1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قیصر و کسریٰ کی کنجیاں دی جانے کی وضاحت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

خادمِ اعلیٰ نے 'قادیانی خرافات پرتحقیقی مقالات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 13, 2017

  1. ‏ جنوری 13, 2017 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا غلام قادیانی کی جھوٹی پیشگوئیوں سے جان چھڑانے کے لیئے ایک مرزائی دھوکہ


    دوستو جب مرزائی امت مرزا غلام قادیانی کی ان پیشگوئیوں کا جواب دینے سے عاجز آجاتی ہے جنہوں نے مرزا کی کوششوں کے باوجود پورا ہونے سے انکار کر دیا تھا جیسے محمدی بیگم کا نکاح میں آنا ، سلطان محمد کا مرنا ، مرزا کا بیوہ سے نکاح ہونا ، نو ناموں والا عالم کباب پیر میاں منظور محمد کے گھر پیدا ہونا ، عبداللہ اتھم کا مرنا ، ہندوستان میں قیامت خیز زلزلہ وغیرہ ان سب پیشگوئیوں میں مرزا غلام قادیانی جھوٹا ثابت ہوا ۔ تو اس کی امت ایک شوشہ چھوڑتی ہے کہ ایک حدیث نبوی پیش کرکے وہ حدیث پہلے ملاخط فرمائیں

    " حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ، قَالَ: وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الخَنْدَقِ، لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ، قَالَ: فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَوْفٌ:، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَضَعَ ثَوْبَهُ ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ، فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ» فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ، وَقَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا» . ثُمَّ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ» وَضَرَبَ أُخْرَى فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ، وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا» ثُمَّ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ» وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَلَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " ( مسند احمد حدیث 18694 )
    حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں ( غزہ خندق کے موقع پر ) خندق کھودنے کا حکم دیا ، خندق کھودتے ہوئے ایک جگہ ایسی چٹان آگئی کہ جس پر کدال اثر ہی نہیں کرتی تھی ، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور چٹان پر چڑھ کر کدال ہاتھ میں پکڑی اور بسم اللہ کہہ کر ایک ضرب لگائی جس سے اس کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر فرمایا مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں بخدا ! میں اپنی اس جگہ سے اس کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ، پھر بسم اللہ کہہ کر ایک اور ضرب لگائی جس سے ایک تہائی حصہ مزید ٹوٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا مجھے فارس کی کنجیاں دی گئی بخدا! میں شہر مدائن اور اس کے سفید محلات اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ، پھر بسم اللہ کہہ کر ایک اور ضرب لگائی اور اس کا باقی حصہ بھی جھڑ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی بخدا ! میں صناء کے دروازے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ۔

    اس حدیث نبوی سے نہ جانے مرزائی کیا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ اس میں نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی فرمائی " کہ میں بذات خود روم و فارس فتح کروں گا " اور نہ ایسا کوئی دعویٰ کیا ۔ بلکہ اللہ نے آپ کو یہ خبر دے دی کہ آپ کو یہ سب عطا گیا ہے اور آپ کی امت یہ ان سب کو فتح کرے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی خواب میں اور کبھی غزہ خندق میں چٹان توڑتے ہوئے یہ نظارہ دکھایا گیا اور آپ نے صحابہ کو بتایا کہ اللہ نے مجھے یہ عطا فرمایا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسکی واضح تشریح فرما دی ۔ ملاخط فرمائیں

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ " ( صحیح مسلم حدیث 2919 )
    حضرت جابر بن سمرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت ضرور بالضرور کسرٰی کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصرابیض میں ہے ۔

    مزید ملاخط فرمائیں۔

    حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ " ( مسند احمد حدیث 7184 )
    حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسرٰی ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسرٰی نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی الله علیہ وسلم کی جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے ضرور الله کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اسی طرح اور بہت سی احادیث ہیں جن کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وضاحت فرما دی کہ قیصر و کسریٰ کی فتح آپ کی امت کے ہاتھوں ہوگی ، تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود " کنجیاں دی جانے " کی وضاحت فرما دی تو مرزائی کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے ؟
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر