1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزا غلام قادیانی کا سن پیدائش ، جماعت مرزائیہ کے لئے ایک مصیبت ۔

خادمِ اعلیٰ نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 17, 2015

  1. ‏ اکتوبر 17, 2015 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    458
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    مرزا غلام قادیانی کا سن پیدائش ، جماعت مرزائیہ کے لئے ایک مصیبت ۔


    مرزا غلام قادیانی نے اپنی پیدائش کا سال بتاتے ہوئے لکھا :۔
    " میری پیدائش سنہ 1839ء یا سنہ 1840ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں سنہ 1857ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش وبرودت کا آغاز نہیں تھا " ( خزائن جلد 13 صفحہ 177 حاشیہ )

    اسی کتاب میں مرزا غلام قادیانی نے اپنے والد کی وفات کا ذکر یوں کیا :۔
    " میری عمر چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا " ۔ ( خزائن جلد 13 صفحہ 192 )

    اور مرزا غلام قادیانی نے خود ایک جگہ لکھا ہے کہ:۔
    " اس کے والد حکیم غلام مرتضیٰ کی وفات مورخہ 20 اگست 1874ء کو ہوئی"۔ ( خزائن جلد 18 صفحہ 585 )

    لہذا اگر اگست 1875ء میں مرزا کی عمر 34 یا 35 برس تھی تو اس کی پیدائش کا سال 1839ء یا 1840ء ہی بنتا ہے ۔

    مرزا غلام قادیانی کی تحریر کتاب البریہ میں اس نے تقریباََ وغیرہ کے الفاظ نہیں لکھے اور نہ یہ لکھا ہے کہ میں یہ بات اندازََ لکھ رہا ہوں ، اس نے اپنی تاریخ پیدائش کو احتیاطاََ دو سالوں میں محدود رکھا ہے کیونکہ اس وقت تاریخ پیدائش پوری تعیین سے محفوظ رکھنے کا رواج نہیں تھا اور جو اندازا مرزا نے اختیار کیا یہ اندازا اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب بات کرنے والا محتاط ہو کر کوئی بات بتا رہا ہو ، پھر آگے مرزا نے اپنی عمر کا وہ حصہ بھی ذکر کیا ہے جب بچہ اپنے لڑکپن میں داخل ہوتا ہے اس عمر میں چار پانچ سال کم یا زیادہ ہونے کا شبہ یا احتمال نہیں رہتا ، چار پانچ ماہ کا فرق اور بات ہے لیکن چار پانچ سال ایک بڑی مدت ہے جس میں اس وقت مغالطے کی گنجائش نہیں رہتی جب کوئی جوانی میں قدم رکھ رہا ہو ۔ مرزا قادیانی نے اپنا سال پیدائش جو بتایا اسی کی تاکید میں یہ لکھا کہ 1857ء میں اس کی عمر سولہ یا سترہ سال تھی جس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس کی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہی ہوئی تھی ، اور سولہ سترہ سال کی عمر میں مرزا کو ہرگز یہ مغالطہ نہ تھا کہ اس کی عمر سولہ سال ہے یا اکیس سال ۔ اسے یہ بھی یاد ہے کہ 1857ء میں اس کی داڑھی وغیرہ نہیں نکلی تھی اور دوسری تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ اسے یہ بھی یاد تھا کہ جب 1857ء میں اس کے والد کی وفات ہوئی تو اس کی عمر چونتیس یا پینتیس برس تھی ۔

    بتاریخ 5نومبر سنہ 1905ء بمقام لدھیانہ مرزا قادیانی نے ( بقول جماعت مرزائیہ ) ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ایک لیکچر دیا ، اس کے اندر اپنی عمر اس نے اس طرح بتائی :۔
    " میری عمر 67 سال کی ہے " ( خزائن جلد 20 صفحہ 293 )
    اگر نومبر 1905ء میں مرزا کی عمر 67 سال تھی تو اس کی پیدائش کا سال 1839ء یا 1840ء ہی بنتا ہے ۔

    مورخہ 8 جنوری 1904ء کو مرزا قادیانی کے پاس اس وقت کا مشیر اعلی آیا اور اس نے مرزا قادیانی کے ساتھ مختلف اموار پر بات چیت کی ، دوران گفتگو مشیر اعلی نے سوال کیا :۔
    " جناب کی عمر کیا ہوگی ؟ " مرزا نے جواب دیا " 65 یا 66 سال " ۔ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 538 )

    اگر جنوری 1904ء میں مرزا قادیانی کی عمر 65 یا 66 سال تھی تو اس کی پیدائش کا سال 1839ء یا 1840ء ہی نکلتا ہے ۔

    مرزا قادیانی کا ایک خادم اور مرید جس کا نام مرزا خدا بخش قادیانی تھا اس نے ایک کتاب لکھی " عسل مصفیٰ " جو مرزا کی زندگی میں سنہ 1901ء میں لاہور سے چھپی ، اس میں مرزا کی پیدائش کا سال یوں درج ہے :۔

    حضرت مرزا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ولادت ۔۔۔۔۔۔ سکھوں کے آخری وقت یعنی 1839ء یا 1840 میں ہوئی ہے" ۔ ( عسل مصفیٰ صفحہ 575 )

    مورخہ 13 دسمبر 1906ء کے مرزائی اخبار " بدر " قادیانی صفحہ 5 پر یوں لکھا ہے " مرزا ۔۔۔ کا جنم سنہ 40-1839ء میں ہوا تھا "

    مورخہ 16 مئی 1901ء کو مرزا قادیانی نے گورداسپور کی عدالت میں ایک مقدمے کے سلسلے میں اپنا بیان دیا جس میں اس نے یوں کہا :۔
    " اللہ تعالٰی حاضر ہے میں سچ کہوں گا ، میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے " ( الحکم قادیان ، 31 جولائی 1901ء صفحہ 7 اور کتاب منظور الہی صفحہ 241 )
    اگر مرزا کی عمر 1901ء میں ساٹھ سال کے قریب تھی تو سالِ پیدائش 1839ء یا 1840ء ہی بنتا ہے اور 1908 میں مرزا کی عمر 69 سال کی ہوگی ۔

    جنوری 1908ء میں یعنی مرزا کی موت سے پانچ ماہ قبل قادیانی اخبار " الحکم " نے یوں لکھا :۔
    " آپ کی ولادت 1255 ہجری کو ہوئی ہے " ( الحکم 6 جنوری 1908ء صفحہ 6 )

    اگر 1255 ہجری کا عیسوی سال نکالا جائے تو وہ 1839ء یا 1840ء ہی بنتا ہے ، نیز مرزا قادیانی نے 26 مئی 1908ء بمطابق 1326 ہجری اس جہاں سے کوچ کیا اگر ہجری تاریخ کے حساب سے اس کی پیدائش 1255 ہجری میں ہوئی اور وفات 1326 ہجری میں ہوئی ہو تو اس کی کل عمر 70 سال سے زیادہ نہیں بنتی ۔

    آپ لوگ سوچ رہیں ہونگے کہ مرزا قادیانی کی پیدائش کے بارے میں اتنے حوالے دینے کی کیا ضرورت ہے ؟ آخر کون سی مصیبت نازل ہوگئی کہ مرزا قادیانی کے پیدائش کے سال کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے ؟ تو آئیے آپ کو اس کی بھی وجہ بتاتے ہیں ۔ دراصل ہوا یوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مورخہ 26مئی 1908ء کو بمقام لاہور ( بقول مرزا بمرض ہیضہ ) وفات پاگیا ۔ اب مرزا کے پیروکاروں کو ایک بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا وہ یہ کہ مرزا قادیانی جسے پیش گوئیاں کرنے کی عادت تھی اس نے اپنی عمر کے متعلق اس طرح پیش گوئیاں کر رکھی تھیں :۔

    " خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسیِّ(80) برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا " ( خزائن جلد 17 صفحہ 44 )

    ایک جگہ یوں لکھا :۔
    " بشارت دی گئی کہ اسیّ برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے " ( خزائن جلد 4 صفحہ 374 )
    اور یہ بھی لکھا کہ :۔
    " خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسیّ برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم " ( خزائن جلد 21 صفحہ 258 )

    اور آخرکار اپنے ان تمام ( خود ساختہ ) الہامات کی وضاحت اور تشریح یوں کی کہ :۔

    " اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اسیّ برس سے بھی کچھ زیادہ عمر ہوسکتی ہے اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چہتر(74) اور چھیاسی(86) کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں " ( خزائن جلد 21 صفحہ 259 )

    اس طرح مرزا بتا چکا تھا کہ ازوائے الہام اس کی عمر 74 اور 86 سال کے درمیان ہوگی لیکن ناگہانی موت نے اسے 70 سال بھی پورے نہ کرنے دیئے اور اس کی دیگر پیش گوئیوں کی طرح یہ الہام بھی غلط ثابت ہوا ، اب جماعت مرزائیہ مرزا کی تاریخ وفات میں تو کوئی تبدیلی کر نہیں سکتی تھی تو انہوں نے تاریخ پیدائش کو مشکوک بنانے کی کوشش کی ، جو لوگ مرزا کی زندگی میں اپنے ھاتھوں سے اس کی پیدائش کا سال 1839ء یا 1840ء لکھتے رہے بعد میں وہی لوگ اپنی تحریر بدلتے رہے ، چنانچہ مرزا کا بیٹا اور دوسرا مرزائی خلیفہ بشیر الدین محمود لکھتا ہے کہ :۔
    "آپ 1836 یا 1837 میں پیدا ہوئے " ( سیرت مسیح موعود صفحہ 6 مصنفہ از مرزا محمود )

    مرزا کے دوسرے بیٹے مرزا بشیر الدین ایم اے نے تو حد ہی کردی ، ملاخط فرمائیں اس کی قلابازیاں :۔
    " حضرت مسیح موعود ( جعلی اور نقلی ، ناقل ) فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا تو اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال تھی " ( سیرت المہدی جلد اول ، حصہ اول صفحہ 255 ، روایت نمبر 283 )

    پھر اسی سلطان احمد کی پیدائش کا سال مرزا بشیر احمد خود یوں زکر کرتا ہے :۔
    " 1855 یا 1856 ولادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب ( غالباََ ) " ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ اول ، صفحہ 443 ، روایت نمبر 470 )

    تو پہلی روایت کے مطابق جب مرزا سلطان احمد پیدا ہوا تو مرزا قادیانی نے اپنی عمر 16 سال بتائی ، اور پھر مرزا بشیر احمد نے مرزا سلطان احمد کی ولادت کا سال بھی غالباََ 1855 یا 1856 لکھا اس طرح بھی مرزا قادیانی کی پیدائش 1839ء یا 1840ء ہی نکلتی ہے ۔

    کبھی لکھتا ہے کہ :۔
    " صحیح تاریخ 1836ء معلوم ہوئی ہے " ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ اول ، صفحہ 34 ، روایت نمبر 45 )
    کبھی سال پیدائش" 1836 یا 1837" لکھا ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ دوم ، صفحہ 443 ، روایت 470 )

    کہیں یوں لکھا :۔
    " اب بعض حوالے اور بعض روایات ایسی ملی ہیں جن سے معین تاریخ کا پتہ لگ گیا ہے جو بروز جمعہ 14 شوال 1250 ہجری ، مطابق 13 فروری 1835ء عیسوی ، مطابق یکم پھاگن 1891 بکرمی ہے " ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ سوم ، صفحہ 575 روایت نمبر 613 )

    اور پھر یہ لکھا کہ :۔
    " خلاصہ میرے نزدیک یہ نکلا کہ 34-1833 صحیح ولادت قرار دیا جاسکتا ہے " ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ سوم ، صفحہ 705 )

    پھر بھی اس کی تحقیق ختم نہ ہوئی اور یہ لکھا :۔
    آپ کی ولادت جس جمعہ کو ہوئی تھی وہ 14 رمضان 1257 ہجری کا دن تھا ، اور بحساب سمت بکرمی یکم پھاگن سمہ 1888 کے مطابق تاریخ تھی عیسوی سن کے حساب سے 17 فروری 1832 کے مطابق ہوتی ہے "( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ سوم ، صفحہ 820 روایت 965 )
    اگلے صفحے پر یوں لکھا :۔
    " عیسوی سال 17 فروری 1832 کو آپ کی ولادت ہوئی اور 26 مئی 1908 آپ اپنے خالق حقیقی رفیق اعلی سے جاملے " ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ سوم ، صفحہ 821 )

    وہ پہلے یہ بھی لکھ چکا تھا :۔
    " خاکسار کی تحقیق میں آپ کی تاریخ پیدائش 1252 ہجری نکلتی ہے " ( سیرت المہدی ، جلد اول ، حصہ اول ، صفحہ 256 ، روایت 283 )

    تو دوستو ! آپ نے دیکھا کہ کس طرح مرزا قادیانی کی عمر کو بڑھایا اور کبھی گھٹایا جا رہا ہے ، اور مرزا قادیانی نے اپنے سال کے بارے میں جو اپنے قلم سے لکھا ، اور جو اس کی زندگی میں لکھا جاتا رہا اس سب کو اس کی موت کے بعد غلط قرار دیا جا رہا ہے ، امت ہو تو ایسی جو اپنے نبی کی بات کو اپنی تحقیق سے غلط ثابت کرتی پھرے ۔ ان کی کوشش ہے کہ مرزا کی عمر کو سپرنگ کی طرح کھینچ کر کسی طرح 74 سال تک لے جایا جائے ۔

    ایک مرزائی شوشہ ۔
    جماعت مرزائیہ اکثر لوگوں کے سامنے یہ جھوٹ بولتی ہے کہ :۔
    "مرزا قادیانی نے اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں صراحت کے ساتھ کچھ نہیں لکھا ، آپ نے صرف اندازہ لگایا ہے "
    اور پھر جب مرزا غلام قادیانی کی وہ تحریریں رکھی جاتی ہیں جن کے اندر اس نے صاف طور پر اپنی تاریخ پیدائش کا سال 1839ء یا 1840ء بتایا ہے تو مرزائی مربی ایک دم یہ پینترا بدلتے ہیں کہ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے بارے میں مختلف روایات آتی ہیں ، کسی صحابی نے یہ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک 60 سال کے سر پر ہوا ، کسی نے 63 عمر بتائی اور بعد میں تحقیق کے بعد 60 سال عمر مبارک بتائی گئی ، تو اسی طرح مرزا قادیانی کی عمر میں اگر مختلف اقوال ملتے ہیں تو اس پر اعتراض کیوں ؟

    اس مرزا شوشے کا جواب تو بہت سیدھا اور سادہ ہے کہ نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی پیش گوئی فرمائی کہ میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میری عمر اتنی یا اتنی ہوگی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کتاب تصنیف فرمائی جس کے اندر یہ لکھا کہ میری پیدائش فلاں یا فلاں سال میں ہوئی ، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح یہ منقول ہوتا کہ میری پیدائش فلاں سال میں ہوئی اور فلاں سال میں میری عمر اتنی تھی تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے سامنے ساری تحقیقیں اپنے پاؤں کی نوک پر رکھتے اور جو بات ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہوتی اسی کو قبول کرتے ۔ لیکن مرزا قادیانی کی امت پر قربان جائیں کہ ان کا نبی کہتا ہے کہ میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی لیکن وہ بضد ہیں کہ ہمارے نبی کو غلطی لگی اور ہماری تحقیق یہ ہے کہ 1837 یا 1836 یا 1835 یا 1834 یا 1832 میں ہوئی تھی ، لیکن اس بات سے کوئی مرزائی کو انکار نہیں کہ مرزا نے اپنی جس کتاب میں اپنی پیدائش کا سال لکھا وہ 1898ء میں شائع ہوئی ( یعنی کتاب البریہ ) اس کے بعد تقریباََ مرزا غلام قادیانی دس(10) سال تک زندہ رہا لیکن اس کے خدا نے اسے وحی کر کے نہیں بتایا کہ مرزا جی آپ نے اپنی پیدائش کا جو سال لکھا ہے وہ غلط لکھا ہے اسے ٹھیک کردیں ورنہ آپ کی عمر کم از کم 74 سال ہونے کی پیش گوئی غلط ہوجائے گی ۔ جبکہ مرزا غلام قادیانی کا دعویٰ تھا کہ :۔
    " اللہ مجھے ایک لمحے کے لئے بھی غلطی پر نہیں رکھتا " ( خزائن جلد 8 صفحہ 272 )
    نیز اس نے یہ بھی لکھا کہ :۔
    " انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے" ( خزائن جلد 19 صفحہ 133 )
    اور اس کے بیٹے مرزا محمود نے تو صاف یہ لکھا تھا کہ :۔
    " خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا " ( انوار العلوم جلد 6 صفحہ 124 )

    اگر مرزا قادیانی کی جماعت کتاب البریہ کے بعد مرزا قادیانی کی کوئی ایسی تحریر دکھا دے جس میں اس نے لکھا ہو کہ میں نے جو لکھا تھا کہ میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی تھی وہ میری غلطی تھی اب میرے خدا نے مجھے الہام یا وحی کے زریعے یہ بتایا ہے کہ میری صحیح تاریخ پیدائش کا سال فلاں تھا تو پھر یہ معمہ حل ہوجائے گا ۔ لیکن صرف چند مبہم اور غیر واضح تحریروں سے مرزا کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اٹکل پچو لگانے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی ، عجیب بات ہے کہ مرزا کے خدا نے اسے یہ تو بتا دیا کہ تیری نسل اور خاندان جینی یعنی مغل نہیں بلکہ فارسی ہے ، دوسری طرف یہ الہام کردیا کہ تیری عمر اسیّ سال کے قریب ہوگی یا 74 اور 86 سال کے درمیان ہوگی لیکن مرزا کی تاریخ پیدائش کے سال کو بتانا بھول گیا کہ اس الہام کے سچے یا جھوٹے ہونے کا فیصلہ ہوجاتا ۔ دوسرے لفظوں میں مرزا قادیانی کی جماعت یہ کہنا چاہتی ہے کہ ہمارے نبی کو اس کے خدا نے یہ تو بتایا تھا کہ تیری عمر اتنی ہوگی لیکن مرزا کو اپنی تاریخ پیدائش کا سال خود بھی نہیں پتہ تھا اور نہ خدا نے بتایا ، اس عقل پر رونے کے سوا اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے ؟ ۔
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر