1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

مجدد کسے کہتے ہیں اور اس کی شرائط کیا ہیں ؟

ثناء شہزادی نے 'مفتی صاحب سے سوال پوچھئے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 26, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ جولائی 26, 2014 #1
    ثناء شہزادی

    ثناء شہزادی رکن ختم نبوت فورم

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    مجھے یہ پوچھنا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں "مجدد"کسے کہتے ہیں ؟کیا قرآن و حدیث میں اس کو کوئی ثبوت ملتا ہے ؟اور مجدد کون شخص ہو سکتا ہے کیا علامات ہیں ؟مجھے مکمل تفصیلات چاہیں مذید یہ کہ چودہ سو سال میں کتنے مجدد آئیے ہیں ؟
    • Like Like x 1
    • Old Old x 1
  2. ‏ اگست 17, 2014 #2
    مفتی کاشف رضوی

    مفتی کاشف رضوی رکن ختم نبوت فورم

    الجواب بعون الوھاب​
    اللہ عزوجل نے انسان کی رشدو ہدایت کے لئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔انبیا ٔ کرام کی تشریف آوری کا یہ مقدس سلسلہ خاتم انبیا ٔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپ اللہ کے آخری نبی، قرآن اللہ کی آخری کتاب اور اسلام آخری شریعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داری صحابہ اکرام پہ آئی، جسے انہوں نے بحسن و خوبی نبھایااور عرب سے لے کر عجم تک دین اسلام کا پرچم بلند کیا۔ اس کے بعد شجرہ اسلام کی آبیاری کا فریضہ علما ٔ اسلام نے نبھایا۔
    شیطان اور دشمنان اسلام کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ دین اسلام کی مقدس تعلیمات کو مسخ کر دیا جائے، لھٰذا یہ مسلمانوں کے درمیان بدعت، بد عقیدگی، و گمراہی پھیلاتےہیں ، رفتہ رفتہ یہ بدعات جن کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں،مسلمانوں میں گھر کر جاتی ہیں اور وہ اصل تعلیمات نبوی سے دور ہو جاتے ہیں۔ایسے پر فتن دور میں اللہ عزوجل مجدد کو بھیج تا ہے، جو ان تمام بدعات و خرافات اور بدعقیدگی کا خاتمہ کر کے دین اسلام کو صاف و شفاف کرتا ہے۔دھیان رہے کہ مجدد سے مراد کوئی فرد واحد ہی نہیں بلکہ جماعت، حکام،بادشاہ وغیرہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا (یقینًا اﷲ تعالٰی اس امت کے لیے ہرسو برس پر ایک مجدد بھیجتا رہے گا جو ان کا دین تازہ کرے گا)(ابودائود۔كتاب الملاحم۔باب مَا يُذْكَرُ فِي قَرْنِ الْمِائَةِ)

    مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: یعنی اس امت کی یہ خصوصیت ہے کہ یوں تو اس میں ہمیشہ ہی علماء اور اولیاء ہوتے رہیں گے لیکن ہر صدی کے اول یا آخر میں خصوصی مصلحین پیدا ہوتے رہیں گے جو سنتوں کو پھیلائیں گے،بدعتوں کو مٹائیں گے،غلط تاویلوں کو دور کریں گے،صحیح تبلیغ کریں گا۔خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بہت لوگوں نے اپنے خیال کے مطابق مجدّد گنائے ہیں۔کہ پہلی صدی میں فلاں،دوسری میں فلاں،بہت مفسد وں نے بھی اپنے آپ کو مجدّد کہا،مرزا غلام احمد قادیانی پہلے مجدّد ہی بنا تھا پھر نبی۔حق یہ ہے کہ اس سے نہ کوئی خاص شخص مراد ہے نہ کوئی خاص جماعت،کبھی اسلامی بادشاہ،کبھی محدثین،کبھی فقہاء،کبھی صوفیاء،کبھی اغنیاء،کبھی بعض حکاّم دین کی تجدید کریں گے،کبھی ایک،کبھی ان کی جماعتیں جو دین کی یہ خصوصی خدمت کرے وہی مجدد ہے،جیسے ایک زمانہ میں حضرت سلطان محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اﷲ علیہ جنہوں نے اسلام سے اکبری بدعات کو دور فرمایا اور جیسے قطب الوقت حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اﷲ علیہ یا اس زمانہ میں عالم اعلٰی حضرت مولانا شاہ احمد رضاخاں صاحب بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ کہ انہوں نے اپنی زبان اور قلم سے حق و باطل کو چھانٹ کر رکھدیا۔(مرآۃ المناجیح،کتاب العلم، باب الثانی، جلد اول، صفہ ۲۳۸)

    مجدد کی شرائط میں سے ہے کہ وہ ایک صدی کا آخر اور دوسری صدی کی ابتدا ئی حصہ پائے اور ان دونوں میں اپنےعلم و عمل، فضل و کرم، تجدیدی کارناموں اور احیا ٔ سنت کی وجہ سے اپنے ہم عصر علما ٔ کا مرجع ہو۔

    امام احمد رضا فاضل بریلوی مجدد کی شرائط تحریر فرماتے ہیں: تحقیقِ لفظ کے لیے گزارش ہے کہ حدیث میں راس حسبِ محاورہ عرب ضرور بمعنی آخر ہے۔ ولہذا علمائے کرام ارشاد فرماتے ہیں مجدد کے لیے ضروری ہے ان تمضٰی علیہ المائۃ وھو عالم مشھور مفید (اس پر صدی گزرے اس حال میں کہ وہ مفید مشہور عالم ہو۔ ت) لیکن ایسی اشیائے متوالیہ میں حدِ فاصل ایک آن مشترک ہوتی ہے کہ وہ جس طرح اوّل کے آخر ہے یونہی آخر کے اوّل اور عمل تجدید مجدد ہر گز ختم صدی سے ختم و منتہی نہیں ہوجاتا بلکہ وہ آخر اول و اول آخر دونوں میں ہوتا ہے۔ تمضی علیہ المائۃ وھو کذا (اس پر صدی گزرے اس حال میں کہ وہ ایسا ہو ۔ت) ہی اس پر دلیل ہے اور تمام مجددین معدودین للمائۃ کو ملاحظہ فرمائیں کہ آخر صدی ماضی وا ول صدی حاضر دونوں میں ان کی تجدیدِ اسلام و مسلمین کو مفید رہی تو بحالِ حیات مجدد جب کہ ایک صدی کا آخر گزر گیااور دوسری کا اول موجود اور وہ حی ہو مجدد مائۃ ماضیہ کہنا مناسب ہوگا جو انقطاعِ تجدید کا موہم ہو۔ یا مجدد مائۃ حاضرہ کہ اس کی حیات اور فیض و تجدید کے استمرار پر دلیل ہو۔(فتاویٰ رضویہ،کتاب الشتیٰ، جلد ۲۷، صفہ ۴۱)

    جیسا کی مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کی لوگوں نے اپنے گمان سے ہر صدی کے مجدد کو گنایا ہے،حالانکہ جو دین کی تجدید اور خصوصی خدمت کرے وہی مجدد ہے۔ بہرحال لوگوں کے درمیان مشہور مجددین کی فہرست ذیل میںدی جا رہی ہے۔

    ۱ صدی:حضرت عمر بن عبدالعزیز
    ۲ صدی: امام شافعی اور امام حسن بن زیاد
    ۳ صدی: قاضی ابوالعباس بن شریح شافعی، امام ابوالحسن اشعری اور امام محمد بن جریر طبری
    ۴ صدی: امام ابو بکر باقلانی اور امام ابوالحامد اسفرائی
    ۵ صدی: امام قاضی فخرالدین حنفی اور امام محمد بن غزالی
    ۶ صدی: امام فخرالدین رازی
    ۷ صدی: امام تقی الدین بن دقیق العید
    ۸ صدی: امام زین الدین عراقی،امام شمس الدین جزری اور امام سراج الدین بلقینی
    ۹ صدی: امام جلال الدین سیوطی اور امام شمس الدین سخاوی
    ۱۰ صدی: امام شہاب الدین رملی اور امام ملا علی قاری حنفی
    ۱۱ صدی: امام مجدد الف ثانی، شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور امام عبدالواحد بلگرامی
    ۱۲ صدی: شہنشاہ عالمگیر، سید شاہ کلیم اللہ چشتی دہلوی،شیخ غلام نقشبندی لکھنوی اور قاضی محب اللہ بہاری
    ۱۳ صدی: شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
    ۱۴ صدی: امام احمد رضا فاضل بریلوی اور امام یوسف نبھانی (رضی اللہ عنہم اجمعین)
    و اللہ ورسولہ اعلم
    کــــــــــــتــــــــــــبــــــــــــہ
    محمد کاشف الانصاری الرضوی(بنگلور، ہند)
    27جولائی ۲۰۱۴​
    • Winner Winner x 1
    • Dumb Dumb x 1
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر