1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(معنوی تحریف کی مثال)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 16, 2015

  1. ‏ جنوری 16, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (معنوی تحریف کی مثال)
    اب میں مختصراً معنوی تحریف کی طرف آتا ہوں۔ سورۃالبقرۃ کی اِبتدائی ہی آیتوں میں :عربی)
    یہاں اس قصے سے، اب یہاں قرآن کریم میں بڑی صراحت سے ہے، مسلمانوں سے مطالبہ ہے کہ حضور (ﷺ) پر اِیمان لائیں اور آپ کے پہلے جتنے انبیاء ہیں، ان پر اِیمان لائیں اور اس طرح کی آیتیں کم وبیش چوبیس، پچّیس جگہ قرآن کریم میں آئی ہیں، جہاں یہ کہا گیا ہے:
    ’’آپ (ﷺ) سے پہلے آنے والی کتابوں پر، آپ (ﷺ) سے پہلے آنے والے نبیوں پر۔‘‘
    حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی، اس لئے کہ اَحکام تو ہمارے سب قرآن کریم میں موجود ہیں۔ آپ (ﷺ) جامع ہیں سارے انبیاء کی صفات کے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نظام رسالت کا قائم ہے جو آپ (ﷺ) پر ختم ہو ا ہے، اس لئے ہر جگہ ’’من قبلک‘‘ آیا۔ کہیں ’’مِنْ بَعْدِکَ‘‘ نہیں آیا۔ حالانکہ ضرورت تو یہ تھی کہ بعد میں آنے والے اَحکام ماننے ہیں اگر اور فلاح اس پر منحصر ہے تو ’’مِنْ بَعْدِکَ‘‘ آتا۔ لیکن وہ نہیں آیا۔ اب یہاں، یعنی جو کچھ میں سمجھا ہوں، اب وہ لفظ کہیں نہیں آیا۔ لہٰذا ایک دُوسرے لفظ سے وہ گنجائش نکالی گئی :عربی)
    جس کا یہ ابھی میں نے اُردو ترجمہ دیکھا، ورنہ میرے پاس انگریزی کے ترجمے چوہدری ظفراللہ صاحب کے اور مرزا بشیرالدین محمود صاحب کے ہیں۔ اسی کے ساتھ کوئی دس بارہ تراجم انگریزی کے اور ہیں میرے پاس، جو مسلمانوں کے بھی ہیں، عیسائیوں کے بھی ہیں، یہودیوں کے بھی۔ سب نے ’’آخرت‘‘ کے لفظ کا ترجمہ:"Hereafter" (آخرت) یا "Hereinafter" (آخرت) کیا 1442ہے۔ لیکن اس ترجمے سے چونکہ آگے نبی آنے کی گنجائش ہی نہیں ملتی، یعنی یہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ چوہدری ظفراللہ صاحب کے ترجمے میں ’’آخرت‘‘ کا ترجمہ یہ آتا ہے:
    "And our firm faith in that which has been foretold and is yet to come."
    (اور ہمارا پکا اِیمان ہے کہ جو پہلے بتایا جاچکا ہے وہ ابھی آنا ہے)
    ’’آخرت‘‘ کا ترجمہ:
    "In that which has been foretold and is yet to come."
    اسی طرح سے مرزا بشیرالدین محمود صاحب میں آیا ہے:
    "And they have firm faith in what is yet to come."
    مرزا ناصر احمد: یہ ترجمہ کس کا ہے؟
    جناب چیئرمین: یہ دُوسرا جو پڑھا ہے آپ نے؟
    مرزا ناصر احمد: آخر میں جو سنایا ہے، آخر میں، آخر میں۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ مرزا بشیرالدین محمود صاحب کا ہے، جو کمنٹری کے ساتھ ہے۔
    مرزا ناصر احمد: انہوں نے کوئی ترجمہ نہیں کیا۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی؟
    مرزا ناصر احمد: وہ خود انہوں نے انگلش میں کوئی ترجمہ نہیں کیا۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: انہوں نے کیا ہے:
    "And they have firm faith in what is yet to come."
    مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ انگریزی کے جو تراجم ہیں، وہ انہوں نے 1443نہیں کئے ہوئے، کسی اور نے کئے ہوئے ہیں۔ لیکن صرف لفظی تصحیح میں کروا رہا ہوں۔ باقی تو جواب دُوں گا۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب میں تھوڑے سے ترجمے ۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت انگریزی مترجمین میں آربری کا ترجمہ بڑا مقبول ہے۔ یہ لکھتے ہیں:
    "And have faith in the hereafter."
    چوہدری محمد اکبر صاحب کا ایک ترجمہ ہے:
    "And firmly belive in the hereafter."
    عبداللہ یوسف علی صاحب کا ترجمہ ہے:
    "Have the assurance of the hereinafter."
    مارماڈیوک پکتھال کا ترجمہ ہے:
    "And are certain of the hereafter."
    بل کا ترجمہ ہے:
    "And of the hereafter ...... who believe in the unseen and are convinced of the hereafter."
    جارج سیل کا ترجمہ ہے
    Mr. Chairman: Yes, the question is complete. The question is that a different translation and a different interpretation has been put by the Jamaat. Yes.
    (جناب چیئرمین: جی ہاں سوال مکمل ہے، سوال یہ ہے کہ جماعت کی طرف سے مختلف ترجمے یا معنی کئے گئے ہیں)
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی ہاں، اور اس کے نتیجے میں مرزا بشیرالدین محمود صاحب نے 1444جو تشریحی نوٹ لکھا ہے، وہ بہت لمبا چوڑا ہے اور اس سے نتیجہ ۔۔۔۔۔۔۔ میں اسے پڑھ دُوں؟
    مرزا ناصر احمد: نہیں، یہاں ہے۔ پڑھ دیں ضرور۔
    Maulana Mohammad Zafar Ahmad Ansari: Here, Mirza Bashir-ud-Din gives the following footnote:
    "’’الآخرۃ‘‘ ___ what is yet to come ___ is derived from ’آخر‘. They say ’آخرۃ‘, that is, he put it ’آخرہ، آخرہ‘. He put it back, he put it behind, he postponed it. The word ـ’الاخرہ‘ which is the feminine of ’الاخر‘ , that is, the last one or the latter one, is used as an epithet or an adjective opposed to ’الاوّل‘, that is, the first one. ’الاخر‘, with a different vowel point in the central letter, means the other or another, ’اقرب‘. The object which the adjective ’الاخرہ‘, in the verse qualifies, is understood; most commentators taking it to be ’الدار‘, that is, the full expression being ’الدار الاخرہ‘, the last abode. The context, however, shows that here the word understood is ’الرسالۃالآخرہ‘, the message or revelation which is to come."
    (مولانا ظفر احمد انصاری: یہاں مرزا بشیرالدین نے مندرجہ ذیل حاشیہ دیا ہے: الآخرہ جس نے ابھی آنا ہے، الآخرہ کا مأخذ آخر ہے، وہ کہتے ہیں آخرہ…)
    اور کافی لمبا ہے یہ۔ گویا یہاں سے یہ گنجائش نکالی گئی ہے کہ ابھی کچھ چیز باقی ہے آنے کو۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اب نہ کوئی رسول آئے گا، نہ کوئی آسمانی کتاب آئے گی، نہ کوئی وحی آئے گی، نہ جبرائیل آئیں گے۔ یہاں لفظ ’’آخرت‘‘ کا ترجمہ اس طرح کرکے یہیں سے اس کی یہ گنجائش پیدا کی گئی ہے کہ کوئی نیا پیغمبر بھی آئے گا، کوئی نئی کتاب بھی آئے گی، کوئی نئی وحی بھی آتی رہے گی۔ تو یہ گویا ایک ایسی تحریف ہے، یعنی میرے نقطئہ نظر اور عام مسلمانوں کے نقطئہ نظر سے، کہ جو مسلمانوں کے پورے بنیادی عقیدے کو بدل دیتی ہے۔
    1445مرزا ناصر احمد: تو سوال کیا ہے مجھ سے؟
    Mr. Chairman: The question is simple, very simple, that in the light of the other translations by the different people, who have been mentioned by the witness, a different interpretation has been put by Ch. Mohmmad Zarfarullah Khan and it has been tried that, for one word, it is proved that Nabis will come even after the Holy Prophet (peace be upon him). This is the question in a nutshell.
    (جناب چیئرمین: سوال بالکل سیدھا ہے، دُوسرے تراجم کی روشنی میں جن کا ذِکر گواہ نے کیا ہے، چوہدری ظفراللہ نے مختلف معنی پہنائے ہیں، اور ایک لفظ کے مختلف ترجمے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آخری نبیﷺ کے بعد اور نبی بھی آئیں گے، مختصر طور پر یہی سوال ہے)
    Maulana Muhammad Zafar Ahmad Ansari: Nabis and divine message.
    (مولانا ظفر احمد انصاری: انبیاء اور اَحکاماتِ اِلٰہیہ)
    Mr. Chairman: Yes. That is all. Now the witness will reply.
    (جناب چیئرمین: جی ہاں، بس یہی سوال ہے، اب گواہ اس سوال کا جواب دے)
    مرزا ناصر احمد: ایک تو میرا خیال ہے کہ جو انگریزی کے تراجم آپ نے بہت سارے مترجمین کے سنائے ہیں، ان میں سے بہت سے عیسائی ہیں۔۔۔۔۔۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے کہا ہے یہ مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی۔۔۔۔۔۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں۔ دُوسرا سوال یہ ہے۔۔۔۔۔۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ۔۔۔۔۔۔ یہودی کا بھی ہے، اس کا بھی ترجمہ: "Hereafter" (آخرت) ہے۔
    جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ۔ انصاری صاحب! ذرا ٹھہرجائیں۔
    مرزا ناصر احمد: تو دُوسرا سوال یہ ہے، ہاں، سوال یہ ہے، دُوسری یہ بات ہے کہ جو ترجمہ کیا گیا ہے عربی لغت کے خلاف ہے یا عربی لغت یہ معنی بھی کرتی ہے؟ اگر عربی لغت یہ معنی کرتی ہے تو جو میں نے تفسیر صحیح کا معیار ایک بتایا تھا اس میں صرف یہ معنی جو ہیں، وہ ان معنوں کا کیا جانا صرف اس بات کو رَدّ نہیں کرتا۔ اسے رَدّ کرنے کے لئے کوئی اور وجہ ہونی چاہئے اور تیسری بات یہ ہے کہ کیا قرآن کریم نے ’’آخر‘‘ اور ’’آخرت‘‘ کے لفظ کو صرف "Hereafter" (آخرت) کے لئے 1446اِستعمال کیا ہے یا کسی اور معنی میں بھی اِستعمال کیا ہے؟ اگر کسی اور معنی میں بھی اِستعمال کیا ہے، بالکل واضح طور پر، یعنی لفظ ہے یہ اور واضح ہے کہ یہاں "The life hereafter" (آخرت کی زندگی) نہیں، تو پھر ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ یہاں بھی وہ معنی لگ سکتے ہیں، اگر کوئی اور چیز روک نہ ہو رستے میں، اور: (عربی)
    یہاں ’’الاخرۃ‘‘ کے معنی تفاسیر میں ’’کلمۂ آخرہ‘‘ اور ’’کلمہ اولیٰ‘‘ لکھا گیا ہے۔ تو یہاں ایک معنی ’’آخرۃ‘‘ کے جو لغت کے لحاظ سے دُرست ہیں، ’’آخرۃ‘‘ کے وہ معنی جو خود قرآنی محاورے کے مطابق دُرست ہیں، جیسا کہ ابھی میں نے بتایا کہ فرعون کے متعلق یہ لفظ بولا گیا، اور تفسیروں نے، ہم سے پہلی تفسیروں نے اس کے معنی ’’دُوسرے کلمہ‘‘ کا کہا ہے ’’کلمۃالآخرۃ۔‘‘ اور جو یہ تفسیر ہے، اس کے اندر پہلی تفسیر سے صرف اِختلاف ہے اور میں نے تفسیر صحیح میں بتایا تھا کہ قرآن کریم میں اِختلاف کا دروازہ۱؎ اور نئے معنی کا دروازہ خود قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کھلا رکھنا پڑے گا، اور پچھلوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ: (عربی)
    یہ تفسیر ’’ہدایت البیان‘‘ ہے، از اِمام ابو محمد شیرازی، جو ۶۰۶ہجری میں فوت ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اقتراب المسع میں ہے۔ تو اور بھی ہیں بہت سے حوالے، لیکن اس وقت یہ ایک کافی ہے۔
    Mr. Chairman: Next.(جناب چیئرمین: آگے چلئے)
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، نہیں، ذرا اسی میں کچھ عرض کرنا ہے۔
    جناب چیئرمین: ہاں، پوچھیں، اسی کا اگر Further Explanation (مزید وضاحت) ہے۔

اس صفحے کی تشہیر