1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(مسلمانوں سے ہر چیز الگ)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 23, 2015

  1. ‏ مارچ 23, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مسلمانوں سے ہر چیز الگ)
    جناب ڈپٹی چیئرمین! میں یہ گزارش کروں گا کہ جب ان لوگوں نے مذہب کے علاوہ معاشرت میں بھی، سوسائٹی میں بھی اپنا ایک الگ خول بنالیا، جب وہ ہمارے معاشرے میں مل جل کر نہیں رہنا چاہتے، جب رشتے ناطے ہمارے ساتھ نہیں کرتے، جب وہ ہماری عبادت میں شریک نہیں ہوتے تو پھر ان کا ہمارے مذہب کے ساتھ منسلک رہنے کا کیا مطلب ہے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! جب انہوں نے اپنا عدالتی نظام الگ کر لیا، جب انہوں نے اپنی مسجد اقصیٰ الگ بنالی، جب انہوں نے اپنی جنت البقیع الگ بنالی، جب انہوں نے اپنا قصر خلافت الگ تعمیر کر لیا، تو پھر وہ کہاں کے مسلمان ہیں۔ ان کے فرقے کا پھر ہمارے فرقے سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! انہوں نے ایک متوازی گورنمنٹ بھی ربوہ کے اندر قائم کی ہوئی ہے۔ ربوہ شہر کو انہوں نے Closed City (بند شہر) بنایا ہوا ہے۔ دوسرے مسلمانوں کو وہاں کاروبار کرنے کی اجازت نہیں، نہ ملازمت کرنے کی اور نہ جائیداد حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ ان لوگوں نے اپنے طرز عمل، اپنے عقیدے اور اپنے سیاسی نظریات سے اپنے آپ کو خود ہم سے الگ ایک اقلیت قرار دے لیا ہے۔ اگر ان دونوں فرقوں کے اس اقدام کو ہم ایک آئینی اور قانونی شکل دے دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی…
    Madam Deputy Chairman: Try to conclude.
    (محترمہ ڈپٹی چیئرمین: ختم کرنے کی کوشش کریں)
    چوہدری جہانگیر علی: … اور قومی اسمبلی اپنے اختیارات سے قطعاً تجاوز نہیں کرے گی۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! کل چیئرمین صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ اپنی تقریر کے علاوہ فاضل 2871ممبران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ یہ تجویز پیش کریں کہ اس کا حل ان کی نظر میں کیا ہے۔ مختلف قراردادیں اس ہاؤس میں پیش ہوئی ہیں۔ کسی قرارداد سے میرا اختلاف نہیں ہے۔ بنیادی اور اصولی طور پر تمام قراردادوں کی روح صرف ایک ہے۔ صرف ان کے فروعات میں یا تفاصیل میں جاکر کچھ تھوڑا سا فرق پڑ جاتا ہے۔ تومیں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس قسم کا راستہ اختیار کرنا چاہئے جس سے نبی سازی کی بدعت کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع ہو جائے۔ چاہے کوئی قادیانی ہو، چاہے کوئی مرزائی ہو، چاہے کوئی لاہوری ہو، چاہے کوئی ربوی ہو اور چاہے کوئی آنے والا ایسا فریق ہو جو خدانخواستہ آنے والے کل کو اپنی ایک الگ نبوت کا اعلان کر دے۔ تو ان سب باتوں کا اس ایک فیصلے سے سدباب اور علاج کر دینا چاہئے۔ اگر آج ہم مرزاغلام احمد کے پیروکاروں کو غیرمسلم اقلیتی فرقہ قرار دے دیتے ہیں تو اگر کل کو مرزاناصر احمد نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پھر ملک میں خون خرابہ ہوگا، پھر یہاں پر بحرانی صورت پیدا ہوگی۔ پھر یہ اسمبلی بیٹھے گی، مہینوں لاکھوں روپیہ اس بات پر صرف کر دے گی اور ازسرنو اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا آنے والا نبی اور اس کے پیروکار بھی مسلمان ہیں یا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اتمام حجت کر دینا چاہئے اور اس قسم کی گنجائش نہیں چھوڑنی چاہئے کہ آئندہ آنے والا کوئی فرضی جعلی نبی پر اس قسم کا شوشہ دین اسلام میں چھوڑے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! قادیانی لاہوری اور ربوی فرقوں کے لوگ جس قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اس قسم کی نبوت کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے امت میں آنے والے سالوں میں اور صدیوں میں کم ازکم تیس کذاب جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوں گے۔
    آوازیں: تیس، تیس۔
    چوہدری جہانگیر علی: تیس، میں تیس ہی کہہ رہا ہوں۔
    محترمہ قائمقام چیئرمین: یہ تو ہوگیا ہے۔
    2872چوہدری جہانگیر علی: میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ اگر ہم جائزہ لیں تو ابھی تک تو پندرہ بھی پیدا نہیں ہوئے اور اگر آنے والے زمانے میں پندرہ اور کذاب پیدا ہوں تو ہمیں آج ہی ان کا حتمی فیصلہ کر دینا چاہئے۔
    محترمہ قائمقام چیئرمین: جی شکریہ!
    چوہدری جہانگیر علی: اس لئے میں گزارش کروں گا کہ میں یہ تجویز کرتا ہوں، جیسا کہ کل چیئرمین صاحب نے حکم دیا تھا۔ میں چھ منٹ اور لوں گا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔
    محترمہ قائمقام چیئرمین: ایک گھنٹہ تو ہوگیا ہے۔
    چوہدری جہانگیر علی: میں دستور میں ترمیم کی مندرجہ ذیل تجویز پیش کرتا ہوں:
    "In order to determine the status of Quadianis, Ahmadis and those who are non- believers in the faith of Khatam-i-Nabuwwat, the Constitution be amended in the following manner, namely:
    1- That in the Third Schedule of the Constitution, in para 1, the words "of any kind" be added at the end of fifth line after the word Prophet."
    (قادیانیوں، احمدیوں اور دوسرے لوگوں جو عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، کی حیثیت کو متعین کرنے کے لئے آئین میں درج ذیل طریقے سے ترمیم کی جائے، یعنی:
    ۱… دستور پاکستان کے تیسرے شیڈول کے پیرانمبر۱ میں الفاظ کسی ’’قسم کا‘‘ پانچویں سطر کے آخر پر لفظ ’’نبی‘‘ کے بعد اضافہ کر دیا جائے)
    اور میری اس ترمیم کے بعد اس کا مطلب یہ ہو جائے گا۔
    "I.... do solemnly swear that I am a Muslim and believe in the Unity and Oneness of Almighty Allah, the Books of Allah, the Holy Quran being the last of them, the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) as the last of the Prophets and that there can be no Prophet of any kind after him, the day of Judgement, and all the requirements and teachings of the Holy Quran and Sunnah."
    (میں… سچے دل سے قسم اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور اﷲتعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہوں اور اﷲ کی کتابوں پر، قرآن پاک کے آخری کتاب ہونے پر، حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر، آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر اور اس پر کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قیامت کے دن پر، اور قرآ ن پاک اور سنت کی تمام تعلیمات اور ضروریات پر ایمان رکھتا ہوں)
    اور اس کے بعدمیری دوسری گزارش یہ ہے کہ:
    2- 2873In Article 2 of the Constitution of Pakistan, the existing clause may be numbered as clause (1) and the following be added as clause (2):
    (۲… دستور پاکستان کے آرٹیکل نمبر۲ میں موجودہ شق کو شق نمبر۱ شمار کیا جائے اور مندرجہ ذیل کا شق نمبر۲ کے طور پر اضافہ کیا جائے)
    کلاز نمبر۱ یہ ہے:
    "Islam shall be the State religion of Pakistan."
    (اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہوگا)
    اس کے بعد پھر یہ کہاجائے:
    "A person who has a faith different from that laid down in the Third Schedule of this Constitution made for the oath of the President and the Prime Minister of Pakistan shall be, considered a non- Mulslim, and the rights and obligations of the non-Muslims shall be determined by law."
    (ایک شخص جو دستور کے تیسرے شیڈول، جو پاکستان کے صدر مملکت اور وزیراعظم کے حلف کے لئے تشکیل دیاگیا ہے، میں درج عقیدے سے مختلف عقیدہ رکھتا ہے، غیرمسلم سمجھا جائے گا اور غیرمسلموں کے حقوق وفرائض قانون سے متعین ہوں گے)
    اور تیسری بات یہ ہوگی کہ:
    3- In Clause (3) of Article 106 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, in the Sixth line, the word "and" be substituted by a comma, and the following be added between the words "Parsi" and "communities", "and other minorities."
    (۳… اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل نمبر۱۰۶ کی شق نمبر۳ میں چھٹی سطر پر لفظ ’’اور‘‘ کی جگہ سکتہ (،) ڈال دیا جائے اور الفاظ ’’پارسی‘‘ اور ’’گروہوں‘‘ کے درمیان میں الفاظ ’’اور دیگر گروہ‘‘ کا اضافہ کر دیا جائے)
    ان خیالات کے ساتھ…
    ----------
    [At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]
    (اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت کو چھوڑا اور چیئرمین (جناب صاحبزادہ فاروق علی) نے ان کی جگہ لی)
    ----------
    چوہدری جہانگیر علی: جناب سپیکر! میں جناب چیئرمین صاحب کا جنہوں نے کمیٹی کی کارروائی کے دوران اس ہاؤس کے ڈیکورم کو بہت اچھی طرح سے نبھانے کی کوشش کی، اور 2874جناب اٹارنی جنرل کا جنہوں نے اتنی اچھی طرح سے گواہوں کو اپنی گرفت میں رکھا کہ جو بات وہ بتانا نہیں چاہتے تھے وہ بھی ان سے اگلوا کر چھوڑی، مبارک باد پیش کرتا ہوں اور میں آخر میں پھر اپنے اس دعوے کو دھراتا ہوں کہ یہ فرقہ احمدیت قطعاً مسلمان نہیں ہے۔ اس کی دونوں جماعتوں کو غیرمسلم قرار دیا جائے اور جیسا کہ میں نے دستور میں ترمیم کے متعلق ایک ریزولیوشن پیش کیا ہے۔ اس کو منظور فرمایا جائے اور غیرمسلم اقلیتوں کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کو، ان کے Rights and Obligations (حقوق وفرائض) کو متعین کرنے کے لئے ایک الگ مرکزی قانون بنایا جائے۔
    جناب چیئرمین: شکریہ! مولانا ظفر احمد انصاری۔

اس صفحے کی تشہیر