1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزا اور روزہ کی قضا

بنت اسلام نے 'قادیانی فقہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 9, 2014

  1. ‏ ستمبر 9, 2014 #1
    بنت اسلام

    بنت اسلام رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اگست 5, 2014
    مراسلے :
    301
    موصول پسندیدگیاں :
    312
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مؤنث
    " بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود( مرزا قادیانی) کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا- دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کیے مگر آٹھ یا نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لیے باقی چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا- اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنا پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا- اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا- اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے ریے- خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتدائی دوروں کے زمانی میں روزے چھوڑے تو کیا بعد میں ان کو قضا کیا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کر دیا تھا-"
    (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 65،66 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
  2. ‏ جنوری 3, 2017 #2
    غلام مصطفی

    غلام مصطفی رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ اگست 8, 2016
    مراسلے :
    55
    موصول پسندیدگیاں :
    2
    نمبرات :
    8
    پتہ نہیں آپ نے خود مطالعہ کرکے یہ اعتراض کیا ہے یا صرف کسی سے سن کر اعتراض کردیا ہے۔کیونکہ اگر اسی روایت کے نیچے آپؑ کے بیٹے جو سیرت المہدی کے مصنف ہیں ان کا تبصرہ موجود ہے۔جس سے یہ سارا اعتراض دور ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی مریض یا مسافر ہونے کی حالت میں روزہ چھوڑتا ہے تو اسے بعد میں حالت حضر یا مریض کی صورت میں صحت مند ہونے کی حالت میں دوبارہ روزے رکھنے ہوتے ہیں لیکن جب ایک شخص مریض ہونے کی حالت میں ہی رہے تو کیا اس پر کوئی نئی شریعت لاگو ہوگی یا جو قرآن کریم نے کہا ہے کہ وہ مریض ہونے کی صورت میں روزے نہ رکھے؟

    ایک اور بات آپؑ نے حالت صحت میں تو مسلسل چھ ماہ تک کے روزے بھی رکھے ہوئے ہیں۔لیکن بیماری کی صورت میں تو خدا تعالیٰ نے رمضان کے فرض روزوں کو بھی معاف کیا ہے۔
    اٹیچ مینٹ میں پوری روایت پیش ہے۔

    منسلک فائلیں :

اس صفحے کی تشہیر