1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(مرزا نے عیسائیوں کے خلاف جو زبان استعمال کی یہ جہاد تھا؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 15, 2015

  1. ‏ جنوری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزا نے عیسائیوں کے خلاف جو زبان استعمال کی یہ جہاد تھا؟)
    جناب یحییٰ بختیار: جہاد کبیر، جہاں تک آپ نے ذکر کیا، وہ آپ سمجھتے تھے کہ انگریز کی حکومت میں بھی یہ اس کی اجازت تھی اور مرزاصاحب کرتے رہے ہیں۔ اب مرزاصاحب! ایک دوسرا سوال یہ آتا ہے کہ ایک ہوتا ہے جہاد جو کہ فرض ہوتا ہے۔ ایک ہوتاہے انسان کو غصہ، جوش آئے۔ اب جو عیسائیوں نے آنحضرتﷺ کی شان میں گستاخی کی تو ایک آدمی غصے میں آکے، ایمان کے جذبے کے تحت یا اسلام کے جوش میں یا ایسے ہی غیرت جو آجاتی ہے، کسی کے بزرگ کو کوئی کچھ کہے تو جواب دے دیتا ہے، وہ جواب میں اس کو خواہ گالیاں ہوں یا جواب میں سخت جواب ہو، اور ایک وہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا فرض سمجھتا ہے، دینی جہاد کا فرض، کہ اس کا جواب دے۔ یہ عیسائی جو آئے اور مرزاصاحب نے جو جواب دئیے ان کو آپ ان کو کس کیٹگری میں رکھیں گے کہ یہ جہاد کے جذبے سے دئیے کہ غصے میں، جوش میں، جذبہ ایمان میں آکے، جوش اسلام کی وجہ سے، غیرت کی وجہ سے، انہوں نے یہ جوابات دئیے؟ ان کو جو سخت زبان استعمال کی، یہ جہاد تھا آپ کی نظر میں؟
    مرزاناصر احمد: سوال ختم ہوگیا؟
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
    1166مرزاناصر احمد: جہاد کبیر کے متعلق قرآن کریم کا یہ حکم ہے: (وہ طریق اختیار کرو جو تمہارے نزدیک زیادہ مؤثر ہے) کبھی غصے کا طریق مؤثر ہوتا ہے، کبھی نہایت نرمی اور عاجزی اور پیار، محبت سے سمجھانا مؤثر ہوتا ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ جو صداقت حیات انسانی ہے۔ یعنی اسلام اور اس کی شریعت، اس کو وہ سمجھنے لگے، اور اﷲتعالیٰ نے جو محمدa کے ذریعے نوع انسانی پر رحم کرنے کا ایک طریق بنایا، قرآن کریم نازل ہوا حضرت خاتم الانبیاء پر، اس سے سارے انسان فائدہ اٹھائیں۔ تو… اور جب ہم اس اصول کے مطابق بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کروڑوں سطروں کے مقابلے میں، جو پیار اور محبت سے سمجھانے والی ہیں، دو چار جگہ: میں جو دوسرا طریق ہے کہ ذرا جھنجوڑا بھی دیا کرو، اگر ضرورت محسوس ہو اور اس کے نتیجے میں اصلاح کی امید ہو، وہ بھی ہمیں نظر آتی ہیں اور ان کا اتنا بڑا فرق ہے، اپنی Volume میں، کہ دوسرا حصہ ہر آدمی سمجھے گا جو مطالعہ کرے گا… ویسے تو نہیں سمجھ آ سکتی… کہ وہ نظر انداز ہونے کے مقابل ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: جو میں سمجھا، مرزاصاحب! کہ یہ بھی جہاد کے جذبے سے انہوں نے کیا۔
    مرزاناصر احمد: بالکل۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ جو صرف وقتی جوش کی وجہ سے یا اس سے نہیں تھا؟
    مرزاناصر احمد: وقتی جوش تو ہوتا ہی نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں۔
    مرزاناصر احمد: ہاں، بالکل نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں تھی؟
    1167مرزاناصر احمد: اور بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کسی کا ذکر آئے گا تو ’’ہاں‘‘ یا ’’نہ‘‘ کر دیں گے۔

اس صفحے کی تشہیر