1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

گوجرانوالہ کے واقعے پر متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کا اجلاس (مکمل ریپورٹ)

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق خبریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 30, 2014

  1. ‏ اگست 30, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    گوجرانوالہ کے واقعے پر متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کا اجلاس
    7اگست بروز جمعرات مرکز احرار لاہور کے دفتر میں تام دینی و مذہبی جماعتو ں کا اجلاس ہوا جس میں رمضان المبارک کی 29ویں شب کو ہونیوالے مسلم قادیانی تصادم کے نتیجے میں جو افسوس ناک واقعہ پیش آیا اس کے اصل محرکات جاننے کیلئے مولانا زاہد الراشدی کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی، راشدی صاحب نے ابتدائی گفتگو کے بعد گوجرانوالہ سے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء چوہدری بابر رضوان باجوہ کو فرمایا کہ وہ واقعہ کی تفصیلات سے شرکائے اجلاس کو اگاہ کریں چنانچہ انہوں نے اوّل تا آخر اس دلخراش واقعہ کی تفصیل سے اگاہ کیا۔اجلاس میں سانحہئ گوجرانوالہ کے موقع پر آتش زنی،لوٹ مار اور قتل کے واقعات کو افسوس ناک قراردیتے ہوئے ایک قراردادمیں کہا گیا ہے کہ اگر توہین کعبہ کے واقعہ کا بروقت نوٹس لے لیا جاتا تو اس کے بعد عوامی اشتعال کی صورت میں واقع ہونے والے افسوس ناک واقعات کی نوبت نہ آتی،قراردادمیں کہا گیاہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کے اسباب وعوامل کا غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعہ جائزہ لیا جائے اوراصل مجرموں تک پہنچا جائے اورغیر متعلقہ افراد کو اس میں ملوث کرنے سے گریز کیا جائے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی کی سربراہی میں متحدہ ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا وفد 26۔ اگست کو گوجرانوالہ جائیگا اور اہل محلہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ علماء کی مشترکہ رابطہ کمیٹی اور ضلعی خکام کے ساتھ ملاقاتیں کرکے رپورٹ مرتب کرے گااجلاس میں جسٹس (ر)نذیر احمد غازی کی سربراہی میں لیگل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیاجو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے معاملات میں مسلمانوں کی رہنمائی اور معاونت فراہم کرے گی۔اجلاس میں ایک اورقرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا اور فیس بک وغیرہ پر وسیع طور پر پھیلائے جانے والے فحش مواد اور اسلام دشمن حرکا ت کا بروقت جائزہ لیا جائے اور اس کی روک تھام کیلئے قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ سانحہ گوجرانوالہ کی ایف آئی آر میں درج افراد کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے تا کہ وہ اس بہانے بیرون ملک فرارنہ ہوسکیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قادیانی حضرات عام طور پر اس قسم کے مقدمات کا سہارا کے کربیرون ملک سیاسی پناہ اور ویزے حاصل کرلیتے ہیں اورمقدمات غیر مؤثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔اجلاس میں غزہ کی صورت حال پر انتہائی تشویش واضطراب کا اظہارکرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد میں او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ مسلم سربراہوں کا فوری اجلاس طلب کرکے اسرائیلی درندگی کو روکنے کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔اجلاس میں برطانیہ کی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون سعیدہ وارثی کے وزارت سے استعفیٰ کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلی جذبات کی ترجمانی کی ہے جس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔اجلاس میں ملک بھر کے علماء کرام اور خطباء سے اپیل کی گئی کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے اور مسلمان حکومتوں سے فوری طور پر مل بیٹھنے اور مؤثر کاروائی کا مطالبہ کیا جائے۔اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کو اسلام کے نام پر کفر پھیلانے سے روکے اور بیرون ممالک سفارت خانوں کے ذریعے 1974؁ء کی قرارداداقلیت اور1984؁ء کے امتناع قادیانیت ایکٹ کا اصولی دفاع کرے نیز چناب نگر میں حکومتی رٹ قائم کی جائے۔جمعیت علماء اسلام گوجرانوالہ کے رہنماء اور ختم نبوت رابطہ کمیٹی گوجرانوالہ کے رکن جناب چودھری بابر رضوان باجوہ اور ختم نبوت رابطہ کمیٹی گوجرانوالہ کے سیکرٹری جناب سید احمد حسین زید نے وقوعہ کے حوالے سے جو تفصیلات بیان کیں وہ اس طرح ہیں کہ گوجرانوالہ شہرکے مختلف حصوں میں آئین شکن، پاکستان مخالف اور اکھنڈ بھارت کے حامی قادیانی رہائش پذیر ہیں۔عرفات کالونی اور رشید کالونی اس حوالہ سے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کچھ قادیانی خاندان موجود ہیں۔یہ طاقت ور،بدزبان اور فسادی قسم کے لوگ ہیں۔ 1992ء میں ڈش پر تبلیغ کے حوالہ سے اس علاقہ میں کافی شور ہوا۔ مسلمانوں کے احتجاج پر انکی ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے پابندی لگی۔ اس پر قادیانیوں نے نام نہاد مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹا اور 27 قادیانی کینیڈا میں سیاسی پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے جن میں منور، بشارت، رضوان، شفیق،اویس وغیرہ شامل ہیں۔ بیرون ملک پناہ کے لئے قادیانیوں کو یہ خوب ہتھیار مل گیا ہے وہ خود ہی فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں اور نام نہاد مظلومیت کا روپ دھار کر یورپی ممالک کو چلے جاتے ہیں۔ 1992ء میں وقتی خاموشی کے بعد قادیانیوں نے منظم انداز میں کام کرنا شروع کر دیا۔ نوجوان اور نئی نسل کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔ دوستیاں اور یارانے بنا کر انہیں اپنے دام میں پھنسانے کا چکر چلایا۔ قادیانی نوجوان عاقب سلیم عرف مٹھو ان قادیانیوں میں اس حوالہ سے پیش پیش تھا۔اس نے کئی نوجوانوں سے دوستی کر رکھی تھی۔ فیس بک(Face Book) پر اس نے عاقب جانی کے نام سے آئی ڈی بنا رکھی ہے۔ایک مسلم نوجوان صدام حسین ولد مشتاق احمد جس کی فیس بک آئی ڈی گل حسین کے نام سے ہے اس پر اس نے بیت اللہ شریف کی بے حرمتی پر مشتمل تصویر شیئر کی۔ تصویر کیا ہے؟ اللہ تعالی معاف فرمائیں۔
    ناپاک جسارت ہے۔خانہئ خدا کی بے حرمتی اور توہین کی گئی ہے۔ ایک انگریز عورت کو برہنہ کر کے بیت اللہ شریف پر بٹھایا گیا ہے۔ حجاج کرام کے سروں پر اس کے قدم ہیں اور ایسا منظر بنایا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ شریف پر کر رہی ہے نعوذ باللہ، استغفر اللہ۔
    رمضان المبارک کی 29ویں شب، 27 جولائی 2014ء کو صدام حسین کی عاقب قادیانی سے تو تکار ہو گئی۔ معاملہ بڑوں تک پہنچا۔ چودھری مقبول احمد علاقہ کے سابق کونسلر ہیں۔ انہوں نے مداخلت کی۔ عاقب کو اس کی غلطی کا احساس دلایا لیکن اپنی طاقت کے نشہ میں تھا اور قادیانی جماعت کی پوری سپورٹ حاصل تھی۔ وہ گالی گلوچ کرتا اور دھمکاتا ہوا گیا اور کم و بیش سو کے قریب قادیانی لڑکے جمع کر کے پہلے خشت باری اور پھر فائرنگ کر دی۔ اس سے 13,14 سال کا ایک لڑکا محمد ذکریا بن محمد حاکم خان ساکن گلی نمبر 3 رشید کالونی زخمی ہو گیا۔ چودھری مقبول احمد اور دیگر افراد بچے کو لے کر ہسپتال چلے گئے جبکہ علاقہ کے معززین نے تھانہ پیپلز کالونی گوجرانوالہ کا رخ کیا۔ تھانہ کے ایس ایچ او اصغر ملک صاحب دو روز قبل ہی آئے تھے۔ انہوں نے حالات کی سنگینی کا اندازہ کرنا پسند نہ فرمایا اور روایتی پولیس گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی اے ایس آئی اور کبھی ڈی ایس پی صاحب کے چکر لگوائے۔ ڈی ایس پی صاحب نے بھی حالات کی سنگینی کو محسوس نہ کیا۔ معززین پولیس کے چکروں میں رہے۔ مسلمان بچے کے زخمی ہونے پر قادیانی ایک گھر میں اپنی چند خواتین اور بچوں کو قید کر کے کنڈی لگا کر اپنے گھروں سے بھاگ گئے۔ لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔کچھ لوگوں نے لوٹ مار بھی کی۔ جب معززین علاقہ واپس آئے تو دیکھا کہ قادیانیوں کے گھر شعلوں کی نذر ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کے اعلی افسران بھی پہنچ گئے۔متاثرہ عمارتوں تک پولیس جا نہیں رہی تھی۔ معززین علاقہ اپنی جان پر کھیل کر اپنی نگرانی میں ریسکیو ٹیم کو لائے۔ شعلوں میں گھرے مرزائیوں کو نکالا جن میں میاں اعجاز،ملک عرفان، محمد لطیف منہاس، ہمایوں وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ زخمی بھی ہوئے۔ایک قادیانی خاتون بشریٰ اور دو بچیاں دھوئیں کی وجہ سے سانس رکنے پر انتقال کر گئیں۔ معززین اس سارے کام میں پیش پیش رہے۔اسی دوران ضلعی امن کمیٹی کے ارکان مولانا قاری سلیم زاھد سربراہ، چودھری بابر رضوان باجوہ، مولانا محمد مشتاق چیمہ اور مولانا محمد سعیداحمد صدیقی مجددی مشتعل ہجوم میں داخل ہوئے اور لوگوں کو پر امن رکھنے کی کوشش کی۔قبل ازیں حلقہ کے ایم پی اے عمران خالد بٹ اور مسلم لیگ ن کے سینئر راہنما سلمان خالد عرف پومی بٹ پہنچ چکے تھے اور لوگوں کو مطمئن کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے تھے۔
    اطلاع ہونے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ٹیم ضلعی نائب امیر مولانا قاری منیر احمد قادری کی سربراہی میں پہنچی اور عوام کو پر امن ہونے کی درخواست کی۔ امن کمیٹی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ارکان رات ساڑھے 12 بجے کے قریب علاقہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت تک بہت کچھ ہو چکا تھا۔پولیس نے 550/14 اور 553 پر دو مقدمات درج کر لئے۔قادیانی رشید کالونی گلی نمبر 2،3اور 4 بازار نمبر 3 نزد ریس کورس روڈ گوجرانوالہ میں رہتے تھے۔قادیانی بوٹا ولد منیر بھٹی کی درخواست پر صدام احمد، افتخار احمد، خرم مہر، محمد آصف بٹ، آصف دھوبی،نوری اورطارق جوگی جو کہ قادیانیوں کو بچانے میں پیش پیش تھے پر نامزد اور 500/400 نامعلوم افراد کے خلاف 302/436,148/149 اور 7اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ درخواست میں مولانا حاکم خان پر اسپیکر کے ذریعے شر انگیز اعلان کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے جیسی آنجہانی مرزا غلام قادیانی کی سنت ہے کہ”جھوٹ بولو اور خوب بولو“۔ درخواست میں منیر قادیانی نے لکھا ہے کہ سانس رکنے کی وجہ سے اس کی والدہ بشری، حرا تبسم، کائنات تبسم دختران منیر قادیانی ہلاک ہو گئیں۔ وجہ عناد اپنا قادیانی ہونا اور فیس بک پر عاقب سلیم کی طرف سے قابل اعتراض تصویر کوقرار دیا گیا ہے۔شبیر حسین ولد محمد بشیر گل کی طرف سے دی گئی درخواست پر 324/295A اور 8 اے ٹی اے اور 11-W کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ عاقب سلیم قادیانی نے خانہ کعبہ کی بے حرمتی والی تصویر شیئر کی جس سے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے۔ عاقب قادیانی کے چچا زاد بھائی ڈاکٹر سہیل(جو مسلمان ہیں) اور عتیق (قادیانی)سے ملاقات کی اور حالات سے آگاہ کیا۔ عاقب قادیانی نے کہا کہ یہ تصویر شیئر کی ہے جو کرنا ہے کر لو، اب تم یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ تمہیں قتل کر دیں گے۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ایک عزیز ڈاکٹر سہیل کے مکان پر چڑھ گیا اور فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں محمد زکریا ولد محمد حاکم شدید زخمی ہو گیا جس کو لے کر ہم سول ہسپتال چلے گئے۔عثمان ولد فتح محمد اور افتخار ولد محمد لطیف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ان دونوں مقدمات میں ایک بات مشترک ہے کہ قادیانیوں نے فیس بک پر قابل اعتراض تصویر شیئرکی جو اس سانحہ کی بنیاد بنی۔قادیانیوں کی طرف سے فائرنگ کر کے حالات کو جان بوجھ کر خراب کیا گیا۔

    کانفرنس میں قراردادوں کے ذریعے درج ذیل مطالبات کئے گئے۔

    1. جمعۃ المبارک کو یوم احتجاج منایا جائے گا اور علماء کرام عوام الناس کو حقیقت حال سے آگاہ کریں گے۔
    2. عاقب قادیانی اور اس کی فیملی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک نہ بھاگ سکیں۔
    3. سانحہ حیدری روڈ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں امن کمیٹی کے ارکان کو شامل کیا جائے۔
    4. قادیانیوں کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر بے بنیاد ہے اس کا جائزہ لے کر دہشت گردی اور قتل کی دفعات ختم کی جائیں۔
    5. قادیانیوں نے بیت اللہ شریف کی توہین کر کے مسلمانوں کے جذبات سے عمداً کھلواڑ کیا ہے اور پھر فائرنگ کر کے مسلمانوں کو زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ فتنہ و فسادبرپا کیا ہے۔ ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات اور 295/C کے تحت کاروائی کی جائے۔
    6. اندرون و بیرون ملک سے مسلمانوں کو دھمکی آمیز فون کرنے والے قادیانیوں کے خلاف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے۔
    7. پولیس کی غفلت کا نوٹس لے کر ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔پولیس بر وقت کاروائی کر کے حالات کو سنگین ہونے سے بچا سکتی تھی مگر اس نیایسا نہیں کیا۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ:

    • امن وامان سے رہتے ہوئے قادیانیوں کو کیا افتاد پڑی تھی کہ انہوں نے اچانک بیت اللہ کی بے حرمتی پر مبنی تصویر شیئر کی؟
    • معاملہ کو سمیٹنے کی بجائے فائرنگ کر کے مسلمان کو زخمی کیا اور اشتعال پھیلایا۔
    • چند خواتین اور بچوں کو ایک گھر میں تالا بند کر کے علاقہ سے بھاگ گئے۔
    • کسی مسجد سے اس حوالہ سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ پھر من گھڑت اور جھوٹا الزام لگا کر واقعہ کو غلط رنگ دیا گیا۔
    • پیپلز کالونی تھانہ اور سول لائن میں موجود معززین کو جو وقوعہ کے وقت موجود نہ تھے نامزد کیا گیا۔
    بشکریہ: اسلام اخبار 22 اگست 2014 ایڈیشن لاہور
    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 1

اس صفحے کی تشہیر