1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں(چھٹی پیش گوئی … عبداﷲ آتھم عیسائی)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 1, 2014

  1. ‏ اکتوبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,127
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں(چھٹی پیش گوئی … عبداﷲ آتھم عیسائی)
    مرزا قادیانی نے عبداﷲ آتھم پادری سے امرتسر میں پندرہ دن تحریری مناظرہ کیا۔ جب مباحثہ بے نتیجہ رہا تو مرزا قادیانی نے اپنی شیخی جمانے کے لئے ۵؍جون ۱۸۹۳ء کو ایک عدد پیش گوئی دھر گھسیٹی جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے: ’’مباحثہ کے ہر دن کے لحاظ سے ایک ماہ مراد ہوگا۔ یعنی پندرہ ماہ میں فریق مخالف ہاویہ میں بسزائے موت نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔‘‘
    (جنگ مقدس ص۲۱۱، خزائن ج۶ ص۲۹۳)
    غرض مرزاقادیانی کی پیش گوئی کے مطابق عبداﷲ آتھم کی موت کا آخری دن مورخہ ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء بنتا تھا۔ اس دن کی کیفیت مرزاقادیانی کے فرزند مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان کی زبانی ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں کہ:

    قادیان میں محرم کا ماتم
    ’’آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی۔ مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی اتنا سخت کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور دوسری طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں۔ وہاں اکٹھے ہوگئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں اس طرح انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دئیے۔ ان کی چیخیں سوسوگز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ مگر اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔‘‘ (خطبہ مرزامحمود احمد مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۴۰ئ)
    اور اس قادیانی اضطراب پر مزید روشنی مرزاقادیانی کے منجھلے بیٹے بشیر ایم۔اے کی روایت سے پڑتی ہے کہ ابا جان نے آتھم کی موت کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کیں اور کون کون سے ٹوٹکے استعمال کئے۔ چنانچہ تحریر کرتے ہیں کہ: ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے میاں عبداﷲ سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفہ کی تعداد یاد نہیں رہی) میاں عبداﷲ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یا د نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی۔ جیسے ’’الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل‘‘ اور ہم نے یہ وظیفہ قریب ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کے پاس لے گئے۔ کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا دانے کسی غیرآباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیرآباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘ (سیرت المہدی ج۱ ص۱۷۸، روایت نمبر۱۶۰)
    ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مرزاقادیانی نے خدا کی طرف سے موت کی دھمکی دی اور جب دیکھا کہ پیش گوئی جھوٹی نکلی ہے تو شعبدہ بازوں کا ٹوٹکا استعمال کیا۔ مگر دشمن ایسا سخت جان نکلا کہ بجائے ۵؍ستمبر کے ۶؍ستمبر کا سورج بھی غروب ہوگیا۔ مگر وہ نہ مرا اور یہ پیش گوئی بھی جھوٹی نکلی۔ باوجود یہ کہ مرزاقادیانی نے حیلے بازی اور شعبدہ بازی سے کام لیا اور کتوں سے بھی بدتر مرشد ومرید کا پارٹ ادا کیا۔ مگر جھوٹا تھا خدا تعالیٰ نے ناکام کیا۔
  2. ‏ فروری 11, 2015 #2
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جولائی 2, 2014
    مراسلے :
    559
    موصول پسندیدگیاں :
    406
    نمبرات :
    63
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    تعلیم
    مقام سکونت :
    کشمیر ،جنت نظیر
    لیں جناب آتھم کی موت سے قبل ہوئے قادیانی ماتم کا سکین پیج حاضر ہے
    [​IMG]
    ’آتھم کے متعلق پیش گوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی۔ مگر وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب واضطراب سے دعائیں کی گئیں۔ میں نے تو محرم کا ماتم بھی اتنا سخت کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور دوسری طرف بعض نوجوان (جن کی اس حرکت پر بعد میں برا منایا گیا) جہاں حضرت خلیفہ اوّل مطب کیا کرتے تھے اور آج کل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھتے ہیں۔ وہاں اکٹھے ہوگئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں اس طرح انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دئیے۔ ان کی چیخیں سوسوگز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ مگر اس کہرام اور آہ وزاری کے نتیجے میں آتھم تو نہ مرا۔‘‘ (خطبہ مرزامحمود احمد مندرجہ الفضل قادیان مورخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۴۰ئ)
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر