1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

2423دو مسئلے

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2015

  1. ‏ مارچ 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2423دو مسئلے
    یہاں دو مسئلے ہیں۔
    ۱… کہ آیا واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں یا زندہ آسمان میں موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ نازل ہوں گے۔
    ۲… دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ فوت ہوچکے ہیں تو کیا مرزاغلام احمد قادیانی وہی آنے والا مسیح ابن مریم ہوسکتا ہے؟ جس کی خبر سینکڑوں حدیثوں میں موجود ہے۔
    ہم یہاں دوسرے مسئلہ پر پہلے بحث کریں گے۔ فرض کیجئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں تو کیا مرزاغلام احمد قادیانی آنے والا مسیح ہوسکتا ہے؟
    مرزاغلام احمد قادیانی کا ہمارے خیال میں یہ دعویٰ جھوٹ، افتراء اور قرآن وحدیث سے مذاق واستہزاء کے مترادف ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی مسیح ابن مریم تو کیا مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔ مندرجہ ذیل امور ملاحظہ فرمائیں:
    ۱… ’’مرزاجی کو ایک نامحرم عورت مسماۃ بھانو رات کو مٹھیاں بھر اکرتی تھی۔‘‘
    (سیرت المہدی ج۳ ص۲۱۰، روایت ۷۸۰)
    ۲… ’’مرزاجی کا پہرہ راتوں کو عورتیں دیا کرتی تھیں۔‘‘
    (سیرت المہدی ج۳ ص۲۱۳، روایت۷۸۶)
    ۳… ’’مرزاجی نے ایک دوشیزہ لڑکی مسماۃ محمدی بیگم کے حصول کے لئے کوششیں کیں۔ مگر محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے اس کی شادی دوسری جگہ کرادی۔ مرزاجی نے اپنے بیٹے فضل احمد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوائی جو احمد بیگ والد محمدی بیگم کی بھانجی تھی۔‘‘
    (سیرت المہدی ج۱ ص۲۹، روایت۳۷)
    ۴… ’’جب محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ ہوگیا اور مرزاجی کی بیوی والدہ فضل احمد نے ان سے قطع تعلق نہ کیا تو مرزاجی نے اس کو طلاق دے دی۔‘‘
    (سیرت المہدی ج۱ ص۳۴، روایت۴۱)
    2424۵… مرزاجی نے محمدی بیگم کے سلسلہ میں اپنے بیٹے سلطان احمد کو جائیداد سے محروم اور عاق کر دیا۔ کیونکہ یہ بھی مخالفانہ کوشش کرتے رہے۔
    (سیرت المہدی ج۱ ص۳۴، روایت۴۱)
    ۶… مرزاجی نے نبی بننے کے لئے (حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) پر جھوٹ کہا کہ امام ربانی نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ جب مکالمات الٰہیہ کی کثرۃ ہو تو پھر وہ نبی کہلاتا ہے۔ حالانکہ اس مکتوب میں نبی کا لفظ نہیں بلکہ محدث کا لفظ ہے اور خود مرزاجی نے اس سے پہلے جب تک کہ ان کو نبی بننے کا شوق نہیں چرایا تھا۔ (ازالہ اوہام ص۹۱۵، خزائن ج۳ ص۶۰۱) میں محدث کا لفظ لکھا۔ اب شوق نبوت میں امام ربانی پر جھوٹ بولا اور اسی لئے مکتوبات کا حوالہ بھی درج نہیں کیا۔
    ۷… مرزاجی نے یہ بھی امام بخاریؒ کے حوالے سے جھوٹ لکھا کہ ’’آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت آسمان سے آواز آئے گی۔ ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ کی ہے جو ایسی کتاب میں ہے جو اصح الکتاب بعد کتاب اﷲ ہے۔‘‘ (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) کیا کوئی مرزائی یہ حدیث بخاری شریف میں بتلا سکتا ہے؟
    ۸… مرزاجی نے سرور عالم ﷺ پر جھوٹ کہا کہ آپ کے حکم سے ایک دن میں دس ہزار یہودی قتل کئے گئے۔ (حقیقت الوحی ص۱۵۷، خزائن ج۲۲ ص۱۶۱) اس سلسلہ میں بعض مرزائی یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں۔ دس ہزار کے ہندسوں میں دراصل کاتب سے ایک صفر کا اضافہ ہوگیا۔ یہ غلط بیانی ہے اس لئے کہ مرزاجی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۱۱۱، خزائن ج۲۲ ص۱۱۴) پر لکھا ہے کہ ’’کئی ہزار یہودی ایک دن میں قتل کئے گئے۔‘‘ یہ سب جھوٹ ہے اور خواہ مخواہ سرور عالم ﷺ کو بدنام کرنا ہے۔ ورنہ غزوہ 2425خندق کے بعد جب بنو قریظہ نے ہتھیار ڈالے تو خود انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا فیصلہ سعد بن معاذؓ کریں۔ انہوں نے تورات کے مطابق فیصلہ دیا جس کے تحت چار سو یا چھ سو آدمیوں کو قتل کیاگیا۔ یہ وہ یہودی تھے جو ہمیشہ اسلام کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں اگر یہ کامیاب ہو جاتے تو ہزاروں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہو جاتا ہے اور جزیرۃ العرب کے سارے مسلمان شہید کر دئیے جاتے۔
    ۹… مرزاجی نے عوام کو الّو بنانے کے لئے ڈپٹی عبداﷲ آتھم کے لئے پیش گوئی کی کہ ’’پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔‘‘ مگر آتھم ۱۵ماہ میں نہ مرا۔
    (جنگ مقدس ص۲۱۱، خزائن ج۶ ص۲۹۲)
    ۱۰… مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے مخالفوں کو مغلظ گالیاں دیں جو علیحدہ لکھی گئی ہیں۔
    ۱۱… مرزاجی نے مخالفوں پر لعنت لکھی۔ مگر پورے ایک ہزار بار لکھی اور ہر دفعہ ساتھ ساتھ ہندسہ لکھتے گئے۔
    (نور الحق ص۱۱۸تا۱۲۲، خزائن ج۸ ص۱۵۸ تا۱۶۲)
    حالانکہ لکھنؤ کی بھٹیاری ’’لکھ لعنت‘‘ کہہ کر ہی معاملہ ختم کر دیتی تھی۔ اب کوئی مرزائی ہو جو لعنت لعنت کے ان چار صفحات کو پڑھ پڑھ کر ثواب کمائے؟
    ۱۲… مرزاپہلے صرف مبلغ بنا۔ پھر مجدد، پھر مثیل مسیحِ پھر خود مسیح موعود بنا اور جب دیکھا کہ کچھ آدمی پھنس گئے ہیں نبی بن بیٹھا۔ حالانکہ یہ تدریج خود غرضی اور بناوٹی سکیم کی غمازی کرتی ہے۔
    (ملاحظہ ہو ضمیمہ دعاوی مرزا)
    ۱۳… مرزاجی نے ہر وہ بڑا شخص بننے کی کوشش کی جس کا ذکر کسی کتاب میں تھا یا وہ آنے والا ہے۔ چنانچہ کرشن کا مثیل بنا۔
    (سیرت المہدی حصہ اوّل)
    ۱۴… وہ کرشن بنا اور رودرگوپال کہلایا۔
    2426۱۵… وہ جے سنگھ بہادر کہلایا۔
    ۱۶… مہدی، مسیح، حارث، رجل فارسی بنا بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے نام اپنے اوپر چسپاں کئے حوالہ کے لئے ضمیمہ دعاوی مرزاملاحظہ ہو۔
    ۱۷… مرزاجی نے سرور عالم ﷺ کے معجزات تین ہزار اور ’’اپنے دس لاکھ بتائے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)
    ۱۸… اس نے اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل کہا۔
    (دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)
    ۱۹… اس نے حضرت امام حسینؓ کے ذکر کو گوہ کے ڈھیر سے تشبیہ دی۔
    (اعجاز احمدی ص۸۲، خزائن ج۱۹ ص۱۹۴)
    ۲۰… مرزاجی نے ایک غیرمحرم لڑکی سے اپنا نکاح آسمان میں ہو جانے کی خبر دی اور کہا کہ خدا نے مجھ سے زوجنکہا فرمایا ہے۔ (کہ ہم نے اس لڑکی سے تمہارا نکاح کر دیا ہے)
    (تذکرہ ص۳۷۱، ۱۶۱، طبع سوم)
    ۲۱… اس نے کہا کہ ہمارا صدق وکذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ (دافع الوساوس ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) جب کہ اس کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوگئی اور بیس برس تک اس کو مایوس رکھ کر آخرکار جھوٹا ثابت کر دیا۔
    ۲۲… مرزاجی نے کہا کہ محمدی بیگم کا میرے ساتھ نکاح تقدیر مبرم اور اٹل ہے کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ (مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)
    ۲۳… مرزاجی نے یہ بھی لکھا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں ہر روک کو دور کر کے تمہارے پاس اس عورت کو واپس لاؤں گا۔
    (ازالہ اوہام ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵، دافع الوساوس ص۲۸۶، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۲۴… اس نے یہ بھی لکھا کہ اک بار بیمار ہوا اورقریب الموت ہورہا تھا کہ مجھے پیش گوئی کا خیال آیا تو قدرت نے تسلی دی کہ اس میں شک نہ کرو۔ یہ ہوکر 2427رہے گا۔ تب میں سمجھا کہ جب پیغمبر مایوس ہونے لگتے ہیں تو اس طرح خدا ان کو تسلی دیتا ہے۔
    (ازالہ اوہام ص۳۹۸، خزائن ج۳ ص۳۰۶)
    ۲۵… مرزاجی نے یہ بھی لکھا کہ یہ (محمدی بیگم) باکرہ ہونے کی حالت میں ہو یا ثییہ ہو، خدا لوٹا کر میرے پاس لائے گا۔
    (ازالہ اولام ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵)
    ۲۶… مسلسل بیس سال تک یہ پیش گوئی کرتا رہا اور مریدوں کی تازہ بتازہ الہاموں سے طفل تسلی کرتا اور عوام کو الّو بناتا رہا۔ مگر آخر کار بے نیل مرام چل بسا۔
    ۲۷… مرزاجی نے خداتعالیٰ پر افتراء کیا کہ اﷲتعالیٰ نے میرے ساتھ اس محمدی بیگم کا نکاح کر دیا۔ اگر خدا نے نکاح کیا ہوتا تو کوئی اس کو کیسے بیاہتا۔ پھر نکاح پر نکاح کا مقدمہ نہ مرزاجی نے کیا اور نہ ہی ان کے مریدوں نے۔
    ۲۸… سلطان محمد کے ساتھ محمدی بیگم کے نکاح کے بعد خدا نے مرزاجی کے ساتھ کیسے نکاح پڑھا؟
    ۲۹… اور جب خدا نے نکاح پڑھ دیا تھا تو پھر دوسرے سے شادی کیسے ہونے دی؟ معلوم ہوا کہ آسمانی نکاح کی وحی اﷲتعالیٰ پر افتراء تھا جو صریح کفر ہے۔
    ۳۰… مرزاجی نے لکھا اگر محمدی بیگم میرے نکاح میں نہ آئی اور یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو میں بد سے بدتر ہوں گا۔ کیا اس طرح وہ بد سے بدتر نہ ہو گیا۔ کیا بد سے بدتر کی تعبیر سخت سے سخت نہیں ہوسکتی؟ اور کیا اس کو کافر مفتری علی اﷲ نہیں کہہ سکتے؟
    ۳۱… جب یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو کیا وہ اپنے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق جھوٹا ثابت نہ ہوگیا؟ جب کہ اس پیش گوئی کو مرزاجی نے اپنے صادق یا 2428کاذب ہونے کی دلیل ٹھہرایا تھا اور اتنا بڑا جھوٹ بولنے والا آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا محمد رسول اﷲ ﷺ کی ہمسری کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ (انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    ۳۲… مرزاجی نے جہاد کو حرام کہا ہے اور انگریز کی خاطر یہ فتویٰ ساری دنیامیں پہنچایا۔
    (ستارہ قیصریہ ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۱۴)
    ۳۳… مرزاجی نے انگریز کی اطاعت کو اسلام کا حصہ قرار دیا۔
    (شہادۃ القرآن کا آخری اشتہار ص۳، خزائن ج۶ ص۳۸۰)
    ۳۴… مرزاجی نے انگریزوں کو دعائیں دیں جو تمام دنیا میں مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    (ملاحظہ ہو ستارہ قیصریہ ص۱تا۱۲، خزائن ج۱۵ ص۱۱۱تا۱۲۵، تحفہ قیصرہ ص۴،۵، خزائن ج۱۲ ص۲۸۸، ۲۸۹)
    ۳۵… مرزا نے اپنے کو گورنمنٹ برطانیہ کا حرز اور تعویذ کہا۔
    (مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۷۱، نور الحق ص۳۳، خزائن ج۸ ص۴۵)
    ۳۶… مرزاجی مکلف کھانے کھایا کرتا۔ پرندوں کا گوشت بھنا ہوامرغ وغیرہ۔
    (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۸۱، روایت نمبر۱۶۷)
    ۳۷… ریل کو دجال کا گدھا کہہ کر خود کرایہ دے کر اس گدھے پر سوار ہوتا۔
    (ازالہ اوہام ص۷۳۱، خزائن ج۳ ص۴۹۳)
    ۳۸… مرزاجی نے خاتم النّبیین کے معنی بدل کر آپ کو نبی تراش قرار دے دیا۔ مگر پھر ایک نبی بھی نہ گھڑا گیا صرف خود ہی نبی بن بیٹھا۔
    ۳۹… مرزاجی کے لئے قادیان میں حکومت نے ایک سپاہی رکھا تھا۔
    (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۷۵، روایت نمبر۲۸۶)
    ۴۰… مرزاجی کے ساتھ جہلم تک گوروں کا پہرہ رہا۔
    (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۸۹، روایت نمبر۹۴۱)
    ۴۱… ایک انگریز نے دریافت کیا کہ بڑے لوگوں کی طرح مرزاجی نے بھی کسی کو اپنا جانشین بنایا ہے۔
    ۴۲… 2429مرزاجی نے ایک عدالت میں لکھ دیا کہ میں آئندہ اس قسم کے الہامات شائع نہ کروں گا گویا یہ توبہ نامہ لکھا۔
    ۴۳… مرزاجی نے فخر کرتے ہوئے اور انگریزوں کو ممنون کر کے فائدے حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کی سندیں اور چٹھیاں شائع کیں۔
    (شہادۃ القرآن ص۷تا۱۰، خزائن ج۶ ص۳۸۵تا۳۸۷)
    ۴۴… مرزاجی نے سکھوں کے ساتھ شاہ اسماعیل شہیدؒ کی جنگ کو مفسدہ لکھا۔
    ۴۵… مرزانے ۱۸۵۷ء کے جہاد میں اپنے باپ کی امداد اور وفاداری کو انگریز کے سامنے پیش کر کے فخر کیا اور اپنے خاندان کو انگریزوں کا وفادار ثابت کیا۔
    (ستارہ قیصریہ ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۱۳)
    ۴۶… مرزانے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو ناجائز قرار دیا اور حملہ آوروں کو چوروں اور ڈاکوؤں سے تشبیہ دی۔
    ۴۷… مرزاجی نے لکھا کہ مولوی ثناء اﷲ اور مجھ میں جو جھوٹا ہے وہ مر جائے گا۔ چنانچہ وہ مولوی ثناء اﷲ کے سامنے مر گیا اور اسی طرح اس کے جھوٹے ہونے کا قرآنی فیصلہ ہوگیا۔
    (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۹)
    ۴۸… مرزاجی نے ایسی ایسی دوائیں تیار کیں جن میں صرف یاقوت دوہزار روپے کے (آج کل شاید ان کی قیمت بیس ہزار روپے ہو داخل کئے) یہ عین محمدؐ ہیں؟ جن کے دولت خانہ میں بسااوقات آگ نہیں جلتی تھی۔
    ۴۹… مرزاجی نے اپنے چیلوں کو پورا پورا معتقد بنانے کے لئے یہ گپ بھی لگائی کہ خدا کا کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔
    (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷)
    2430بھلا بیس جزو کلام الٰہی کا کیا مطلب ہے اور مرزاجی نے کیوں چھپایا جب کہ باقی شائع کر دیا؟
    ۵۰… مرزا جی نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کی جیسے کہ اس عنوان کے تحت اور مرزاجی کے دعاوی سے آپ کو معلوم ہوگا۔
    ۵۱… مرزاجی نے اپنی وحی کو قرآن کی طرح قطعی کہا ہے۔ کیا بیس سال کی جھوٹی اور پرفریب وحی کو قرآن پاک کی طرح قطعی سمجھا جاسکتا ہے اور کیا کوئی نبی وحی کا معنی سمجھنے میں بیس سال یا موت تک قاصر رہ سکتا ہے؟ ہم مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ کیا کسی قطعی امر کے انکار کرنے والے آدمی کو یہ کہہ کر معاف کیا جائے کہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ خود مرزائی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ پچھلی صدیوں میں علماء کے فتوؤں سے فلاں فلاں کو سزا دی گئی۔ اگر وہ نہیں ثابت کر سکتے اور قطعی ثابت نہیں کریں گے۔ پھر معلوم ہوا کہ ’’کافر اور اسلام سے خارج کر کے ملت اسلامیہ میں باقی رہنے کی بات ایجاد بندہ ہے۔‘‘ اور مرزائیوں نے صرف اپنے بچاؤ کے لئے ڈھونگ بنایا ہے۔
    ۵۲… یہ سب جھوٹ، بناوٹ اور فریب ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت حضور ﷺ کے اتباع اور مکمل طور پر فنا فی الرسول ہونے سے ملی۔ کیونکہ محدثیت (خداتعالیٰ سے ہم کلامی) ہو یا نبوت یہ محض خداتعالیٰ کی بخشش سے ملتی ہے۔ اس میں عمل اور کسب کو قطعاً دخل نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو خود مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۸۲، خزائن ج۷ ص۳۰۱) پر یہ تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے: 2431’’ولا شک ان التحدیث موہبۃ مجردۃ لاتنال بکسب البتۃ کما ہو شان النبوۃ‘‘
    ’’اور اس میں شک وشبہ نہیں کہ محدث ہونا محض اﷲتعالیٰ کی بخشش ہے۔ یہ کسی طرح کی (محنت وعمل اور) کسب سے نہیں مل سکتی۔‘‘ جیسے نبوت کی شان ہے۔ یعنی جس طرح نبوت کسی عمل یا اکتساب کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اسی طرح محدث ہونا بھی۔
    مرزاقادیانی نے کما ہو شان النبوۃ کہہ کر اس حقیقت کو اور بھی زیادہ واضح کر دیا کہ محدث اور نبی کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بن سکتا۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ اگر مرزاجی کو نبوت ملی ہے جیسے کہ مرزاناصر احمد اور سارے مرزائی بلکہ خود مرزاقادیانی بھی کہتے ہیں تو وہ محض خدائی بخشش اور موہبت الٰہیہ ہے جس طرح پہلے نبیوں کو ملا کرتی تھی اور اس نبوت میں یا محدث ہونے میں حضور کے اتباع اور فنافی الرسول ہونے کا کوئی دخل نہ تھا اور یہ کفر صریح ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی بننے لگے یا کسی کو نبی مانا جائے۔ عین محمد کی گپ اور کامل اتباع کے دعوے سے مرزاجی نبی نہیں ہوسکتے اور نہ ہی عیسیٰ ابن مریم نام رکھنے سے حضرت عیسیٰ ہوسکتے ہیں۔
    عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
    مرزاناصر احمد صاحب ناراض نہ ہوں۔ آپ نے بحیثیت امام جماعت احمدیہ جو محضرنامہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے سنایا۔ اس کے ص۹۱ سطر۸ پر جو لکھا کہ ’’اس طرح ممتنع نہیں کہ وہ چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو… بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔‘‘ یہ قطعاً غلط اور اپنے دادا مرزاجی قادیانی کی عبارت مذکورہ اور متفقہ عقیدہ کے قطعاً خلاف اور جھوٹی نبوت کے لئے ایک ڈھونگ ہے۔

اس صفحے کی تشہیر