1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

لاہوری مرزائی

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    لاہوری مرزائی
    اٹارنی جنرل کے سوال پر کہ مرزاجی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے۔ آئیں بائیں شائیں کی ہے۔ ’’کفر دون کفر‘‘ کی آڑ لی ہے اور مرزاناصر احمد صاحب کی تقلید ہی میں چھٹکارا سمجھا ہے۔ حالانکہ ایک زکوٰۃ کے انکار سے انصار ومہاجرین نے حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں ان سے جہاد کیا۔ ان کو یہ کہہ کر کہ یہ ملت سے خارج نہیں ہیں۔معاف نہیں کیا اور ’’کفر دون کفر‘‘ کا فائدہ دے کر ان کو زندہ نہیں رہنے دیا گیا۔ یہ ڈھکوسلہ ہے۔ آپ کسی کافرانہ اور خلاف شریعت فعل وعمل کو کافرانہ فعل نہیں کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے حکم کی تعمیل نہ کرنا دراصل انکار ہی کا تقاضا ہے۔ مگر آپ کسی مسلمان کو ایسی عملی کمزوری سے اس کو اسلام سے خارج مرتد اور کافرقرار نہیں دے سکتے۔ اس طرح کی بات والے کو ’’کفر دون کفر‘‘ کا مصداق بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن مدعی نبوت، مدعی وحی قطعی، انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے والے۔ معراج جسمانی کے منکر، حیات مسیح اور نزول مسیح ابن مریم کے منکر اور قطعیات اسلام کے منکر اور قرآن وحدیث کے معانی بدلنے والے کو نہ آپ کسی درجے کا مسلمان کہہ سکتے ہیں نہ اس کو ’’کفر دون کفر‘‘ کا مصداق بناسکتے ہیں۔ نہ کسی بزرگ، صحابی، محدث، فقیہ یا مجدد نے ایسا کیاہے۔
    مرزاجی اپنے انکار کو خدا ورسول کا انکار قرار دیتے ہیں۔ بھلا خداورسول کے انکار سے کوئی کسی درجے میں بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔
    2607لاہوری مرزائیو! اب ہم آپ کے سامنے مرزاغلام احمد قادیانی کی چند باتیں نقل کرتے ہیں۔ کیا اس قسم کا جھوٹا آدمی مجدد، محدث یا مسیح بن سکتا ہے؟
    اور یہ باتیں اس لئے نقل کرتے ہیںکہ لاہوری مرزائی تبلیغ شوق میں اس غلط کار آدمی کی پیروی کر کے خواہ مخواہ گندے نہ ہوں اور سیدھے سادے مسلمان بن کر تبلیغ کریں اور دونوں جہاں کی سرخروئی حاصل کریں۔
    ۱… مرزاجی کو جب تک نبی بننے کا شوق نہ چرایا تھا انہوں نے (ازالہ اوہام ص۹۱۵، خزائن ج۳ ص۶۰۰) میں لکھ دیا کہ: ’’حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد صاحب سرہندیؒ نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ جس شخص سے مکالمات الٰہیہ زیادہ ہو جائیں وہ محدث کہلاتا ہے۔‘‘
    لیکن جب خوشامدی مریدوں کی مہربانی سے نبوت کا شوق چرایا تو اسی مکتوب کے حوالے سے لکھ دیا کہ: ’’ایسے شخص کو نبی کہا جاسکتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
    اور چالاکی کر کے یہاں مکتوب کا نمبر نہیں دیا تاکہ راز فاش نہ ہو۔
    ۲… جب تک مسیح موعود بننے کے راستے میں کچھ کانٹے نظر آئے تو (ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲) میں لکھ دیا کہ ’’میرا دعویٰ مثیل مسیح کا ہے۔ کم فہم لوگ اس کو مسیح موعود سمجھ بیٹھے ہیں۔‘‘ گویا مسیح موعود کہنے والے کو کم فہم کالقب دیا اور اپنے کو صرف مثیل کہا۔ مگر جب دیکھا کہ چیلے چانٹے مانتے ہی چلے جاتے ہیں تو اسی کتاب میں اور پھر تمام تحریروں میں کھلم کھلا اپنے کو مسیح موعود لکھنا شروع کر دیا۔
    ۳… اپنی صداقت ظاہر کرنے کے لئے اس نے جھوٹ کہا کہ ’’بخاری شریف میں جو قرآن کے بعد سب کتابوں سے زیادہ صحیح ہے یہ حدیث موجود ہے کہ مہدی کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ خدا کا خلیفہ ہے۔ اس حدیث کو دیکھو کہ کس پائے کی ہے اور کتنی معتبر کتاب میں درج ہے۔‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)
    (حالانکہ یہ حدیث بخاری شریف میں قطعاً نہیں ہے)
    ۴… 2608سرور عالم ﷺ پر جھوٹ بول دیا کہ ’’آپ نے دس ہزار یہودی ایک دن میں قتل کرائے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۵۷، خزائن ج۲۲ ص۱۶۱)
    پھر اسی کتاب کے (ص۱۱۱، خزائن ج۲۲ ص۱۱۴) پر لکھ دیا ’’کئی ہزار یہودی قتل کرائے‘‘ یہ قطعاً جھوٹ ہے۔ صرف بنو قریظہ کا ایک واقعہ ہے جس میں چار سے چھ سو تک یہودی قتل کئے گئے تھے۔ لیکن وہ ان کے اپنے تجویز کردہ ثالث کے فیصلے سے قتل ہوئے اور تورات کے عین مطابق ہوئے اور یہ بھی وہ یہودی تھے۔ جنہوں نے غزوہ خندق کے نازک موقع پر ۲۴ہزار لشکر کفار سے مل کر مسلمانان مدینہ کے قتل عام کا انتظام کر دیا تھا۔ بلکہ نفس اسلام کے استیصال پر کمر باندھ رکھی تھی۔
    ۵… مرزاجی نے قرآن پاک پر جھوٹ بولا کہ ’’آخری زمانے میں طاعون اور زلزلوں کے حوادث عیسیٰ پرستی کی وجہ سے ظاہر ہوں گے۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۴، خزائن ج۲۲ ص۴۹۹)
    مرزائیو! قرآن پاک میں کہاں لکھا ہے؟
    ۶… مرزاجی نے اپنی کتاب (اربعین حاشیہ نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳) پر لکھا ہے کہ ’’بخاری شریف مسلم شریف اور انجیل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں جہاں میرا ذکر ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔‘‘
    مرزائیو! مسلم شریف میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول کے ذکر میں ان کو نبی کہاگیا ہے۔ مگر یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والے وہی ابن مریم پیغمبر ہوں گے۔ کوئی بناوٹی مسیح نہ ہوں گے۔ مگر ہم بحث مختصر کرنے کے لئے پوچھتے ہیں کہ بخاری شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں کہاں مرزاجی کو نبی کہاگیا ہے؟ ذرا اپنے مرشد کو سچا تو ثابت کریں۔ پھر کہتے ہیں کہ ان سب کتابوں میں میرا ذکر ہے۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربا۔
    ۷… مرزاجی نے اپنی کتاب (اربعین حصہ سوم ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) پر لکھا ہے کہ: ’’ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ 2609مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا اور وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔‘‘
    (مرزائیو! مل کر قرآن شریف میں سے کوئی آیت ایسی نکالو جس میں یہ لکھا ہو ورنہ چھوڑو اس جھوٹے کو) پھر قرآن اور حدیث میں سے کسی کتاب میں مسیح موعود کا لفظ بتادو اور انعام حاصل کرو۔
    ۸… جب مرزاجی کو محمدی بیگم سے شادی رچانے کا شوق چرایا جو نابالغ لڑکی تھی اور مرزا جی ادھیڑ تھے تو اپنے اوپر وحی اتاردی کہ اﷲتعالیٰ نے کہہ دیا ہے (زوّجناکہا) کہ ہم نے اس محمدی بیگم کا نکاح تم سے کر دیا ہے۔ یہ خداتعالیٰ پر صریح جھوٹ تھا۔ اگر خدا نے نکاح کیا تھا تو پھر وہ دلا کیوں نہ سکا اور اگر رکاوٹیں بہت تھیں جن کو خدا دور نہ کر سکتا تھا تو نکاح کیوں کر ڈالا؟ اور مرزاجی کا خدا اتنا بھی نہ سمجھاکہ بیس سال کی مسلسل کوشش کے بعد یہ لڑکی نہ مل سکے گی۔ خواہ مخواہ نکاح کر ڈالا۔
    (مرزاجی کی اس پیش گوئی کو آپ اس کی بہت ساری کتابوں میں پائیں گے)
    ۹… مرزاجی نے فتویٰ دیا کہ: ’’ایسے مردوں کے سوا جن سے نکاح جائز نہیں باقی سب مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔‘‘
    (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۰)
    پھر بانو نام کی عورت سے مٹھیاں بھروائیں۔
    (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۰، روایت نمبر۷۸۰)
    اور اندھیری راتوں میں اپنے پہرہ پر مائی فجو منشیانی اور مائی رسول بی بی مقرر کی۔ ایک جوان لڑکی زینب تمام رات خدمت کرتی پنکھا ہلاتی۔ صبح تک خوشی اور سرور حاصل ہوتا۔
    (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۳، روایت نمبر۷۸۶)
    آپ بتائیں کہ فتویٰ صحیح ہے یا ان غیرمحرم عورتوں کی یہ کارروائی؟
    ۱۰… 2610مرزاجی نے محمدی بیگم کے نکاح کی طرف سرور عالم ﷺ کا ارشاد یا اشارہ بھی لکھا۔ (کہ اے بے وقوفو! یہ ہو کر رہے گا۔ حضور ﷺ نے بھی اشارہ فرمایا ہے) حالانکہ یہ محض جھوٹ تھا۔ صرف عشق محمدی بیگم نے مرزاجی کو اندھا، بہرا کر رکھا تھا۔ جسے بھوکے نے دوتے دو چار کا معنی چار روٹیاں بتایا تھا۔ بھلا رسول اﷲ ﷺ کو مرزاجی اور محمدی بیگم کی شادی کی غلط اطلاع ہوسکتی تھی تو صحیح اطلاع کیوں نہ ہوسکتی تھی کہ یہ شادی نہ ہوگی اور مرزاقادیانی کی ناک کٹ جائے گی۔
    ۱۱… مرزاجی نے لکھا کہ معراج والی آیت ’’من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ میں مسجد اقصیٰ سے مراد میری یہی مسجد قادیان ہے۔ اسی کو برکت دی گئی ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت حصہ نہم ص۳۷،۳۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۸)
    اور لکھا ہے کہ ’’مسجد اقصیٰ سے مراد یوروشلم کی مسجد نہیں ہے۔ بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۹)
    (خیال کریں کہ کس طرح لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی سعی کی ہے)
    پھر کہا کہ ’’قادیان کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت حصہ نہم ص۳۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۸)
    ۱۲… مرزاجی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولاد کہا۔ مگر خود مرزاجی کا بڑا بیٹا مرزاافضل احمد مرزاجی پر ایمان نہ لایا اور وہ مرگیا تو مرزاجی نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی تو کیا وہ بھی کنجری کا بیٹا ہوگیا؟ اور اگر اس کی والدہ مرزاجی کی بیوی ایسی تھی تو پھر جس پاک گھر میں ایسی عورتیں اور لڑکے ہوں وہ کتنا پاک گھر ہوا؟ (یہ سب اس بکواس کی سزا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مرزاجی نے کی ہے) اور اس عورت کے خاوند کا کیا حال ہوا۔
    ۱۳… 2611مرزاجی نے وہ منارہ جو دمشق کے مشرق کو ہوگا، جس کے پاس حضرت مسیح نازل ہوں گے، اپنے قادیانی منارے کے متعلق بتایا اور کہا کہ وہ منارہ یہی ہے۔
    (تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۷تا۳۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۶تا۲۸۸)
    گویا منارہ سے مراد منارہ ہی ہے۔ لیکن دمشق سے مراد قادیان ہے۔ (ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند) مرزاجی ذرا سوچا تو ہوتا کہ مسیح علیہ السلام اس منارے کے پاس نازل ہوں گے۔ گویا منارہ پہلے سے موجود ہوگا۔ مگر آپ نے چندہ کر کے اپنی ولادت شریفہ یا نزول کے بعد یہ منارہ بنایا۔ یہاں اگر ایک افیونی کا قصہ ذکر کر دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ وہ جب پاخانے جاتا تو پانی کا لوٹا بھر لے جاتا۔ مگر افیونی تھا۔ اس کو قبض رہتی تھی اور لوٹے میں سوراخ تھا جب تک وہ فارغ ہوتا پانی لوٹے سے ختم ہو جاتا۔ ایک دن اس کو غصہ آیا اور پاخانے میں جاتے ہی پہلے استنجا کر ڈالا بعد میں پاخانہ کرنے لگا اور کہا کہ سسرے اب دیکھوں کیسے تو ختم ہوتا ہے؟
    ۱۴… مرزاجی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو بغیر باپ کے لکھا۔ دیکھو
    (ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    پھر لکھ مارا کہ ’’قرآن اس کی بن باپ کی پیدائش کو رد کرتا ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۴۱، خزائن ج۲۲ ص۴۳)
    (دیکھو یہ ہے مرزاجی کی قرآن دانی) اب دو باتوں میں سے ایک تو ضرور جھوٹی ہوگی جو مرزاجی کو کذاب ثابت کر کے حدیث کی تصدیق کرے گی۔
    ۱۵… لاہوری مرزائیو! ذرا سوچو آپ کس فریب میں مبتلا ہیں کہ مرزاجی حضور ﷺ کے کامل اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کی وجہ سے عین محمد بنے اور اس طرح نبی کہلائے۔
    2612دیکھئے! اور یقین کر لیجئے! کہ نبوت محض موہبت اور خداتعالیٰ کی بخشش ہے۔ یہ کسی عمل یا کسب یا اتباع سے نہیں ملتی۔ بلکہ جس کو اﷲتعالیٰ چاہیں نبوت دے دیں۔ اس نے پہلے سے ان کا ظرف ہی ایسا بنایا ہوتا ہے اور وہی بہتر سمجھتے ہیں کہ کس کو پیغمبر بنائیں۔ ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ‘‘ اﷲتعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اپنی پیغمبری کس کو دیں۔ خود مرزاجی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۸۲، خزائن ج۷ ص۳۰۱) میں لکھتے ہیں: ’’لاشک ان التحدیث موہبۃ مجردۃ لا تنال بکسب البتۃ کما ہو شان النبوۃ‘‘ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ محدث ہونا محض خدا کی بخشش ہے۔ یہ کسی کسب اور عمل سے نہیں ملتی جیسے نبوت کا حال ہے۔
    پس فنا فی الرسول ہونا۔ کثرت اتباع سے امتی نبی ہونا یہ سب ڈھونگ ہے۔ ورنہ حضور ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے کذاب ودجال پیدا ہوں گے۔ ہر ایک کہے گا میں نبی ہوں۔
    اس ارشاد میں اس کی نشانی یہ بتائی گئی کہ وہ امت میں سے ہو گا اور اس کے دجل وفریب کا ذکر کر کے مرزاقسم کے ان تمام لوگوں کے دھوکوں اور دجل وفریب کی طرف اشارہ کیاگیا۔ جو مرزاجی کے حالات میں ہم نے ربوہ پارٹی کے محضر نامے کے جواب میں بیان کئے۔

اس صفحے کی تشہیر