1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(محدث ناقص نبی ہوتا ہے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 1, 2014

  1. ‏ دسمبر 1, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (محدث ناقص نبی ہوتا ہے)
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! مرزاغلام احمد کے بارے میں آپ نے کل یہ فرمایا تھا کہ وہ امتی نبی ہیں۔ پرسوں بھی یہ بات ہوئی ہے اور سوال یہ تھا کہ باقیوں سے افضل ہیں۔ باقی نبیوں سے کہ نہیں؟ آپ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ سے افضل ہیں۔ یہی بات چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آپ نے یہ کہا کہ ان کی افضلیت ہے اور ان کی جو وجوہات آپ نے دیں، یہ جب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں آتا ہے کہ: ’’امتی نبی ناقص نبی ہوتا ہے۔‘‘
    اس کا کیا مطلب ہے؟
    مرزاناصر احمد: امتی نبی…؟
    جناب یحییٰ بختیار: ناقص۔
    مرزاناصر احمد: … ناقص نبی؟کون سا حوالہ ہے؟ ’’یہ حقیقت الوحی‘‘ ہے؟
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! ’’ازالہ اوہام‘‘ ہے۔ یہ حصہ دوم ہے جی! Page 407 ایڈیشن، میرا خیال ہے، یہی ہوگا۔
    528مرزاناصر احمد: پڑھ دیں۔ آپ پڑھ دیں یا میں پڑھ دیتا ہوں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں یہ ذرا آپ کو پڑھے دیتا ہوں…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں! آپ پڑھ دیں۔ یہاں ملی نہیں کتاب۔
    جناب یحییٰ بختیار: ’’یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔ ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے۔ امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷)
    مرزاناصر احمد: یہاں امتی نبی کی بحث نہیں ہے۔ یہاں تو محدث کے متعلق فرمارہے ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آگے کہتا ہے: ’’وہ محدث جو ناقص قسم کا…‘‘
    مرزاناصر احمد: نہیں، ہر محدث نبی نہیں ہوتا۔ ہر نبی محدث ہوتا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور وہ یہ جو یہاں ہے…
    مرزاناصر احمد: یہاں محدث کی بات ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی! محدث کی بات ہے: ’’ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے…‘‘ غلام احمد صاحب بھی تو محدث تھے؟
    مرزاناصر احمد: امتی نبی تھے۔
    جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی تھے اور محدث بھی تھے؟
    مرزاناصر احمد: ہاں! حضرت محمدﷺ بھی محدث تھے۱؎۔
    529جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہی میںکہہ رہا ہوں ناں جی کہ آپ اس Sense (معنی) میں کہ…
    مرزاناصر احمد: یعنی وہ دونوں دیئے،جو عام ہے کہ ہر نبی محدث ہے لیکن ہر محدث نبی نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، میں یہی کہہ رہا ہوں۔ یہاں جو پھر وہ کہتے ہیں:’’امتی بھی ہوتا ہے اورناقص طور پر نبی بھی امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی تابع شریعت، رسول اﷲ اور مشکوٰ ۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتاہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نبیوںکا سا معاملہ اس سے کرتاہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۶۹، خزائن ج۳ص۴۰۷)
    مرزاناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہاں سے آپ دیکھ لیجئے گا: ’’لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتا اور جو شخص کامل طورپر رسول اﷲؐ کہلاتاہے…‘‘(ایضاً)
    مرزاناصر احمد: یہاں نکلی نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں بھیج دیتاہوں۔
    مرزاناصر احمد: ہاں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) جاؤ لے آؤ…کتاب لی؟ (اٹارنی جنرل سے) یہ جو اگر اس صفحہ کو شروع سے پڑھا جائے تو(مسئلہ) حل ہو جاتا ہے۔ یہ خود ہی اپنے اندر حل ہوجاتاہے۔ ’’پھر صفحہ ۴۲۵ میں فرماتے ہیں…‘‘(یہ اعتراض جو ہے، جس کتاب کے اعتراضات کا جواب دے رہے ہیں یہ اس کا ہے صفحہ ۴۲۵) ’’اس بات پرتمام سلف
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۱؎ دجل اور سفلہ پن کی حد ہوگئی۔ سوال مرزاقادیانی ملعون قادیان کے متعلق ہے۔ لیکن مرزاناصر کمینگی پر اتر آیا۔ حضور نبی کریمﷺ کو اس میں لاکھڑا کیا۔ حالانکہ کروڑوں محدث خود آنحضرتﷺ کے نقش پا کا صدقہ ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    وخلف کا اتفاق ہوچکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہو گا تو امت محمدیہ میں داخل کیاجائے گا اورفرماتے ہیں کہ قسطلانی نے بھی تومذاہب530 الدنیا میں یہی لکھا ہے اور عجیب تر یہ ہے کہ وہ امتی بھی ہوگا اور نبی بھی لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتا۔‘‘
    یہاں ’’صاحب نبوت تامہ‘‘ سے مراد مستقل نبی ہے: ’’ہمارایہ عقیدہ ہے کہ آنحضرتa سے قبل شارع انبیاء کی امتوں میں جو غیر شارع انبیاء پیدا ہوئے جیسا کہ نبی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے بعد ہزاروں کی تعدادمیں غیر شارع انبیاء پیدا ہوئے۔ وہ بنی اسرائیل کے نبی توتھے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامل اتباع کے نتیجے میں ان کومہرنبوت کی نہیں ملی بلکہ اﷲ تعالیٰ نے،قطع نظر اس کے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہیں،ان کو اپنی حکمت کاملہ سے نوع انسانی( نہیں بلکہ یہاں یہ ہوگاکہ بنی اسرائیل) کی اصلاح کے لئے بطو ر نبی کے بھجوایا۔‘‘
    اس میں ایک فرق ہے، وہ ہے باریک اورلمبا ہے، میں صرف اشارہ کروںگا۔ وہ یہ کہ ہر نبی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں پیدا ہوا،بنی اسرائیل میں اس نے کسی نہ کسی چھوٹے یابڑے معاملہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کی اصلاح کر دی اور یہ چیز نمایاںطورپر حضرت مسیح کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں تھے۔اسرائیلی نبی تھے۔ لیکن حضرت موسیٰ نے انتقام پرزور دیا،یہ ان کی شریعت کا حصہ ہے، انتقام لینا۔ کیونکہ اس وقت کے حالات،کمزوری کے اور ایک بزدلی جو اس وقت بنی اسرائیل میں پیدا ہوگئی تھی۔ اس کاتقاضا یہ تھاکہ ان کو یہ حصہ ایک دیا جائے الٰہی تعلیم کا انتقام لینا ہے تمہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں حضرت مسیح علیہ السلام جو موسوی امت میں سے تھے۔ انہوں نے جب وہ انتقام والا جذبہ جو تھا وہ غلط Extreme 531 تک پہنچ گیا۔ انہوں نے آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے خلاف، ان کی ہدایات کے خلاف یہ تعلیم دی کہ اگر کوئی تیری ایک گال پرتھپڑ لگاتا ہے تو دوسری بھی آگے کر دو۔ میں وہ موسوی شریعت کے تابع اور یہ بنی اسرائیل کے نبی اور ان کی کوئی شریعت نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت کا ایک مکمل حصہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا،اس کومنسوخ نہیں کیااور یہ جو باریک باریک فرق انہوں نے حالات کی تبدیلی سے اپنے وعدوں میں کئے وہ بتائے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کامل اتباع کے نتیجے میں ان کو نبوت نہیں ملی۔ کیونکہ کامل اتباع ہی ہمیں نظرنہیں آتی۔ لیکن نبی اکرمa کی بعثت کے بعد اورقرآن عظیم کے نزول کے بعد ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ مل گیا۔ اب اس قسم کا مستقل نبی نہیں پیدا ہوسکتا امت محمدیہ میں جو ایک شوشہ بھی قرآن کریم کی ہدایات میں تبدیلی پیداکرے۔ اس واسطے امت محمدیہ میں امتی نبی آ سکتا ہے،غیر شرعی،مستقل حیثیت کا نبی نہیں آسکتا۔ روز یہی یہ بحث ہے جو مسیح علیہ السلام کو نبوت ملی بنی اسرائیل کی امت،وہ امتی نبی کی حیثیت نہیں تھی، بلکہ مستقل حیثیت نبی کی تھی۔ تو وہ اس امت میں نہیں آ سکتے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،مرزاصاحب!میںآپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام امتی نبی نہیں تھے، کیونکہ ان کی شریعت آگئی تھی اپنی۔
    مرزاناصر احمد: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی شریعت نہیں۔ کوئی بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ وہ صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے تابع نبی تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور ان کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور صاحب شریعت نبی ہیں؟
    532مرزاناصر احمد: ہاں، ان سے پہلے۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام امتی نبی ہیں؟
    مرزاناصر احمد: امتی نبی نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: شرعی بھی نہیں ، تو امتی بھی نہیں ہیں؟
    مرزاناصر احمد: غیر شرعی، غیر امتی نبی ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: غیرشرعی غیر امتی نبی ہیں؟
    مرزاناصر احمد: غیرامتی نبی ہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ان کا Status (مقام) کیا ہوگا؟امتی نبی سے بلند ہوگا؟
    مرزاناصر احمد: نہیں،نہیں،ان کا Status امتی نبی سے…
    جناب یحییٰ بختیار: مختلف ہوگا؟
    مرزاناصر احمد: علیحدہ ہوگا،مختلف ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ایک امتی نبی جو ہوتا ہے…
    مرزاناصر احمد: یہاں یہ امتی نبی کی نہیں بحث…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کو…
    مرزاناصر احمد: نہیں،یہ جو ہیں ناں الفاظ…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتاہوں کہ ان کو ناقص کہاگیا۔
    مرزاناصر احمد: کن کو؟
    جناب یحییٰ بختیار: امتی نبی جو ہے وہ ناقص ہوگا مقابلتاً اس نبی کے جو اپنی شرع لائے؟
    533مرزاناصر احمد: یہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ناقص کا لفظ نہیں آیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کے متعلق نہیں۔کیونکہ جو امتی ہے اس کے متعلق پوچھا ہے آپ سے۔
    مرزاناصر احمد: یہاں…نہیں، میں اس کا جواب دیتاہوں،مختصراً۔ امید کرتاہوں کہ خدا مجھے توفیق دے گا آپ سمجھ جائیںگے۔
    یہاں امتی نبی کا نہیں ذکر،اس بحث میں جو یہاں ہے ہمارے سامنے۔ یہاں بانی سلسلہ احمدیہ ان محدثین کی بات کررہے ہیں۔ جن کے متعلق نبی اکرمa نے فرمایا:’’کانبیاء بنی اسرائیل‘‘کہ وہ نبی تو نہیں تھے لیکن ان کا مقام بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانندتھا۔ذرا انتظار کریں۔ میں یہاں یہ بتادیتاہوں آپ کو: ’’ہاں محدث جو مرسلین میں سے ہے امتی بھی ہوتا ہے (یہ امت محمدیہ کا ذکرآگیا ناں) اور ناقص طورپر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بہ کلی تابع شریعت رسول اﷲ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتاہے اورنبی اس وجہ سے کہ (یہ فقرہ بڑا اہم ہے اور نبی اس وجہ سے کہ) خدا تعالیٰ نبیوں کا سامعاملہ اس سے کرتاہے۔‘‘
    خدا اس کو نبی نہیں کہتا،نہ نبی بناتا ہے۔ لیکن نبیوں کا سامعاملہ اس سے کرتاہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:’’کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ یعنی وہ نبی نہیں ہوںگے لیکن کانبیاء ہوںگے،نبیوں کی طرح ہوںگے۔ نبیوں کا سا معاملہ ان سے کیاجائے گا اور یہاں بھی یہی فقرہ ہے۔ تو اس میں ان محدثین کا ذکر ہے۔ جن534 کی طرف نبی اکرمa کی حدیث اشارہ کرتی ہے کہ میری امت میں ایسے ایسے مقربین میرے اور میرے متبعین پیدا ہوںگے جو علماء ،امتی کانبیاء بنی اسرائیل،میری امت کے علماء کا ایک گروہ ایسا ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوگا۔نبی نہیں ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ناقص نبی جوہے…
    مرزاناصر احمد: ناں، ناں ’’کانبیاء بنی اسرائیل‘‘
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو’’ناقص نبی‘‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ان کے بارے میں ہوا ہے۔ اپنے بارے میں نہیں کہہ رہے وہ؟
    مرزاناصر احمد: نہیں،یہ تو محدثین کی بات ہو رہی ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یعنی ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ ناقص نبی ہوں گے؟
    مرزاناصر احمد: کانبیاء بنی اسرائیل ہوںگے۔ ان سے انبیاء کا سا معاملہ ہو گا۔ ان کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کانبیاء کا سامعاملہ کرے گا۔ لیکن انبیاء نہیں ہوںگے وہ۔
    جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ جو ہے ناں’’ناقص نبی‘‘مجھے یہ Confusion (پریشانی) ہوئی کہ…
    مرزاناصر احمد: نہیں وہ یہی نقص ہے ناں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرا خیال تھا کہ شاید اسلام میں بھی اورنبی گزرے ہیں۔
    مرزاناصر احمد: ہاں، نہیں، نہیں،کانبیاء بنی اسرائیل۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی اور کوئی نبی نہیں؟
    مرزاناصر احمد: ہاں،اورکوئی نبی نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: ناقص قسم کے یا کسی کیٹگری کے؟
    535مرزاناصر احمد: نہیں،نہیں،اس کو کانبیاء بنی اسرائیل کو ’’ناقص نبی‘‘ کا فقرہ کہہ گے…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں،وہ یعنی وہ لفظ’’ناقص‘‘استعمال ہوا ہے۔ اسی لئے میں نے آپ کو توجہ دلائی ہے۔
    مرزاناصر احمد: لیکن آگے جاکر اس کو واضح کر دیاہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: وہ نبی نہیں ہیں؟

اس صفحے کی تشہیر