1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(مرزا صاحب نے کہا کہ میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 7, 2015

  1. ‏ فروری 7, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزا صاحب نے کہا کہ میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا)
    1679جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بات یہ تھی، صاحبزادہ صاحب! یہاں تو یہ انہوں نے کہا، مرزا صاحب نے کہا کہ: ’’میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا!‘‘ عہدے کی بات نہیں ہے، لقب کی بات نہیں ہے۔ ’’میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا۔‘‘
    جناب عبدالمنان عمر: ’’مجھے نبی کا خطاب دیا گیا‘‘
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ شیخ عبدالقادرؒ فرماتے ہیں: ’’ہم پر نبی کا نام منع کردیا گیا، بند کردیا گیا‘‘ اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں مخصوص کیا گیا ہوں‘‘ دونوں باتوں کے زمین وآسمان کے فرق کو قادیانی گواہ مٹانے کے درپے ہے۔۔۔!
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہ آپ نے مجھے حوالہ پڑھ کر سنایا تھا۔ میں نے عرض کیا ہے کہ اِن لفظوں سے حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ علیہ ختمِ نبوّت کے منکر نہیں تھے، وہ مدعیٔ نبوّت نہیں تھے، اُن کا آخری نبی ہونے پر اِیمان تھا۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ اولیائے اُمت کے یہاں اِس لفظ کا اِستعمال غیرنبی کے لئے بھی ہوتا ہے اور محدثین کے لئے بھی یہ لفظ اِستعمال ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ بھی اولیاء کی کٹیگری کے آدمی تھے۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو کہتے ہیں کہ: ’’ہم پر منع کیا گیا ہے‘‘؟
    جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، منع کیا گیا ہے۔ اس میں ’’نبی‘‘: (عربی)
    (لقب ہمیں دیا گیا ہے نبی کا)
    مولوی مفتی محمود: ’’لقب نبی کا‘‘ تو نہیں کہا۔
    جناب عبدالمنان عمر: کیا لقب دیا گیا ہے؟
    مولوی مفتی محمود: لقب نبی کا تو نہیں دیا گیا۔
    جناب عبدالمنان عمر: کیا لقب جی؟
    مولوی مفتی محمود: لقب اولیاء کا، قطب کا، ابدال کا، غوث کا، یہ لقب دئیے گئے ہیں۔
    1680جناب یحییٰ بختیار: اولیاء کا کہیں، جو کچھ کہیں آپ۔
    جناب عبدالمنان عمر: یہ یہاں نہیں ہے، یہ تشریح یہاں نہیں ہے۔
    مولوی مفتی محمود: آگے ہے۔ (عربی)
    تشریح اُس کی یہ ہے:
    ’’ہم پر بند کردیا گیا نام رکھنے کا۔۔۔۔۔۔‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ:
    ’’خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے اِنکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔ جس حالت میں خدا میرا نام ’نبی‘ رکھتا ہے تو میں کیونکر اِنکار کرسکتا ہوں۔ میرا نام ’نبی‘ رکھ دیا گیا ہے۔‘‘

    (مجموعہ اِشتہارات ج۳ ص۵۹۷، خط بنام اخبار عام لاہور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء ص۷، کالم۱تا ۳)
    جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ بعض دفعہ اولیاء کے ہاں لفظِ ’’نبی‘‘ اِستعمال ہوتا ہے، مگر اُس سے نبوّتِ حقیقی مراد نہیں ہوتی۔ اِس کے لئے میں گزارش کروں گا کہ مولانا رُوم اپنی مثنوی کے دفتر پنجم میں فرماتے ہیں:
    ’’او نبی وقت خویش است اے مرید
    زانکہ زو نورِ نبی آید پدید
    مقر کن در کاز نیک و خدمتے
    تا نبوّت یابی اندر امتے‘‘
    یعنی پیر کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ نبیٔ وقت ہوتا ہے، وہ اپنے زمانے کا نبی ہوتا ہے۔ اب پیر تو نبی نہیں ہوتا، وہ غیرنبی ہوتا ہے، مگر مولانا رُوم اس کو کہتے ہیں:
    ’’او نبیٔ وقت خویش است اے مرید‘‘
    (اے میرے مرید! وہ اپنے وقت کا نبی ہوتا ہے)
    1681کیوں نبی ہوتا ہے؟ حقیقی نبی نہیں ہوتا:
    ’’زانکہ زو نورِ نبی آید پدید‘‘
    (کیونکہ اُس کے ذریعے سے محمد رسول اللہﷺ کے نور کا ظہور ہو رہا ہوتا ہے)
    پھر فرماتے ہیں:
    ’’مقرکن درکارِ نیک وخدمتے‘‘
    (تمہیں چاہئے کہ کوشش کرو اِس کام میں)
    ’’تا نبوّت یابی اندر امتے‘‘
    (تاکہ اُمت میں رہتے ہوئے، اُمی ہوتے ہوئے تجھے نبوّت حاصل ہوجائے)
    یعنی پیر سے چونکہ آنحضرتﷺ کا نور ظاہر ہوتا ہے، اِس لئے وہ اپنے وقت کا نبی ہوتا ہے۔ پس خدمت اور اِطاعت میں کوشش کرتا کہ اُمت میں تجھ کو نبوّت حاصل ہو۔
    اب یہ دیکھئے، لفظِ ’’نبوّت‘‘ ہے، ’’اُمت‘‘ ہے۔ تلقین ہے، پیر کو ’’نبی وقت‘‘ کہا ہے۔ مگر اس کے باوجود مولانا رُومؒ نبوّت کو جاری نہیں سمجھتے تھے، وہ آخری نبی مانتے تھے، خاتم النّبیین پر اُن کا اِیمان وایقان تھا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ محض لفظوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے، لفظ کبھی غیرنبی کے لئے یہ ایسا ہوجاتا ہے۔ مفہوم اُس کا لیجئے۔
    میں نے مفہوم آپ کو دو عرض کئے تھے کہ مرزا صاحب نے جس جگہ بھی ’’نبی‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا، وہ صوفیا کی اس اِصطلاح میں اِستعمال کیا جس میں وہ غیرنبی کے لئے بھی اس لفظ کا اِستعمال کرلیتے ہیں۔ لیکن اس سے وہ خواصِ نبوّت، وہ لوازمِ نبوّت، وہ حقیقتِ نبوّت، وہ اُن لوگوں میں نہیں آتی۔ تو مرزا صاحب نے کسی جگہ بھی حقیقی نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نبی میں جو خصائص ہوتے ہیں، اُن میں سے کسی خاصیت کے پائے جانے کا کبھی اِدّعا نہیں کیا۔

اس صفحے کی تشہیر