1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(مرزا قادیانی کو الہام کتنا زبانوں میں ہوتا تھا؟)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 16, 2015

  1. ‏ جنوری 16, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزا قادیانی کو الہام کتنا زبانوں میں ہوتا تھا؟)
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ایک زبان میں بھول گیا تھا، سنسکرت میں بھی۔۔۔۔۔۔
    مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ اصل عبارت جو ہے ناں۔۔۔۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں شاید بھول گیا تھا، ایک جگہ مجھے بتایا گیا ہے کہ سنسکرت میں بھی مرزا صاحب کو اِلہام آتے رہے ہیں، یا غلط بات ہوگئی؟
    مرزا ناصر احمد: نہیں، سنسکرت میں مجھے یاد نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں مجھے کہا تھا میں نے اس واسطے Put کیا آپ کو میں نے کہا 1398اگر۔۔۔۔۔۔ میں نے نہیں پڑھا، مجھے تو بتایا گیا ہے۔
    مرزا ناصر احمد: اصل میں یہ دیکھنا ہے کہ کیا مضمون ہے جو زیر بحث ہے۔ مضمون ہے ہندو، وید اور ان کے اوتار، یہ بحث وہاں ہو رہی ہے، اور بحث یہ ہے:
    ’’اس بات کو تو کوئی عقل مند نہیں مانے گا کہ کیونکہ یہ قانونِ قدرت کے برخلاف ہے اور جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوتین سو برس گزرنے تک ایک زبان میں کچھ تغیر پیدا ہوجاتا ہے اور ایسا ہی جب ایک جگہ سے مثلاً سو (۱۰۰) کوس کے فاصلے پر آگے نکل جائیں (لاہور سے ملتان پہنچ جائیں مثلاً) تو صریح زبان کا تغیّر محسوس ہوتا ہے۔ تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اِختلاف اللہ ایک قدیمی امر ہے۔‘‘ (بحث یہ ہو رہی ہے) [اِختلاف اللہ ایک قدیمی امر ہے] جس پر موجودہ حالت گواہی دے رہی ہے۔ پس ماننا پڑتا ہے کہ جس نے انسان کو بنایا اسی نے ان کی زبانوں کو بھی بنایا اور وقتاً فوقتاً وہی ان میں تغیرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیرمعقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو (یہ ہندوؤں کو مخاطب کر رہے ہیں) اور اِلہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے (جو اِنسان یعنی اتنا بوجھ اُٹھا نہیں سکتا جتنا اس پر ڈال دیا گیا ہے) اور ایسے اِلہام سے فائدہ کیا ہوا جو اِنسانی سمجھ سے بالاتر ہو (یعنی کوئی انسان بھی نہیں سمجھ سکتا) پس جبکہ بموجب اُصول آریہ سماج (یہ ان کے اُوپر ہے جرح) [پس جبکہ بموجب اُصول آریہ سماج] کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے۔‘‘ (یہ ساری شریعت جو تھی وہ ایسی زبان میں نازل ہوگئی جو ویدک کے رشی نہ بول سکتے تھے اور نہ سمجھ سکتے تھے اور شریعت نازل ہوگئی اس زبان میں) اور پھر خدا کا ایسی بیگانہ زبان میں ان کو اِلہام کرنا گویا دیدہ ودانستہ ان کو اپنی تعلیم سے محروم رکھنا تھا اور اگر 1399کہو (ہندوؤں کو مخاطب ہے) [اور اگر کہو] کہ خدا ان کو ان کی زبان میں سمجھادیتا تھا کہ ان عبارتوں کے یہ معنی ہیں تو اس صورت میں پرمیشر کا یہ عہدہ بحال نہیں رہے گا کہ انسانی زبان میں اس کو بولنا حرام ہے۔ (یہ ان کا ہے مسئلہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ انسان کی زبان میں بات کرے۔ اس واسطے وہ کہتے ہیں ایسی زبان میں اُس نے اپنا اِلہام نازل کیا جس کو اِنسان سمجھ ہی نہ سکتا۔ یہ مسئلہ زیربحث ہے۔ اگر یہ بولنا ہے) تو مجھے تعجب ہے کہ ان نہایت کچی اور خام باتوں کے پیش کرنے سے آریاؤں کو فائدہ کیا ہے۔‘‘ یہ ہے عبارت۔

اس صفحے کی تشہیر