1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا امام مہدی کے آنے پر جہاد ختم کر دیا جائے گا ؟

محب علی نے 'احادیثِ امام مہدی و مجدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 31, 2014

  1. ‏ دسمبر 31, 2014 #1
    محب علی

    محب علی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 29, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    37
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    سٹوڈنٹ
    مقام سکونت :
    اٹلی
    السلام و علیکم ۔۔
    ہمارے سامنے ایک بھائی نے یہ اعتراض رکھا کہ علماء حضرت مرزا صاحب کی اس بات پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے جہاد سے عوام الناس کو کیونکر منع کر دیا ۔۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ احادیث صحیحہ میں منقول ہے آقا دو جہاں نے فرمایا جب امام مہدی آ یں گے تو جہاد بلسیف کو ختم کر کے فقط قلمی جہاد پر زور دیا جائے گا
    اس ضمن میں انہوں نے یہ حدیث اور مرزا صاحب کی کسی تحریر سے ماخوذ مضمون ہمیں دیا جو یہ ہے
    10881249_817428578300868_1876708055_n.jpg
    10899660_817428588300867_1241839215_n.jpg






    :00


    اب انشا الله ہم اپنی تحریر میں اس مسلے کو سمیٹنے کی کوشش کرینگے
    سب سے پہلے تو یہ دقت پیش آئ کہ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں لفظ حرب کی بجائے جزیہ موجود ہے ۔۔ جیسے کہ یہ
    عیسی  آسمان سے نازل ہوں گے.PNG

    ایسے ہی مکتبہ الشاملہ اور ابن حجر عسقلانی کی شرح بخاری "فتح الباری " میں بھی یہ ہی الفاظ تھے لیکن یہ مسلہ حل ہوا صحیح بخاری ہی کی ایک اور شرح توفیق الباری سے جس میں مصنف رقم طراز ہیں ۔۔
    امام بخاری سے منسوب ایک نسخہ کشمہینی میں لفظ جزیہ موجود ہے جبکہ دوسرے نسخہ میں لفظ حرب ہے
    1.PNG

    اس کے یہ کوئی لفظی تحریف نہیں ایک ایسا فرق ہے جو کہ اصل نسخوں سے چلتا آ رہا ہے


    اب ہم اصل حدیث کے متن پر نگاہ دوڑھائیں تو ہمیں اس میں مندرجہ ذیل امور کا آنے والے وقتوں میں ہونا بطور پیشین گوئی ملتا ہے ۔۔
    اس ذات کی قسم ہے جس میں میری جان ہے (نبی کا قسم اٹھانا )
    1۔قریب ہے کہ "ابن مریم " تم میں نازل ہوں گے
    2۔عادل "حکم " ہو کر وہ سلیب کو توڑ دیں گے
    3۔اور خنزیر کو مار ڈالیں گے
    4۔ اور جنگ کو "موقوف " کر دیں گے
    5۔مال و زر اس قدر زیادہ ہوگا کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا
    6۔ایک سجدہ دنیا و مافیا سے بہتر ہوگا
    7۔اور ابو ھریرہ رض کا فرمانا کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو اس واقعہ پر ایمان نہ لائے تاوقت یہ کہ اسے موت آن لے

    اب آپ ہی بتائیے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک شخص جو نہ ابن مریم ہے ، نہ وہ عادل بادشاہ بنا ، نہ اس نے صلیب توڑی ۔۔۔ وہ شخص اٹھے اور اٹھ کر جہاد کو حرام قرار دے دے ؟
    اس حدیث میں تو واضح اشارہ موجود ہے کہ انکے آنے پر کوئی ایک اہل کتاب بھی نہ ہوگا جو ان پر ایمان نہ لے آئے تو بتایا جائے کہ جب سب ایمان لے آئیں گے تو جہاد کس سے کیا جائے گا ، جزیہ کس سے لیا جائے گا ؟
    اور مال اس قدر کثرت سے ہوگا جیسے توفیق الباری میں ابن ابطال اس بابت لکھتے ہیں ۔۔
    نزول عیسی سے قبل اس کا جواز للھاجت اللمال ہے اس کے بعد چونکہ مال بکثرت ہوگا اس لئے عدم حاجت کے سبب اس کی ضرورت نہ رہے گی

    ہمارے بھائی نے کہا کہ اس دور میں جہاد کی شرائط موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے جہا د کو حرام قرار دیا ۔۔ ہمیں بھی معلوم ہو کہ کسی دور میں جہاد کرنے یا نہ کرنے کی دلالت پر قران و حدیث کی کون کون سی شرائط عمل پیرا ہوتی ہیں ؟

    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔ اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا‌ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُۙ ۔ ۨالَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ (الحج:٣٩)

    یعنی وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے (یہ وہ لوگ ہیں) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا۔


    upload_2014-12-31_0-8-4.png
    upload_2014-12-31_0-8-38.png


    ساتھ یہ حدیث صحیحہ

    جہا د قیامت تک.PNG

    لہٰذا ہمارا موقف تو بلکل واضح ہے کہ جب تک مسیح الدجال کے ساتھ جنگ نہیں ہو جاتی جہاد منسوخ نہیں ہوگا

    اب آپ ہمیں بتائیں کہ مرزا صاحب نے قرا ن و حدیث کے کس اصول کے تحت جہاد کو منسوخ قرار دیا تھا ۔۔ میں نے آ پکے سامنے قران و حدیث سے احتجاج کیا ہے آپ سے بھی امید ہے کہ آپ قران و حدیث سے ہی احتجاج کرتے ہوۓ شرائط جہاد پیش کریں گے نہ کہ کسی مولوی کا فتویٰ :p

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    اب آپ کی دوسری دلیل کہ انہوں نے جہاد کو بلکل منسوخ نہیں کیا تھا بلکہ شرائط کی عدم موجودگی کے سبب موخر کر دیا تھا


    10888005_817352638308462_1511493950_n.jpg
    لیکن یہ بات اس حدیث کے خلاف ہے اب جو آپ نے اوپر پیش کی اس کے مطابق وہ جہاد کو موقوف کر دیں گے اور
    مزے کی بات کسی حدیث میں جہاد کو مؤخر کرنے کے الفاظ کہیں بھی نہیں ہیں .. بلکہ یہ ہے کہ "جنگ ختم کردیں گے" .. اور اسکی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی کافر رہے گا ہی نہیں تو جنگ کس سے ہوگی؟

    حدیث میں عربی میں يضح الحرب ہے اگر جہاد مؤخر کرنے کا ذکر ہوتا تو یہ الفاظ ہوتے "يؤخر الجهاد" .

    حدیث میں "يضح الحرب" کے الفاظ ہیں

    لیکن يضح الحرب کے الفاظ ہیں اور اس سے پہلے عادل حکم ،صليب توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کے الفاظ ہیں ...

    عجب بات ہے کہ ان تینوں باتوں سے صرف نظر کرتے ہوۓ مرزا صاحب نے چوتھی بات کو جا پکڑا ہے ۔۔

    امید ہے کہ آپ ہمارے سامنے جہاد کرنے کی شرائط اور مرزا کا ابن مریم ہونا ،عادل حکم ہونا ، صلیب توڑنا اور خنزیر کو قتل کرنا ثابت کر دیں گے اور آخر میں یہ معمہ بھی حل کر دیں گے کہ جہاد کو موخر کیا کہ منسوخ ؟



    وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاغُ الْمُبِينُ اللهم صل وسلم وبارك وعظم وشرف على أبي الطيب والقاسم سيدنا أبا إبراهيم محمداً وعلى آل بيته الكرام عدد خلقك وزنة عرشك ومداد كلماتك ورضاء نفسك

    • Like Like x 2
    • Winner Winner x 2
  2. ‏ دسمبر 31, 2014 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    2,323
    موصول پسندیدگیاں :
    1,302
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    ٹیچنگ ، حکمت
    مقام سکونت :
    گوجرانوالہ
    ماشا اللہ
    بہت ہی عمدہ ، بہت ہی اعلیٰ انداز استدلال،فقاہت علمیہ، شستہ بیانی سب کچھ سمیٹ کر آپ نے اس مناظرانہ تحریر میں رنگ بھر دئیے ہیں اللھم زد فی علمک
    • Like Like x 1
  3. ‏ جنوری 1, 2015 #3
    محب علی

    محب علی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 29, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    37
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    سٹوڈنٹ
    مقام سکونت :
    اٹلی
    سلسہ 2 ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    10893275_819120714798321_1216041306_o.jpg

    +

    جہاد کے ہمارے نزدیک معنی کیا ہیں ۔۔

    ــــــــــــــــــــــــ

    الجواب التحریر ۔


    ایسا ہے کہ ہم پہلے یہاں بھائی کے دیے ہوۓ مضمون کو دوبارہ نقل کر تے ہیں

    10888005_817352638308462_1511493950_n.jpg


    اس میں نور الحق اور حقیقتہ سے دو حوالہ جات ہے جس پر ٹو بی آنسٹ ہم بھائی کے بیان کرنے پر اعتبار کر رہے ہیں ، ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات احادیث و مضامین کو جانچنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اصل متن و عبارت کو مکمل نظر میں لایا جائے ۔۔ فلحال ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہوۓ انکا جائزہ لیتے ہیں


    اب یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ حضرت نے جو دونوں باتیں کہی ہیں دونوں ہی قران کی رو سے عام حالات میں بلکل صحیح ہیں ۔۔ لیکن گلے کی ہڈی وہ حدیث ہے جسے بھائی نے خود پیش کیا۔


    عیسی  آسمان سے نازل ہوں گے.PNG

    بھائی نے جو پیش کی اس میں جزیہ کی جگہ لفظ حرب موجود ہے ۔۔

    ہم یہ کہتے ہیں کہ اماں اس حدیث کی رو سے جب ابن مریم کا نزول ہوگا وہ آ کر حرب موقوف کر دیں گے ، اور ہم واضح کرتے چلیں کہ ہمارا مقصد اگر آپ کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہوتا تو آپ سے کہے دیتے کہ بھائی حدیث میں حرب کا لفظ ہی نہیں ہم آپ کی بخاری کو نہیں مانتے ہمیں بخاری کے اصل نسخے سے دلیل لا کر دیں.۔ لیکن ہم نے خود حدیث میں موجود لفظی فرق کی وجہ بھی آپ کے سامنے پیش کی اور اس پر تحریف کا اشکال بھی دور کیا ۔۔ گویا اس مروجہ صحیح بخاری کے چار نسخے ہیں جن میں یہ فرق موجود ہے

    ثم الحمدوللہ اس سے منکرین حدیث کا یہ اعتراض بھی رد ہوا کہ بخاری ہمارے نزدیک ایسے ہی لا ریب ہے جیسے قرآن کے دو گتوں کے بیچ لکھی ہر بات ۔۔


    حدیث میں اگر دیکھیں تو اس حرب یا جزیہ کے موقوف ہونے کے بعد مال و دولت کی فراوانی کا تذکرہ ہے ۔۔ اور کہیں بھی جہاد بالسیف ، بلمال ، بلقلم ، بلنفس ۔۔۔ کی تلخیص موجود نہیں کہ فقط ایک جہاد موقوف ہوگا باقی جاری رہیں گے
    اور خود مرزا صاحب کی تحریر کے مطابق بعد میں بھی دشمن اگر حملہ کریں تو ان کے خلاف جنگ کریں ، وہ تیاری کریں تو ہم تیاری کریں
    اور وہ کونسی شرائط ہیں جنھیں مرزا صاحب نے اپنی زمانہ میں پاتے ہوۓ جہاد کے "عارضی التوا " کا عندیہ دیا ۔۔ حدیث اس کے سراسر مخالف ہے اگر مناسب خیال کریں تو ایک نظر اس پر بھی ڈالیے کہ اس جزیہ و حرب کی موقوفیت کی وجہ انکا عادل حکم ہو کر خنزیر کو قتل کرنا و صلیب کو توڑ دینا ہے گوکہ اس وقت اقوام عالم پر ہماری حکمرانی کا تذکرہ ہے

    حدیث اس کے یکسر موقوف کر دیے جانے کا تذکرہ کیے دیتی ہے جیسے

    upload_2015-1-1_9-27-42.png


    اب یہ حدیث صحیح مسلم کتاب الایمان سے ہے یہاں مکمل باب موجود ہے ہر جگہ لفظ جزیہ موجود ہے ۔ یہ بھی کہ لوگوں کے دل سے مال کی محبت جاتی رہے گی کوئی قبول نہیں کرے گا آپش کی بات ہے میری فیس ابھی میرے ذمہ ہے اگر آپ چیک کرنا چاہیں کہ یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی یا ابھی ہونی ہے تو مجھے کچھ آفر کر کے آزما لیں
    :006
    اور ساتھ جو حالات و واقعات کی پیشین گوئیاں ہیں انکا تذکرہ ہے جن پر شاید آئندہ ایام میں بحث ہو۔۔

    بات کو سمیٹتے ہوۓ میں مندرجہ ذیل نکات میں بات کو سمونے کی کوشش کر رہا ہوں

    اول۔۔ حدیث میں لفظ جزیہ و حرب دونوں موجود ہیں اور ایسا ہرگز نہ ہوگا کہ ہم ایک حدیث کو دیکھ فیصلہ کریں اور اس سے منسلک دوسرے ا طرا ق سے صرف صرف نظر کر جائیں
    دوم ۔۔ لفظ جزیہ و حرب کی موجودگی سے بات واضح ہوئی کہ یہاں حرب کے مکمل موقوف کر دیے جانے کا تذکرہ ہے ، کیوں کہ نبی کریم کے علاوہ کوئی تا قیامت شرعی احکامات میں ناسخ و منسوخ کا اختیار نہیں رکھتا اس لئے یہ بات خود نبی کریم نے فرما کر اجازت و پیشین گوئی فرما دی (توفیق الباری )
    سوم۔۔ جہاد کی مختلف اقسام اور ان میں سے بعض کا منسوخ بعض کا جاری رہنا تو تب دیکھیں جب مرزا صاحب کسی ایک کو بھی مکمل منسوخ کر رہے ہو ں انہوں نے عارضی التوا کا اعلان کیا ہے ، جو کہیں بھی کسی حدیث میں موجود نہیں ۔۔
    چہارم۔۔ نہ ہی کسی حدیث میں جہاد بلمال و قلم کی تلخیص موجود ہے بلکہ جہاد بلمال کی بھی نفی موجود ہے اس حدیث میں کیونکہ واضح تذکرہ ہے کہ مال و دولت کی فراوانی کے سبب کوئی اسے قبول نہ کرے گا ۔۔ یہی وہ بات ہے جو جزیہ لفظ کے اس حدیث میں اصل ہونے کا پتا دیتی ہے ۔۔ ہمیں حرب سے بھی مسلہ نہیں

    لہٰذا یہ آپ کے ذمہ رہا کہ

    ان شرائط کا قران و سنت سے بیان کریں ، جن کے تحت جہاد "عارضی التوا " کا شکار ہو سکے
    ایسی حدیث جس میں تلخیص ہو کہ ابن مریم صرف جہاد بلسیف منع فرمائیں گے بلقلم چلتا رہے گا
    ایسی حدیث جس میں تلخیص ہو کہ ابن مریم کے بعد جہاد بلسیف یا ان کے ہوتے ہوۓ ہی دوبارہ جاری ہو سکتا ہے اگر دشمن حملہ آ ور ہوں تو ۔۔

    اس سے قبل ہم نے سات نکات کا تذکرہ کیا کچھ اب یہاں ہیں جن میں کچھ باہم یکساں معنی رکھتے ہیں اب یہ آپ کے سامنے رہے امید ہے کہ احادیث کے انمباروں میں سے آپ ان شرائط کو پورا کرتی احادیث اور تضاد کا حل پیش کر کے ہمارے اشکالات کو دور کریں گے

    آخر میں ہم اسی ضمن میں آنے والی صحیح مسلم کی احادیث کو یہاں نقل کر
    upload_2015-1-1_9-52-20.png
    upload_2015-1-1_9-52-47.png
    upload_2015-1-1_9-53-17.png


    اور یہ تو آپ کے علم میں ہوگا ہی کہ حدیث کے الفاظ قرانی نہیں ۔ اس لئے اگر تعارض آ جاوے تو تمام محلات کو دیکھتے ہوۓ فیصلہ کیا جاتا ہے نہ کہ اسی ایک لفظ کو پیٹا جاتا ہے۔۔



    وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاغُ الْمُبِينُ
    اللهم صل وسلم وبارك وعظم وشرف على أبي الطيب والقاسم سيدنا أبا إبراهيم محمداً وعلى آل بيته الكرام عدد خلقك وزنة عرشك ومداد كلماتك ورضاء نفسك
    • Winner Winner x 1
  4. ‏ جنوری 8, 2015 #4
    محب علی

    محب علی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ دسمبر 29, 2014
    مراسلے :
    52
    موصول پسندیدگیاں :
    37
    نمبرات :
    18
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    سٹوڈنٹ
    مقام سکونت :
    اٹلی
    لفظ موقوف کی وضاحت کے لیے اس سے قبل کہ کتب لسانیہ سے استدلال کریں ہم ایک اور صحیح حدیث پیش کر کے اس مدعے کو مزید شفاف کیے دیتے ہیں
    جہا د قیامت تک.PNG


    اس حدیث سے واضح ہوا کہ

    نبی کریم کی امت میں حق پر قتال کرنے والا ہمیشہ ایک گروہ اس دنیا میں موجود رہے گا اور اپنے مخالفین پر غالب رہے گا
    اور ان میں سے سب سے آخری گروہ مسیح دجال کے خلاف جہاد کرے گا
    ـــــــــــــــــــــ
    احمدی حضرات کے نزدیک دجال سے مراد انگریز تھے ۔۔۔ اور اوپر ایک حدیث جو مسلم سے نقل کی گئی ہے اس میں بھی اس گروہ کا تذکرہ ہے اور یہ بھی کہ اس گروہ کا سردار حضرت عیسی کو نماز پڑھانے کی دعوت دیگا ۔۔ اب حضرت عیسی تو بقول مربیان کے قلمی جہاد کر چکے۔۔یہ کونسا گروہ ہے جس نے مسیح الدجال کو قتل کرنا تھا ؟؟

اس صفحے کی تشہیر