1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(’’بغایا‘‘ کا معنی مرزاقادیانی کی کتب سے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 9, 2015

  1. ‏ فروری 9, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (’’بغایا‘‘ کا معنی مرزاقادیانی کی کتب سے)
    جناب یحییٰ بختیار: ’’بغایہ‘‘ کامطلب وہ یہ لیتے ہیں ’’بدکار عورت۔‘‘یہ آپ، آپ کو سنا دیتے ہیں۔ آپ ذرا دیکھ لیجئے۔ یہ ذرا سن لیں آپ۔
    جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی سنائیں۔
    مولانا ظفر احمد انصاری: یہ ہے۱؎: ’’ان نساء داران کن بغایا فیکون رجالہا دیوثین دجالین‘‘

    (لجنتہ النور ص۹۰، خزائن ج۱۶ص۴۳۲)
    اب اس کا ترجمہ انہوں نے کیا ہے کہ : ’’اگر درخانہ زنان آں فاسقہ باشند پس مردآں آں خانہ دیوث ودجال مے باشند‘‘
    اس کے بعد (ص۹۶، خزائن ج۱۶ص۴۳۷)پر: ’’وما اہلکہم الا البغایا‘‘ ترجمہ فارسی: (وہلاک نہ کرد ایشاں را مگر زنان فاحشہ)
    اس کے آگے (لجنتہ النور ص۹۶،خزائن ج۱۶ص۴۳۸) ہے۔ پھر وہ لکھتے ہیں: ’’وقد کثرت البغایا لشقوۃ الناس فی ہذا الزمان وبرائے بدبختی مردم زنان فاحشہ دریں زمانہ بسیار اند‘‘
    1811اس کے بعد(لجنتہ النور ص۱۱۸، خزائن ج۱۶ص۴۶۰)پر پھر آگے لکھتے ہیں: ’’الی العواہر والبغایا اوتافۃ سوئے زنان بدکار‘‘
    پھر (لجنتہ النور ص۹۰، خزائن ج۱۶ص۴۳۲)پر لکھتے ہیں: ’’دیوثین ودجالین‘‘
    فارسی میں ’’دیوث ودجال مے باشند‘‘
    اسی طرح اور بھی دوسری کتابوں میں بھی بہت جگہ پر خود انہوں نے لکھا اورترجمہ کیا۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ اس جگہ اصل مطبوعہ مسودہ میں لفظ…عربی… لکھ کر خالی چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اصل کتاب سے عربی عبارتیں نقل کیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب یحییٰ بختیار: ’’دیوث و دجال‘‘ اب دیکھیں، اب آپ یہ فرمائیے صاحبزادہ صاحب! کہ جو شخص محدث ہے، وہ کہتا ہے کہ ’’میںمحدث ہوں، نبی نہیں ہوں‘‘ اس کا انکار کفر نہیں ہے، تو پھر وہ کیوں یہ لوگوں کو کہتا ہے کہ ’’یہ ولد الحرام ہیں، یہ دیوث ہیں، یہ دجال ہیں، یہ اس Sense (معنوں) میں نہ ہو کہ ’’ولد الحرام‘‘ سے مطلب کہ واقعی وہ زنا کی اولاد ہیں۔ مگر یہ چیزیں، ایسے الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں ان کے لئے۔ یعنی ایک شخص کا اتنا جو مرتبہ ہو، محدث ہو، کہتا ہے ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ کنجریوں کی اولاد ہے۔‘‘ ’’بدکار‘‘ یا ’’باغی‘‘ آپ سمجھیں اس کو جس طرح کہ کہتے ہیں۔
    جناب عبدالمنان عمر: یہ نہیں ہے ’’جو نہیں مجھے مانتا۔‘‘ میں نے اس لئے عرض کیا تھا…
    جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ کے سناتا ہوں ، دیکھیں: ’’ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی…‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: جی۔
    1812جناب یحییٰ بختیار: ’’…مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔‘‘

    (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷)
    یہ جو ترجمہ ہوا ہے۔
    جناب عبدالمنان عمر: میں نے گزارش کی تھی کہ حضرت مرزا صاحب کا کلام جو ہے۔ اس Context (سیاق و سباق) میں اگر پڑھا جائے تو…
    جناب یحییٰ بختیار: Context (سیاق وسباق) تو یہی ہے ناں ’’مجھے مانو ورنہ تم ولد الحرام ہو جاؤ گے۔‘‘ ابھی اگر آپ کہتے ہیں کہ اس کے بھی کوئی دو معنی ہیں تو وہ بتا دیجئے آپ؟
    جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے جی کہ مرزا صاحب کا اسلام کے مخالفین سے مقابلہ تھا اور اس وقت کا لٹریچر، میں تو پسند نہیں کروں گا کہ آپ لوگوں کی سمع خراشی کروں۔ لیکن نقل کفر کفر نہ باشد…
    جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! میں بڑے سوچ سمجھ کے آپ کو حوالے پیش کر رہا ہوں۔ میں ’’وہ بیابانوں کے خنزیر ہوگئے(نجم الہدیٰ)‘‘ انجام آتھم سے حوالے نہیں لے رہاتھا وہ عیسائیوں سے تعلق رکھتا تھا۔
    جناب عبدالمنان عمر: جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کہتے ہیں ’’کل مسلمانوں نے‘‘ اور ’’مسلمان‘‘ سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’جو دعویٰ کرتے ہیں اسلام کا۔‘‘ اصلی مسلمان،حقیقی…
    جناب عبدالمنان عمر: جب ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں ان سے کہہ رہاہوں۔ آپ عیسائیوں کی باتوں کو چھوڑ دیجئے۔
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، میں اسی کے متعلق عرض کرتا ہوں ۔ تو میں نے گزارش کی کہ جب وہ سخت لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے مقابل میں جو لوگ ہوتے 1813ہیں وہ دیکھنا چاہئے کہ کس کے لئے آپ نے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ میں نے خود مرزا صاحب کے الفاظ آپ کے سامنے…
    جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ بالکل درست فرمارہے ہیں۔ یہاں آپ ذرا تھوڑی سی Clarification (وضاحت) اورکریں…
    جناب عبدالمنان عمر: اچھا جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …جب وہ سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں تو آپ کو یہ دیکھنا ہے ، آپ کہہ رہے ہیں کہ ان کے مقابلے میں کون ہے۔ کن کے بارے میں استعمال کر رہے ہیں؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: جنہوں نے ان کو قبول نہیں کیا…
    جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: …جنہوں نے ان کی دعوت نہیں مانی۔ اس کی تصدیق نہیں کی، ان کو نہیں مانا۔ ان کو محدث نہیں مانا۔ نبی نہیں مانا یا ان کو جھوٹا کہا، کذاب کہا…
    جناب عبدالمنان عمر: یہ ترجمہ آپ کر رہے ہیں جی۔ اصل عبارت پڑھئے آپ۔ میری گزارش یہ ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے ترجمہ کیاہے…
    جناب عبدالمنان عمر: ترجمہ کیا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: …مگر آپ کو ایک لفظ پر اعتراض تھا کہ…
    جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں،میں نے عرض کیا ہے ناںکہ ترجمہ کیا ہے۔ میں اب اس کا ترجمہ آپ کو عرض کردیتاہوں۔ یہ نہیں ہے کہ ’’جو مجھے قبول نہیں کرتاہے‘‘ بلکہ فرمایا 1814’’کل‘‘ ہر وہ شخص جو مجھے آگے جاکے قبول نہیں کرے گا…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔
    جناب عبدالمنان عمر: ’’… وہ شریر لوگوں میں سے ہوگا۔وہ ان لوگوں میں سے ہو گا جن پر ’’ختم اﷲ علی قلوبھم‘‘کی وعید آتی ہے۔‘‘ یہ وہی لکھا ہوا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہ، یہاں جو آپ کا ترجمہ…
    جناب عبدالمنان عمر: …مضارع کا صیغہ ہے جی۔اس میں آئندہ کے متعلق بتایا ہے اورآپ خود سوچئے، یہ مرزا صاحب کی ابتدائی زمانے کی تحریر ہے۔ اس کے بعد تو ان کو لاکھوں آدمیوں نے مانا۔ تو کیا مرزا صاحب یہ کہتے تھے کہ ’’جتنوںنے اب مجھے مان لیا؟‘‘ چند سو اس وقت تھے۔ ’’آئندہ مجھے جو شخص بھی مانے گا وہ ایسا ہی ہوگا؟‘‘ یہ تو عقل کے خلاف بات ہے۔

اس صفحے کی تشہیر