1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا ترقی ہی حق پر ہونے کی دلیل ہے؟ قادیانی غلط فہمی کا تفصیلی جائزہ

ضیاء رسول امینی نے 'قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 22, 2017

  1. ‏ اکتوبر 22, 2017 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    "ترقی ترقی کیا ترقی ہی حق پر ہونے کی دلیل ہے؟ قادیانی غلط فہمی کا تفصیلی جائزہ"

    قادیانی احباب جب بھی کسی موضوع پر لاجواب ہوتے ہیں تو ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ جماعت ترقی کر گئی ہے اور یہی ہمارے سچا ہونے کی دلیل ہے - کیا واقعی کسی جماعت کی تعداد کا ممالک میں پھیل جانا اس کے حق پر ہونے کی دلیل ہے اگر قرآن و سنت سے سوال کیا جائے تو جواب نفی میں ملتا ہے - بلکہ کسی جماعت کی تعداد کے بڑھنے کو اللہ دھوکہ قرار دیتے ہوئے اس سے خبردار رہنے کی تلقین فرماتا ہے کہ تعداد کا بڑھنا یا زیادہ ہونا دھوکہ ہے لہذا اس دھوکہ میں مت آنا

    (لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ * مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ)
    اور کفار کی (دنیا کے) ممالک میں چلت پھرت تم کو دھوکہ میں نہ ڈالے -یہ تھوڑا سا نفع ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم جو بہت براٹھکانہ ہے
    (آل عمران آیت 196 تا 197)

    آئیے اب قادیانی احباب کی دلیل کا جائزہ لیتے ہیں جس سے جماعت کی ترقی کو دلیل بناتے ہیں
    (وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ)

    [ سورہ الانعام 21]
    اور اس سے ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے بیشک یہ ظالم فلاح نہیں پائیں گے"

    قادیانی حضرات اس آیت سے استدلال کر کے کہتے ہیں کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا اور اس کی جماعت کامیاب نہیں ہو سکتے - حالانکہ آیت پر غور کریں تو آیت میں دو چیزیں ہیں کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا *یا* اس کی آیات کو جھٹلانے والا دونوں ظالم ہیں اور دونوں ہی فلاح نہ پائیں گے - سب سے پہلا اللہ کے حکم کو جھٹلانے والا شیطان تھا جس نے آدم علیہ السلام کو حکم ربی کے باوجود سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تنبیہ کے باوجود تکبر سے کام لیا اور چیلنج کے انداز میں پیشگوئی کی کہ اس کی جماعت ترقی کرے گی اور اللہ کے مخلص بندے بہت ہی کم ہوں گے-

    17 : سورة بنی اسراءیل 62


    قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾


    اس نے کہا: ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر عزت بخشی ہے ، اگر تونے مجھے روزِ قیامت تک مہلت دے دی تو میں ، ایک قدرے قلیل کے سوا ، اس کی ساری ذریت کو اچک لوں گا!

    یہ شیطان کی نعوذ باللہ چیلنج کے انداز میں پیشگوئی تھی کہ اس کی جماعت ترقی کرے گی اور اللہ کے مخلص بندے بہت تھوڑے ہوں گے-لیکن اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری جماعت کو دنیا میں کامیابی نہ ملے گی کیونکہ دنیا میں تو خیر اور شر دونوں کو پھیلنے کا برابر موقع دیا گیا ہے اللہ اور اس کے رسولوں کے ذمہ صرف سیدھا راستہ دکھانا ہے کہ یہ جہنم کا راستہ ہے اور یہ جنت کا- بلکہ اللہ نے شیطان کو یہ فرمایا کہ تیرے ماننے والے اگرچہ دنیا میں کامیاب ہوں گے لیکن آخرت میں ناکام ہوں گے جواب ملاحظہ ہو

    17 : سورة بنی اسراءیل 63


    قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ﴿۶۳﴾

    فرمایا: جا! جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہے!

    لیجئے قارئین واضح طور پر اللہ نے فرمایا کہ آخرت میں تم لوگ ناکام ہو گے - اگر کوئی کہے کہ نہیں جناب شیطان نے اللہ پر جھوٹ نہیں باندھا تھا اس آیت میں تو مفتری کی سزا ہے تو میں یہ بھی قرآن سے ثابت کر دیتا ہوں کہ شیطان نے اللہ پر جھوٹ بھی باندھا تھا ملاحظہ فرمائیے
    7 : سورة الأعراف 20


    وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنۡ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوۡ تَکُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾

    ۔ اور اس نے ان سے کہا کہ تمہارے رب نے تو تمہیں اس درخت سے صرف اس وجہ سے روکا کہ تم کہیں فرشتے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ ۔
    نہ صرف یہ کہ جھوٹ باندھا بلکہ جھوٹی قسم بھی کھائی
    (وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ)

    [سورہ الاعراف 21]
    اور اس نے ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

    لیجئے جناب شیطان سورہ انعام کی آیت کے دونوں حصوں پر صادق آتا ہے جھوٹ بھی باندھا تکذیب بھی کی اس کے باوجود 1 لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء کرام علیہم السلام کی محنت کے باوجود اس کی جماعت دنیا میں سب سے بڑی ہے بلکہ مسلمانوں کی اکثریت بھی فسق و فجورکی طرف مائل ہے -
    پھر قرآن بتاتا ہے کہ موسی علیہ السلام کی کئی سال کی محنت سے جو جماعت تیار ہوئی اس کو سامری نے صرف 40 دن میں سب کو شرک پر لگا دیا جو کامیابی موسی علیہ السلام کو کئی سالوں کی محنت سے حاصل ہوئی سامری نے اس کے الٹ 40 دن میں حاصل کر لی - مسیلمہ کذاب نے چند سالوں میں اپنی کذاب ہونے کے باوجود اس وقت کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی تعداد سے زیادہ لوگ اپنے پیچھے لگا لیےتھے اگرچہ ان دونوں کا بعد میں قلع قمع ہو گیا تھا لیکن وقتی کامیابی تو انہوں نے بھی حاصل کر لی تھی- اب میں سمجھ سکتا ہوں کہ قادیانی قارئین کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اس طرف ہی ا رہا ہوں جناب -
    قادیانی مربی فاتح فاروقی سے ایک دفع میری بات ہوئی تھی جس میں اس نے سورہ الحاقہ کی آیت کو دلیل بنا کر کہا کہ مفتری کی نہ صرف اللہ شہ رگ کاٹتا بلکہ اس کا دایاں ہاتھ بھی پکڑتا ہے اس کی تاویل کے مطابق داہنا ہاتھ طاقت کی علامت ہوتا ہے اور اللہ مفتری کی طاقت یعنی اس کی جماعت کو بھی اس کے ساتھ نابود کر دیتا ہے اب اس حساب سے یہ دونوں مفتری ناکام ہوئے لیکن کیا یہ مفروضہ واقعی درست ہے ؟
    ایک شیطان کی میں مثال دے چکا اب دوسری مثال دیکھیں حضرت عیسی علیہ السلام جن کے بارے میں مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ یہود نے ان کو مسترد کر دیا تھا اور اصلاح مخلوق میں انکا سب سے آخری نمبر ہے یعنی ان پر ایمان لانے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی- اب اس مفروضہ کی رو سے نعوذ باللہ وہ تو ناکام ہوئے کیونکہ مرزا صاحب نے خود لکھا ہے کہ ان کو مسترد کر دیا گیا - لیکن یہی مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ جب عیسی علیہ السلام صلیب سے نجات پا کر بقول انکے کشمیر چلے گئے تو پیچھے سے پولس نے دعوی رسالت کر لیا مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ پولس عیسی علیہ السلام کا تقریبا ہم عمر تھا 30؛32 سال کی عمر میں عیسی علیہ السلام ہجرت کرتے ہیں اور پیچھے سے پولس دعوی رسالت کرتا ہے اور تقریبا 62 سال کی عمر میں مرتا ہے تقریبا 30 سالوں میں اس نے عیسائیت میں عیسی علیہ السلام کے مذہب کو بالکل بگاڑ دیا اور ایسی کامیابی حاصل کی جو عیسی علیہ السلام بمطابق قادیانی عقائد کے 120 سال میں بھی حاصل نہ کر سکے اور اس کی جماعت آج بھی دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہے کیونکہ موجودہ عیسائیت پولس کے عقائد پر ہے نہ کہ عیسی علیہ السلام کے عقائد پر-
    دوسری مثال ایک اور کذاب کی ملتئ ہے جس کا دعوی شرعی نبی ہونے اور مسیح موعود ہونے کا تھا جس کو دنیا بہا اللہ ایرانی کے نام سے جانتی ہے اس کی جماعت بھی آج تک موجود ہے اور مرزا صاحب کی جماعت سے کچھ عرصہ قبل سے موجود ہے ان کا دعوی بھی یہی ہے کہ انکی جماعت 209 ممالک میں ہے-
    اب اگرچہ یہ لوگ قتل ہوئے لیکن بقول قادیانی احباب کے سورہ الحاقہ کی آیت کے مطابق ان کا دایاں ہاتھ یعنی ان کی جماعت بھی نابود ہونا چاہیے تھی جو کہ نہ ہوئی پس ثابت ہوا کہ یہ مفروضہ غلط ہے -
    اب آتے ہیں کہ کیا ترقی نہ ہونا نعوذ باللہ جھوٹا ہونے کی علامت ہے اگر اس مفروضہ کو مان لیا جائے تو کئی سچے انبیاء کرام علیہم السلام کی تکذیب کرنا پڑے گی نوح علیہ السلام کی 950 سال کی تبلیغ میں بہت تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے تھے - عیسی علیہ السلام کی مثال مرزا صاحب خود پیش کرتے ہیں کہ وہ سب سے ناکام رہے نعوذ باللہ اصلاح مخلوق میں-
    لوط علیہ السلام کے بارے میں سنیں قرآن کیا کہتا ہے جب وہ دو فرشتے جو ان کی قوم پر عذاب لے کر آئے تھے ان کی ملاقات پہلے ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی اور ان کو بتایا کہ ہم ان کی قوم کو ہلاک کرنے والے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ
    قال إن فيها لوط
    فرمایا بیشک ان میں تو لوط ہیں
    (العنکبوت 32)
    تو فرشتوں نےجواب دیا کہ ہم ان کو اور ان کے اہل کو بچا لیں گے-

    اور سورہ الذاریات کے الفاظ قابل غور ہیں
    51 : سورة الذاريات 36


    فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾

    اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا ۔

    اور ظاہر ہے کہ وہ ان کا اپنا گھر تھا جس میں ان کی بیٹیوں کا ذکر ملتا ہے اور بیوی تو کافرہ تھی جو ہلاک ہوئی- یعنی صرف خود اور بیٹیاں مسلمان تھیں باقی پوری قوم کافر تھی- اب قادیانی مفروضہ کے مطابق تو نعوذ باللہ وہ ناکام ہوئے کیونکہ کسی دوسری قوم کی طرف تو نبی کی بعثت ہو نہیں سکتی قادیانی عقائد کے مطابق -

    اب آئیے کچھ حدیث نبوی سے بھی سیکھ لیتے ہیں
    Sahih Bukhari Hadees # 6541


    حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ. ح قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ""عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْأُمَّةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ النَّفَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ پوری امت گزری، کسی نبی کے ساتھ چند آدمی گزرے، کسی نبی کے ساتھ دس آدمی گزرے کسی نبی کے ساتھ پانچ آدمی گزرے اور کوئی نبی تنہا ہی گزرا

    یہی روایت دوسری کتب احادیث میں بھی موجود ہے مثلا دیکھئے 2446 ترمذی 4284 نسائی- لیکن میں نے صرف بخاری کا حوالہ دیا جو قادیانی احباب کے نزدیک مستند ہے -
    تو اتنے لمبے چوڑے مضمون کا خلاصہ یہ ہے جناب کہ تعداد بڑھنا کبھی بھی سچائی کی علامت نہیں ہوتی اگر تعداد سب کچھ ہے تو پھر نعوذ باللہ پولس سب سے کامیاب ہے بہا اللہ بھی کامیاب ہے اور لوط علیہ السلام عیسی علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام جن کے بارے میں حدیث نبوی بتاتی ہے کہ پانچ ،دس یا کسی پر کوئی بھی ایمان نہ لایا وہ ناکام ہوئے-
    حقیققت یہ ہے کہ سچا نبی کبھی ناکام نہیں ہوتا ناکام وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کو جھٹلاتے ہیں اور کذاب کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا بلکہ وہ خود بھی ناکام ہوتا ہے اور وہ لوگ بھی جو اس پر ایمان لاتے ہیں لیکن فیصلہ روز حشر کو ہو گا -

    یہاں تو اللہ نے شیطان کو بھی موقع دے رکھا ہے اور کفار کو بھی

    لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۱۹۶﴾ؕ

    تجھے کافروں کا ملکوں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے ۔

    مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾

    یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے ، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ توجہنّم ہے اور وہ بُری جگہ ہے ۔

    (وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ)"
    Copy paste
    آخری تدوین : ‏ اکتوبر 22, 2017

اس صفحے کی تشہیر