1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

مرزاغلام احمد قادیانی

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 3, 2015

  1. ‏ مارچ 3, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مرزاغلام احمد قادیانی
    یہ ضلع گورداسپور قصبہ قادیان میں مغل خاندان کا بقول خود گمنام آدمی تھا۔ روزگار کے سلسلہ میں ملازم ہوا۔ مگر ضرورۃ کے تحت مختاری کے امتحان میں شریک ہوا۔ جس میں فیل ہوگیا۔ اس زمانے کے مطابق اردو، عربی، فارسی جانتا تھا۔ جب یہ مختاری کے امتحان میں فیل ہوا تو اس نے ایک اور طریقہ اختیار کیا۔ عیسائیوں اور آریوں سے مباحثات شروع کر دئیے اور بعض کتابوں کو چھاپنے کے اشتہار شائع کرکے عوام سے خوب پیسے بٹورے۔ مبلغ اسلام بنا پھر مجدد مامور بنا۔ اس کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور مسیح موعود ہونے کی سختی سے تردید کی۔
    (ازالتہ الاوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)
    مگر چند ہی دنوں کے بعد مسیح موعود بن بیٹھا۔ یہ اس کی اپنی گھڑی ہوئی اصطلاح ہے۔ کتابوں میں صرف مسیح یا عیسیٰ ابن مریم کا ذکر آتا ہے۔ پہلے پہل اس نے دعویٰ نبوت کا انکار کیا۔ بلکہ اس کو کفر ٹھہرایا۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
    مگر جب خاصے چیلے چانٹے مل گئے تو نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اپنے معجزات سرورعالم ﷺ سے بھی زیادہ بتائے اور دس لاکھ تک کی گپ لگادی۔ اس کو علم تھا کہ مسلمان قوم میں نبی ہونا مشکل ہے تو اس نے اپنا شوق پورا کرنے کے لئے نزول مسیح ابن مریم والی 2440حدیث کی آڑ لی مگر چونکہ تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ چلا آرہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہوکر دجال کو قتل کر کے دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ اس لئے اس کو حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن وحدیث سے وفات شدہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور پوچ دلائل سے چند فرنگی زدہ افراد کو اپنا پیرو بنایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے اور خود مسیح بننے کے لئے اس کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ اس نے انگریزوں کے لئے دعائیں کیں اور اشتہارات چھاپ چھاپ کر اور ممانعت جہاد کے مضامین لکھ لکھ کر تمام مسلم ممالک میں پھیلائے۔ اب اس کو روپوں کی کیا کمی ہوسکتی تھی۔
    مگر اس کو علمائے حق کے مقابلے سے بڑی ذلت اٹھانی پڑی۔ اتنے میں اس کو ایک نابالغ بچی مسماۃ محمدی بیگم سے نکاح کا شوق چرایا اور حضور ﷺ کی نقل اتارتے ہوئے اپنی اس وحی کا اعلان کر دیا۔ زوجنٰکہا ہم نے (عرش پر یا آسمان پر) تمہارا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔ شاید اسی نقل اتارنے کی اس کو سزا ملی اور محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے اس کی شادی سلطان محمد نامی شخص سے کر دی۔ اس کے بعد مرزاجی پر بڑے بڑے خودساختہ الہامات ہوتے رہے کہ باکرہ ہو یا ثیبہ اس کو تمہاری طرف لوٹاؤں گا۔ مگر اس کی بست سالہ جدوجہد اور وحی کی شکل میں ساری پیش گوئیاں غلط ہوئیں۔ اگرچہ مرزاجی نے اعلان کیا کہ اس کے ساتھ میرا نکاح تقدیر مبرم اور اٹل ہے اور اس کے پورے نہ ہونے کی شکل میں میں بد سے بدتر اور جھوٹا ہوں گا۔ مگر آخرکار ۱۹۰۸ء میں یہ نامراد چل بسا۔ اس پیش گوئی نے اس کی لٹیا ڈبودی اور جھوٹی مسیحیت کا بھانڈا پھوڑ کے رکھ دیا۔
    یہ انگریز کا خاص وفار آدمی تھا۔ جہاں جہاں انگریز گیا اس کی تحریک بھی گئی۔ ترکی، افغانستان اور حجاز میں نہ جاسکی۔ مصروشام وغیرہ میںجب تک فرنگی اثرات تھے یہ 2441دندناتے رہے۔ جب انقلاب آیا ان ممالک نے ان کو خلاف قانون کر ڈالا اور ان کے دفاتر ضبط کر لئے۔ یہودی فلسطین حیفہ میں اب تک ان کا دفتر موجود ہے۔
    حال ہی میں عالم اسلام کے نمائندوں نے حجاز مقدس میں مرزائیوں کے دعویٰ اسلام کی قلعی کھول دی۔ وائسرائے ہند نے چوہدری ظفر اﷲ خان مرزائی کو اپنی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا۔ اب مرزائیوں کو مسلمانوں کے پھنسانے کا خوب موقع ملا۔ پاکستان بنا تو چوہدری ظفر اﷲ خان وزارت خارجہ کا قلمدان تھامے ہوئے تھے۔ مختلف آسامیوں پر مرزائیوں کا قبضہ کرایا گیا۔ انگریز گیا توامریکی حکومت کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ پاکستان میں مذہب کے علمبردار مرزائی ہیں۔ خواجہ ناظم الدین مرحوم نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں یہ بیان دیا تھا کہ اگر میں ظفر اﷲ خان کو نکال دوں گا تو امریکہ گندم نہیں دے گا۔ (منیر تحقیقاتی رپورٹ ص۳۱۹)
    چوہدری صاحب مذکور نے بیرونی دنیا میں سفارتخانوں کے ذریعے مرزائی بھر دئیے۔ خداخدا کر کے یہ ملک سے باہر گیا تو بعض دوسرے مرزائیوں نے گل کھلائے۔ آخر کار سیاسی حرکات کی وجہ سے ائیرمارشل ظفر چوہدری کو محترم ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیراعظم پاکستان نے علیحدہ کر کے کروڑوں مسلمانوں کو مطمئن کیا۔

اس صفحے کی تشہیر