1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

2432فتاویٰ کفر کی حیثیت

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2015

  1. ‏ مارچ 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2432فتاویٰ کفر کی حیثیت
    یہ عنوان مرزاناصر احمد نے اپنے محضرنامے کے ص۲۲ میں قائم کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سواد اعظم والے ارشاد سے مرزاناصر احمد پر کپکپی پڑی ہوئی ہے۔ مرزاموصوف نے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے فتوے ایک دوسرے کے خلاف نقل کر کے گویا ایک طرح دنیائے کفر کو مسلمانوں پر ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ ورنہ دنیائے کفر اس گئی گزری ہوئی حالت میں بھی مسلمانوں سے لرزاں ہیں اور وہ ان کے اتفاق سے خائف اور نفاق ڈالنے کے لئے کوشاں ہے۔ مرزاناصر احمدکو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا سواد اعظم (عظیم اکثریت) ان کو کافر سمجھتی ہے تو انہوں نے محضرنامے کے ص۲۳ سطر نمبر۹ پر لکھ دیا ’’کہ کسی ایک فرقہ کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے تو اس کے مقابل پر دیگر تمام فرقے سواد اعظم کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اس طرح باری باری ہر ایک فرقے کے خلاف بقیہ سواد اعظم کا فتویٰ کفر ثابت ہوتا چلا جائے گا۔‘‘
    اس عبارت میں جو دھوکا اور فریب ہے وہ ظاہر ہے۔ مرزاناصر احمد صاحب کو معلوم ہونا چاہئے:
    ۱… پہلے تو کسی ایک مسلک اور مکتب فکر نے مل کر کسی دوسرے فرقہ کے خلاف سخت فتویٰ نہیں دیا۔ یہ بعض افراد ہیں اور ایسے افراد ہر ہر فرقہ میں ہوسکتے ہیں۔
    ۲… بعض حضرات بے شک اونچی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے افتاء میں بہت احتیاط ہے۔
    ۳… بعض فتوے جھوٹی خبروں پر مبنی ہیں۔ مثلاً دیوبندیوں پر یہ الزام کہ ان کے ہاں خدا جھوٹ بولتا ہے۔ حالانکہ یہ بات سب کے ہاں کفر صریح ہے۔
    دراصل بات صرف اتنی ہے جو خود مرزاناصر احمد صاحب نے تسلیم کر لی ہے کہ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے کہا کہ اﷲتعالیٰ ایک آن میں کروڑوں فرشتے 2433جبرائیل کی طرح اور کروڑوں پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرح پیدا کر سکتے ہیں۔ مرزاناصر احمد نے اقرار کیا کہ شاہ اسماعیل شہیدؒ حضور کو خاتم النّبیین سمجھتے اور یقین کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ بن سکے گا مگر صرف اﷲ تعالیٰ کی قدرت بیان کر دی گئی ہے۔
    اسی طرح خود احقر (مولانا غلام غوث) ہزاروی نے بعض علماء بریلوی سے گفتگو کی۔ انہوں نے حضور ﷺ کے بشر ہونے سے بالکل اختلاف نہ کیا اور کر کیسے سکتے تھے؟ جب کہ قرآن میں ایسا کہا گیا اور دنیا کا کوئی فرد سرور عالم ﷺ کے اولاد آدم میں سے ہونے کا انکار نہیں کر سکتا۔ رہا آپ ﷺ کا درجہ اور مرتبہ تو یہ ہماری سمجھ، عقل اور وہم سے بھی بالاتر ہے۔
    اسی طرح احقر ہزاروی نے بریلوی حضرات سے رسول اﷲ ﷺ کے حاضر وناظر پر گفتگو کی تو انہوں نے اس کا خلاصہ وہی علم غیب بتایا۔
    علم غیب میں بالواسطہ اور بلاواسطہ کی بحث بھی ہے۔ پھر خداتعالیٰ کے برابر علم ہونے یا نہ ہونے کی بھی بحث ہے۔ بہرحال خود حضرت مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندیؒ نے بریلویوں کی تکفیر سے انکار کیا۔
    شیعہ حضرات ہیں ان کی کتابوں میں تحریف قرآن کا قول موجود ہے۔ مگر آج کوئی شیعہ دوست قرآن کی تحریف کا اقرار نہیں کرتا۔ باقی شان صحابہؓ کے بارہ میں ان کا رویہ تو مولانا مظہر علی اظہر (احرار لیڈر) جو تحریک مدح صحابہؓ کے سلسلہ میں لکھنؤ گئے اور انہوں نے تقریر کی کہ جب حضرت علیؓ بیس سال کے قریب ان صحابہؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں تو ہم کیوں ان کی اقتداء نہ کریں؟ بہرحال شیعہ فرقہ پر بحیثیت فرقہ یا اس نے بحیثیت فرقہ کوئی فتویٰ نہیں لگایا۔
    یہی حال اہل حدیث حضرات کا ہے۔
    ۴… 2434پھر یہ فتاویٰ اکثر انگریز کے عہد کے ہیں۔ جس انگریز نے جب اپنی فوجیں ترکوں کے دارالحکومت قسطنطنیہ میں اتاریں تو خلیفۂ ترکی سے اپنے حق میں فتویٰ دلا دیا۔
    انگریزوں کی دسیسہ کاریوں کا علم ہونا آسان نہ تھا اور نہ اب ہے۔
    ۵… اسلام کا کامل دین ہندو دھرم کی طرح نہیں ہے کہ پنڈت جواہرلعل نہرو خدا کے منکر بھی ہوں۔ پھر بھی ہندو ہوں۔ سنالی دھرجی بت پرستی کریں اور آریہ بت پرستی کے خلاف ہوں پھر بھی رشتے ناتے جاری ہوں۔ دین اسلام کی حدود ہیں۔ ان حدود کو پھلانگنے والا ظاہر ہے ان حدود سے باہر سمجھا جائے گا۔ مگر اسلامی وحدت، اسلامی حکومت اور خلافت کا شیرازہ منتشر ہونے کے بعد مختلف طبقات میں افراتفری پیدا ہوئی اور اسی لئے اسلامی عہد کے بہت ہی کم واقعات مرزاناصر بیان کر سکا ہے۔ ان میں بھی کسی جگہ نیک نیتی اور کہیں بدنیتی کا دخل ہے۔
    مرزاناصر احمد صاحب! جب کوئی فرقہ بحیثیت فرقہ دوسرے کو کافر نہیں کہتا تو سب مل کر کسی ایک کو کیسے کافر کہہ سکتے ہیں؟ اور یہ حقیقت ہے کہ صحابہؓ کو ماننے والے سواد اعظم کے مصداق کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔ نہ آج تک کیا ہے۔ نہ آئندہ کریں گے۔
    ۶… بہتوں کے فتاویٰ دوسروں کے خلاف فروعی مسائل میں ہیں۔ مثلاً ایک فریق کا الزام ہے کہ دوسرا انبیاء علیہم السلام کی توہین کرتا ہے۔ مگر دوسرا فریق اس الزام کے ماننے سے منکر ہے۔ بلکہ وہ اصول میں متفق ہے کہ توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔ آیا اس عبارت سے توہین ہوتی ہے یا نہیں؟ صرف اس میں بحث ہے۔
    ۷… 2435ان کا اختلاف اسی طرح کے الزامات یا غلط فہمیوں پر مبنی ہے یا اسی قسم کے مختلف مسائل ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر