1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(مرزاقادیانی کے پانچ بڑے اصول)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 15, 2015

  1. ‏ جنوری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاقادیانی کے پانچ بڑے اصول)
    جناب یحییٰ بختیار: اور ایک ساتھ ہی میں یہ عرض کروں گا کہ اسی خط میں مرزا صاحب فرماتے ہیں: ’’کہ میں باربار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے بڑے پانچ اصول ہیں…‘‘ چار اصولوں کے بعد پھر وہ کہتے ہیں: ’’چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیرسایہ ہیں، یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے 1189اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔‘‘
    (خط بحضور گورنمنٹ ص۱۱، ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج۱۳ ص۳۴۸)
    یہ اس پر آپ ذرا Clarification (وضاحت) دے دیجئے۔
    مرزاناصر احمد: میں یہ…
    جناب یحییٰ بختیار: کیسی یہ محسن تھی؟ کیا احسان تھے؟
    مرزاناصر احمد: ہاں جی، یہ وہ میں… بالکل، بالکل۔ ہاں، ہاں میں کوشش کروں گا، جلدی ختم ہو جائے۔ یہ خط یہاں سے شروع ہوتا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: یہ، مرزاصاحب! وہ دوسرا بھی جو ہے ناں…
    مرزاناصر احمد: … وہ بھی ساتھ لے لیتے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی آج… اس وقت آپ نے کہا تھا کہ اس میں کچھ کافی لمبا جواب ہے…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: … تو اس پر بھی مجھے خیال نہیں تھا، صبح پوچھنا تھا، تاکہ… ٹائم کم رہ گیا ہے۔ اس کا بھی آنا ضروری ہوگا۔
    مرزاناصر احمد: وہ میں ابھی اس کے بعد شروع کر دیتا ہوں: ’’چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشواء اور امام اور پیر یہ راقم ہے، پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ، مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموما…‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: یہ شروع سے آپ پڑھ رہے ہیں؟
    مرزاناصر احمد: ہاں جی، شروع سے۔ ویسے میں بیچ میں چھوڑتا جاؤں گا: ’’… اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی۔اے، 1190ایم۔اے اس فرقے میں داخل ہیں اور داخل ہورہے ہیں اور ایک گروہ کثیر ہوگیا ہے جو اس ملک میں روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ اس لئے میں نے یہ قریب مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقے کا پیشوا ہوں، حضور گورنر بہادر کو آگاہ کروں اور یہ ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ ہر ایک فرقہ جو ایک نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے، گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسااوقات ایسے نئے فرقے کے دشمن اور خود غرض، جن کی عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقہ کے لئے ضروری ہے۔ گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں اور مفسد یا نہ مخبریوں سے گورنمنٹ کو پریشانی میں ڈالتے ہیں۔ پس چونکہ گورنمنٹ عالم الغیب نہیں ہے، اس لئے ممکن ہے کہ گورنمنٹ عالیہ ایسی مخبریوں کی کثرت کی وجہ سے کسی قدر بدظنی پیدا کرے یا بدظنی کی طرف مائل ہو جائے۔ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ کی اطلاع کے لئے۔ چند ضروری اور ذیل میں لکھتاہوں:
    ۱… سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجے پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیرخواہ ہے۔ (وہ خاندان) چنانچہ چیف کمشنر بہادر…‘‘
    آگے وہ چٹھیوں کی جو تاریخیں ہیں، وہ بڑی اہم ہیں۔ ایک تاریخ ہے… اس سے پہلے میں یہ بتادوں کہ آپ کا دعویٰ ۱۸۹۱ء کا ہے۔ Eighteen ninety one (۱۸۹۱) یہاں جو خط ہے اس کی تاریخ پہلے کی ہے۔ Eighteen fifty- eight (۱۸۵۸) اٹھارہ سو اٹھاون دوسرے کی ہے۔ 1191۱۸۷۶ء June اور تیسرے کی ہے ۱۸۴۹ئ۔ تو یہ خاندان کے متعلق ہے۔ اس عمر میں ایک نوجوان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے اور آپ کا ان خاندانی حالات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پہلے کی ہیں یہ ساری چٹھیاں یہاں یہ بتایا کہ گورنمنٹ ہمیشہ سے یہ جانتی ہے، خطوط آئے ہوئے ہیں ان کے، کہ ہم مفسدنہیں، امن پسند ہیں۔ خاندانی لحاظ سے، اپنے متعلق نہیں ابھی بات شروع ہوئی:’’دوسرا اور قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیرخواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد (جہاد کا غلط خیال ہے اس کو) کو دور کروں…‘‘
    جہاد کے خلاف نہیں، جہاد کے غلط خیال کو دور کروں:’’…جوان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں اور اس سلسلے میں…‘‘
    نمبردو کے نیچے آپ لکھتے ہیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کتابیں بھیج کر: ’’…عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے، ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا۔ ان کو یہ اطلاع دی کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزارہا روپیہ خرچ کیاگیا۔ مگر بایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔ کیونکہ میں نے کبھی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک 1192حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھتا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی۔ اس لئے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا باربار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا… ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی (سکھوں کے زمانے میں ہماری اور پنجاب کے تمام مسلمانوں کی) دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ ایک مسلمان کو بانگ نماز پر مارے جانے کا اندیشہ تھا۔ (اور کئی ایسے واقعات ہوئے کہ اذان دی اور ان کو قتل کر دیا گیا) چہ جائیکہ اور رسوم عبادات آزادی سے بجا لاسکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تندور سے خلاصی پائی۔ (جو سکھوں کا تھا) خدا تعالیٰ نے (وہ سکھوں کے اس عذاب سے کہ اذان دینا بھی بند ہوگیا تھا چھڑانے کے لئے) ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہماے آرام کے لئے بھیج دیا۔‘‘ اور پھر آگے وہ سارے وہ احسانات وغیرہ کا ذکر کر کے:
    ’’مگر میں جانتا ہوں…‘‘ یہ اس پیرا کے آخر میں ہے، تین سطریں اوپر: ’’…مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے (وہ جو بعض ان پڑھ مسلمان ہیں اور غلط خیال جہاد کا رکھتے ہیں وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی) بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔‘‘ یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا:
    ’’یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پر زور تقریریں اطاعت 1193گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یہ یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں (یہ بڑا اہم ہے۔ وہ ساری کتابیں جہاد کے متعلق نہیں ہیں) اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دئیے ہیں…‘‘
    پہلی دو… دو صفحے ساری کتاب کے ’’براہین احمدیہ‘‘ حصہ سوم، بڑی کتاب ہے۔ اس میں صرف دو صفحے لکھے ہوئے ہیں اس کے متعلق، اور وہ بھی جہاد کی حقیقت جو آپ سمجھتے تھے اس کے متعلق ’’براہین احمدیہ‘‘ حصہ چہارم چار صفحے اور یہ ’’نوٹس دربارہ توسیع دفعہ ۲۹۸‘‘ اور کتاب ’’آریہ دھرم‘‘ اس کے ہیں کوئی چھ، سات صفحے اور آگے ہے ’’التماس‘‘ یہ اشتہار ہے۔ اس کے چار صفحے اور پھر آگے اشتہار۔ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ بڑی موٹی کتاب ہے اتنی بڑی کتاب کئی سو صفحے کی چھ سات سو صفحے کی ہے، چھ سو صفحے کی کتاب میں سے سترہ سے بیس تک، یہ کہ ہوگئے چار، اور پانچ سو گیارہ سے اٹھائیس تک، یہ ہو گئے ستاراں، یہ سارے یہ صفحے ہیں۔ اعلان درکتاب ’’نورالحق‘‘ تیئس سے چوّن صفحے تک اور کتاب ’’شہادت القرآن‘‘ یہ چند صفحے ہیں۔ ’’نور الحق‘‘ حصہ دوم انچاس، پچاس صرف دو صفحے ہیں ساری کتاب کے۔ ’’سر الخلافہ‘‘ صفحہ اکہتر، بہتر، تہتر۔ یہ بھی پہلے ضروری نہیں کہ پہلے صفحے سے، اکہتر سے شروع ہو، اس کے صفحے کے کسی حصے سے شروع ہے اور تہتر کے کسی حصے میں ختم ہوگیا۔ ’’اتمام الحجہ‘‘ پچیس سے، اسی طرح تین صفحوں کے اندر یہ آگیا اور اسی طرح ان کتابوں کے، جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں، یہ سارے صفحے مل کے سو بھی نہیں بنتے۔
    1194جناب یحییٰ بختیار: یہ ’’تحفہ، قیصریہ‘‘ تمام کتاب اور بھی ہیں، تمام کتابیں بھی ہیں اس کے بعد۔
    مرزاناصر احمد: ’’تحفہ قیصریہ‘‘ کتنے صفحوں کی کتاب ہے؟ یہ پچاس صفحے کی کتاب بھی نہیں اور اس کا تمام کتاب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام کتاب ہی یہ ہے مطلب یہ ہے کہ یہ مضمون پھیلا ہوا بیان ہوا ہے۔ مختلف جگہوں پر، اس واسطے علیحدہ علیحدہ صفحات نہیں لکھے گئے اور یہ اصل یہ کتا ب کا مضمون ہے، ملکہ وکٹوریہ کو یہ دعوت کہ تم اسلام کو قبول کرو اور اسلام کی حقانیت پر اس کو دلائل دئیے گئے ہیں اور اس میں ساتھ یہ بھی، شکریہ بھی ادا کیاگیا ہے۔ اشتہار سمیت اس کے ہاں، اشتہار وغیرہ ملا کے یہ ۲۴ صفحے ہیں اور یہ بھی اب غلطی ’’تحفہ قیصریہ‘‘ کے متعلق پیدا ہوگئی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزاصاحب! میں تو اس پر، Detail (تفصیل) میں تو آپ سے پوچھ رہا تھا کہ مرزاصاحب خود کہتے ہیں کہ: ’’اتنا میں نے لکھا ہے کہ پچاس الماریاں بھر جاتی ہیں۔‘‘
    مرزاناصر احمد: میں آجاتا ہوں، میں اس طرف آتا ہوں۔ ٹھیک ہے، اس طرف آجاتا ہوں مطلب یہ ہے کہ اس اشتہار سے ایک غلط تاثر بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا۔ تو ہر ایک کے ہو جاتا ہے۔ اس کی میں وضاحت کر رہا ہوں۔ ان کتابوں کے دیکھنے کے بعد ہر ایک شخص۔ اس نتیجے پر پہنچتا ہے، جو آپ نے لکھا ہے وہ یہ ہے: ’’کیا اس کے حق میں یہ گمان ہوسکتا ہے کہ وہ اس گورنمنٹ محسنہ کا خیرخواہ نہیں۔ جو شکایتیں جا رہی تھیں گورنمنٹ کے پاس اور میں دعویٰ سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ یہ جورپورٹیں بھیجی جارہی ہیں کہ یہ مہدی سوڈانی کی طرح ایک فتنہ پیدا کرنے والا اور بغاوت کرنے 1195والا گروہ ہے یہ غلط ہے اور ہمارا جو یہ ہے جہاد کا جو صحیح تصور، عین اسلامی، وہ جماعت کے لوگوں میں پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایسی گورنمنٹ کے خلاف جنہوں نے سکھوں کے مظالم سے مسلمانوں کو نجات دلائی یہ غداری نہیں کریں گے۔‘‘
    (پھر اسی کے اندر آجاتا ہے) ڈلیسی پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں جن کے متعلق لکھتے ہیں: ’’یہ کتابیں درحقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ ان کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض میں کسی قدر مہذبانہ سختی عمل میں نہ آتی تو بعض جاہل تو جلد تر بدگمانی کی طرف جھک جاتے ہیں۔ سارے یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے۔ مگر اب ایسا خیال کوئی نہیں کر سکتا اوربالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیداہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے ہر ایک مذہب کے پیروں کو اپنے مذہب کی تائید میں عام آزادی دی ہے جس سے ہر ایک فرقہ برابر فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ پادریوں کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔‘‘
    اور اس میں پھر اگلے پیرے میں ہے۔ ’’امہات المؤمنین‘‘ کا ذکر جو نہایت ہی گندی اور فحش کتاب تھی اور بڑی بھڑکانے والی تھی اور یہ بتایا کہ: ’’میں نے یہ سختی اس لئے کی ہے کہ وہ لوگ جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں، ان کے… جوش میں آجاتے ہیں ان کا تدارک کیا جاسکے۔‘‘ پھر آگے لکھتے ہیں، اسی نمبر۲ کے نیچے، کہ:1196 ’’لیکن اسلام کا مذہب مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی مقبول القوم نبی کو برا کہیں۔ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو پاک اعتقاد عام مسلمان رکھتے ہیں اور جس قدر محبت اور تعظیم سے ان کو دیکھتے ہیں۔ وہ ہماری گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔ میرے نزدیک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرمائے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بناء پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلم کتابوں میں وارد نہ ہوسکے اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایساہو اور میں یقینا جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں…‘‘
    ’’تیسرا امر جو قابل گزارش ہے وہ یہ ہے کہ میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں۔ گورنمنٹ کے لئے ہر گز خطرناک نہیں (جو رپورٹیں جارہی تھیں) اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں، یعنی جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے، ان کو اپنا دستور العمل رکھے، وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام 1197تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت جس کی ایک کاپی اسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھیجی گئی تھی… یہ سچ ہے کہ میں کسی ایسے، مہدی، ہاشمی، قریشی، خونی کا قائل نہیں ہوں۔ جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں (یہاں سارے مسلمان نہیں مراد وہی مراد ہیں جن کا یہ اعتقاد تھا) بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دے گا۔ میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں، میں اپنے نفس کے لئے اس مسیح موعوود کا ادّعا کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہوگا اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس سچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔ میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگ جوئی اور فساد کا نہیں ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔‘‘ یہاں مسئلہ جہاد سے وہ مراد نہیں جو صحیح مسئلہ ہے، بلکہ وہ مراد ہے جس کے متعلق پہلے آیا ہے کہ غلط مسئلہ جہاد بعض ذہنوں میں پھیلا ہوا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: آگے Explain (واضح) کر دیتے…
    مرزاناصر احمد: ہاں جی۔
    جناب یحییٰ بختیار: آگے خود Explain (واضح) ہو جاتا ہے۔
    مرزاناصر احمد: آگے خود Explain (واضح) ہو جاتا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’… کیونکہ مجھے مسیح…‘‘
    1198مرزاناصر احمد: ’’اوّل یہ کہ خداتعالیٰ کو واحدہ، لاشریک (اپنے اصول بتائے ہیں) اوّل یہ (میرے جو اصول ہیں، میرے بڑے اصول پانچ ہیں) اوّل یہ کہ خداتعالیٰ کو وحدہ لاشریک اور ہر ایک منقفت موت اور بیماری اور لاچاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔ (اور یہ جو فقرہ جو ہے یہ بڑی کاری ضرب لگاتا ہے۔ عیسائی مذہب اوران کے خیالات پر… یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں) دوسرے یہ کہ خداتعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والا حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰa کو یقین رکھنا۔ تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگ جوئی کو اس زمانے کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع اورایسے خیالات کے پابند کو…‘‘
    سید عباس حسین گردیزی: … متعلق اور یہ بہت ساری باتیں ہوتی جاتی ہیں جو موضوع سے باہر ہوکر بیان فرمارہے ہیں۔
    Mr. Chairman: You may contact the Attorney- General as decided on the very first day.
    (جناب چیئرمین: آپ جیسا کہ پہلے روز فیصلہ ہوا تھا، اٹارنی جنرل سے رابطہ کریں)
    جناب یحییٰ بختیار: بیٹھ جائیے۔
    مرزاناصر احمد: میں شروع کر دوں؟
    جناب یحییٰ بختیار: کر دیجئے۔
    مرزاناصر احمد: ’’… اور باغیانیہ اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگ جوئی کو اس زمانے کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا… چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ 1199کی نسبت جس کے ہم زیرسایہ ہیں یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا۔ (مفسدانہ خیالات) اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا Law Abiding (امن پسند) پانچویں یہ کہ بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلح کاری کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق کو دنیا میں پھیلانا۔‘‘
    یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔ چوتھے… میں نے چھوڑ دیا بیچ میں سے:
    ۴… چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور یاوکلاء یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور شرفاء ہیں جو کسی سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب یا نوکری پر ہیں یا ان کے اقارب رشتہ دار اور دوست ہیں…
    ۵… میرا اس درخواست سے، جو بحضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں، مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کہی ہیں، عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالہ کی توجہات پر چھوڑ کر باالفعل ضروری استغاثہ کہ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں، میری نسبت 1200اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کے ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کہ وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم… اور میرے حقیقی بھائی… اور جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات… میں ہے۔ سب کو ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدا ناخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار خیرخواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس بات کا علاج تو غیرممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت (جن کی گواہیاں ہیں پہلے مان رہے سرکار انگریزی ایسے خاندان کی نسبت)… ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ (جو چٹھیاں جو ہیں) (ایک جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے) اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں…
    … اس میں خود کاشتہ پودا خاندان کے متعلق کہا ہے۔ بڑا واضح ہے یہاں۔ اس خاندان کے اس حصہ کے متعلق جس کے لئے اپنے ایک الہام میں یہ کہا کہ تیرے آباؤ اجداد سے تیرا تعلق قطع کر دیا جائے گا اور تیرے سے شروع کیا جائے گا:
    یہ یہ ’’خود کاشتہ پودا‘‘ بڑے واضح الفاظ ہیں یہ کہ صرف اپنے خاندان کے لئے کہا ہے۔ اپنے لئے یا جماعت کے لئے نہیں کہاگیا۔
    1201’’… وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق سے کام لے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم (اگلا صفحہ) کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں(اور درخواست یہ ہے) کہ تاہر ایک شخص بے وجہ (اتنی درخواست ہے سارے اشتہار میں) تاہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے…‘‘ آگے وہ نام ہیں۔ اگلا میں اگلا… تین ہیں ناں۔ یہ لے لیں۔ دوسرا…
    جناب یحییٰ بختیار: میں اس پہ جی کچھ…
    مرزاناصر احمد: جی۔

اس صفحے کی تشہیر