1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(گواہ کو وجہ بتانی پڑے گی)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 16, 2015

  1. ‏ جنوری 16, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (گواہ کو وجہ بتانی پڑے گی)
    (جناب چیئرمین: پھر آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ خود جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟ تب میں وفد کے رُکن کو جواب دینے کے لئے کہوں گا)
    مرزا ناصر احمد: یہ اگر مجھے صحیح یاد ہے تو جب ہم یہاں سے گئے ہیں تو اس وقت چیئر کی طرف سے اِجازت مل گئی تھی کہ وہ جواب دے دیں۔
    Mr. Chairman: I had not given it. Only when the question has been put and the answer is to be given by the other member of the Delegation, then the witness has to give some reasons also.
    (جناب چیئرمین: میں نے اجازت نہیں دی، جب سوال پوچھا جائے اور جواب کسی دُوسرے رُکن (وفد) نے دینا ہو، تو گواہ کو اس کی وجہ بتانا ہوگی)
    1433مرزا ناصر احمد: یعنی ہر سوال پر مجھے Explain (واضح) کرنا پڑے گا؟
    جناب چیئرمین: نہیں، اگر تحریفِ قرآن کے سارے سوال جو ہیں، ان سب کا ایک ہی جواب آجائے گا۔۔۔۔۔۔
    مرزا ناصر احمد: یہ تو تحریفِ لفظی کا ہے۔
    جناب چیئرمین: اگر آپ جواب دے سکتے ہیں تو آپ دے دیں، ٹھیک ہے۔
    مرزا ناصر احمد: میں، اس کے متعلق تو اتنا سادہ ہے۔۔۔۔۔۔
    جناب چیئرمین: جواب دے دیں، ٹھیک ہے۔
    مرزا ناصر احمد: وہ میں ویسے دے دُوں گا۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
    مرزا ناصر احمد: میں، اگر ابوالعطا صاحب جواب دے دیں تو کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
    جناب چیئرمین: نہ، آپ Reasons (وجوہات) دیں۔
    مرزا ناصر احمد: اگر آپ اِجازت دیں۔
    Mr. Chairman: There must be reasons.
    (مسٹر چیئرمین: اس کی وجوہات!)
    مرزا ناصر احمد: تحریف جو بانیٔ سلسلۂ احمدیہ کی طرف منسوب کی گئی؟ وہ سارے آپ کے کلام کے اندر آپ کے زمانے میں، اس جماعت کے خلیفہ کے زمانے میں جو قرآن کریم شائع ہوئے ہیں، جو قرآن کریم کے تراجم شائع ہوئے ہیں، اس میں یہ تحریف جو یہ کہتے ہیں کہ نکال دیا جان بوجھ کر، وہ ہونا چاہئے۔ لیکن ایک کتاب کی مثال دے کر اور ان بیسیوں ایڈیشن جو قرآن کریم، اس کے تراجم، جماعت احمدیہ نے شائع کئے، اور وہ ایڈیشن جو حضرت بانیٔ سلسلۂ احمدیہ کی کتب کے شائع ہوئے، ان میں جو غلطی تھی کتابت کی دُور ہوگئی۔ ان کو نظرانداز کرکے صرف ایک واقعے سے یہ اِستدلال کرنا میرے نزدیک دُرست نہیں ہے۔ آخر یہی کتاب جہاں سے انہوں 1434نے لیا ہے، باربار چھپیں، دوبارہ، اور انہوں نے صرف ایک جگہ سے لے لیا۔
    جناب چیئرمین: مولانا صاحب! Answer (جواب) آگیا ہے، Answer has come (جواب آگیا ہے)۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے تو دو حوالے دئیے تھے، بلکہ تین حوالے ہیں، ایک تو اس میں سن نہیں لکھا۔ لیکن ’’اِزالہ اوہام‘‘ قدیم نسخہ۔ دُوسرا ہے ’’رُوحانی خزائن‘‘ شائع کردہ الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ، ۱۹۵۸ء اس کے بعد ہے ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ مرزا غلام احمد۔ شائع کردہ ہے صدر انجمن احمدیہ ربوہ، ۱۹۷۰ئ۔
    Mr. Chairman: There is a definite reply by the witness that in all Qur'an Majids published by Jamaat-i-Ahmadiyya, there is no omission of this word. There is a difinite reply be the witness. So, if it is not there, the question must be coupled with a book.
    (جناب چیئرمین: جماعت احمدیہ کے شائع کردہ قرآن مجید کے بارے میں گواہ نے قطعی جواب دیا ہے کہ اس میں کوئی فروگزاشت نہیں ہے۔ سوال متعلقہ کتاب کے ساتھ پوچھا جانا چاہئے)
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے یہ عرض نہیں کیا کہ قرآن شریف کے کسی نسخے میں ہے، بلکہ قرآن شریف کی جو آیت اس کتاب میں Quote (حوالہ) کی گئی ہے اور کوئی Argument (دلیل) اس کے ساتھ دیا جارہا ہے، اس میں تینوں ایڈیشن میں یہ ہے۔
    جناب چیئرمین: ہے آپ کے پاس کتاب؟
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: فوٹواسٹیٹ کاپی ہے۔
    جناب چیئرمین: جی، جواب دیں۔
    مرزا ناصر احمد: تو ہم نے قرآن شریف کے لاکھوں تراجم،لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے اور تقسیم کئے۔ ہمارے بچے پڑھتے ہیں۔ ہمارا وہ حمائل ہے بغیر ترجمہ کے، وہ بچوں کے لئے ہے، کسی جگہ یہ نہیں ہوئی غلطی۔ جہاں اگر کہیں غلطی ہوئی ہے تو یہ اتنے ’’الفضل‘‘ شائع کرچکا ہے۔ وہاں اگر کہیں تو میں وہاں کرواتو دیتا ہوں۔ تو یہ غلطیاں ساری کتابت کی جو ہیں یہ تو ہوتی رہتی ہیں۔
    Mr. Chairman: Next question.
    (جناب چیئرمین: اگلا سوال)
    1435Now we break for Maghrib. We will re-assmble at 7:30
    ----------
    (The delegation is permitted to leave)
    ----------
    The honourable members may keep sitting.
    ----------
    (اب ہم مغرب کی نماز کے لئے وقفہ کرتے ہیں اور ۳۰:۷ بجے اِجلاس ہوگا۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ معزز اراکین تشریف رکھیں)
    ----------
    (The Delegation left the Chamber)
    (وفد ہال سے باہر چلاگیا)
    ----------
    جناب چیئرمین: مولانا مفتی صاحب ذرا تشریف رکھیں، ذرا صلاح مشورہ کرنا ہے۔ مولانا عبدالحکیم صاحب! آج آپ تشریف لائے ہیں، ذرا بیٹھیں ناں۔ انصاری صاحب! کتنے سوالات ہیں آپ کے اندازاً۔۔۔۔۔۔ ایک سیکنڈ جی ۔۔۔۔۔۔ تحریفِ قرآن پاک کے؟
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرا خیال تو یہ ہے کہ اب اگر چونکہ یہ ہاؤس نے طے کیا ہے کہ آج ہی ختم کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    جناب چیئرمین: نہیں، آپ، نہیں، آپ مجھے بتائیں اندازاً، کتنے ہیں اندازاً؟
    Mr. Yahya Bakhtiar: Today, there is nothing left now. I will request the House that ......
    (جناب یحییٰ بختیار: آج کچھ باقی نہیں ہے۔ میں ایوان سے گزارش کروں گا…)
    جناب چیئرمین: نہیں، میں ان سے پوچھ رہا ہوں کہ اندازاً کتنے Questions (سوالات) ہیں؟
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے میں یہ کروں گا کہ معنوی تحریف جو ہے اس کی ایک مثال لے لوں گا۔
    جناب چیئرمین: ہاں، جی ہاں۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر جو قرآن کی آیات جو انہوں نے اپنے اُوپر چسپاں کرلی ہیں، اس کی دوچار مثالیں پڑھ دُوں گا۔
    Mr. Chairman: That would be better.
    (یہ بہتر رہے گا) اس کے بعد اس طرح کریں گے کہ ساڑھے سات، پونے آٹھ سے لے کر پونے نو بجے تک کریں گے ناں جی، ایک سیشن جی۔
    Then, after fifteen minutes break, we will finalize it.
    (تب ۱۵منٹ کے وقفے کے بعد ہم اس کو ختم کرلیں گے)
    1436Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں جی, there is no need of it. I think we will finish in on hour's time.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کی کوئی ضرورت نہیں، میرا خیال ہے ہم ایک گھنٹے میں ختم کرلیں گے)
    جناب چیئرمین: ہاں، ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Let us continue no further.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد کارروائی جاری رکھنے کی ضرورت نہیں)
    Mr. Chairman: نہیں لیکن, for finalizing it, then all the members must make up their mind for anything whatever, if any omissions are left out.
    (جناب چیئرمین: اختتام کے بارے میں، تمام اراکین سوچ لیں تاکہ کوئی چیز باقی نہ رہ جائے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That we will think now, and let me know if they want to ask any question.
    (جناب یحییٰ بختیار: معلوم ہونا چاہئے کہ اراکین کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں)
    Mr. Chairman: Yes. So, this break will be utilised for that purpose.
    Thank you very much.
    And we meet at 7:30.
    (جناب چیئرمین: جی ہاں، تو اس وقفے کو ہم اسی مقصد کے لئے استعمال کریں گے، آپ کا بہت بہت شکریہ اور ۳۰:۷بجے ہم اِجلاس کریں گے)
    ----------
    [The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to meet at 7:30 p.m.]
    (خصوصی کمیٹی کا اِجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی ہوا، اِجلاس ساڑھے سات بجے ہوگا)
    ----------
    [The Special Committee re-assembled after Maghrib prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the chair.]
    (خصوصی کمیٹی کا اِجلاس مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا، چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)
    ----------
    جناب چیئرمین: ذرا اُن کو ادھر بھیج دیں، قصوری صاحب کو۔ مولانا عبدالحق! ذرا خاموشی سے سب حضرات سنیں۔
    مولانا عبدالحق: گزارش یہ ہے کہ مولانا انصاری صاحب نے یہ کہا تھا: (عربی)
    1437یہ ’’من قبلک‘‘ نہیں ہے تین کتابوں میں۔ پھر دوبارہ، سہ بارہ ایڈیشن ان کتابوں کے چھپے ہیں۔ اس میں بھی ’’من قبلک‘‘ نہیں ہے۔ تو انہوں نے اپنی کتابوں میں گویا کہ تحریفِ لفظی کردی ہے۔ اب وہ یہ کہیں کہ غلطی ہے، تو ایک جگہ غلطی ہو، دو جگہ غلطی ہو۔۔۔۔۔۔
    جناب چیئرمین: میں عرض کروں، انہوں نے دو باتوں کا جواب دیا ہے۔ ایک انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے قرآن مجید میں نہیں ہے۔ دُوسرا انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتابت کی غلطی ہے۔ اس واسطے جو چیز آپ ثابت کرنا چاہتے تھے وہ ثابت ہوگئی ہے۔ آپ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے ایک لفظ قرآن مجید کا حذف کیا اپنی کتابوں میں، جو انہوں نے تسلیم کرلیا۔ باقی بات ہے بحث کی کہ: ’’آپ نے کیوں کیا ہے، یا کس واسطے کیا ہے؟‘‘ اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ایک چیز تو آپ نے تسلیم کروالی ہے کہ واقعی یہ کتاب…
    مولوی مفتی محمود: عرض یہ ہے کہ یہ جو کتاب ہے، اس کا ان کو علم تھا۔ اس کے باوجود پھر دوبارہ دُوسرے ایڈیشن کی تصحیح نہیں کی۔ اس کے بعد پھر ۱۹۷۰ء میں جو نیا ایڈیشن تھا اس کی پھر تصحیح نہیں کی، اس کو ایسے غلط رہنے دیا۔ اِعتراض صرف یہ ہے کہ غلط کیوں رہنے دیا ہے؟

اس صفحے کی تشہیر