1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(یہ کس سال کا الہلال ہے؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 7, 2015

  1. ‏ فروری 7, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (یہ کس سال کا الہلال ہے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: یہ کس سال کا ’’الہلال‘‘ ہے؟
    جناب مسعود بیگ مرزا: یہ جناب ’’الہلال‘‘ کا حوالہ میں عرض کر رہا ہوں، ۲۰؍مارچ ۱۹۱۴ء کا ہے۔ میں نے اس لئے عرض کیا کہ اس میں اس سوال کا، غالباً شاید آپ کے سوال کا جواب آجائے:
    1536’’جماعت ۔۔۔۔۔۔۔ ایک عرصہ سے اس جماعت میں مسئلہ تکفیر کی بنا پر دو جماعتیں پیدا ہوگئی تھیں۔ ایک گروہ کا یہ اِعتقاد تھا کہ غیراحمدی مسلمان نہیں گو وہ مرزا صاحب کے دعوؤں پر اِیمان نہ لائیں۔ لیکن دُوسرا گروہ صاف صاف کہتا تھا کہ جو لوگ مرزا صاحب پر اِیمان نہ لائیں، قطعی کافر ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! آخری جماعت کے رئیس صاحبزادہ بشیرالدین محمود ہیں۔ اس گروہ نے انہیں اب خلیفہ قرار دیا ہے۔ مگر پہلا گروہ تسلیم نہیں کرتا۔ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے اس بارے میں جو تحریر شائع کی ہے اور جس عجیب وغریب جرأت اور دلاوری کے ساتھ قادیان میں رہ کر اِظہارِ خیال کیا ہے، جہاں پہلے گروہ کے رُؤساء نہیں، وہ فی الحقیقت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیشہ اس سال کا ایک یادگار واقعہ سمجھا جائے گا۔‘‘
    تو میری گزارش یوں ہے جی! اب آپ کے سوال کے جواب میں کہ اِختلاف کی بنیاد جو ہے وہ مسئلہ تکفیر تھی، وہ مسئلہ نبوّت تھی، اور مرزا محمود احمد صاحب کے یہ خیالات تھے کہ خلافت کو ایک ڈکٹیٹرانہ نظام کے ماتحت چلایا جائے۔ اس کے لئے وہ مولانا نورالدین کو بھی وقتاً فوقتاً یہ مشورہ دیتے رہے تھے کہ: ’’جناب! اس طرح نہ کیجئے، بلکہ خلافت کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لیجئے اور مالی معاملات کو بھی اپنے ہاتھ میں لیجئے۔‘‘

اس صفحے کی تشہیر