1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا نبوت جاری ہے ؟

مبشر شاہ نے 'مفتی صاحب سے سوال پوچھئے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 26, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ جولائی 26, 2014 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    میرا مفتی صاحب سے سوال ہے کہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبوت جاری ہے ۔ کیا اسلامی رو سے نبوت جاری ہے ؟قرآن وحدیث سے وضاحت فرما دیں شکریہ
    سید مبشر رضا
    • Dumb Dumb x 1
  2. ‏ جولائی 26, 2014 #2
    مفتی نوید

    مفتی نوید رکن ختم نبوت فورم

    عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس میں معمولی سا شبہ بھی قابل برداشت نہیں‘ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ:
    ”جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت (نبوت کا دعویٰ کرنے والا) سے دلیل طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔
    کیونکہ دلیل طلب کرکے اس نے اجرائے نبوت (نبوت جاری ہے) کے امکان کا عقیدہ رکھا (اور یہی کفر ہے)

    اسلام کی بنیاد توحید‘ رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدہ پر ہے ‘ وہ ہے ”عقیدہ ختم نبوت“ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا‘ آپ ا سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں‘ آپ اکے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

    یہ عقیدہ اسلام کی جان ہے ‘ ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدہ پر ہے‘ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سینکڑوں احادیث اس عقیدہ پر گواہ ہیں‘ تمام صحابہ کرام‘ تابعین عظام‘ تبع تابعین‘ ائمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے مفسرین‘ محدثین‘ متکلمین‘ علماء اور صوفیاء (اللہ ان سب پر رحمت کرے) کا اس پر اجماع ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
    ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ ۔ (الاحزاب:۴۰)
    ترجمہ:․․․”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں“۔ تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنیٰ ہیں کہ: آپ ا آخری نبی ہیں‘ آپ ا کے بعد کسی کو ”منصب نبوت“ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے‘ اسی طرح حضور علیہ السلام کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔چند احادیث ملاحظہ ہوں:
    ۱- میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں۔ (ابوداؤد ج:۲‘ ص:۲۲۸)
    ۲- مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مشکوٰة:۵۱۲)
    ۳- رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ (ترمذی‘ج:۲‘ص:۵۱)
    ۴- میں آخری نبی ہوں اورتم آخری امت ہو۔ (ابن ماجہ:۲۹۷)
    ۵- میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (مجمع الزوائد‘ج:۳ ص:۲۷۳)
    ان ارشادات ِ نبوی میں اس امرکی تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپ آخری نبی اور رسول ہیں‘ آپ کے بعد کسی کو اس عہدہ پر فائز نہیں کیا جائے گا‘ آپ ا سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے‘ ان میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دی اور گزشتہ انبیاء کی تصدیق کی۔ آپ ا نے گزشتہ انبیاء کی تصدیق تو فرمائی مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں۔
    مدیر کی آخری تدوین : ‏ جولائی 26, 2014
    • Like Like x 2
    • Dumb Dumb x 2
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر