1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مستورات کی چھاتیوں میں دستاویزات اور ایک مرید کی چٹھی

ضیاء رسول امینی نے 'شہر سدوم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 26, 2015

  1. ‏ جون 26, 2015 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ایک مضطرب مرید کی چٹھی عیار پیر کے نام
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    سیدنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(راقم)
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
    با ادب گزارش ہے کہ ایک عرصہ سے بعض باتوں کے متعلق حضور کی خدمت عالیہ میں عرض کرنا چاہتا تھا لیکن بعض مصروفیتوں کی وجہ سے حضور سے عرض نہ کرسکا، اب مورخہ 19 اکتوبر 1938 خاکسار کو تبلیغ کا موقع ملا۔ جب خاکسار نے بعض لوگوں کو تبلیغ کی تو انہوں نے میری گفتگو کو روک کر کہا کیا تم لوگ ہم سیدھے سادھے مسلمانوں کو ورغلا کر ایسے شخص کا مرید بنانا چاہتے ہیں جو کہ بدچلن اور زانی ہے (نعوذ باللہ من ذالک) جس کی بدچلنی کے متعلق اس کے مرید بھی شور مچا رہے ہیں۔ جب تک تم اپنے خلیفہ کی پوزیشن صاف نہ کرو اس وقت تک آپ لوگوں کو قطعاََ حق حاصل نہیں کہ ہم مسلمانوں کو آکر پھسلانے کی کوشش کرو۔ سیدی، میں نے ان گندے الزامات کو غلط اور جھوٹا ثابت کرنے کی اپنی لیاقت کے مطابق ازحد کوشش کی لیکن وہ یہی اعتراض کرتے رہے کہ اگر یہ الزامات جھوٹے بھی ہیں تو آپ کے خلیفہ کو اپنی طرف سے پوری طرح پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے اب تمہارا تبلیغ کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے اس قسم کے واقعات کئی بار سامنے آتے رہتے ہیں اور دشمن کے پاس اس وقت حربہ یہی ہے جو کہ تبلیغ کے لیے یقینا رکاوٹوں کا موجب ہے اور حضرت مسیح موعود۔۔۔۔۔(راقم) فداہ روحی کے لائے ہوئے نور کو اس طریق سے مدھم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان حالات میں حضور پر نور جس طریق سے مناسب خیال فرمائیں میرے نزدیک بھی ضروری ہے کہ کوئی تسلی بخش علاج تجویز فرمائیں کہ جس سے حضور والا کی پوزیشن ایسی صاف ہو کہ دشمن کے حربے کا پورے طور پر انسداد ہوجائے اور آئندہ حضور کی ذات والا صفات پر ایسے الزامات لگانے کی کسی حریف سلسلہ کو جرات نہ ہو۔
    میرے پیارے آقا اس قسم کے الزامات کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے چنانچہ عبدالعزیز نو مسلم کی لڑکی کا واقعہ، مستریوں کی لڑکی اور لڑکے کا گند اچھالنا۔ پھر زینب اور حلیمہ کا واقعہ پھر والدہ عبدالسلام کا واقعہ اسی طرح محمودہ اور عائشہ کا واقعہ اور اسی قسم کے اور کئی واقعات جو حضور سے پوشیدہ نہیں ہیں اور وقتا فوقتا حضور کو بدنام کرنے کے لیے الزام لگائے جا رہے ہیں اب اس قسم کے الزام حد سے تجاوز کر رہے ہیں اس کے متعلق حضور نے 6 اگست 1937 کے خطبے میں بھی ذکر فرمایا تھا۔
    تو بدیں حالات میرے آقا، ازحد ضروری ہے کہ حضور سنت نبوی کے مطابق کوئی ایسا طریقہ اختیار فرمائیں کہ جس سے مخالف کا ہمیشہ کے لیے منہ بند ہوجائے یا ہمیں کم از کم وہ ہتھیار مل جائے جس سے دشمن کو لاجواب کیا جا سکے۔ مثلا حضرت مسیح موعود ۔۔۔۔۔۔۔(راقم) کی کتب سے معلوم ہوا ہے کہ حضور نے دشمن کے چھوٹے سے چھوٹے الزام کا بھی عقلی و نقلی ، غرضیکہ ہر طریق سے دندان شکن جواب دیا ہے اور پھر وہ جواب بھی ایسا کہ دشمن کی نسلوں تک سے اس کا جواب نہ بن سکا۔(پتہ نہیں کونسے جواب مرزے نے ایسے دیئے کوئی ہمیں بھی دکھائے جائیں۔ مگر یہ سب برین واشنگ کا اثر ہے۔ راقم)۔ باقی رہا سوال یہ کہ ہمارے علماء چار گواہوں کی شرط پیش کرتے ہیں ہمارے مخالف کے پاس تو بیسیوں گواہ پیش کرنے کا دعوی ہے۔ پس اس قسم کے دلائل عوام الناس کے لیے بجائے تسلی کے ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔ ان حالات کو پیش کرکے عاجز حضور والا سے قوی امید رکھتا ہے کہ حضور نہ صرف جماعت کی تسلی و تشفی کے لیے بلکہ دیگر بندگان خدا کی ہدایت کے لیے بھی ، جو کہ محض اس قسم کے وساوس کی وجہ سے احمدیت جیسی صداقت سے محروم ہو رہے ہیں ، ان الزامات سے اپنی ذات بابرکات کو پاک و صاف کرکے عنداللہ ماجور ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ حضور کا حافظ و ناصر اور دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے ۔ آمین والسلام۔ فقط آداب
    خاکسار۔ عبدالرحیم مہاجر
    مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات
    جب اس شاطر سیاست کے خفیہ اڈوں پر حکومت چھاپہ مارتی تھی تو یہ اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زیر زمین دفن کردیتا تھا۔ قادیان کی سر زمین میں فسادات کے موقع پر احمدی نوجوانوں اور سابق فوجیوں کے ہاتھوں جو ماڈرن اسلحہ مہیا کیا اور ان کی فوجی گاڑیاں حرکت میں آئیں تو اس پر حکومت کی جانب سے یکدم چھاپہ پڑا جسکی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی کیونکہ وہاں احمدی سی آئی ڈی ناکام رہی لیکن خلیفہ کی اپنی اہرمنی فراست ان کے کام آئی کیونکہ جب پولیس سر پر آگئی تو اس '' مقدس پاکباز مسلم مصلح دوراں'' نے اپنی مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات باندھ کر کوٹھی دار السلام (قادیان) بھجوا دیں اور قادیانی فوجیوں نے فوراََ اسلحہ زیر زمین کردیا''
    مخدرات میدان معصیت میں
    طویل مشاہدے کے بعد یقین ہوا اور پیر پرستی کے برگ حشیش کا اثر زائل ہوا لیکن سارا ماجرا بیان کرنے کی استعداد مفقود ہوگئی۔ چونکہ سیاہ کاریاں محیر العقول تھیں اس لیے ان کی نوعیت اس سیاہ کار کے لیے مدافعت بن گئی۔ کون مان سکتا کہ اس نے محرم اور غیر محرم کی تمیز کو روند کر رکھ دیا اور اس کے لیے وہ اپنی جہنمی محفل میں کہا کرتا تھا
    ''آدم کی اولاد کی افزائش ہی اسی طرح سے ہوئی ہے کہ کوئی مقدس سے مقدس رشتہ مجامعت میں حائل نہیں ہوسکتا''۔ العیاذ باللہ
    جیسا کہ اس تالیف میں ایک جگہ محمد یوسف ناز کا بیان نقل ہوا ہے وہ اپنی مخدرات کو میدان معصیت میں پیش کرتا اور اس کے تربیت یافتگان ان سے حظ اندوز ہوتے اور خود اس روح فرسا منظر کا تماشا کرکے ابلیسی لذت محسوس کرتے۔
    خلوت سئیہ کے وقت کلام الہٰی کی توہین
    مبینہ طور پر خلوت سئیہ (خلوت صحیحہ ناقل) کے وقت قرآن کریم کو پاس رکھنے والا بھی خدا کی گرفت سے بچ جائے تو اللہ تعالٰی کے عظیم صبر بخشنے کے بعد ہی اس کی سیاہ کاریوں کے وسیع و عریض رقبے کو جاننے والا اپنے ایمان کی دولت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ جب یہ شخص اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتا تو یہ کیا نہ کرتا ہوگا۔
    مؤلف ''فتنہ انکار ختم نبوت'' سے ان الفاظ کی وضاحت چاہی گئی تو انہوں نے کہا کہ '' مصلح الدین سعدی نے موکد بعذاب قسم کھا کر مجھے بتایا کہ ایک دن میں مرزا محمود کی ہدایت پر ایک لڑکی کے ساتھ داد عیش دے رہا تھا کہ وہ آیا ۔ اس نے لڑکی کے سرینوں کے نیچے سے قرآن پاک نکالا۔ (استغفراللہ)
    آخری فقرہ کے بارہ میں اس کا کہنا ہے کہ مولوی فضل دین صاحب نے انہیں بتایا کہ انہیں انکے بڑے بھائی مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے بتایا تھا کہ مرزا محمود اپنی خاص محفل میں کہا کرتا تھا کہ'' حجرت مسیح موعود'' بھی یہی کام کرتے تھے''
    تین سہیلیاں تین کہانیاں
    قادیان اور ربوہ میں بے شمار ایسی کہانیاں جنم لیتی ہیں جو مجبور مریدوں کی ارادت اور قادیانی گسٹاپو کے تشدد کے باعث ہمیشہ کے لیے دفن ہوجاتی ہیں اور اس ریاست اندر ریاست کو مذہب کے لبادے میں ہر شرمناک کاروائی کرنے کی کھلی چھٹی مل جاتی ہے اور حکومت کا قانون عاجز اور بے بس ہی نہیں لاوارث اور یتیم ہوجاتا ہے انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی غلام رسول پٹھان کی بیٹی کلثوم کی ہے جس کی نعش تالاب میں پائی گئی، اسی لڑکی کلثوم کی سہیلی عابدہ بنت ابوالہاشم خان بنگالی کو شکار کے بہانے باہر لے جایا گیا اور ترکی ضلع جہلم میں '' اتفاقیہ'' گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ تیسری سہیلی امتہ الحفیظ صاحبہ بنت چوہدری غلام حسین صاحب ابھی حیات ہیں۔ اگر وہ اپنی دو سہیلیوں کے ''اتفاقیہ'' قتل پر روشنی ڈال سکیں تو تاریخ میں ان کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اور اس طرح مرزا محمود احمد کی ''کرامات'' میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔
    مصلح موعود کی کہانی حکیم عبدالوہاب کی زبانی
    حکیم عبدالوہاب عمر قادیانی امت کے ''خلیفہ اول'' مولانا نورالدین کے صاحبزادے ہیں ان کا بچپن اور جوانی ''قصر خلافت'' کے درودیوار کے سائے میں گزری ہے اور اس آسیب کا سایہ جس پر بھی پڑا ہے اس نے مشاہدہ پر اکتفا کم ہی کیا ہے وہ حق الیقین کے تجربے سے گزرا ہے یہی حال حکیم صاحب کا ہے اگرچہ اس مرتبہ میں متعدد دوسرے افراد بھی ان کے ساتھ شریک ہیں لیکن انہیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنی داستان بھی بغیر کسی لاگ لپٹ کے کہہ سناتے ہیں اور اپنے اوپر قادیانیوں کے معروف طریق کے مطابق تقدس کی جعلی ردا نہیں اوڑھتےاور اگر اس اظہار حقیقت میں ان کا کوئی عزیز زد میں آجائے تو وہ اسے بچانے کی بھی زیادہ جدوجہد نہیں کرتے عموماََ وہ اپنی آپ بیتی حکایت عن الغیر کے طور پر سناتے ہیں اور گو ان روایات کے مندرجات بتا دیتے ہیں کہ ان کا مرکزی کردار وہ خود ہی ہیں لیکن اگر کوئی پیچھے پڑ کر کریدنا ہی چاہے کہ یہ نوجوان کون تھا تو وہ بتا دیتے ہیں کہ یہ میں ہی تھا۔ انہوں نے بتایا،
    1۔ 1924 میں مرزا محمود بغرض سیر و تفریح کشمیر تشریف لے گئے، دریائے جہلم میں پیراکی میں مصروف تھے کہ مرزا محمود نے غوطہ لگا کر ایک سولہ سالہ نوجوان کے ''مینارہ وجود'' کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے تو ان کے دواخانہ کے انچارج جناب اکرم بٹ نے پوچھا ، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تو وہ بولے یہ میں ہی تھا۔
    2۔ ''قصر خلافت'' قادیان کے گول کمرہ سے ملحق ایک اور کمرہ ہے، مرزا محمود احمد نے ایک نوجوان سے کہا کہ اندر ایک لڑکی ہے جاو اس سے دل بہلاو وہ اندر گیا اور اس کے ''سینے کے اہراموں'' سے کھیلنا چاہا۔ اس لڑکی نے مزاحمت کی اور وہ نوجوان بے نیل مرام واپس لوٹ آیا۔ مرزا محمود نے اس نوجوان کو کہا ''تم بڑے وحشی ہو'' جواباََ کہا گیا کہ اگر جسم کے ان ابھاروں کو نہ چھیڑا جائے تو مزہ کیا خاک ہوگا۔ مرزا محمود نے کہا لڑکی کی اس مدافعت کا سبب یہ ہے کہ وہ ڈرتی ہے کہ اس طرح کہیں اس نشیب و فراز کا تناسب نہ بدل جائے''
    3۔ ایک دفعہ آپ کی بیگم مریم نے اس نوجوان کو خط لکھا کہ فلاں وقت مسجد مبارک (قادیان) کی چھت سے ملحقہ کمرے کے پاس آکر دروازہ کھٹکھٹانا تو میں تمہیں اندر بلا لوں گی ۔ دروازہ کھلا تو اس نوجوان کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ بیگم صاحبہ ریشم میں ملبوس سولہ سنگھار کیے موجود تھیں۔ اس نوجوان نے کبھی کوئی عورت نہ دیکھی تھی چہ جائے ایسی خوبصورت عورت ۔ وہ مبہوت ہوگیا ۔ اس نوجوان نے کہا حضور اجازت ہے، انہوں نے جواب دیا ، ایسی باتیں پوچھ کر کی جاتی ہیں؟ اس وقت نوجوان نے کچھ نہ کہا کیونکہ اس کے جذبات مشتعل ہوچکے تھے اس نے سوچا کہ '' گرو جی کچہرے ہی میں نہال ہوجائیں گے'' اس لیے اس وقت کنارہ کرنا ہی بہتر ہے بیگم صاحبہ موصوفہ نے اس خط کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس نوجوان کو لکھا تھا اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں نے اس کو تلف کردیا ہے ۔ تقسیم ملک کے بعد مرزا محمود احمد کے پرائیویٹ سیکرٹری میاں محمد یوسف صاحب اس نوجوان کے پاس آئے ، کہا ، میں نے سنا ہے کہ آپ کے پاس حضور کی بیویوں کے خطوط ہیں اور آپ اس کو چھاپنا چاہتے ہیں ۔ اس نوجوان نے جواب دیا ، بہت افسوس ہے کہ آپ کو اپنی بیوی پر اعتماد ہوگا اور مجھے بھی اپنی بیوی پر اعتماد ہے، اگر کسی پر اعتماد نہیں تو وہ حضور کی بیویاں ہیں''
    4۔ مرزا محمود احمد نے اپنی ایک صاحبزادی کو رشد و بلوغت تک پہنچنے سے بیشتر ہی اپنی ہوس رانی کا نشانہ بنا ڈالا ۔ وہ بے چاری بے ہوش ہوگئی، جس پر اسکی ماں نے کہا '' اتنی جلدی کیا تھی ایک دو سال ٹھہر جاتے، یہ کہیں بھاگی جا رہی تھی یا تمہارے پاس کوئی اور عورت نہ تھی'' (خدا کا غضب ہو ایسے جنسی درندوں پہ ، شیطان بھی اس خبیث سے شرما گیا ہوگا۔ راقم) دواخانہ نورالدین کے انچارج جناب اکرم بٹ کہا کہنا ہے کہ میں نے حکیم صاحب سے پوچھا ، یہ صاحبزادی کون تھی ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ''امتہ الرشید''
    نوٹ: اس روایت کی مزید وضاحت کے لیے صالح نور کا بیان غور سے پڑھیں جو اسی کتاب میں درج کیا جارہا ہے ۔ ملک عزیز الرحمٰن بحوالہ ڈاکٹر نذیر ریاض اور یوسف ناز بیان کرتے ہیں کہ جنسی بے راہ روی کے ان مظاہر پر جب مرزا محمود سے پوچھا جاتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہتا '' لوگ بڑے احمق ہیں ایک باغ لگاتے ہیں اس کی آبیاری کرتے ہیں جب وہ پروان چڑھتا ہے اور اسے پھل لگتے ہیں تو کہتے ہیں '' اسے دوسرا ہی توڑے اور دوسرا ہی کھائے'' (استغفراللہ۔ خدا کی لعنت ایسے مردودوں پر۔ راقم)
    ربوہ کی معاشی نبوت کا عظیم فراڈ
    حکومت کے خلوت خانہ خیال کی نذر
    1۔ صدر انجمن احمدیہ قادیان ایک رجسٹرڈ باڈی ہے ۔ تقسیم ملک سے قبل اس انجمن کی جائیداد ملک کے مختلف حصوں میں بھی تقسیم کے بعد ناصر آباد، محمود آباد، شریف آباد، کریم نگر فارم، تھرپارکر سندھ کی زمینیں پاکستان میں آگئیں تو مرزا محمود نے ربوہ میں ایک ڈی انجمن '' ظلی صدر انجمن احمدیہ'' قائم کی اور چوہدری عبداللہ خان برادر چوہدری ظفراللہ خان ایسے قادیانیوں کے ذریعے یہ زمین اپنے صاحبزادوں اور انجمن کے نام منتقل کرالی اور مقصد پورا ہوجانے کے بعد یہ ظلی صدر انجمن ، مرزا غلام احمد کی ظلی نبوت کی طرح ''اصلی'' بن گئی اور صدر انجمن احمدیہ قادیان نے وہاں کی تمام جائیداد بھارتی حکومت سے واگذار کروالی اور اسی مقصد کے حصول کے لیے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر احمد کے ایک بھائی مرزا وسیم احمد کو وہاں ٹھہرایا گیا جو آج بھی وہیں مقیم ہیں۔
    2۔ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے قادیان میں سکنی زمین ، صدر انجمن احمدیہ لوگوں کو فروخت کرتی تھی مگر وہ خریداروں کے نام رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت رجسٹر نہیں کروائی جاتی تھی۔ جیسا کہ ربوہ میں ہوتا ہے، اسی طرح سرکاری کاغذات میں زمین اصل مالکان کے نام ہی رہتی ہے حالانکہ وہ اسے فروخت کرکے لاکھوں روپیہ ہضم کرچکے ہوتے ہیں۔ اس عیاری پر پردہ ڈالنے کے لیے خلیفہ ربوہ نے مہاجرین قادیان کو چکمہ دے کر کہ قادیان '' خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے'' (نعوذباللہ) اور انہیں اس بستی میں واپس جانا ہے ، انہیں قادیان کے مکانوں کا کلیم داخل کرنے سے منع کردیا۔ اب اگر مرید بھی کلیم داخل کردیتے تو حکومت اور مریدوں سے دوہرے فراڈ کی قلعی کھل سکتی تھی، اس لیے مریدوں کو کلیم داخل کرنے سے منع کردیا گیا ۔ مگر بہت سے شاطر مرید اس عیاری کو سمجھ گئے اور انہوں نے خود بھی بے پناہ بوگس کلیم داخل کیے اور پھر قادیانی اثر و رسوخ سے منظور کروائے۔ اگر حکومت صرف قادیانیوں کی پاکستان میں جعلی اور بوگس الاٹمنٹوں کی تحقیقات کروائے تو کروڑوں روپے کے فراڈ کا پتہ چل سکتا ہے اور مؤلف کتاب ہذا بعض جعلی کلیموں کے نمبر تک حکومت کو مہیا کرنے کا پابند ہے۔
    3۔ ربوہ کی زمین صدر انجمن احمدیہ کو کراؤن لینڈ ایکٹ کے تحت علامتی قیمت پر دی گئی تھی۔ مرزا محمود نے یہاں بھی قادیان والا کھیل دوبارہ کھیلا اور ٹوکن پرائس پر حاصل کردہ اس زمین کو ہزاروں روپیہ مرلہ کے حساب سے مریدوں کے نام فروخت کیا مگر رجسٹریشن ایکٹ کے ماتحت سب لیز ہولڈرز کے نام زمین منتقل نہ ہونے دی۔ اس طرح مریدوں کا لاکھوں روپیہ بھی جیب میں ڈالا اور گورنمنٹ کے لاکھوں روپیہ کے ٹیکس بھی ہضم کیے گئے۔ مریدوں پر الٹا رعب بھی قائم رہا کہ وہ زمین خریدنے کے باوجود مالکانہ حقوق سے محروم رہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نے ''خاندان نبوت'' کی عیاشیوں اور بدمعاشیوں کے متعلق آواز بلند کی اسے اپنی ''ریاست'' سے باہر نکال دیا اور قبائلی نظام کے مطابق اس کا سوشل بائیکاٹ کردیا۔ اب جو مرید ایک ''نبی'' کے انکار کی وجہ سے ساری ملت اسلامیہ کو کافر قرار سے کر علیحدہ ہوئے ہیں وہ اپنی مخصوص Conditioning اور لایعنی علم الکلام کی وجہ سے واپس امت مسلمہ کے سمندر میں تو نہیں آسکتے وہ اسی گندے اور متعفن جوہڑ میں رہنے پر مجبور ہیں، اس لیے ایسے مریدوں سے سچائی کی توقع عبث ہے۔
    4۔(1) ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے سلسلہ میں سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ ربوہ کی لیز فوراََ ختم کی جائے۔
    (2) ربوہ کو چنیوٹ کے ساتھ شامل کرکے سرکاری دفاتر ربوہ کے اندر منتقل کیے جائیں اور اندرون شہر خالی پڑی ہوئی زمین پر فوراََ سرکاری عمارات تعمیر کی جائیں۔ ربوہ میں چند کارخانے قائم کیے جائیںاور اردگرد کے لوگوں کو وہاں معاش کی سہولتیں مہیا کی جائیں تاکہ قادیانی یلغار اور لالچ کا ہدف نہ بن سکیں۔
    5۔ ربوہ کے تمام تعلیمی اداروں سے قادیانی اساتذہ کو فوراََ تبدیل کردیا جائے تاکہ وہ مسلمان طلباء کو کفر کی تعلیم دینے کی ناپاک جسارت نہ کرسکیں
    6۔ ربوہ میں بڑا تھانہ قائم کیا جائے اور اس کی عمارت گول بازار کے سامنے ٹیلی فون ایکسچینج کے ساتھ تعمیر کی جائے۔
    7۔ خدام الاحمدیہ اور دوسری نیم عسکری تنظیموں کو توڑ دیا جائے اور نظارت امور عامہ (شعبہ احتساب) کو ختم کرکے ربوہ کا نام تبدیل کرکے چک ڈھگیاں اس کا پہلا نام رکھ دیا جائے تاکہ قادیانی اپنی دجالیت نہ پھیلا سکیں اگر مندرجہ بالا امور پر عمل نہ کیاگیا تو ربوہ کبھی کھلا شہر نہ بن سکے گا۔ وہاں قادیان سے بدتر غنڈہ گردی ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی کیونکہ قادیان میں تو پھر کچھ آبادی ہندوؤں سکھوں اور مسلمانوں کی تھی مگر یہاں تو انگریز کی معنوی ذریت کے علاوہ اور کوئی ہے ہی نہیں۔
    8۔ قادیانی ڈاکٹروں، مسلح افواج میں قادیانی افسروں اور سرکاری محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کے سالانہ اجلاس ، ربوہ کے سالانہ میلے پر منعقد ہوتے ہیں جہاں خلیفہ کو حکومت کے راز منتقل ہوتے ہیں اور ملک کی معیشت پر قادیانی گرفت کو مضبوط کرنے کے پروگرام بنتے ہیں اس لیے تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کی چھٹی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی اسلام دشمن اور ملک دشمن ذہنی ساخت کے باعث ملک و قوم کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔

    آخری تدوین : ‏ جون 28, 2015
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر