1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

( چوہدری شفاعت خان چوہان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    ( چوہدری شفاعت خان چوہان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)
    چوہدری شفاعت خان چوہان: جناب چیئرمین! یہ مرزائیت کا مسئلہ ایک صدی پرانا مسئلہ ہے۔
    3002جناب چیئرمین: آپ کو آج پتہ چلا ہے کہ ایک صدی پرانا مسئلہ ہے۔
    چوہدری شفاعت خان چوہان: نہیں، مجھے بھی تقریباً پچاس سال سے اس کا پتہ ہے۔
    پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر واقع ہوا تھا، عمل میں آیا تھا۔ مسلمانان ہند نے ووٹ دئیے تو پاکستان قائم ہوا، حالانکہ مسلم لیگی حکومت جس نے پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا تھا، وہ بھی اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر رہی تھی۔ اس کے بعد مختلف جماعتیں اس ملک پر حکمرانی کرتی رہیں۔ ۱۹۵۸ء تک، لیکن وہ بھی اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر رہی ہیں، حالانکہ تمام کے تمام ایسے ہی مسلمان تھے جیسے اب پاکستان میں بستے ہیں۔ اس کے بعد جس وقت آمریت کا دور آیا تو ان کے پاس زیادہ اختیارات بھی تھے۔ باوجود اس کے مارشل لاء دور میں بھی اس مسئلہ کو حل نہیں کیاگیا۔ اس کے بعد ۱۹۷۱ء میں جس وقت قائد عوام کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی حکومت اس ملک میں آئی تو بہت سے مسائل سامنے آئے جو ورثے میں ملے تھے۔ ان میں سے جو سب سے پہلا کام قائد عوام نے اپنی اکثریتی پارٹی کے تعاون اور باقی ملک کے تعاون کے ساتھ کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانان عالم کے کھوئے ہوئے اس وقار کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اسلامی ممالک میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے Summit بلائی جو ایک بہت بڑا کارنامہ اسلامی اتحاد کے سلسلہ میں ہے۔ اس کے بعد یہ ایک صدی پرانا مسئلہ بھی قائدعوام، اس کی اکثریتی پارٹی، دوسری معاون پارٹیوں اور اس کے بعد عوام کے تعاون کے ساتھ اس مسئلہ کو بھی آج حل کیا جارہا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے عوام کی خواہشات اور مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوگا۔

اس صفحے کی تشہیر