1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(مرزاناصر ناکام رہا)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 28, 2015

  1. ‏ مارچ 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاناصر ناکام رہا)

    جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں۔ پھر وہ (مرزاغلام احمد) مزید بلندی اور بہتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ معزز اراکین شہادت سماعت فرماچکے ہیں۔ بس میں ریکارڈ سے صرف ایک یا دو باتوں کا ذکر کروں گا۔ اس (مرزاغلام احمد) نے کہا نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلام کی مثال پہلی کے، چاند کی مانند تھی۔ مگر مسیح موعود کے دور میں اس کی مثال بدر کامل جیسی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایوان کی جانب سے میں نے مرزاناصر احمد کو اس بات کی وضاحت کرنے کا پورا پورا موقع دیا۔ لیکن میری ناقص رائے میں وہ بالکل ناکام رہا۔ شروع میں اس نے جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلام صرف عرب تک محدود تھا۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور کہا ہر دور نبی کریم ﷺ کا ہی دور ہے اور ابدالآباد تک رہے گا۔ اس کے بعد کہا کہ مرزاغلام احمد کے دور میں اسلام یورپ کے کئی ممالک تک پھیل گیا تھا۔ جب میں نے کہا کہ مسیح موعود کے زمانے میں تو اسلام کو تمام دنیا میں پھیلنا چاہئے تھا اور اس زمانے میں کوئی غیرمسلم نہیں ہونا چاہئے تھا۔ مسیح موعود کے زمانے کا تو یہ مطلب ہے۔ اس پر مرزاناصر احمد نے کہا کہ نہیں، یہ زمانہ دو تین سو سال تک حاوی ہے۔ جہاں تک حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے کا تعلق ہے۔ وہ ان کی حیات طیبہ تک اور عرب تک محدود ہے۔ یہ واضح تضادات ہیں۔ لیکن اس قسم کے دعوے کئے گئے اور بھی حوالے ہیں۔ جن کو ممبران سماعت فرما چکے ہیں۔ مگر وہ قصیدہ یا نظم جو مرزاغلام احمد کی مدح یا تعریف میں پڑھی گئی۔ ضرور قابل ذکر ہے۔ اس قصیدہ یا نظم کا ایک شعر ہے:
    ’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
    اور آگے سے بھی بڑھ کر ہیں اپنی شان میں‘‘
    یہ قصیدہ مصنف کے مطابق مرزاغلام احمد کی موجودگی میں پڑھا گیا۔ مرزاناصر احمد نے پہلے کہا کہ یہ (مرزاغلام احمد کی موجودگی میں) نہیں پڑھا گیا۔ اگر وہ (مرزاغلام احمد) یہ سن لیتا تو وہ اس قصیدے کو ناپسند کرتا اور اس کے مصنف کو جماعت سے خارج کر دیتا۔ پھر مرزاناصر احمد کو میں نے بتایا کہ ۱۹۰۶ء کے ’’بدر‘‘ نامی قادیانی اخبار میں یہ نظم شائع ہوئی تھی اور یہ بات ناقابل یقین ہے کہ مرزاغلام احمد نے اسے نہ پڑھا ہو۔ یہ اس کا اپنا اخبار تھا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ مرزاغلام احمد کے پیروکاروں نے اسے اس نظم کے بارے میں نہ بتایا ہو۔ اس پر مرزاناصر احمد نے کہا کہ اکمل نے یہ نظم لکھی۔ اس کی نظموں کا مجموعہ کتاب کی شکل ۱۹۱۰ء میں شائع ہوا۔ تو مندرجہ بالا شعر اس سے حذف کر دیا گیا تھا۔ کمیٹی اس بات پر غور کر سکتی ہے۔ لیکن ہمارا تعلق مرزاغلام احمد کے وقت سے ہے۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مرزاغلام احمد نے اس وقت اس شعر کو ناپسند یا نامنظور کیا ہو۔ بلکہ اس کے برعکس ۱۹۴۴ء میں مصنف نے بذات خود کہا تھا کہ اس نے یہ نظم اور شعر مرزاغلام احمد کی موجودگی میں پڑھی تھی اور مرزاغلام احمد نے اسے پسند کیا تھا اور وہ (مرزاغلام احمد) اس نظم کو اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔ تاہم مرزاناصر احمد نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ اس کی تردید ۱۹۵۴ء اخبار الفضل میں کر دی گئی تھی۔ اس موضوع پر میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ گو مرزاناصر احمد نے اس بات کو ایک دوسرے طریقے سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ اسی نظم میں ایک اور شعر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد برتری کا دعویٰ نہیں کرتا۔ لیکن میں کچھ اور گزارش نہیں کرنا چاہتا۔ جناب والا! یہ حالات تھے جن کے تحت مرزاغلام احمد نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر مرحلہ وار اپنے مرتبے خود ہی بلند کرتا چلا گیا۔ جناب والا! اب میں اختصار کے ساتھ مرزاغلام احمد یا قادیانیوں کے ’’ختم نبوت‘‘ اور ’’خاتم النّبیین‘‘ کے تصور کے بارے میں معروضات کروں گا۔ عام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نبی نہیں آئے گا اور جو نبی ہوگا وہ امتی نبی ہوگا اور اس کی نبوت پر حضرت نبی کریم ﷺ کی مہر ہوگی۔ مہر نبوت سے قادیانی یہی مطلب کہتے ہیں۔ نیا نبی اپنی شریعت لے کر نہیں آئے گا۔ اس وقت تک ان کا عقیدہ تھا کہ نہ صرف ایک بلکہ کئی نبی آئیں گے اور اس طرح بات کو خلط ملط کرتے رہے۔ اس موضوع پر مرزابشیر احمد اپنی کتاب ’’ریویو آف ریلجن‘‘ ص۱۱۰ پر لکھتا ہے۔ (یہ میں نے مرزا ناصر احمد کو بھی پڑھ کر سنایا تھا)۱؎:
    ’’اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں ضرور آسکتے ہیں۔‘‘
    (انوار خلافت ص۶۵)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ۱؎ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ریویو آف ریلیجنز کا حوالہ نہیں بلکہ انوار خلافت کا ہے جو مرزامحمود کی تصنیف ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    پھر ’’انوار خلافت‘‘ ص۶۲تا۶۵ پر لکھتا ہے: ’’یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔‘‘
    (حقیقت النبوہ ص۲۲۸)
    پھر ’’انوار خلافت‘‘ میں لکھتا ہے: ’’انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خداتعالیٰ کی قدر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔‘‘
    یہ تحریر جب مرزاناصر احمد کو بتائی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ امکانی صورت کے طور پر ہے کہ اﷲتعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ کئی نبی آئیں گے۔ ماسوائے مرزاغلام احمد کے ایک اور پہلو جو غالباً براہ راست متعلق نہیں ہے۔ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد کا بیٹا دیدہ دلیری سے کہتا ہے: ’’اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو، کذاب ہو۔ اس کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔‘‘)
    ----------
    (اس موقعہ پر جناب محمد حنیف خان صاحب نے کرسی صدارت سنبھالی)
    ----------

اس صفحے کی تشہیر