1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزا قادیانی کی ایک اور جھوٹی پیشگوئی بجواب قادیانی شاہد مجید

حمزہ نے 'فیس بک قادیانی پوسٹس کے جوابات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 10, 2015

  1. ‏ ستمبر 10, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ملک شام کے فتن اور قادیانی دجل


    قارئین جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ ملک شام میں اس وقت بیرونی سازشوں اور مسلمانوں کے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، خدا سے دعا ہے وہ ہم مسلمانان عالم کو اتحاد کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آج فیسبک پر ایک مرزائی جناب شاہد مجید صاحب کی پوسٹ پر نظر گزری(پوسٹ آپ ذیل میں دیکھ سکتے ہیں) جو ملک شام کے اس دور پر استدلال کرتے ہوئے مرزا غلام قادیانی کی ایک پیشگوئی کے طور پر لگائی گئی تھی۔ اور ایک اور مرزائی جناب طاہر خان صاحب اس کے ہمارے گروپ قادیانی مناظرہ میں بطور صداقتِ مرزا غلام قادیانی لنک کر رہے تھے۔(سکرین شوٹ دیکھیں) میں نے جب پوسٹ پڑھی تو اشتیاق ہوا کہ اصل معاملہ کے تحقیق کی جائے۔ جب میں نے تذکرۃ المہدی اٹھا کر متعلقہ صفحات پر پہنچا تو میرا اس بات یقین کامل ہو گیا کہ ”وہ مرزائی ہی نہیں جو دجل نہ دے“۔

    اس کی تفصیل یوں ہے کہ مرزا غلام قادیانی 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں اس نے اپنی بیوی سے ایک بابرکت لڑکے کی پیشگوئی شائع کی۔ اگلے اشتہار میں جو 22مارچ 1886ء کو شائع ہوا اس نے اس پیشگوئی کی مدت 9 سال بتلائی تو عوام نے اس ”پیشگوئی“ پر اعتراض کیا کہ 9 سال میں کسی کہ ہاں بچا پیدا ہونے کیا خاصیت رکھتا ہے جو پیشگوئی کہلائے، تو مرزا غلام قادیانی نے 8 اپریل 1886ء کو ایک اور اشتہار شائع کیا جب اس کی بیوی حاملہ تھی، اور کہا کہ ”ایک لڑکا بہت قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا“ مگر ہائے قسمت کے بچہ تو پیدا نہ ہوا مگر بچی پیدا ہو گئی۔ اب یہ اظہر من الشمس ہو گیا کہ مرزا کی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔ اب اس پر قادیانی حضرات مختلف تاویلات کرتے ہیں جن کی تفصیل اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس تفصیل کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو اصل بات سمجھ میں آ جائے۔

    اب آتے ہیں قادیانی پوسٹ کے دجل پر:

    قادیانی شاہد صاحب تذکرۃ المہدی سے ایک بات سیاق و سباق سے مکمل کاٹ کر نقل کی اور اس کو ملک شام کے حالات حاضرہ پر استدلال کیا، میں آپ کے سامنے تذکرۃ المہدی کی یہ عبارت مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتا ہوں، پھر آپ فیصلہ کریں کہ قادیانی حضرات مرزا قادیانی کے لئے کیسے کیسے دجل کرتے ہیں۔
    تذکرۃ المہدی صفحہ 2 سے ملاحظہ فرمائیں:

    جب حضرت اقدس حضرت مسیح موعود نے حسب فرمودہ الہٰی ایک لڑکے کا اشتہار دیا اور اس کی بہت صفت و ثنا لکھی گئی تو کچھ معترضین نے اعتراض کئے ۔ ان اعتراضوں میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ لڑکے ہوا ہی کرتے ہیں، اس کی پیدائش کی میعاد بتلائی جائے۔ پس حضرت اقدس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نو سال کی میعاد مقرر کی“۔

    ایک بات توجہ لائق ہے کہ مرزا قادیانی نے پہلے 9 سال ہی مدت بتلائی تھی مگر جب طوالت مدت کا اعتراض ہوا تو اس نے اس پیشگوئی کو اسی حمل کے ساتھ خاص کر دیا تھا۔ آگے ملاحظہ فرمائیں:

    مختصر یہ کہ جب ساڑھے آٹھ سال گذر کر چھ مہینے نو سال کی میعاد میں باقی رہ گئے اور کئی لڑکے اور لڑکیاں پیدا ہو گئے تو چاروں طرف سے احباب کے خط آنے لگے۔ کچھ میرے پاس اور کچھ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور کچھ حضرت اقدس کی خدمت میں۔ اور جو صاحب دار الامان میں آتے وہ دریافت کرتے۔ حضرت اقدس فرماتے کہ ابھی ہم پر خدا تعالیٰ نے پورے طور پر اس امر کو نہیں کھولا اور جتنا جتنا آپ پر انکشاف ہوتا تھا وہ فرما دیا کرتے تھے۔ لیکن تھوڑی میعاد رہنے اور لوگوں کے سوال کرنے پر اور نیز مولوی صاحب کے اصرار پر کہ لوگوں کے خطوط آتے ہیں ہم کیا جواب دیں اور میں نے بہت سا عرض کیا تو فرمایا کہ ہاں اب توجہ الی اللہ کریں گے اور دعا کریں گے تاکہ ان موجودہ لڑکوں میں سے موعود لڑکے کی تعیین ہو جاوے یا اور ہو تو وہ معلوم ہو جاوے۔ جب کئی روز ہو گئے تو صبح کی نماز کے لئے حضرت تشریف لائے اور کھڑے کھڑے فرمایا کہ ایک گھنٹہ ہوا ہو گا ہم نے دیکھا کہ والدہ محمود قرآن شریف آگے رکھے ہوئے پڑھتی ہیں۔ جب یہ آیت پڑھی: وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا جب اولئک پڑھا تو محمود سامنے آ کھڑا ہوا پھر دوبارہ پڑھا تو بشیر آ کھڑا ہو پھر شریف آ گیا۔ پھر فرمایا : ”جو پہلے ہے وہ پہلے ہے“۔

    دوستو یہ بات زہن نشین فرما لیں کہ آج قادیانی احباب اپنا مصلح موعود اپنے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کو مانتے ہیں جس کی وفات7 نومبر 1965ء کو ہوئی۔

    پھر کچھ دنوں بعد مولوی عبد الکریم صاحب سے تفصیلی باتیں کیں اور بہت سے واقعات جو آپ کے بعد ہونے والے تھے وہ بیان کر رہے تھے جو میں بھی پہنچ گیا اور سلسلہ کلام جاری رہا۔ فرمایا خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارے سلسلہ میں بھی سخت تفرقہ پڑے گا اور فتنہ انداز اور ہوا و ہوس کے بندے جدا ہو جائیں گے پھر خدا تعالیٰ اس تفرقہ کو مٹاوے گا۔ باقی جو کٹنے کے لائق اور راستی سے تعلق نہیں رکھتے اور فتنہ پرداز ہیں وہ کٹ جائیں گے۔ اور دنیا میں ایک حشر برپا ہو گا۔ وہ اول الحشر ہو گا اور تمام بادشاہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے اور ایسا کشت و خون ہو گا کہ زمین خون سے بھر جائے گی اور ہر ایک بادشاہ کی رعایا بھی آپس میں خوفناک لڑائی کرے گی۔ ایک عالمگیر تباہی آوے گی اور اس تمام واقعات کا مرکز ملک شام ہو گا۔ صاحبزادہ صاحب(خاکسار راقم کو فرمایا)اس وقت میرا لڑکا موعود ہو گا۔ خدا نے اس کے ساتھ ان کے حالت کو مقدر کر رکھا ہے۔ ان واقعات کے بعد ہمارے سلسلہ کو ترقی ہو گی اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔ تم اس موعود کو پہچان لینا۔ یہ ایک بہت بڑا نشان پسر موعود کی شناخت کا ہے۔ مولوی صاحب موصوف مرحوم نے باہر نکل کر حضرت اقدس کی اس بات کو دہرایا اور مجھے فرمایا پیر صاحب تم کو مبارک ہو۔ میں نے کہا کیسی مبارکباد؟ فرمایا تم نے حضرت مسیح موعود کا فرمان نہیں سنا کہ خاص تم سے مخاطب ہو کے فرمایا کہ تم اس ولد موعود کو پہچان لینا۔ مجھے نہیں فرمایا وہ ہنگامہ محشر تم دیکھو گے اور موعود کو بھی۔
    سو الحمد للہ وہ ہنگامہ محشر اور پسر موعود میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا اور مولود مسعود کو پہچانا“۔(تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 273 تا 275)

    اب جناب شاہد صاحب قادیانی نے کیا کیا کہ پیشگوئی مذکورہ کو بالکل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا تاکہ یہ صرف دور حاضر کے حالات پر پوری اترے۔ وہ اسے یوں پیش کرتے ہیں: ”خدا نے مجھے خبر دی ہے .... دنیا میں ایک حشر برپا ہو گا۔ وہ اول الحشر ہو گا اور تمام بادشاہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے اور ایسا کشت و خون ہو گا کہ زمین خون سے بھر جائے گی اور ہر ایک بادشاہ کی رعایا بھی آپس میں خوفناک لڑائی کرے گی۔ ایک عالمگیر تباہی آوے گی اور اس تمام واقعات کا مرکز ملک شام ہو گا“۔

    پہلے تو ہم پوچھتے ہیں کہ جناب شاہد صاحب کیا وجہ ہے کہ آپ نے دجل کا دامن ہاتھ میں لئے یہ بات نہ پیش کی کہ ”اس وقت میرا لڑکا موعود ہو گا خدا نے اس کے ساتھ ان کے حالت کو مقدر کر رکھا ہے“ اور اس کو حالت حاضر پر محمول کرنے کی کوشش کی؟

    پھر آپ نے جو درمیان تحریر سے ”خدا تعالیٰ اس تفرقہ کو مٹاوے گا“ کو اڑا دیا یہ بھلا کس لئے؟ ذرا بتلائیں تو صحیح جماعت مرزائیہ کے کتنے گروہ ہو چکے ہیں؟ اور کتنے ہو رہے ہیں؟ یہ پردہ پوشی کیسی؟ ثانیاً کیا یہ تفرقہ مٹ گیا؟ ہرگز نہیں! بلکہ آج تو خود جماعت مرزائیہ میں درجنوں مدعی کھڑے ہیں۔

    پھر ہمیں اس ”اول الحشر“ کے متعلق تو بتلائیں جناب؟ کب یہ برپا ہوا؟ زہن میں رکھیئے گا کہ وہ ”اول الحشر“ جس کا مرکز شام ہو اور اس وقت برپا ہو جب مرزا غلام قادیانی کے ”پسر موعود“ بھی حیات ہوں اور یہ کہ مصنفہ تذکرۃ المہدی پیر سراج الحق بھی اسوقت حیات ہوں۔

    اس کے بعد ہمیں ان ”
    سلاطین“ سے بھی آشنا کیجئے گا جنہوں نے مرزائیت قبول کی ہو؟ امید ہے آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔


    یہاں قادیانی پیر سراج الحق کا یہ کہنا کہ اس نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ایک دجل کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لئے مرزا غلام قادیانی کی یہ پیشگوئی بھی صریح طور پر جھوٹی نکلی ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    شاہد مجید قادیانی صاحب کی پوسٹ:

    [​IMG][/IMG] [​IMG]
    طاہر خان اس کی اشتہار بازی کرتے ہوئے:
    [​IMG][/IMG] [​IMG]
    تذکرۃ المہدی سکین پیجز:
    [​IMG]
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر