1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

نابالغ بیٹی سے جنسی زیادتی اور معاشی فراڈ

ضیاء رسول امینی نے 'شہر سدوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2015

  1. ‏ جولائی 2, 2015 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مصلح موعود کی کہانی حکیم عبدالوہاب کی زبانی
    حکیم عبدالوہاب عمر قادیانی امت کے ''خلیفہ اول'' مولانا نورالدین کے صاحبزادے ہیں ان کا بچپن اور جوانی ''قصر خلافت'' کے درودیوار کے سائے میں گزری ہے اور اس آسیب کا سایہ جس پر بھی پڑا ہے اس نے مشاہدہ پر اکتفا کم ہی کیا ہے وہ حق الیقین کے تجربے سے گزرا ہے یہی حال حکیم صاحب کا ہے اگرچہ اس مرتبہ میں متعدد دوسرے افراد بھی ان کے ساتھ شریک ہیں لیکن انہیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنی داستان بھی بغیر کسی لاگ لپٹ کے کہہ سناتے ہیں اور اپنے اوپر قادیانیوں کے معروف طریق کے مطابق تقدس کی جعلی ردا نہیں اوڑھتےاور اگر اس اظہار حقیقت میں ان کا کوئی عزیز زد میں آجائے تو وہ اسے بچانے کی بھی زیادہ جدوجہد نہیں کرتے عموماََ وہ اپنی آپ بیتی حکایت عن الغیر کے طور پر سناتے ہیں اور گو ان روایات کے مندرجات بتا دیتے ہیں کہ ان کا مرکزی کردار وہ خود ہی ہیں لیکن اگر کوئی پیچھے پڑ کر کریدنا ہی چاہے کہ یہ نوجوان کون تھا تو وہ بتا دیتے ہیں کہ یہ میں ہی تھا۔ انہوں نے بتایا،
    1۔ 1924 میں مرزا محمود بغرض سیر و تفریح کشمیر تشریف لے گئے، دریائے جہلم میں پیراکی میں مصروف تھے کہ مرزا محمود نے غوطہ لگا کر ایک سولہ سالہ نوجوان کے ''مینارہ وجود'' کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے تو ان کے دواخانہ کے انچارج جناب اکرم بٹ نے پوچھا ، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تو وہ بولے یہ میں ہی تھا۔
    2۔ ''قصر خلافت'' قادیان کے گول کمرہ سے ملحق ایک اور کمرہ ہے، مرزا محمود احمد نے ایک نوجوان سے کہا کہ اندر ایک لڑکی ہے جاو اس سے دل بہلاو وہ اندر گیا اور اس کے ''سینے کے اہراموں'' سے کھیلنا چاہا۔ اس لڑکی نے مزاحمت کی اور وہ نوجوان بے نیل مرام واپس لوٹ آیا۔ مرزا محمود نے اس نوجوان کو کہا ''تم بڑے وحشی ہو'' جواباََ کہا گیا کہ اگر جسم کے ان ابھاروں کو نہ چھیڑا جائے تو مزہ کیا خاک ہوگا۔ مرزا محمود نے کہا لڑکی کی اس مدافعت کا سبب یہ ہے کہ وہ ڈرتی ہے کہ اس طرح کہیں اس نشیب و فراز کا تناسب نہ بدل جائے''
    3۔ ایک دفعہ آپ کی بیگم مریم نے اس نوجوان کو خط لکھا کہ فلاں وقت مسجد مبارک (قادیان) کی چھت سے ملحقہ کمرے کے پاس آکر دروازہ کھٹکھٹانا تو میں تمہیں اندر بلا لوں گی ۔ دروازہ کھلا تو اس نوجوان کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ بیگم صاحبہ ریشم میں ملبوس سولہ سنگھار کیے موجود تھیں۔ اس نوجوان نے کبھی کوئی عورت نہ دیکھی تھی چہ جائے ایسی خوبصورت عورت ۔ وہ مبہوت ہوگیا ۔ اس نوجوان نے کہا حضور اجازت ہے، انہوں نے جواب دیا ، ایسی باتیں پوچھ کر کی جاتی ہیں؟ اس وقت نوجوان نے کچھ نہ کہا کیونکہ اس کے جذبات مشتعل ہوچکے تھے اس نے سوچا کہ '' گرو جی کچہرے ہی میں نہال ہوجائیں گے'' اس لیے اس وقت کنارہ کرنا ہی بہتر ہے بیگم صاحبہ موصوفہ نے اس خط کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس نوجوان کو لکھا تھا اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں نے اس کو تلف کردیا ہے ۔ تقسیم ملک کے بعد مرزا محمود احمد کے پرائیویٹ سیکرٹری میاں محمد یوسف صاحب اس نوجوان کے پاس آئے ، کہا ، میں نے سنا ہے کہ آپ کے پاس حضور کی بیویوں کے خطوط ہیں اور آپ اس کو چھاپنا چاہتے ہیں ۔ اس نوجوان نے جواب دیا ، بہت افسوس ہے کہ آپ کو اپنی بیوی پر اعتماد ہوگا اور مجھے بھی اپنی بیوی پر اعتماد ہے، اگر کسی پر اعتماد نہیں تو وہ حضور کی بیویاں ہیں''
    4۔ مرزا محمود احمد نے اپنی ایک صاحبزادی کو رشد و بلوغت تک پہنچنے سے بیشتر ہی اپنی ہوس رانی کا نشانہ بنا ڈالا ۔ وہ بے چاری بے ہوش ہوگئی، جس پر اسکی ماں نے کہا '' اتنی جلدی کیا تھی ایک دو سال ٹھہر جاتے، یہ کہیں بھاگی جا رہی تھی یا تمہارے پاس کوئی اور عورت نہ تھی'' (خدا کا غضب ہو ایسے جنسی درندوں پہ ، شیطان بھی اس خبیث سے شرما گیا ہوگا۔ راقم) دواخانہ نورالدین کے انچارج جناب اکرم بٹ کہا کہنا ہے کہ میں نے حکیم صاحب سے پوچھا ، یہ صاحبزادی کون تھی ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ''امتہ الرشید''
    نوٹ: اس روایت کی مزید وضاحت کے لیے صالح نور کا بیان غور سے پڑھیں جو اسی کتاب میں درج کیا جارہا ہے ۔ ملک عزیز الرحمٰن بحوالہ ڈاکٹر نذیر ریاض اور یوسف ناز بیان کرتے ہیں کہ جنسی بے راہ روی کے ان مظاہر پر جب مرزا محمود سے پوچھا جاتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہتا '' لوگ بڑے احمق ہیں ایک باغ لگاتے ہیں اس کی آبیاری کرتے ہیں جب وہ پروان چڑھتا ہے اور اسے پھل لگتے ہیں تو کہتے ہیں '' اسے دوسرا ہی توڑے اور دوسرا ہی کھائے'' (استغفراللہ۔ خدا کی لعنت ایسے مردودوں پر۔ راقم)
    ربوہ کی معاشی نبوت کا عظیم فراڈ
    حکومت کے خلوت خانہ خیال کی نذر
    1۔ صدر انجمن احمدیہ قادیان ایک رجسٹرڈ باڈی ہے ۔ تقسیم ملک سے قبل اس انجمن کی جائیداد ملک کے مختلف حصوں میں بھی تقسیم کے بعد ناصر آباد، محمود آباد، شریف آباد، کریم نگر فارم، تھرپارکر سندھ کی زمینیں پاکستان میں آگئیں تو مرزا محمود نے ربوہ میں ایک ڈی انجمن '' ظلی صدر انجمن احمدیہ'' قائم کی اور چوہدری عبداللہ خان برادر چوہدری ظفراللہ خان ایسے قادیانیوں کے ذریعے یہ زمین اپنے صاحبزادوں اور انجمن کے نام منتقل کرالی اور مقصد پورا ہوجانے کے بعد یہ ظلی صدر انجمن ، مرزا غلام احمد کی ظلی نبوت کی طرح ''اصلی'' بن گئی اور صدر انجمن احمدیہ قادیان نے وہاں کی تمام جائیداد بھارتی حکومت سے واگذار کروالی اور اسی مقصد کے حصول کے لیے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر احمد کے ایک بھائی مرزا وسیم احمد کو وہاں ٹھہرایا گیا جو آج بھی وہیں مقیم ہیں۔
    2۔ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے قادیان میں سکنی زمین ، صدر انجمن احمدیہ لوگوں کو فروخت کرتی تھی مگر وہ خریداروں کے نام رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت رجسٹر نہیں کروائی جاتی تھی۔ جیسا کہ ربوہ میں ہوتا ہے، اسی طرح سرکاری کاغذات میں زمین اصل مالکان کے نام ہی رہتی ہے حالانکہ وہ اسے فروخت کرکے لاکھوں روپیہ ہضم کرچکے ہوتے ہیں۔ اس عیاری پر پردہ ڈالنے کے لیے خلیفہ ربوہ نے مہاجرین قادیان کو چکمہ دے کر کہ قادیان '' خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے'' (نعوذباللہ) اور انہیں اس بستی میں واپس جانا ہے ، انہیں قادیان کے مکانوں کا کلیم داخل کرنے سے منع کردیا۔ اب اگر مرید بھی کلیم داخل کردیتے تو حکومت اور مریدوں سے دوہرے فراڈ کی قلعی کھل سکتی تھی، اس لیے مریدوں کو کلیم داخل کرنے سے منع کردیا گیا ۔ مگر بہت سے شاطر مرید اس عیاری کو سمجھ گئے اور انہوں نے خود بھی بے پناہ بوگس کلیم داخل کیے اور پھر قادیانی اثر و رسوخ سے منظور کروائے۔ اگر حکومت صرف قادیانیوں کی پاکستان میں جعلی اور بوگس الاٹمنٹوں کی تحقیقات کروائے تو کروڑوں روپے کے فراڈ کا پتہ چل سکتا ہے اور مؤلف کتاب ہذا بعض جعلی کلیموں کے نمبر تک حکومت کو مہیا کرنے کا پابند ہے۔
    3۔ ربوہ کی زمین صدر انجمن احمدیہ کو کراؤن لینڈ ایکٹ کے تحت علامتی قیمت پر دی گئی تھی۔ مرزا محمود نے یہاں بھی قادیان والا کھیل دوبارہ کھیلا اور ٹوکن پرائس پر حاصل کردہ اس زمین کو ہزاروں روپیہ مرلہ کے حساب سے مریدوں کے نام فروخت کیا مگر رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت سب لیز ہولڈرز کے نام زمین منتقل نہ ہونے دی۔ اس طرح مریدوں کا لاکھوں روپیہ بھی جیب میں ڈالا اور گورنمنٹ کے لاکھوں روپیہ کے ٹیکس بھی ہضم کیے گئے۔ مریدوں پر الٹا رعب بھی قائم رہا کہ وہ زمین خریدنے کے باوجود مالکانہ حقوق سے محروم رہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نے ''خاندان نبوت'' کی عیاشیوں اور بدمعاشیوں کے متعلق آواز بلند کی اسے اپنی ''ریاست'' سے باہر نکال دیا اور قبائلی نظام کے مطابق اس کا سوشل بائیکاٹ کردیا۔ اب جو مرید ایک ''نبی'' کے انکار کی وجہ سے ساری ملت اسلامیہ کو کافر قرار سے کر علیحدہ ہوئے ہیں وہ اپنی مخصوص Conditioning اور لایعنی علم الکلام کی وجہ سے واپس امت مسلمہ کے سمندر میں تو نہیں آسکتے وہ اسی گندے اور متعفن جوہڑ میں رہنے پر مجبور ہیں، اس لیے ایسے مریدوں سے سچائی کی توقع عبث ہے۔
    4۔(1) ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے سلسلہ میں سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ ربوہ کی لیز فوراََ ختم کی جائے۔
    (2) ربوہ کو چنیوٹ کے ساتھ شامل کرکے سرکاری دفاتر ربوہ کے اندر منتقل کیے جائیں اور اندرون شہر خالی پڑی ہوئی زمین پر فوراََ سرکاری عمارات تعمیر کی جائیں۔ ربوہ میں چند کارخانے قائم کیے جائیںاور اردگرد کے لوگوں کو وہاں معاش کی سہولتیں مہیا کی جائیں تاکہ قادیانی یلغار اور لالچ کا ہدف نہ بن سکیں۔
    5۔ ربوہ کے تمام تعلیمی اداروں سے قادیانی اساتذہ کو فوراََ تبدیل کردیا جائے تاکہ وہ مسلمان طلباء کو کفر کی تعلیم دینے کی ناپاک جسارت نہ کرسکیں
    6۔ ربوہ میں بڑا تھانہ قائم کیا جائے اور اس کی عمارت گول بازار کے سامنے ٹیلی فون ایکسچینج کے ساتھ تعمیر کی جائے۔
    7۔ خدام الاحمدیہ اور دوسری نیم عسکری تنظیموں کو توڑ دیا جائے اور نظارت امور عامہ (شعبہ احتساب) کو ختم کرکے ربوہ کا نام تبدیل کرکے چک ڈھگیاں اس کا پہلا نام رکھ دیا جائے تاکہ قادیانی اپنی دجالیت نہ پھیلا سکیں اگر مندرجہ بالا امور پر عمل نہ کیاگیا تو ربوہ کبھی کھلا شہر نہ بن سکے گا۔ وہاں قادیان سے بدتر غنڈہ گردی ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی کیونکہ قادیان میں تو پھر کچھ آبادی ہندوؤں سکھوں اور مسلمانوں کی تھی مگر یہاں تو انگریز کی معنوی ذریت کے علاوہ اور کوئی ہے ہی نہیں۔
    8۔ قادیانی ڈاکٹروں، مسلح افواج میں قادیانی افسروں اور سرکاری محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کے سالانہ اجلاس ، ربوہ کے سالانہ میلے پر منعقد ہوتے ہیں جہاں خلیفہ کو حکومت کے راز منتقل ہوتے ہیں اور ملک کی معیشت پر قادیانی گرفت کو مضبوط کرنے کے پروگرام بنتے ہیں اس لیے تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کی چھٹی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی اسلام دشمن اور ملک دشمن ذہنی ساخت کے باعث ملک و قوم کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر