1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں( پانچویں پیشگوئی … ’’محمدی بیگم‘‘ سے متعلق)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 1, 2014

  1. ‏ اکتوبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,124
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    مرزاقادیانی کی پیش گوئیاں( پانچویں پیشگوئی … ’’محمدی بیگم‘‘ سے متعلق)
    ’’محمدی بیگم‘‘ مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی مرزا احمد بیگ کی نوعمر لڑکی تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کو زبردستی اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ کیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک زمین کے ہبہ نامہ کے سلسلہ میں مرزا احمد بیگ کو مرزا قادیانی کے دستخط کی ضرورت پڑی۔ چنانچہ وہ مرزا قادیانی کے پاس گیا اور اس سے کاغذات پر دستخط کرنے کی درخواست کی۔ مرزا قادیانی نے اپنی مطلب برآری کے لئے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور احمد بیگ سے کہا کہ استخارہ کرنے کے بعد دستخط کروں گا۔ جب کچھ دن بعد دوبارہ احمد بیگ نے دستخط کرنے کی بات کی تو مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ دستخط اسی شرط پر ہوں گے کہ اپنی لڑکی ’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح میرے ساتھ کردو۔ خیریت اسی میں ہے۔ اس کی دھمکی کے الفاظ یہ ہیں: ’’اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص یعنی احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے پیغام دے اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرلے اور تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے تم مان لوگے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کروگے تو خبردار ہو مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام درخزائن ج۵ص۵۷۲،۵۷۳)
    ان دھمکیوں وغیرہ کا منفی اثر یہ ہوا کہ مرزا احمد بیگ اور اس کے خاندان والوں نے ’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح مرزا قادیانی کے ساتھ کرنے سے صاف انکار کردیا۔ مرزا قادیانی نے خطوط لکھ کر اشتہار شائع کرواکر اور پیش گوئیاں کرکے حتیٰ کہ منت سماجت کے ذریعہ ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ کسی طرح اس کی آرزو پوری ہوجائے۔ لیکن ’’محمدی بیگم‘‘ کا نکاح ایک دوسرے شخص مرزا سلطان محمد سے ہوگیا اور مرزا قادیانی کے مرتے دم تک بھی محمدی بیگم اس کے نکاح میں نہ آئی۔
    اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے جو جھوٹی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشین گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام کا ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہوجائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔‘‘
    (اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء تبلیغ رسالت ج۱ص۶۱ حاشیہ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۰۲حاشیہ)
    اس پیشین گوئی کی مزید تشریح کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے کہا: ’’میری اس پیشین گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقینا زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی سال کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام در خزائن ج۵ص۳۲۵)
    اس بارے میں عربی الہام اس طرح ہے: ’’کذبوا بایتنا وکانوا بہا یستہزؤن فسیکفیکھم اﷲ ویردھا الیک لاتبدیل لکلمت اﷲ ان ربک فعال لمایرید۰ انت معی وانا معک عسیٰ ان یبعثک ربک مقاماً محمودا‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام در خزائن ج۵ص۲۸۶،۲۸۷)
    علاوہ ازیں (انجام آتھم ص۳۱) پر اور ’’تذکرہ‘‘ میں متعدد جگہ یہ پیش گوئی مختلف الفاظ میں مذکور ہے اور اﷲ کی قدرت کہ ہر اعتبار سے مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ کوئی ایک بھی دعویٰ سچا نہیں ہوا۔ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال میں تو کیا مرتا مرزا قادیانی کے مرنے کے چالیس سال بعد تک زندہ رہا اور ۱۹۴۸ء میں وفات پائی اور خود محمدی بیگم بھی ۱۹۶۶ء تک زندہ رہ کر مرزا قادیانی کے کذاب اور دجال ہونے کا اعلان کرتی رہی اور ۱۹؍نومبر۱۹۶۶ء کو لاہور میں بحالت اسلام اس کی موت واقع ہوئی۔
    خلاصہ یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ذلیل ورسوا اور خائب وخاسر ہونے کا بہترین انتظام فرمادیا۔ آج کوئی بھی صاحب عقل محمدی بیگم کے واقعہ کو دیکھ کر مرزا قادیانی کے جھوٹے اور اوباش ہونے کا بآسانی یقین کرسکتا ہے۔ فالحمدﷲ!

    مرزا قادیانی کے مریدوں کا موقف
    جب مرزا قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں بمرض ہیضہ آنجہانی ہوگیا (حیات ناصرص۱۴) اور ’’محمدی بیگم‘‘ سے نکاح نہ ہونا تھا نہ ہوا تو قادیانیوں نے جواب گھڑا کہ نکاح جنت میں ہوگا۔ اس پر کہا گیا کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائی تھی تو مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ میرے منکر جہنم میں جائیں گے تو کیا مرزا قادیانی جہنم میں برأت لے کر جائے گا۔ تو اس پرمرزائیوں نے جواب تیار کیا کہ یہ پیش گوئی متشابہات میں سے ہے۔ غالباً قادیانیوں کو یہی معلوم نہیں کہ پیش گوئی رب کا وہ وعدہ ہوتا ہے۔ جس کا نبی تحدی سے اعلان کرتا ہے۔ جو ضرور پورا ہوتا ہے۔ مگر (معاذاﷲ) مرزا قادیانی کا خدا بھی مرزا قادیانی سے جھوٹے وعدے کرتا تھا۔
    اور محمدی بیگم اپنے خاوند ’’مرزا سلطان محمد‘‘ کے گھر تقریباً چالیس سال بخیر وخوبی آباد رہی اور اب لاہور میں اپنے جواں سال ہونہار مسلمان بیٹوں کے ہاں ۱۹؍نومبر۱۹۶۶ء کو انتقال فرماگئیں۔
    (ہفتہ وار الاعتصام لاہور اشاعت ۲۵؍نومبر۱۹۶۶ئ)

اس صفحے کی تشہیر