1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مسلمان کون؟

MindRoasterMir نے 'مفتی صاحب سے سوال پوچھئے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 19, 2017

  1. ‏ فروری 19, 2017 #1
    MindRoasterMir

    MindRoasterMir رکن ختم نبوت فورم

    احمد رضا خان بریلوی صاحب کہتے ہیں دیوبندی وہابی اور شیعہ کافر ہیں اور کو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ آپ کا کیا فتویٰ ہے کیا دیوبندی وہابی اور شیعہ کافر ہیں یا مسلمان؟
  2. ‏ فروری 28, 2017 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اس بات کا جواب ایک اور جگہ پر بھی میں نے آپ کو دیا ہے کہ فرقوں کا ہونا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مرزا صاحب امام مہدی نہ تھے۔ ان کا امام مہدی ہونے کا دعوی جھوٹ پر مبنی تھا۔ کیونکہ امام مہدی نے مسلمانوں میں سے فرقہ واریت ختم کر کے ان کو ایک امت بنانا تھا۔ جو کہ مرزا کرنے میں ناکام رہا۔ اور اس بات کو آپ ابھی خود اپنے اس کمنٹ میں تسلیم کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں فرقے موجود ہیں۔
  3. ‏ مارچ 1, 2017 #3
    غلام مصطفی

    غلام مصطفی رکن ختم نبوت فورم

    اس کے لئے ہمیں قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔
    {قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} (الحجرات 15)
    بادىہ نشىن کہتے ہىں کہ ہم اىمان لے آئے تُو کہہ دے کہ تم اىمان نہىں لائے لىکن صرف اتنا کہا کرو کہ ہم مسلمان ہوچکے ہىں جبکہ ابھى تک اىمان تمہارے دلوں مىں داخل نہىں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کى اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال مىں کچھ بھى کمى نہىں کرے گا ىقىناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
    اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ کسی سے اس کے مسلمان کہلانے کا حق چھینا نہیں جاسکتا۔
    اسی طرح نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں مردم شماری کے موقع پر فرمایا کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اسے مسلمان لکھ لو۔

    حضرت جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور ؐ سے پوچھاکہ اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم! مجھے اِسلام کے بارے میں مطلع فرمائیں۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تُو گواہی دے کہ اﷲ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگرراستہ کی توفیق ہو تو بیت اﷲ کا حج کرو۔ اس شخص نے کہا کہ حضور ؐ نے بجا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب آیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اُس شخص نے پوچھا کہ مجھے ایمان کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ آپ اﷲ پر ایمان لائیں۔ اُس کے فرشتوں ، اُس کی کتابوں، اُس کے رسُولوں پر ایمان لائیں نیز یومِ آخر پر ایمان لائیں اور قضاء و قدر کے بارے میں خیر و شر پر بھی ایمان لائیں۔ اُس شخص نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا ہے۔
    (مسلم کتاب الایمان باب نمبر 1)
    ''جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم ادا کرتے ہیں۔ اُس قبلہ کی طرف رُخ کیا جس کی طرف ہم رُخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اﷲ اور اُس کے رسول کا ذمّہ ہے۔ پس تم اﷲ کے دئے ہوئے ذمّے میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو''۔ (بخاری کتاب الصلٰوۃ باب فضل استقبال القبلۃ)
    قرآن مجید اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ کسی مسلمان کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو کوئی غیر مسلم نہیں کہہ سکتا ۔ہاں اس کے بعض غیر اسلامی عقائد کی وجہ سے اسے غیر مومن یا اس صداقت کا انکاری یا کافر کہا جاسکتا ہے۔مثلاً نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے مہدی کا انکار کیا اس نے کفر کیا۔یہاں کفر دون کفر کا ذکر ہورہا ہے۔یعنی وہ شخص مسلمان رہتے ہوئے بھی ایک اہم اسلامی صداقت کا کافر ہے۔
    رہی بات یہ کہ امام مہدی نے فرقہ واریت کو ختم کرنا تھا۔تو پھر نبی کریمﷺ نے یہ کیوں فرمایا کہ میری امت پر بھی بنی اسرائیل کے حالات آئینگے وہ ۷۲ اور میری امت ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان میں سے ایک جماعت ہوگی۔سب جہنمی اور وہ ایک جماعت جنتی ہوگی۔

اس صفحے کی تشہیر