں دلیل : سود کی دائمی حرمت ختم نبوت کی دلیل، سود کھانے والے کو اعلان جنگ

    اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حرام کھانے سے روکا تو سودلینے سے بالخصوص منع کیا منیٰ اور عرفات میں آپ ﷺ نے حج کے دنوں میں جو خطبے ارشاد فرمائے ان میں بھی سودکی حرمت کا اعلان فرمایا (السیرۃ النبویۃ لابی الحسن الندوی ص۳۹۱، ۳۹۲)
    اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد فرمایا{ یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبٰو اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ٭ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ} (البقرۃ ۲۷۷،۲۷۸) ترجمہ:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو پھرا گر تم نہ کر و۔ یعنی سود ی کاروبار سے باز نہ آئوتو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو
    اور یہ اس کی دلیل ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو مناسب تھا کہ یوں کہا جاتا تم کو اللہ اور اس کے رسولوں کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  8. ‏ نومبر 22, 2015 #38
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اکیسویں دلیل: حجۃ الوادع سے ختم نبوت کے مسئلہ کاحل، دین کے کامل ہونے کا اعلان

    حجۃ الوداع ختم نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے بخاری شریف میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے کہا اگر یہ آیت ہمارے اندر نازل ہوتی تو ہم اس د ن کو عید بنا لیتے حضرت عمرؓ نے پوچھا وہ کونسی آیت؟ یہودیوں نے کہا{ اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ } حضرت عمر ؓنے فرمایا مجھے پتہ ہے کس جگہ یہ نازل ہوئی یہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریمﷺ نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا یعنی حجۃ الوداع میں نازل ہوئی۔ (بخاری بشرح کرمانی ج ۱۶ص۲۱۲) تو گویا حضرت عمرؓ نے یہودی کو جواب دیا کہ ہمیں اس دن کو عید بنانے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو عرفہ کے دن اتارا اور عرفہ کا دن اس سال جمعہ کو ہوا تھا۔ اور عرفہ کا دن مسلمانوں کیلئے اور خاص طور پر حاجیوں کے لئے خوشی کا دن ہوتاہے اور جمعہ کا دن بھی خوشی کا دن ہے تو اس دن مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئیں ۔حاصل یہ ہے کہ دین ہمارے نبی ﷺ پر مکمل ہوگیا اس لئے کسی اور نبی کی ضرورت نہیں ہے۔
    دین کے مکمل ہونے کو نبی کریم ﷺ نے ایک مثال سے سمجھایا کہ ایک شخص نے ایک عمارت بنائی بڑی عالیشان خوبصورت اس میں ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی فرمایا میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں
    (مسلم طبع ہند ج۲ص۲۴۸ مسلم بتحقیق محمد فؤاد عبدالباقی ج۴ص۱۷۹۰رقم۲۲۸۶)
    غور کریں جیسے ایک اینٹ کے نہ ہونے سے وہ عمارت نامکمل ہو اسی طرح اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک اینٹ لگا دی جائے تو عمارت بد نما ہوجائے گی اس زائد اینٹ کوہٹانا ضروری ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے سے انسان کاایمان خراب ہوجاتاہے اور وہ مرتد ٹھہرتاہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو توبہ کروائے اگر توبہ نہ کرے تو ا س کو قتل کردے جب جھوٹے نبی کو ماننے والے کا یہ انجام ہے توخود جھوٹا نبی بدرجہ اولیٰ واجب القتل ٹھہرا۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  9. ‏ نومبر 22, 2015 #39
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ْبائیسویں دلیل: قبر کی تنہائی اور ختم نبوت، قبر میں کلمہ شہادت سے نجات

    فرشتے قبر میں پوچھتے ہیں’’ مَنْ نَبِیُّکَ ‘‘ تیرے نبی کون ہیں ؟ تو مومن کہتاہے’’ نَبِیِّیْ مُحَمَّدٌ ﷺ ‘‘میرے نبی محمد ﷺ ہیں (جامع الاصول ج۱۱ص۱۷۷ حدیث نمبر ۸۷۰۷مسلم طبع ہند ج۲ص۳۸۶ مسلم بتحقیق فؤاد عبد الباقی ج۴ص۲۲۰۱ حدیث نمبر۲۸۷۱) ایک روایت میں ہے کہ مومن کہتاہے أَشْھَدُ أَنْ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں)
    (ترمذی طبع ہندج۱ص۱۴۷ترمذی بتحقیق محمد فؤاد عبد الباقی ج۳ص۳۸۳رقم۱۰۷۱)
    جو شخص صحیح جواب دیتا ہے اس کی قبرمنور اور کشادہ ہوجاتی ہے۔ اور جو صحیح جواب نہیں دیتا اس کے لئے قبرکو اتنا تنگ کردیا جاتاہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں جا گھستی ہیں (ایضا)اگرکوئی کہے میرا نبی قادیانی ہے وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ اس کا وہاں کیا حشر ہوتا ہوگا؟ثابت ہوا کہ قبر کانور نبی ﷺ کو خاتم النبیین ماننے سے ملے گا چناب نگر کے نام نہادبہشتی مقبرے میں جگہ الاٹ کرانے سے نہیں۔

    یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
    عَلیٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
  10. ‏ نومبر 22, 2015 #40
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    تیئسویں دلیل:شفاعت کے لئے بالآخر نبی کریم ﷺ کے پاس جائیں گے، منکر ِ ختم نبوت شفاعت سے محروم

    قیامت کے دن لوگ شفاعت کے لئے انبیاء کے پاس جائیں گے اور ہمارے نبی ﷺ کے سوا کوئی اس بڑے کام کے لئے آگے نہ بڑھے گا اور کسی روایت میں بھی یہاں قادیانی کا نام نہیں آیا بخاری کی روایت میں ہے۔
    {فَیَأْتُوْنَ مُحَمَّدًاﷺ فَیَقُوْلُوْنَ یَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتَمُ الْاَنْبِیَائِ وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ، ِاشْفَعْ لَنَا اِلٰی رَبِّکَ
    (بخاری بتحقیق دیب بغا ج۴ص۱۷۴۶ حدیث نمبر۴۴۳۵)
    لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے تو کہیں گے اے محمد آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء آخری نبی ہیں اور بے شک اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی لغزشوں کو معاف کردیا ہے آپ اپنے رب کے ہاں ہماری سفارش کریں۔
    غور کریں کہ قیامت کے دن بھی نبی ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرنا پڑے گا بلکہ جب تک نبی ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار نہ ہوگا شفاعت نہ ہوسکے گی۔جو لوگ نبی ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے ان کو نبی ﷺ کی شفاعت سے کچھ نہ ملے گا وہ آپ کے دشمن ہیں ان کو ہمیشہ دوزخ میں جلنا پڑے گا اَللّٰہُمَّ احْفَظْنَا اَللّٰھُمَّ أَِعِذْنَا۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر