1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

گدو بندر

عباس رضا نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 21, 2019

  1. ‏ مئی 21, 2019 #1
    عباس رضا

    عباس رضا رکن ختم نبوت فورم

    ؁۵۲ کی بات ہے۔ حیدر آباد سندھ کے احباب کی دعوت پر فروٹ مارکیٹ کے جلسۂ میلاد شریف میں بیان کرنے کے لیے میں حیدر آباد پہنچا۔ ایک روز میں نے احباب سے پوچھا کہ ”حیدر آباد میں کوئی مشہور جگہ ہو جو قابلِ دید ہو تو وہاں چلیں۔“
    جواب ملا کہ ”یہاں کی مشہو جگہ گِدّو بندر ہے جہاں سندھ کا بہت بڑا پاگل خانہ ہے۔ جسے دیکھنے کو لوگ بکثرت جاتے ہیں۔“
    چنانچہ ہم نے وہیں چلنے کا پروگرام بنایا اور وہاں پہنچے۔ ہماری پارٹی نے داخلہ کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ اور ہم اندر گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ تماشائی بن کر وہاں جاتے ہیں حالانکہ وہ جگہ عبرت کی ہے۔ ان مریضانِ دماغ کو دیکھا۔ بعض چیخ چلّا رہے تھے اور بعض بڑی متانت سے بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ جنہیں دیکھ کر یہ وہم بھی نہ ہوتا تھا کہ یہ پاگل ہیں۔ میرے ہاتھ میں اپنا ماہنامہ ماہ طیبہ تھا۔ اسے دیکھ کر ایک پاگل نے پوچھا: ”مولانا! یہ کونسا رسالہ ہے؟“ میں نے کہا: ”ماہ طیبہ۔“ بولا: ”میرے نام بھی جاری کردیجیے۔“ میں نے کہا: ”اس کا سالانہ چندہ کون دے گا؟“ تو بولا: ”لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ“ اور اسی طرح ایک دو آیات اور پڑھ ڈالِیں۔ اور پھر جو تقریر شروع کی تو اس قدر آیات پڑِھیں کہ اسے یہ یاد ہی نہ رہا کہ موضوع کیا تھا؟ جو آیت بھی یاد آئی پڑھ دی۔ یوں معلوم ہورہا تھا جیسے کسی چکڑالوی کا دماغ پھر گیا ہے۔ کہ حدیث کا نام ہی نہیں لیتا۔
    اس کے بعد ایک دوسرے صاحب کو دیکھا۔ جو بڑے کرّ وفر سے کھڑے ہوکر گویا کسی بڑے جلسہ میں تقریر کررہے ہیں۔ کہہ رہے تھے: ”لیڈیز اینڈ جنٹل مین! جان لو! اور خوب جان لو میں ہی وزیر اعظم لیاقت علی خان ہوں۔ میں ہی گورنر جنرل ہوں۔ اور ناظم الدین بھی میں ہی ہوں۔ کون ہے جو میرے حکم سے سرتابی کرے۔“
    میرے دوست سیٹھ غفار کہنے لگے۔ ”مولانا! یہ دیکھیے پورے کا پورا کابینہ۔“ میں نے کہا: ”سیٹھ صاحب! اور یہ بھی سمجھ لیجیے کہ ہمارے پنجابی متنبی مرزا غلام احمد نے یہ کیوں کہا کہ میں ہی آدم ہوں میں ہی نوح ہوں اور موسی وعیسیٰ بھی میں ہی ہوں۔ کرشن بھی میں ہی ہوں اور نسلیں ہیں میری بے شمار۔ یہ سب دماغی خرابی کے نتائج ہیں۔ اور ایسے لوگ گِدّو بندر ہی کے لائق ہیں۔“

    (سنی علما کی حکایات از ابو النور محمد بشیر کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ، ص 105-106)

اس صفحے کی تشہیر