1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(مرزا قادیانی کے بعد کسی پر وحی آسکتی ہے؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 5, 2015

  1. ‏ فروری 5, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزا قادیانی کے بعد کسی پر وحی آسکتی ہے؟)
    جناب یحییٰ بختیار: اس لئے میں نے صرف یہ پوچھا ہے، آپ صرف یہ Clarify (وضاحت) کریں کہ مرزا صاحب کے بعد بھی وحی کسی پر آسکتی ہے؟ یہ آپ کا کیا خیال ہے؟
    مرزا ناصر احمد: جی، آسکتی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اِلہام اور وحی؟
    مرزا ناصر احمد: اِلہام ہو یا وحی۔
    جناب یحییٰ بختیار: وحی بھی آسکتی ہے؟
    مرزا ناصر احمد: اِلہام اور وحی کے لئے شریعت کی۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وحی اس کے بعد بھی آسکتی ہے؟
    مرزا ناصر احمد: وحی کا دروازہ کبھی بند ہوا، نہ ہوسکتا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔
    جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری!
    مرزا ناصر احمد: پہلے بھی نہیں ہوا۔
    ’’احمد‘‘ کے متعلق انہوں نے جو فرمایا ہے ناں، اس کا جواب رہ گیا۔
    جناب چیئرمین: ہاں، فرمائیے۔
    مرزا ناصر احمد: انہوں نے فرمایا کہ ’’احمد‘‘ اپنے لئے استعمال کیا، حالانکہ حضرت بانیٔ سلسلۂ احمدیہ نے ’’احمد‘‘ کی تفسیر جو کی ہے وہ صرف نبی اکرمﷺ کے لئے، اور خود بھی کہا ہے، یعنی ظِلّی اور اِنعکاسی طور پر۔ جیسے کل میں نے دو شعر کے بعد ایک تیسرا پڑھا گیا تو واضح ہوگیا تھا سوال۔ اب یہاں یہ ہے ’’الفضل‘‘ ۱۰؍اگست اور اس کا حوالہ ہے۔ ’’نجم الہدیٰ‘‘ بانیٔ سلسلۂ احمدیہ کی کتاب:
    1471’’ان لوگوں یعنی رسولوں، نبیوں، ابدالوں اور ولیوں کے اپنے بعض معارف اور علوم اور نعمتیں بتوسط عالموں اور پوپوں اور احسان کرنے والوں کے پائی تھیں۔ مگر ہمارے نبیﷺ نے جو کچھ پایا جناب الٰہی سے پایا اور جو کچھ ان کو ملا اسی چشمۂ فضل اور عطا سے ملا۔ پس دُوسروں کے دِل حمداِلٰہی کے لئے ایسے جوش میں نہ آسکے جیسے کہ ہمارے نبیﷺ کا دِل جوش میں آیا کیونکہ ان کے ہر ایک کام کا خدا ہی متولّی تھا۔ پس اسی وجہ سے کوئی نبی یا رسول پہلے نبیوں اور رسولوں میں سے احمد کے نام سے موسوم نہیں ہوا، کیونکہ ان میں سے کسی نے خدا کی توحید وثناء ایسی نہیں کی جیسا کہ آنحضرتﷺ نے اور ان کی نعمتوں میں سے انسان کے ہاتھ کی۔۔۔۔۔۔ نہیں، اور ان کی نعمتوں میں انسان کے ہاتھ کی۔۔۔۔۔۔ تھی اور آنحضرتﷺ کی طرح ان کو تمام علوم بے واسطہ نہیں دئیے گئے (پہلوں کو) اور ان کے تمام اُمور کا بلاواسطہ خدا متولّی نہیں ہوا اور نہ تمام اُمور میں بے واسطہ ان کی تائید کی گئی۔ پس کامل طور پر بجز آنحضرتﷺ کے کوئی مہدی نہیں اور نہ کامل طور پر بجز آنجناب کے کوئی احمد ہے اور یہ وہ بھید ہے جس کو محض ابدال کے دِل سمجھتے ہیں اور کوئی دُوسرا سمجھ نہیں سکتا۔‘‘
    اچھا، پھر آپ کہتے ہیں اپنے اِلہامات کے متعلق، انبیاء سے متعلق، آیاتِ قرآنی جو ابھی ہے ناں مسئلہ زیر بحث۔۔۔۔۔۔۔ ’’براہین احمدیہ‘‘ کے صفحہ۸۹-۴۸۸ پر یہ ہے:
    ’’ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکاتِ اِلٰہیہ ہے جو حضرت خیرالرسل کی متابقت کی برکت سے ہر ایک کامل مؤمن کے شاملِ حال ہوتی جاتی ہیں اور حقیقی طور پر مصداق ان سب آیات کا آنحضرتﷺ ہیں اور دُوسرے سب طفیلی ہیں اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح وثنا جو کسی مؤمن کے اِلہامات میں کی جائے۔ (یہی کہا ناں کہ ’’رحمۃللعالمین‘‘ کہا، یہ کہا 1472اور وہ کہا، اس کی وضاحت کر رہے ہیں آپ) اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح وثنا جو کسی مؤمن کی شان میں کی جائے وہ حقیقی طور پر آنحضرتﷺ کی مدح ہوتی ہے اور وہ مؤمن بقدر اپنی متابعت کے، اِتباع کے، پیروی کرنے کے، اس مدح سے حصہ حاصل کرتا ہے اور وہ بھی محض اللہ تعالیٰ کے لطف واحسان سے، نہ کسی اپنی لیاقت اور خوبی سے۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: یہ نبوت کے دعوے سے پہلے کی Writing (تحریر) ہے؟
    مرزا ناصر احمد: یہ ہمیشہ کے لئے ہے یہ تو جتنی دفعہ ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں، میں نے ایک حوالہ پڑھا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں یہاں۔۔۔۔۔۔۔
    جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری! Next question (اگلا سوال)
    مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں؟
    جناب چیئرمین: ابھی باقی رہتا ہے؟
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے سر! یہ پوچھا ہے کہ یہ نبوّت کے دعوے سے پہلے کا ہے یہ؟
    مرزا ناصر احمد: ہاںجی۔ یہ اب دعوے کے بعد کا۔ وہ دعوے سے پہلے کا ہے اور دُوسرا دعوے کے بعد کا ہے، اب جو میں پڑھنے لگا ہوں: ’’میرے پر ظاہر کیا گیا… میرے پر ظاہر کیا گیا (اب وحی وغیرہ کے متعلق ذِکر کرنے کے بعد) کہ یہ سب کچھ بہ برکت پیروی حضرت خاتم الانبیائﷺ کے مجھ کو ملا ہے۔‘‘
    یہ دعوے کے بعد کا ہے اور ساری کتابوں میں، یعنی اس وقت ہمارے پاس حوالے نہیں، آخری کتاب تک آپ کو ایسے بیانات ملیں گے۔
    Mr. Chairman: Next question.
    (جناب چیئرمین: اگلا سوال)
    1473مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جنابِ والا! بات اب وحی اور اِلہام کے اِختلاف کی شروع ہوگئی اور وہی قصہ اب وقت کی تنگی کا سامنے آتا ہے۔
    جناب چیئرمین: آپ اپنے Subject (موضوع) کو جاری رکھیں۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بات یہاں یہ ہے کہ اِصطلاحِ شریعت میں اور فنِ اِصطلاح میں ’’وحی‘‘ کے خاص معنی متعین ہوگئے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک لفظ آیا ہے اور وہ جیسا آپ نے فرمایا، شہد کی مکھی کے لئے بھی آیا ہے، شیطان کے لئے بھی آیا ہے، اوروں کے لئے بھی آیا ہے۔ تو لیکن یہ کہ اب اِصطلاح میں اس کے معنی متعین ہوگئے ہیں اور وہ اگر آپ فرمائیں تو میں چند لغتوں سے، انگریزی اور اُردو کے، مثلاً ’’محیط المحیط‘‘: (عربی)
    مرزا ناصر احمد: یہ معاف کریں، جس کتاب کا حوالہ پڑھیں اس کا سن تصنیف بتادیں، جیسا کہ آپ نے ابھی پوچھا تھا ناں، اس سے بات واضح ہوجاتی ہے۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: سن تصنیف تو پھر یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا۔ یہ ’’کشاف اصطلاحات الفنون‘‘ جو ہے، صفحہ۱۵۲۳، جلد دوئم۔۔۔۔۔۔۔
    مرزا ناصر احمد: کس زمانے کی تصنیف ہے؟
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں عرض کرتا ہوں، کہ یہ۱۸۶۲ء میں کلکتہ میں طبع ہوئی ہے۔
    مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس کے صفحہ:۱۵۲۳ میں یہ ہے۔۔۔۔۔۔
    مرزا ناصر احمد: ہاںجی، میں نے تو بس وہی پوچھا تھا، کیونکہ تاریخیں بھی کچھ بتاتی ہیں ناں ہمیں۔
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب یہ ’’فرہنگ آصفیہ‘‘ جو شاید اُردو کی سب سے معتبر لغت ہوگی… اور مرزا صاحب کی کتابیں بھی اُردو میں ہیں…
    1474مرزا ناصر احمد: اُردو کی لغت؟
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ’’فرہنگ آصفیہ۔‘‘
    مرزا ناصر احمد: جو اُردو میں لفظ ’’وحی‘‘ کے معنی ہیں، وہ بتارہی ہے؟
    مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، میں نے تو عربی کا بتایا، آپ اُردو کے بتارہے ہیں۔
    مرزا ناصر احمد: اُردو کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ بہت سے الفاظ عربی میں ایک معنی میں استعمال ہوئے ہیں اور اُردو میں ایک دُوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر