1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں( گیارھویں پیش گوئی … مرزاغلام احمد قادیانی کی عمر کی پیش گوئی)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 1, 2014

  1. ‏ اکتوبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,124
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں( گیارھویں پیش گوئی … مرزاغلام احمد قادیانی کی عمر کی پیش گوئی)
    جس کو سچ ثابت کرنے میں قادیانی ناکام رہے ہیں

    انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اﷲتعالیٰ اس کی عمر کا فیصلہ فرمادیتے ہیں اور جب وقت مقرر آجاتا ہے تو اسے اس دنیا سے واپس جانا پڑتا ہے۔ اس پہلو سے اگر کسی کی عمر بڑی ہو یا چھوٹی کوئی قابل تعجب بات نہیں ہوتی اور نہ اس پر کبھی اس نے مناظرہ ومباحثہ کے چیلنج دئیے ہیں اور نہ کسی نے اسے حق وباطل کا معیار بنایا ہے۔ کیونکہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں ہوتا۔ اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے خدا نے بتادیا ہے کہ اسے عمر کے اتنے سال ملیں گے اور وہ لوگوں کو اس کی اطلاع کرے اور اسے اپنے سچ اور جھوٹ کا معیار بنائے تو لازماً ہر شخص کو جستجو ہوگی کہ اس کی عمر دیکھی جائے اور اسے اس کے اپنے دعویٰ پر پرکھا جائے کہ آیا وہ اپنی بات میں سچ کہہ رہا ہے یا یہ کذب محض ہے۔
    مرزاغلام احمد قادیانی اس اعتبار سے واقعی اپنی مثال آپ تھا کہ وہ اپنے دعویٰ کو منوانے کے لئے بے تکی سی پیش گوئیاں کر دیتا تھا۔ جب لوگ اس پیش گوئی کی تحقیق میں اترتے اور اسے جھوٹا قرار دیتے تو مرزاغلام احمد قادیانی فوراً اپنی بات کو تاویل کر دیتا اور بحث پھر ایک دوسرا موضوع اختیار کر لیتی۔ سب دیکھتے کہ مرزاغلام احمد قادیانی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے اور اس کی پیش گوئی غلط ہوئی ہے۔ مگر نہ اسے توبہ کی توفیق ہوتی اور نہ اسے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت ہوتی۔
    مرزاغلام احمد قادیانی جب اپنی پیش گوئیوں میں ناکام ہوتا گیا تو اب اسے ایک نئی پیش گوئی کی سوجھی۔ یہ پیش گوئی اس کی اپنی عمر کی پیش گوئی تھی۔ اﷲتعالیٰ کے کسی نبی تو کجا خدا کے کسی مقربین نے بھی کبھی اس قسم کی کوئی پیش گوئی نہیں کی کہ میں اگر اتنی عمر پاکر مروں گا تو میں سچا ہوں گا ورنہ تم مجھے جھوٹا سمجھنا۔ لیکن قادیان کے مرزاغلام احمد قادیانی نے واقعی یہ پیش گوئی کر دی۔ مرزاقادیانی نے اعلان کیا کہ اﷲتعالیٰ نے اسے یہ خبر دی ہے: ’’وتری نسلاً بعیدا ولنحیینک حیٰوۃ طیبۃ ثمانین حولا اوقریباً من ذالک‘‘
    (ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ ص۴۴۳)
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے مرزاغلام احمد قادیانی کو اسی سال یا اس کے قریب قریب عمر پانے کی خبر دی۔ یہ محض خبر نہیں تھی۔ خدا کی طرف سے بشارت بھی تھی۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے۔ ’’فبشرنا ربنا بثمانین سنۃ من العمر وھو اکثر عددا‘‘ میرے رب نے مجھے بشارت دی ہے کہ تیری عمر اسی برس یا اس سے زیادہ ہوگی۔‘‘
    (مواہب الرحمن ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۲۳۹)
    مرزاغلام احمد قادیانی نے یہی بات اپنی دوسری کتاب (نشان آسمانی ص۱۳) پر بھی لکھی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے بعض معتقدین کو جب اس بشارت کی خبر ملی تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید مرزاغلام احمد قادیانی کو اس کا وہم ہوا ہو۔ مرزاقادیانی کو ان کی بات کی اطلاع ہوئی تو اس نے کہا کہ یہ وہم نہیں ہے۔ خدا نے اسے یہ بات کھلے لفظوں میں بتائی ہے۔
    ’’خدا نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ سال کم۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ۵ ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۲۵۸)
    مرزاغلام احمد قادیانی کے مخالفین کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کی کھلی تردید کی اور کہا کہ اﷲتعالیٰ اس قسم کی باتوں سے منزہ اور پاک ہیں۔ یہ سب مرزا کی اپنی دماغی اختراع ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو جب ان کی بات کی خبر پہنچی تو اس نے جواب میں لکھا کہ: ’’اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں ۸۰برس یا دوتین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔ تاکہ لوگ کمی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۸، خزائن ج۱۷ ص۴۴، اربعین نمبر۳ ص۵۲، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)
    قبل اس کے ہم مرزاقادیانی کی عمر پر کچھ بحث کریں۔ قارئین اس پر غور کریں کہ کیا یہ بات خدا کی ہوسکتی ہے؟ ایک ایسی وحی جس کے بھیجنے والے کو بھی پتہ نہیں کہ وحی پانے والے شخص کی عمر آخر کتنی ہوگی؟ اسی برس، دوچار کم یا دوچار زیادہ۔ کیا خدا کو معلوم نہیں تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کس تاریخ کو کس دن کتنے بجے کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ پر مرے گا؟ اگر اسے معلوم تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو صبح ساڑھے دس بجے آنجہانی ہوگا تو اس نے تاریخ وفات کیوں نہ بتائی۔ یہ دو چار کم یا دوچارزیادہ کا باربار مذاق کس لئے کیا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو یہ وحی اس نے بھیجی ہے جسے خود بھی معلوم نہیں کہ مرزاقادیانی کے پاس موت کا فرشتہ کب آنے والا ہے۔ مگر افسوس کہ مرزاقادیانی اپنی عمر کی بحث کو خواہ مخواہ سچ اور جھوٹ کا معیار بنانے لگ گئے اور یوں اپنے ہاتھوں اپنی رسوائی کا سامان تیار کر لیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اسی برس یا اس سے کم زیادہ عمر پانے کی پیش گوئی کی تھی۔ اب اس کی تشریح بھی اسی سے سنئے۔ اس نے لکھا کہ: ’’جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۶، خزائن ج۲۱ ص۲۵۹)
    یعنی اگر مرزاقادیانی ۷۴اور ۸۶ سال کے اندر مر گئے تو بات قابل فہم ہوگی اور اس کی پیش گوئی پوری سمجھی جائے گی اور اگر اس سے پہلے وہ آنجہانی ہوجائیں تو یہ اس کے جھوٹا ہونے پر ایک اور مہر ثابت ہوگی۔ صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ کسی شخص کی عمر معلوم کرنے کے لئے اس کی تاریخ ولادت اور سال وفات دیکھ لینا چاہئے۔ اس کے لئے کسی لمبے چوڑے علم کی ضرورت نہیں ہے۔
    مسلمانوں اور قادیانیوں میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو آنجہانی ہوئے ہیں۔ اب صرف یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ مرزاقادیانی کس سال پید ہوئے تھے؟ بجائے اس کے کہ ہم کچھ کہیں مرزاغلام احمد قادیانی کی اپنی تحریرات سے اس کا فیصلہ کر لیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے حالات میں لکھتا ہے: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی رشی وبروت کا آغاز نہیں تھا۔‘‘ (کتاب البریہ ص۱۵۹ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷)
    یہ مرزاغلام احمد قادیانی کی اپنی تحریر ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی پیچیدگی نہیں اور نہ تقریباً وغیرہ کے الفاظ ہیں نہ یہ لکھا ہے کہ یہ بات تخمینی ہے۔ صاف اور صریح لفظوں میں سال ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء لکھا ہوا ہے۔
    مرزاغلام احمد قادیانی نے اس بات کی تائید اس سے بھی کی ہے کہ جب اس کے والد مرزاغلام مرتضیٰ فوت ہوئے تو اس کی عمر ۳۴،۳۵برس کی تھی۔ اس نے کہا: ’’میری عمر ۳۴،۳۵برس کی ہوگی جب والد صاحب کا انتقال ہوا۔‘‘ (کتاب البریہ ص۱۷۴، خزائن ج۱۳ ص۱۹۲)
    مرزاغلام مرتضیٰ کا انتقال ۱۸۷۴ء میں ہوا۔ اس کا اقرار مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (نزول المسیح ص۱۱۶، خزائن ج۱۸ ص۴۹۴) پر کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہی ہوئی تھی۔ پھر مرزاغلام احمد قادیانی نے ایک اور عنوان سے بھی اپنے سال ولادت کی خبر دی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزابشیر احمد لکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔ ’’جب سلطان احمد پیدا ہوا اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‘‘
    (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۷۳، بروایت۲۸۳)
    یہ بات صرف مرزابشیر احمد ہی نہیں کہتے بلکہ قادیانیوں کے سب سے محتاط شخص اور مرزاقادیانی کے قریبی دوست مولوی شیر علی بھی کہتے ہیں۔ مرزابشیر احمد کا بیان ہے کہ اس کا بھائی یعنی سلطان احمد ۱۸۵۶ء میں پیدا ہوا۔ دیکھئے (سیرۃ المہدی حصہ دوم ص۱۵۰، روایت نمبر۴۶۷) اس حساب سے مرزاغلام احمد قادیانی ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا تھا۔
    مرزاغلام احمد قادیانی کا سال ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء تھا اور سال وفات ۱۹۰۸ئ۔ اب آپ حساب کر لیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے کل کتنی عمر پائی تھی؟ اگر سال ولادت ۱۸۳۹ء تسلیم کیا جائے تو کل عمر ۶۹سال بنتی ہے اور ۱۸۴۰ء مان لی جائے تو کل عمر ۶۸سال کی ہوئی ہے۔
    اب مرزاغلام احمد قادیانی پر ہوئی وحی اور بشارت نیز خدائی وعدہ کو پھر ایک مرتبہ پڑھ لیجئے۔ ’’تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔‘‘
    اگرچوہتر سال مانیں تو پانچ سال کم اور اسی سال مانیں تو پورے گیارہ سال کم اور چھیاسی سال مانیں تو پورے سترہ سال کم ہیں۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ الہامی پیش گوئی درست ہوئی یا یہ بھی دیگر پیش گوئیوں کی طرح جھوٹی ثابت ہوئی۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات پر قادیانیوں کو توبہ کر کے مسلمانوں کی صف میں شامل ہوجانا چاہئے تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا کذاب ہونا سب پر کھل چکا تھا۔ مگر افسوس کہ انہوں نے دجل وفریب کا راستہ اختیار کیا اور مرزاغلام احمد قادیانی کے سال ولادت میں تبدیلیاں کرنی شروع کردیں۔ جہاں جہاں مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سال ولادت لکھا اس کی تاویل کی۔ جہاں سے صحیح بات معلوم ہوتی تھی اس میں دجل کی راہ چلائی۔ جو لوگ خود اپنے ہاتھوں مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اس کا سال ولادت ۱۸۳۹ء بتاتے رہے بعد میں وہی لوگ اپنی تحریر بدلتے رہے۔ انہیں یہ تبدیلی کی ضرورت محض اس لئے پیش آئی کہ کسی نہ کسی طرح مرزاغلام احمد قادیانی کا سال ولادت وہ بتایا جائے جس سے مرزاقادیانی کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔ کیا یہ کھلا دجل نہیں؟ اور کیا یہ قادیانی عوام سے سچی بات کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش نہیں؟ بعض قادیانی کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سال ولادت اس وقت بتایا جب وہ مراحل نبوت طے کر رہا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی یہ بات پہلی زندگی کی ہو۔ جو ہمارے لئے حجت نہیں۔ ہاں ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد کی کوئی تحریر ہو تو قابل غور ہوسکتی ہے؟
    جواباً گذارش ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی کتاب ’’نزول المسیح‘‘ ۱۹۰۲ء کی تصنیف ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی عمر کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی تھیں۔ اس میں الہام وحی بشارت اور وعدہ کے الفاظ موجود ہیں۔ اگر قادیانیوں کو اس سے بھی تسلی نہ ہو تو ہم مرزاغلام احمد قادیانی کا وہ بیان بھی پیش کئے دیتے ہیں جو اس نے ۱۶؍مئی ۱۹۰۱ء کو گورداسپور کی عدالت میں مرزانظام الدین کے مقدمہ میں بطور گواہ کے دیا تھا۔ اس نے بھری عدالت میں کہا: ’’اﷲتعالیٰ حاضر ہے۔ میں سچ کہوں گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔‘‘
    (قادیانی اخبار الحکم ج۵ نمبر۲۹، منظور الٰہی ص۲۴۱، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی)
    مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات ۱۹۰۸ء ہے۔ اگر ۱۹۰۱ء میں مرزاقادیانی ساٹھ سال کے تھے تو ۱۹۰۸ء میں کتنے سال کے ہوئے۔ اتنی بات سے تو مرزاطاہر اور مرزا مسرور وغیرہ بے خبر نہ ہوںگے۔
    قادیانی علماء اور خلفاء نے مرزاغلام احمد قادیانی کی اس پیش گوئی میں تحریف وتاویل کے بڑے عجیب کرتب دکھائے ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کے سب اس پیش گوئی سے بہت پریشان ہیں اور یہ لوگ اسے جس قدر ۸۰سال والی پیش گوئی کے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ ان کے لئے اتنا ہی زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے اور ان سے بات بنائے نہیں بنتی… اور مرزاغلام احمد قادیانی کا کذاب ہونا اور روشن ہوجاتا ہے۔
    ۱۹۰۷ء میں ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ایک بحث میں کہا تھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی مورخہ ۴؍اگست ۱۹۰۸ء کو مر جائے گا۔ اس کا اعتراف مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ’’چشمہ معرفت‘‘ میں کیا ہے۔ دیکھئے (چشمہ معرفت ص۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۷) مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں کہا کہ ایسا ہرگز نہ ہوگا بلکہ اس کی عمر بڑھے گی اور یہ بات اسے خدا نے کہی ہے۔ مرزاقادیانی نے ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار شائع کیا کہ اسے خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے کہ: ’’اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا… اور آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بڑھادوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء میں چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھادوں گا۔ تامعلوم ہوکہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔‘‘
    (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱)
    مرزاغلام احمد قادیانی کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ اس کی عمر ۹۵سال تک ہو جائے گی اور خدا کے ایک مقرب نے اس پر آمین تک کہہ دی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک قبر پر ہے اور صاحب قبر اس کے سامنے بیٹھا ہے۔ مرزاقادیانی کو خیال آیا کہ اس مقرب سے ضروری ضروری دعائیں کراکر اس پر آمین کہلوا دی جائے تاکہ بات پکی ہو جائے۔ پھر اس نے دعائیں شروع کر دیں اور وہ آمین کہتا جاتا تھا۔ اب آگے پڑھئے:
    ’’اتنے میں خیال آیا کہ یہ دعا بھی مانگ لوں کہ میری عمر ۹۵سال ہو جائے میں نے دعا کی اس نے آمین نہ کہی میں نے وجہ پوچھی وہ خاموش رہا۔ پھر میں نے سخت تکرار اور اصرار شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس سے ہاتھ پائی کرتا تھا۔ بہت عرصہ کے بعد اس نے کہا اچھا دعا کرو میں آمین کہوں گا۔ چنانچہ میں نے دعا کی کہ الٰہی میری عمر ۹۵برس کی ہو جاوے۔ اس نے آمین کہی۔‘‘ (البدر مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۳ء ص۳۷۴، تذکرہ ص۴۹۷، طبع سوم)
    افسوس کہ مرزاقادیانی کی عمر ۹۵سال نہ ہوئی۔ ورنہ اس مقرب کے ساتھ ساتھ اس کے بھی وارے نیارے ہو جاتے۔ سو مرزامسرور وغیرہ بتائیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینہ کے اندر مر گئے یا نہیں؟ اور اشتہار شائع کرنے کے سات ماہ بعد آنجہانی ہوئے یا نہیں؟ خدا نے اس کے دشمنوں کی بات پوری کی۔ اس کی عمر نہیں بڑھائی۔ اسے جھوٹا کیا۔ قادیانی عوام اگر ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مرزاغلام احمد قادیانی کا مذکورہ بیان دیکھیں تو انہیں مرزاغلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے میں ذرا بھی شک نہیں رہے گا۔ مرزاقادیانی نے اپنی (اسی سال اور اس کے قریب والی) پیش گوئی کو نقل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کن بات بھی لکھی ہے: ’’اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیش گوئیاں بیان کی ہیں۔ درحقیقت میرے صدق یا کذب آزمانے کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ ص۴۴۲)
    مرزاغلام احمد قادیانی کی اس تصریح کی رو سے دیکھیں تو کسی شخص کو یہ فیصلہ کرنے میں دشواری نہ ہوگی کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہوئی اور وہ اپنی ہی تحریر کی رو سے جھوٹا ثابت ہوا۔ اب بھی اگر کوئی اسے جھوٹا نہ مانے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔
    خلاصہ بحث یہ کہ الہامی دعویٰ اور خدائی وحی اور بشارتوں کی روشنی میں مرزاقادیانی کی عمر کم ازکم ۷۴سال اور زیادہ سے زیادہ ۸۶سال ہونی چاہئے تھی۔ مگر مرزاقادیانی ۱۹۰۸ء کو بعمر ۶۸یا۶۹سال آنجہانی ہوگئے۔ اس لئے وہ سب پیش گوئیاں جو مرزاقادیانی نے اپنی عمر کے بارے خدا کے نام سے کی تھیں سب جھوٹی نکلیں اور مرزاقادیانی کا کذاب ہونا کسی دلیل کا محتاج نہ رہا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

اس صفحے کی تشہیر