1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزا کادیانی کا تعارف

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 13, 2019

  1. ‏ جنوری 13, 2019 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    مرزا کادیانی

    کا تعارف

    پر گفتارتی کردار ہرزہ سرائی میں منز ورثبوتکا چور جھوٹ کا مجری انگریز کے بوٹ کاتی خواہشات کا بندہ سوچ کا گنده عادات زلیل فطرت رزیل، بل کوتاه گل کروم شد وخال بے ڈھنگی چال، ایک آنکھ سے کانا کفر میں سیانا دل امیرشاه رگی کا ظلام دشمن خیرالانام صلی الله عليه ولم گالیوں کی برسات ارتداد کی سیاہرات، ایران کا شکاری در انگریز کا بھکاری دولت کاری منافقت کا مریض، اخلاق کا قاتل سراپااطل، شرافت لائق حقارت، فتنه ساز نوسرباز علامت نادمکر جهاد کلیسا کا پجاری ملکہ پردے

    داری، امام و جلویی باعث خرابیس، پشوا مرتدین رہنما زندیقین منکر حدیث ازلی خبيث_فدار این قرار گریز ازلخوار، کافرکبیر زلف ملکہ وکٹوریا اسیر مسیلمہ کذاب کا ترجمان اسوٹی کا نشان کفر کی برہان شیطان کی ان دن قرآن بانی فتنہ قادیان شخصیت بھی شیطانی ہے۔ نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ بینک انسانیت بھارت کے صوب مشرقی پنجاب کے لع گورداسپور کے ایک پسماندہ گاؤں” قادیان میں پیدا ہوا۔ اس کے بیٹے بشیر احمد نے اپنی کتاب ”سیرت الهدی‘‘میں اس

    کی تاریخ پیدائش1838ی ہے۔ اپنی پیدائش کی لی بہادر پورٹ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں یوں لکھتا ہے۔ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں ملا تھا ... اور میرا سراس کے پاؤں میں تھا۔“(تریاق القلوب سلم 351 روحانی خزائن 479 جلد15 از مرزا قادیانی مرزا قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضی تھا جس نے تمام عمر اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ کے طور پرگذاری اور نماز بھی نہ پڑھی۔ اس کی ماں کا نام چاغ بی برن سیٹ تھا۔ مرزا قادیانی کو پین میں روٹی اور سندھی کے ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ مرزا قادیانی نے کتاب البری کے ص 134 پرانی قوم (یاس)تائی اور لکھا کہ میرے بزرگ مرقد سے پنجاب میں وارد ہوئے تھے لیکن اس کتاب کے صلہ 135 کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ میرے الہامات کی رو سے مارے آباد اولین قاری تھے اور 1900ء تک ای موقف پر قائم رہا۔ 5 نومبر1901 کورال ایک غلطی کا ازالہ شائع کیا جس کے لی16 پر لکھا کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فایبی‘‘۔ اس کے ایک سال بعد اپنی کتاب نہ گولڑوی کے صف 40 پر لکھا کہ میرے بزرگ کی حدود سے پنجاب میں تھے اور اپنی کتابچه معرفت میں اپنے آپ کوی الاصل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اپنی تعلیم سے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک قاری خواں معطم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند قاری کتابیں مجھے پڑھائیں... ایک عرب خواں مولوی صاحب میری تربیت کیلئے مقرر کئے گئے... میں نے صرف کی بعض کتابیں اور قواعدوان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں ستره با اشاره سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا، ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے اگر (استاد کا احترام لاحظ فرمائیں) رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مرہ کو جہاں تک خداتعالی نے چاہا،حاصل کیا۔“(کتاب البریہ سایز 162 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفر 181

    ، 180 از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور اب تعلیم کے علاوہ دیگر مصروفیات کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے میرے والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کیلئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے، انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے ہی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقتی میران بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدی نہیں تھا۔ اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشان رہتارہا۔

    كتاب البریل164 مند جوان جلد13

    182 از قادیانی) مرزا قادیانی کو چڑیا پکڑنے کا شوق تھا اور انہیں سرکنڈوں سے زنا کرلیا۔قادیان کے کپڑے میں تیراکی کا شوق تھا۔ا کو جوتا الٹا سرمایا کرتا تھا۔ چابیاں ریشمی ازار بند کے ساتھ باندھا کرتا تھا۔ اوپر والے کان میں نیچے والا دین اور نیچے والے کاج میں اوپر والا بنا کر لگاتا اور جرابیں بھی الٹی پانی ایڑی والا حصہ اوپر ہوتا۔ پندیدہ بیٹھنے کی جگہ پاخانہ کیلئے استعمال ہونے والا کمرہ تھا جہاں کنڈی لگا کر دو تین گھنٹے بیٹھا رہتا تھا۔ مرزا قادیانی کی طبیعت آوارہ اور فضول خری کا شوق غالب تھا۔ سیرت المہدی جلد اول من 34 مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنے باپ کا واقعہ اپنی والدہ کے حوالے سے لکھتا ہے بیان کیا مجھ سے والدہ صلہ نے ایک دن اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت یع موتمہارے دادا کی شینی 700 روپے وصول کرنے گئے لڑکے کے مرزا امام الدین چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجاے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارارو پی اڑاکر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور جگہ چلا گیا۔ حضرت تک مردوداس شرم سے گھر واپس نہیں آئے۔(سیرت الهری جلد اول سے 34 از مرزا بیرام) اب گھر جاتا تو جوتے پڑتے ای کے گھر جانے کی بجائے سیالکوٹ کی کچہری میں15روپے ماہوار پر بطوری ملازم ہوگیا۔ سیرت المہدی کے مطابق مرزا قادیانی کی سیالکوٹ کی چھری کی مدت ملازمت 1868 , 1864 ءہے۔ مرزااحلی شیری اپنی کتاب دليل العرقان میں لکھتے ہیں کہ غلام احمد امرتسری نے اپنے رسال”نکاح آسانی کے رازهاے تنہائی میں لکھا تھا کہ مرزانے زمانگری میں خوب رشوتیں لیں۔ بیرسالمیرزا کی وفات سے آٹھ سال پہلو190 میں شائع ہوگیا تھا اگر مرزا قادیانی نے اس کی تردید نہیں کی۔ ای طرح مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے مناظرہ روپڑی میں جو21-22مار1932 میں ہوا، ہزار ہا کے میں بیان کیا کہ مرزا صاحب نے سیالکوٹ کی نوکری
    میں رشوت ستانی سے خوب ہاتھر گئے اور سیالکوٹ ہی کی ناجائز کمائی تھی جس سے مرزا صاحب نے چار ہزار رو پیاز پرانی دوسری بیگم کو بنا کر دیا ۔“(روداو مناظره روز مطبوین ٹیم پرلیں جالندم35) رشوت خوری کا ایک نرالا اچھوتا اور ماڈرن انداز بھی ملاحظہ ہ مارے اناضل دین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب کچھری سے واپس آئے تو چونکہ آپ مد نے مقدے
    والے زمیندار ان کے مکان تک کے آجا “۔(امرزا قادیانی خود لے آE)-(مولک)(سیرت المہدی جلد 3 ص93) دوران لازمت قانون کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور گاری کا امتحان دیا مگر امتحان میں کامیاب نہ ہوا اور شی سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اسی دوران انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے سیشن کے ایک اہم اور ذمہ دار نے ڈی کی آن میں مرزا قادیانی سے ملاقات کی۔ گویا یہ انٹرویوتا یہی مشن کا۔ فردواپس اپنے ملک روانہ ہوگیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیانک
    گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی لرکرد، جواب دیا کہ میں ذکر ہوگیا ہوں اور اربیل کے پت کے منی آرڈر بلے شروع ہوگئے۔ مرزا قادیانی نے ذی اختلافات کو ہوا دی، بحث و مباحث، اشتہار بازی اور کفروارتداد پینی تصانیف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پھر مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ کتاب کئے گا جو اس جلدوں پرمشتمل ہوگی لہذا تمام مسلمان مخیر حضرات اس کی طاعت وغیرہ کیلئے کی رقوم ارسال کریں۔ مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے اس جلدوں کی رت ہی بجھوادی۔ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے نام سے اس کتاب کو لکھا۔ پاة جلدی مکمل ہونے پر کیا اعلان کیا لوگوں کے پیسے ہڑپ کرنے کیلئے کیا مکہ نے دلیل دی ملاحظہ ہو پہلے اس لکھنے کا ارادہ قاگر
    اس سے پانی پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پاس اور پانی کے عدد میں صرف ایک نقط کا فرق ہے، اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔(براہین احتمی فیصلہ 7 مشد چروحانی خزائن جلد 21 صلواز مرزا قادیانی مرزا قادیانی نے 85 کے قریب کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں کو علیحدہ علمی شائع کیا گیا اور 23 جلدوں میں روحانی خزائن کے نام سے ایک محمود کی شکل میں اکٹھا کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں مرزا قادیانی نے سینکڑوں دعوے کئے۔ اس نے بندری خادم اسلام مبلغ اسلام جدید مهدی میل ل
    ی و بروزی نیا، مستقل تھی، انبیاء سے افضل حتی کہ خدائی ک ا
    دعوی کیا۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبهره گیری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا۔ حقیقت میں تو ، مهدی، درد، عالم فاضل ہوا تو دور کی بات ہے مرزاغلام احمد قادیانی انسان بھی نا خوداپنی ذات کے متعلق ایک شعر کہتا ہے کہ
    | کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جاۓ نفرت اور انسانوں کی عار بشر کی جائے نفرت بین مرزا قادیانی کی پہلی شادی حرمت بی بی سے ہوئی جس کو لوگ لے دی ماں کہا کرتے تھے۔ جس سے دوڑ کے مرزا سلطان احمد اور مرزافلام پیا ہوئے۔ اس کے بعد کافی عمر تک پہلی بیوی سے مباشرت ترک کئے گی۔ اس سال کی عمر میں دوسری شادی کرلی۔ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی کا نام نفرت جہاں بیگم ہے جس سے اس سال کی عمر میں شادی رچائی۔ نصرت جہاں نیلم ماڈرن خاتون تھی اور مرزا قادیانی کے مریدوں کے ساتھ قادیان سے لاہورسینکڑوں میل کی مسافت طے کر
    کے کئی دن خریداری کیلئے لاہور میں گزارہ کرتی تھی۔ اگر چمرزا قادیانی داگی مریض تھا اور امریکا اقرار بھی کرتا تھا تاہم اولاد کثرت سے ہوئی جس کی تعدادوں گی۔ مرزا قادیانی کی زندگی کا سب سے دلچسپ واقعی بیگم سے نکاح کی خواہش کے متعلق ہے جس پروہ دل ہار بیٹھا اور اسے حاصل کرنے کیلئے عجیب وغریب ہتھکنڈے استعمال کیے جن میں سب سے زیادہ دپپی اعلان تھا کہ خدانے آسان پی بیگم سے میرا نکاح کر دیا ہے اور وہ ضرور میری ہوگی۔“ لیکن نکاح نہ ہوتا تھا، نہ ہوا البتی بیگم کے والدین
    نے اس کی شادی سلطان محمود سے کردی اور اللہ پاک نے دی بیگم کو تین بیٹے عطا کئے ۔چونکه ی بیگمی مرزا قادیانی کے خاندان سے تھی اور خاندان والوں نے اس کا نکاح دوسری جگہ کروادیا تھا۔ مرزا قادیانی کی پہلی بیوی نے اس مسئلہ پر خاندان والوں سے قطع تعلق کیا جس وجہ سے مرزا قادیانی نے اس کو طلاق دے دی۔ قادیانی مرزا قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں لیکن ہم جھوٹ کے اس پہاڑ کو پانی کی ٹھوکر سے اڑاتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بدضلت اس فرش خاکی پنم لینے والا بدترین انسان تھا جس کے رگ وریٹے پر شیطان کی حکمرانی تھی، جس کا دماغ ابلیسی سازشوں کا ہیڈ کوارٹر تھا اور جس کا دل کفروارتداد کا اندھا کنواں تھا، جس کا باطن قبر کی تاریکی سے زیادہ کالا تھا اور جس کی زبان گالیوں اور گستاخیوں کی مشین گن تھی۔ شراب وانون کا رسیا تھا۔ زناہے فعل شنیع کا عادی تھا۔ بے غیرت وبے حیاتھا۔ جاہل مطلق اور خود احساس تھا۔ بے ہودہ شاعری کرنا اس کا شوق تھا۔ جھوٹ بولنا اور فراڈ کے ذریے لوگوں سے رقم حاصل کرنا اس کی سرشت میں داخل تھا۔ چوراورلٹیرا تھا۔ اسلام اورطت اسلامی کا غدار اور بیہودونصاری کا پالتو تھا۔ اس کی زبان پلید نے دعوی نبوت اور جہاد کے حرام ہونیکا اعلان کیا۔ دنیا میں بہت سے گمراہ اور جھوٹےدی نبوت گذرے ہیں جنہوں نے ایک آدھ دعوی کیا گر مرزا قادیانی کے دوؤں کا کوئی حد اور شار ہیں۔ مرزا قادیانی نے سینکڑوں د ے کرکے تمام دعیان نبوت سے کفر اور دل میں سبقت لے گیا۔ دعووں کی کورت کی وجہ سے مرزائی امتی مرزا قادیانی کا تعین نہیں کرسکی کہ وہ کیا چیز ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی روز ماں یاامام دوراں یامهدی زماں ہونے کا دعوے دار تھا۔ کوئی کہتا ہے کہتی موعود ہونے کا دعوے دار تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ لغوی یا مجازی یا بروزی پانلی تی ہونے کا دعوے
    دارتھا اور کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی غیرتور تایتااور کوئی اسے صاحب شریعت اور مستقل نی مانتا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی تمام خانوں اور باطل دعووں سمیت ہین کے مرض (جے مرزا قادیانی ترالی کا نشان اور ہینے مرنے کی موت قرار دیا تھا) میں جلا ہوکر 26مئی 1908 کو اپنے ایک مرید کے گھر واقع برانڈرتھ روڈ لاہور میں مرا۔ مرزا قادیانی کی زندگی کا آخری فقر میر صاحب مجھے وبائی ہین ہوگیا ہے تا(مندرج حياتنا مرسل 14). وقت موت غلاظت اوپر اور پینے سے بریگی۔ اپنی ہی غلاظت کے اوپر گر کر مر جانے سے زیادہ عبرتناک موت اور کیا ہوسکتی ہے؟ لاشبال کاٹی (جےمرزادجال کا گدھا کہا کرتا تھا) میں لا کر قادیان پائی گئی جہاں مٹی میں دبا دیا گیا۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ مئی 9, 2019 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    تحریر میں بہت سی اغلاط ہیں اس تحریر پر نظر ثانی فرمائیں
  3. ‏ مئی 18, 2019 #3
    محمد اورنگ زیب رضوی

    محمد اورنگ زیب رضوی رکن ختم نبوت فورم

    سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کے مرزا قادیانی ہندوستانی نبی کے طور پر کیوں منتخب کیا گیا؟

    جوآب: اس لیۓ کہ مرزا قادیانی کا خاندان پہلے ہی انگریز ،،وفاداری،، میں با قاعدہ سند یافتہ تھا اور مسلم قوم کے ساتھ غداری ٱس کا امتیازی نشان تھی ملک سے غداری اور انگریز سے وفاداری کے سبب مرزا قادیانی کے خاندان کو جائیدادیں اوتعریفی سرٹیفکیٹ جاری ہو چکے تھے جن کا مرزا قادیانی نے خود کئی جگہ اپنی کتابوں میں اعتراف کر چکا ہے مثلً:
    ١ جنگِ آزادی1858ٕ ء میں مرزا قادیانی کے باپ نے پچاس گھوڑے سواروں سے انگریزوں کی مدد کی
    ٢ مرزا قادیانی کا باپ اور بھائی انگریزوں کے با اعتماد ساتھی تھے اور انگريزی حکام کی طرف سے خوشنودی کی سندیں حاصل کر چکے تھےـ
    (کتاب البریہ صفحہ ١٥٩ مندرجہ روحانی خزائن جلد 13ص176_177 از مرزا قادیانی)

    ٣ مرزا قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دینے کے لیۓ وسیع
    پیمانے پر مفت لٹریچر تقسیم کئے _
    کابل میں انگریزوں کی خاطر جاسوسی کے لیۓ اپنی جماعت کے نمائندے مقرر کیۓ(رپورٹ آف ریلچز مارچ (١٩٠٩بحوالہ قادیان سے اسرائیل تک ص 157ازابومدثرہ


    مصنف
    محمد اورنگزیب رضوی

اس صفحے کی تشہیر