1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات (تھیٹر دیکھنا)

محمدابوبکرصدیق نے 'قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 28, 2014

  1. ‏ ستمبر 28, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,124
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    مرزاغلام احمد قادیانی کے حالات (تھیٹر دیکھنا)
    ’’حضرت مرزاقادیانی کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپورتھلہ سے محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا اور منشی صاحب اور میں۔ ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا۔ جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے۔ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہ فرمایا۔ منشی صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے۔ مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ حضرت کا کچھ نہ فرمانا یہ بھی ایک تنبیہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ مجھ سے ذکر کریں گے۔‘‘ (ذکر حبیب، مفتی صادق قادیانی ص۱۸)
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  2. ‏ مارچ 25, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,124
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    تھیٹر اور سینما میں فرق کیا ہے
    مزید اس ویب سائیٹ سے آپ دیکھ سکتے ہیں۔
    سینما.png
    • Like Like x 1
  3. ‏ مارچ 26, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    رکنیت :
    ‏ جون 29, 2014
    مراسلے :
    15,772
    موصول پسندیدگیاں :
    3,124
    نمبرات :
    113
    جنس :
    مذکر
    پیشہ :
    بائیومیڈیکل انجینیئر
    مقام سکونت :
    لاہور
    جب ہم نے یہ پوسٹ لگائی تو ایک قادیانی مربی نے اس پوسٹ کے جواب میں یہ والی پوسٹ لگائی تھی

    323.jpg

    حدیث میں موجود لفظ "قینۃ"کی وضاحت اور مرزا قادیانی کا تھیٹر جانا
    امتِ قادیانیہ ایک واحد قوم ہے کے ان کے سامنے جب بھی مرزا غلام قادیانی کے لچھڑپنی بیان کی جاتی ہے تو اس پر پردہ ڈالنے کے لیے اور واقعہ کو خورد برد کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر طعن کرنا شروع کر دیں گے ۔حالانکہ مرزا قادیانی کے غیر فطرتی افعال کا قرآن و حدیث سے دور دور کا بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔
    قادیانی مربیوں کو جب مرزا غلام قادیانی کے تھیٹر جانے والے واقعہ کی جانب متوجہ کیا گیا تو تمام قادیانی آگ بگولہ ہو گئے اور اسی آگ میں جلتے ہوئے انہوں نے معاذ اللہ احادیث رسول ﷺ پر طعن کرنا شروع کر دیا اور ایک ایسی مبہم حدیث کا سہارا لے کر مرزا کو بچانے کی کوشش کی کہ جس کا ترجمہ و مفہوم بالکل متضاد ہے اور اس حدیث کا مرزا قادیانی کے تھیٹر (سینما گھر)جانے سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے
    علامہ زمخشری بیان کرتے ہیں کہ :القینۃ الامۃ غنت ام لا ( قینۃ لونڈی کو کہتے ہیں ، وہ گانا گائے یا نہ گائے)بحوالہ : الفائق ، ج:2 ، ص:190
    علامہ ابن منظور بھی لسان العرب میں یہی معنی بیان کرتے ہیں۔بحوالہ : الفائق ، ج:17 ، ص:231
    علامہ ابن منظور آگے چل کر "لیث" کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں:غنا کا یہ عمل لونڈیاں کرتی تھیں ، آزاد عورتیں نہیں۔ اور "القینۃ" دراصل خدمت گزار لونڈی اور غلام کو "قین" کہتے تھے۔
    قینۃ کی اس مختصر وضاحت کے بعد پوری حدیث شریف آپ کے سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ حدیث کا سیاق و سباق کیا ہے ،گانا باجا عرب کا رواج تھا اور گانے کا عمل عمومی طور پر لونڈیا ں کیا کرتی تھیں۔مذکورہ حدیث کے آخر میں واضح طور پر نبی مکرم ﷺ نے اس گانے باجے کی نفی کی اور اس کو ناپسندفرمایا ۔جبکہ مرزا غلام قادیانی تھیٹر گئے اور وہ تھیٹر پاک و ہند میں کس طرح کے ہوتے ہیں اور وہاں کیا کیا ہوتا ہے یہ سبھی جانتے ہیں ۔

    55.jpg

اس صفحے کی تشہیر