1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

وفاتِ مسیح ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی آیت: (سورۃ آل عمران: 144)

محمدابوبکرصدیق نے 'بد ترین دجل و فریب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 17, 2015

  1. ‏ جنوری 17, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    وفاتِ مسیح ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی آیت: (آلعمران: ۱۴۴)
    ومامحمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل افائِن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم

    قادیانی استدلال:
    ’’ومامحمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل افائِن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران: ۱۴۴)‘‘
    قادیانی ترجمہ: ’’اور محمدﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے کے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ پس اگر وہ وفات پاجائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤگے۔‘‘
    اس آیت میں قادیانی گروہ خلو کو بمعنی موت لیتا ہے اور من قبلہٖ کو الرسل کی صفت مانتا ہے اور الرسل پر لام استغراق مانتا ہے۔ اس لئے استدلال کا حاصل یہ ہوا کہ جب محمدﷺ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ تو بس مسیح علیہ السلام بھی ان میں آگئے۔
    جواب… خلت، خلو سے مشتق ہے۔ جس کے لغوی معنی مکان سے متعلق ہونے کی صورت میں جگہ خالی کرنے کے اور زمان سے متعلق ہونے کی صورت میں گزرنے کے آتے ہیں اور جن چیزوں پر زمانہ گزرتا ہے۔ ان کو بھی تبعاً خلو سے موصوف کردیتے ہیں۔

    مثالیں
    ۱… ’’واذا خلوا الی شیاطینھم (بقرہ:۱۴)‘‘
    ترجمہ: ’’اور جب خلوت میں پہنچتے ہیں اپنے شریر سرداروں کے پاس۔‘‘
    ۲… ’’بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ (حاقہ:۲۴)‘‘
    ترجمہ: ’’ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے بامید صلہ گزشتہ ایام میں کئے ہیں۔‘‘
    ۳… ’’تلک امۃ قدخلت (بقرہ:۱۴۱)‘‘
    ترجمہ: ’’یہ ایک جماعت جو گزرچکی۔‘‘ (بیان القرآن)
    بہرحال خلو کے معنی جگہ خالی کرنا خواہ زندہ گزر کر یا موت سے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹ جانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے دلائل قطعیہ ہوتے ہوئے اس کو موت کے معنی میں لینا تحریف ہی تو ہے۔
    جوابمن قبلہ الرسل کی صفت نہیں ہے۔ جس کے بعد معنی یہ ہوں کہ محمد سے پہلے کے تمام پیغمبر مرگئے۔ کیونکہ یہ الرسل سے مقدم ہے۔ بلکہ یہ خلت کا ظرف ہے۔ اب صحیح معنی یہ ہیں کہ محمدﷺ سے پیشتر کئی رسول گزرچکے۔
    ’’الرسل‘‘ پر لام تعریف جنس کا ہے۔ کیونکہ استغراق کے معنی لینے کی صورت میں آیت کے جملوں میں تعارض لازم آئے گا۔ بایں طور کہ وما محمد الا رسول سے حضورﷺ کی صفت رسالت ثابت کی اور جب خلت من قبلہ الرسل میں الرسل استغراق کے لئے ہوا، اور من قبلہ کا ظرف ہونا ثابت ہوہی چکا۔ تو اب ترجمہ یہ ہوگا کہ: جتنے اشخاص صفت رسالت سے موصوف تھے۔ محمدﷺ سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ اس سے نعوذباﷲ آپﷺ رسول برحق ثابت نہیں ہوں گے۔ اس لئے لام جنس ماننا ضروری ہے۔
    جواب… اور اگر ’’ علی سبیل التنزل‘‘ قادیانی گروہ کی تینوں باتیں مان لی جائیں۔ تو بھی اس سے زیادہ سے زیادہ رسل کے عموم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوگی۔ نہ کہ بطریق خصوص اور اس صورت میں یہ آیت ان کی دلیل بننے کے قابل نہیں رہے گی۔ کیونکہ علم اصول کی کتابوں میں اس قاعدہ مسلمہ کی تصریح ہے کہ کوئی امر خاص دلیل (تخصیص منقولی)سے ثابت ہو تو اس کے خلاف عام دلیل سے تمسک کرنا جائز نہیں ہے اور یہاں دلائل قطعیہ مخصوصہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کی جاچکی ہے۔

اس صفحے کی تشہیر