1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

پاکستان بننے کے بعد انگریزوں کا دخل

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2015

  1. ‏ مارچ 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    پاکستان بننے کے بعد انگریزوں کا دخل
    ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد صوبہ سرحد کا گورنر کنگھم انگریز ہو۔ ساری پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مسٹر گریسی انگریز ہو۔ جب کہ ہندوستان کا گورنر جنرل لارڈ مونٹ بیٹن تھا۔ مسٹر گریسی کے زمانہ میں مرزائیوں کی ایک فوج بنائی گئی جس کا نام فرقان بٹالین تھا۔ جس کو بعد میں مسلمانوں کے شدید مطالبہ پر مسٹر گریسی نے توڑا۔ مگر بے انتہاء تعریف کے ساتھ، کشمیر کی لڑائی میں میجر جنرل نذیر احمد پیش پیش رہا۔ چوہدری ظفر اﷲ خان کا ہم زلف تھا اور آخر کار شہید ملت لیاقت علی خان کے سازش 2442کیس میں گرفتار ہو کر ملازمت سے علیحدہ ہوا۔ تعجب ہے کہ کچھ عرصہ بعد اس مجرم کو لاہور کارپوریشن کا ’’میئر‘‘ بنادیا گیا۔ جس کے خلاف غلام غوث ہزاروی نے مغربی پاکستان اسمبلی ۱۹۶۲ء میں آواز اٹھائی۔
    اب اس بیان کی ضرورت نہیں کہ کس طرح مرزائی فرقہ آہستہ آہستہ ہزاروں آسامیوں پر فائز ہوکر مسلمانوں کے لئے مارآستین بنا۔ ہمارے بچوں کے حقوق تباہ ہوئے۔ عقائد کی جنگ شروع ہوئی۔ جس سے مذہب کو عظیم نقصان پہنچا۔ ایک بات سے اس پر تھوڑی روشنی پڑتی ہے کہ چوہدری ظفر اﷲ خان نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں منیر کمیشن کے سامنے کہا کہ جب لیاقت علی خان صاحب مرحوم باہر جاتے تو وزارت عظمیٰ کا قلمدان میرے سپرد کرتے۔
    فرنگی نے متحدہ ہندوستان سے جاتے جاتے مرزائی وفاداری کا حق یوں ادا کیا کہ پنجاب کے انگریز گورنر سرموڈی نے ان کو چنیوٹ کے پاس بہت بڑی زمین کوڑیوں کے مول دے دی۔ جو انجمن احمدیہ کے نام وقف ہے۔ مگر مرزابشیرالدین محمود نے اس زمین کے ساتھ ذاتی جائیداد کا سا معاملہ بناڈالا۔ یہیں بہشتی مقبرہ بنایا اور یہیں نبوت کا کاروبار چلایا۔

اس صفحے کی تشہیر