1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ

قومی اسمبلی میں ہونے والی اکیس دن کی مکمل کاروائی

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 27, 2014

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ نومبر 2, 2014 #41
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (ارکان اسلام میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے)
    64مرزاناصر احمد: ٹھیک ہے۔ پھر میرا جواب یہ ہے کہ جو شخص پانچ جو ارکان اسلام کے ہیں، ارکان اسلام جو ہیں، ایک تو کلمہ شہادت ہے، وہ تو پڑھے گا ہی وہ، وہ تو Fundamental بنیادی ہے، اصل ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم نے، جس شکل میں اسلام نے نبی کریم میں، نبی اکرمa کی سنت نے نماز پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور رمضان میں روزے رکھنے کا ارشاد فرمایا اور زکوٰۃ دینے کا ارشاد فرمایا اور حج کرنے کا ارشاد فرمایا، ان پر ایمان کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن عملاً وہ کسی ایک کا بھی پابند نہیں۔ جس طرح ہم اس کو…
    جناب یحییٰ بختیار: …وہ تو ٹھیک ہے۔
    مرزاناصر احمد: …نہیں، نہیں، میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جس طرح ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص جو ان میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے ہمیں اس کو غیرمسلم کہنا پڑے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی کو غیر مسلم کہیں باوجود اس کے کہ وہ اپنے آپ کو مسلم کہے؟
    مرزاناصر احمد: میرا پوائنٹ یہ ہے کہ وہ خود اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان نہیں، جو کہتا ہے نماز جو ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: اگر وہ اعلان نہ کرے؟ مرزاصاحب! اگر وہ اعلان نہ کرے؟
    مرزاناصر احمد: وہ اپنے عمل سے انکار کر رہا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ نے اس دن اعلان فرمایا کہ بہتر(۷۲) فرقے ہیں، تہتر(۷۳)، چوہتر(۷۴) پچھتر(۷۵) فرقے آجاتے ہیں۔ ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ جی ہم روزے کو ضروری نہیں سمجھتے ان ارکان میں سے۔
    مرزاناصر احمد: ہوسکتا ہے کہ آجائے۔ مگر نبی کریمa نے اس کی خبر نہیں دی ہمیں۔
    65جناب یحییٰ بختیار: تو اگر بہتر(۷۲) فرقے مل کے کہہ دیں کہ نہیں، یہ ایک جز ہم نہیں مانتے۔ یہ ایک شرط جو ہے ضروری نہیں ہے؟
    مرزاناصراحمد: جب اسلام کے پانچ ارکان ہیں۔ جن پر اسلام کی بنیاد ہے اور جو شخص۔۔۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں… نہیں جی، میرا مطلب صرف یہ ہے۔
    I am just asking you. If anybody denies one of the essentials of Islam....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں تو آپ سے صرف یہ کہہ رہا ہوں۔ اگر شخص ضروریات اسلام میںسے منکر ہے)
    مرزاناصراحمد: میں، میں نے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... can you declare him as a non- Muslim?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا (ضروریات دین میں سے ایک کے انکار کرنے والے کو) آپ مسلمان کہہ سکتے ہیں)
    مرزاناصر احمد: جو شخص ان پانچ ارکان میں… میرا جواب یہ ہے… جو شخص ان پانچ ارکان میں سے کسی ایک یا زائد کا اعلان کرتا ہے کہ اس کو صحیح مانتا ہی نہیں اور یہ اسلام کا حصہ نہیں، میرے نزدیک اس نے خود کو عملاً کافر قرار دے دیا۔ کسی اور کو ضرورت ہی نہیں کچھ کہنے کی۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی!
    ابھی میں پھر وہ سٹوڈنٹ کے معاملے پر جارہا ہوں۔
    I would not take that example because you call it an extreme example.
    Now, Sir, you know that, in Saudi Arabia non-Muslims are not allowed to visit the holy places .... Mecca and Madina. Supposing a Jew in Holand or Belgium is engaged by the Israeilies as their spy and then he makes a declaration and obtains a passport that he is a Muslim. I don't think it will be an extreme example because people have ....
    (میں وہ مثال نہیں دہراتا کیونکہ آپ اس کو ایک انتہائی مثال کہتے ہیں۔ اب جناب آپ کو علم ہے کہ سعودی عرب میں غیرمسلموں کو مقامات مقدسہ کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ مکہ اور مدینہ۔ فرض کریں ہالینڈ یا بلجیئم کے ایک یہودی کو اسرائیلی اپنا جاسوس مقرر کرتے ہیں اور وہ ایک ڈکلیئریشن کرتا ہے جس کی بناء پر اس کو مسلمان ہونے کا پاسپورٹ مل جاتا ہے۔ یہ مثال تو میں سمجھتا ہوں۔ آپ اس کو انتہائی مثال نہ سمجھیں گے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, it is not.
    (مرزاناصر احمد: یہ نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Can his authority be questioned?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا اس کی اتھارٹی (اعلان) پر سوال جواب ہوسکتا ہے؟)
    66Mirza Nasir Ahmad: He would be arrested as a spy. (مرزاناصر احمد: بحیثیت جاسوس کے وہ گرفتار کیا جائے گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: After enquiry?
    (جناب یحییٰ بختیار: تفتیش کے بعد)
    Mirza Nasir Ahmad: He would be arrested as a spy.
    (مرزاناصر احمد: بحیثیت جاسوس کے وہ گرفتار کیا جائے گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں…)
    Mirza Nasir Ahmad: But the question does not arise. Whether he is Muslim or not.
    (مرزاناصر احمد: لیکن سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ مسلمان ہے یا نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am asking you a simple question, how will he be arrested? Somebody has to enquire into the declaration whether it is ture or false.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے ایک سیدھا سا سوال کر رہا ہوں۔ کیونکہ وہ گرفتار ہوگا تاکہ وقتیکہ کوئی اس کے اعلان میں تفتیش نہ کرے کہ جھوٹا ہے یا سچا ہے اس کا اعلان)
    Mirza Nasir Ahmad: When it is proved that he entered the holy place, or that Government area, that Saudi country, with the intention of spying on that country, when it is proved, he would be arrested as a spy, not as a non-Muslim.
    (مرزاناصر احمد: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ شخص مقامات مقدسہ میں داخل ہو گیا ہے یا سعودی حکومت کے اس حصہ میں اس ملک کے خلاف جاسوسی کرے۔ جب اس کی جاسوسی ثابت ہو جائے گی تو وہ بوجہ جاسوسی پکڑا جائے گا نہ کہ بوجہ غیرمسلم ہونے کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, I will give you another example. Supposing a Journalist out of curiosity, a Christian out of curiosity to see what these Muslims are doing there, he obtains a passport in which he makes a false declaration that he is a Muslim, and wants to see Mecca and Madina ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں ایک دوسری مثال دیتا ہوں۔ فرض کریں کہ ایک صحافی تجسس میں یا ایک عیسائی اس اشتیاق میں یہ دیکھنے کے لئے کہ وہاں مسلمان کیا کرتے ہیں۔ پاسپورٹ حاصل کرتا ہے۔ جس میں وہ غلط ڈکلیئر کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور مکہ اور مدینہ کی زیارت …)
    Mirza Nasir Ahmad: He would be arrested for submitting a false declaration not as a non-Muslim.
    (مرزاناصر احمد: وہ بوجہ غلط ڈکلیئریشن کے گرفتار ہوگا نہ کہ غیرمسلم ہونے کی وجہ سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Who is going to question that the declaration is false or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: کون پوچھے گا کہ ڈکلیئریشن جھوٹ ہے یا سچ)
    Mirza Nasir Ahmad: False declaration.... not his profession.... he would be arrested for submitting a false declaration.
    (مرزاناصر احمد: غلط ڈکلیئریشن اس کا بیان ہے۔ غلط جھوٹ ڈکلیئریشن کی بناء پر وہ گرفتار ہوگا)
  2. ‏ نومبر 23, 2014 #42
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (متعلقہ اتھارٹی کسی کے مسلم یا غیرمسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, the point is that somebody can question his declaration if he says, "I am a Muslim?"
    (جناب یحییٰ بختیار: سوال یہ ہے کہ کوئی شخص پوچھ تو سکتا ہے۔ اس کے ڈکلیئریشن کو اگر وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority concerned, of course. (مرزاناصر احمد: متعلقہ اتھارٹی ہی پوچھے گی، ظاہر ہے)
    67Mr. Yahya Bakhtiar: So, then you agree that some authority, is there who can question a declaration about religion?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ مانتے ہیں نہ کہ ایک اتھارٹی ہے جو ڈکلیئریشن کے بارے میں پوچھنے کی مجاز ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority which is concerned with a man who submits a false declaration.
    (مرزاناصر احمد: جو اس سے متعلق ہے جس نے جھوٹا ڈکلیئریشن دیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, ....
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, of course.
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is exactly what I say, Sir, that you agree that this right to announce what one's religion is, or the declaration what one's religion is, is subject to restriction?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب میں بھی تو یہی کر رہا ہوں۔ آپ کو تسلیم ہے کہ صحیح ہے۔ اب رہا سوال اس کا کہ اس کا مذہب کیا ہے یا مذہب کے بارے میں اس کا کیا ڈکلیئریشن ہے اس پر پابندی کا اطلاق ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: That is something else.... false declaration. To submit a false declaration, which is proved by investigation by the authority competent to do that, this is someting else.
    (مرزاناصر احمد: وہ دوسری بات ہے۔ غلط ڈکلیئریشن کرنا۔ ایک غلط ڈکلیئریشن کرنا۔ جس کو مجاز اتھارٹی تفتیش سے جھوٹ ثابت کر دے۔ یہ دوسری بات ہوئی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. I will ask you again. Sir, I think I have not made myself clear. Do you agree that if a person makes a false declaration or any kind of declaration, somebody else has an authority to examine it, enquire into it, question it, about his religion? If I fill in a form....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں پھر اپنا سوال دہراتا ہوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں میں نے شاید اپنے مدعا کو صاف بیان نہیں کیا۔ کیا آپ مانتے ہیں کہ ایک شخص جھوٹا ڈکلیئریشن کرتا ہے یا کسی قسم کا ڈکلیئریشن تو کوئی کوئی شخص یا اتھارٹی اس کی مجاز ہے کہ اس میں انکوائری کرے۔ سوال جواب کرے۔ اس کے مذہب کے بارے میں اگر فارم میں اس کا تذکرہ ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, not about his religion, but about his declaration.
    (مرزاناصر احمد: نہیں مذہب کی نہیں۔ صرف اس کے ڈکلیئریشن کے بارے میں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, in the declaration a falsehood lies in the fact that he is not a Muslim and he says that he is a Muslim.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں۔ ڈکلیئریشن میں ایک جھوٹ موجود ہے کہ وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں اور وہ مسلمان نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority is concerned with the declaration, not with his faith.
    (مرزاناصر احمد: اتھارٹی کا تعلق اس کے ڈکلیئریشن سے ہے نہ کہ اس کے مذہب سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, the authority is concerned that no non-Muslim should get in there.
    (جناب یحییٰ بختیار: اتھارٹی کا تعلق یہ ہے کہ اس کو فکر ہے کہ کوئی غیرمسلم وہاں داخل نہ ہو جائے)
    Mirza Nasir Ahmad: The authority is concerned with the man who submits a false declaration.
    (مرزاناصر احمد: اتھارٹی کا مقصد اس شخص سے ہے جس نے غلط ڈکلیئریشن دیا ہے)
    68Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, because he is not a Muslim and he is entering.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اور داخل ہورہا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Whatever the case might be .
    (مرزاناصر احمد: جو بھی صورت ہو… )
    Mr. Yahya Bakhtiar: So ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... we are least concerned. He declares himself a Muslim, he declares that he represents one of the very big firms who are doing some construction work in Saudi Arabia; he can do this; he can do that.
    (مرزاناصراحمد: ہمارے پاس ایک فہرست ہے۔ وہ شخص اپنے آپ کو مسلمان ڈکلیئر کرتا۔ وہ ڈکلیئر کرتا ہے کہ میں ایک بڑی تعمیراتی فرم جو سعودی عرب میں کنسٹرکشن کا کام کر رہی ہے نمائندہ ہوں۔ یہ بھی کر سکتا ہے وہ بھی کر سکتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but ....
    Mirza Nasir Ahmad: He has to be questioned about the declaration which he makes ....
    (مرزاناصراحمد: اس سے سوال جواب ہوگا۔ اس ڈکلیئریشن کے بارے میں نہ کہ اس کے مذہب کے بارے میں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... which he makes to the authority, not about the faith which he has got.
    Mr. Yahya Bakhtiar: I put it in a different language. If a person goes to Saudi Arabia, who in fact, is a Christian or a Jew ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں دوسرے الفاظ میں کہتا ہوں۔ ایک شخص سعودی عرب جاتا ہے اور وہ دراصل ہے عیسائی یا یہودی)
    Mirza Nasir Ahmad: But how do you know?
    (مرزاناصر احمد: آپ کو کیسے معلوم؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: In fact, I said.
    )جناب یحییٰ بختیار: میں نے دراصل کہا۔ یہ مفروضہ ہے(
    Mirza Nasir Ahmad: No, ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: This is presumed. So, when ....
    Mirza Nasir Ahmad: First you persume it. Then you put that gentleman before a court.
    (مرزاناصر احمد: اوّل آپ فرض کرتے ہیں پھر آپ اس شخص کو کورٹ میں لے جاتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say that it is presumed. It is a fact .... I am not talking personally of doubtful cases .... It is a fact that a person is a Christian or a Jew. But he says that since I have declared in my form that I 69am a Muslim, nobody should question my declaration; this is my human right.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ یہ مفروضہ ہے۔ یہ امر واقعہ ہے۔ میں کسی شبہ والے کیس کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ یہ واقعہ ہے کہ ایک شخص عیسائی ہے یا یہودی لیکن وہ کہتا ہے کہ چونکہ میں نے اپنے فارم میں مسلمان ہونا ڈکلیئر کیا ہے۔ کوئی شخص میرے ڈکلیئریشن کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ یہ میرا انسانی حق ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: What is the intention of goings there? Spying?
    (مرزاناصر احمد: وہاں جانے کی نیت کیا ہے۔ جاسوسی؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, not spying.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جاسوسی نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Curiosity?
    (مرزاناصر احمد: تجسس، شوق؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Out of curiosity, sight seeing. He knows that this is a very old and ancient religious centre and he would like to see it. But he knows that except Muslim nobody else is allowed ....
    (جناب یحییٰ بختیار: شوق کی بناء پر۔ سیر تفریح۔ اسے معلوم ہے کہ یہ ایک قدیم مذہبی سنٹر ہے اور وہ اس کو دیکھنے کا مشتاق ہے۔ لیکن یہ بھی وہ جانتا ہے کہ سوائے مسلمانوں کے کسی کو اجازت نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: In that case a conducted tour should be arranged to take him arround to see the old places and satisfy his curiosity.
    (مرزاناصر احمد: ایسی صورت میں سیاحوں کی جماعت کا کسی رہبر کی معیت میں انتظام ہونا چاہیئے جو اس کو تمام پرانی جگہ دکھائے اور اس کا شوق پورا کرے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, if he is not that all important that is should be arranged, supposing he makes a declaration of this sort, can U.N. Charter help him? Can he say that the Charter gives him the right to declare himself as a Muslim and nobody ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! یہ اتنا اہم نہیں ہے کہ باقاعدہ انتظام کیا جائے۔ فرض کریں وہ اس نوعیت کا ڈکلیئریشن کرتا ہے اور اقوام متحدہ کا قانون اس کی مدد کرتا ہے۔ کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ قانون اس کو اپنے کو مسلمان کہنے کا حق دیتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Every Law, constitutional of otherwise pre-supposes good intentions.
    (مرزاناصر احمد: ہر قانون دستوری، غیردستوری، نیک نیتی پر شروع ہی سے مبنی ہوتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That is what I was going to say. So you say that I announce I am a Muslim, I decide I am a Muslim, I declare I am a Muslim? That means that the declaration must be honest, must be bonafide, must be made in good faith.
    (جناب یحییٰ بختیار: بالکل! یہی بات میں کہنا چاہ رہا تھا۔ جب آپ کہتے ہیں کہ میں اعلان کرتا ہوں میں مسلمان ہوں میں طے کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ میں ڈکلیئر کرتا ہوں میں مسلمان ہوں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ میرا ڈکلیئریشن ایماندرانہ ہونا چاہئے۔ سچ مچ اصلی ہونا چاہئے۔ نیک نیتی پر مبنی ہونا چاہئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, I declare that I dont't submit any false declaration .....
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! میں نے ڈکلیئر کیا ہے۔ میں جھوٹے ڈکلیئریشن نہیں دیا کرتا…
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. So, anybody who makes the declaration ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ تو کسی کو جو اعلان کرتا ہے…)
    70Mirza Nasir Ahmad: .... I am not telling lies, so many declaration ....
    (مرزاناصراحمد: میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اس لئے میرے ڈکلیئریشن…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am not talking about any particular person but anybody.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں سر۔ میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہوسکتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, anybody.
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں۔ کوئی بھی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: If he makes a declaration honestly, in good faith, only then a fundamental right is given to him, not if he makes if falsely, with ulterior motive, in bad faith, then the fundamental right is not for him. You agree with this proposition?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں کسی مخصوص شخص کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اگر وہ ایماندرانہ ڈکلیئریشن کرتا ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ تو صرف اتنی صورت میں اس کو بنیادی حق کی مدد حاصل ہے اور اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے درپردہ مقاصد کے لئے بدنیتی کے ساتھ تو اس کو بنیادی حق کا سہارا حاصل نہیں ہے۔ میری اس تجویز سے آپ متفق ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: I agree that exception can only prove the rule.
    (مرزاناصر احمد: میں اس سے متفق کہ استثناء سے صرف اصول ثابت ہوتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, not exception. It is the general proposition.
    (جناب یحییٰ بختیار: استثناء کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ عمومی اصول ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: This is my answer.
    (مرزاناصراحمد: یہی میرا جواب ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: A declaration that "I am a Muslim", I say, if I make it in good faith, if should be accepted?
    Mirza Nasir Ahmad: If I make ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: If I make it in good faith?
    Mirza Nasir Ahmad: That means that I am honest to God. That is what I mean by this that if I make this in good faith, I am honest to God.
    (مرزاناصر احمد: کہ ایک ڈکلیئریشن ہے۔ جس میں یہ کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ اگر میں نیک نیتی سے کہتا ہوں تو اس کو قابل قبول سمجھنا چاہئے اور اگر میں بدنیتی میں کہتا ہوں تو اس کے معنی ہوئے کہ میں نے خدا کے ساتھ بے ایمانی کری۔ یہ معنی ہیں اس کے کہ اگر میں یہ ڈکلیئریشن نیک نیتی سے دیتا ہوں تو میں خدا کا ایماندار ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if I give an extreme example that the man was not honest to God or to the man?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں تو انتہائی بات یہ کہتا ہوں کہ وہ شخص نہ خدا نہ آدمی کا کسی کا بھی سچا نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: The extreme examples are exceptions and the exceptions can only prove the rule, that is the point.
    (مرزاناصر احمد: یہ انتہائی باتیں سب مستثنیات ہیں اور استثناء صرف قاعدے کو ثابت کرتا ہے۔ نکتہ یہ ہے)
    71Mr. Yahya Bakhtiar: They may or may not. But here a Christian boy is deprived of his seat if we accept your first proposition. But if we accept your second proposition, wherein you say that it should be made honestly, then the boy will not be deprived of his seat, but then the Principal will interfere.
    (جناب یحییٰ بختیار: نکتہ کی بات ہو یا نہ ہو۔ مختصر یہ کہ اگر ہم آپ کی بات قبول کر لیں تو ایک عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم رہ جائے گا۔ ہاں اگر آپ کی دوسری بات مان لی جائے جو کہ آپ کہتے ہیں کہ ایماندرانہ ہونی چاہئے۔ تب وہ عیسائی لڑکا اپنی سیٹ سے محروم نہ ہوگا اور پرنسپل مداخلت کرے گا)
    Mirza Nasir Ahmad: Is he?
    وہ جو ہیں پرنسپل صاحب، ان سے غلطی نہیں ہوسکتی؟
    جناب یحییٰ بختیار: غلطی تو ہر ایک سے ہوسکتی ہے۔
    مرزاناصر احمد: ان سے بھی ہوسکتی ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am talking on the basis of evidence.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں شہادت کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں)
    مرزاناصراحمد: Evidence (شہادت) جو ہے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: If proved?
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر ثابت ہو جائے)
    مرزاناصراحمد: دیکھیں ناں! Evidence جو ہے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: If a person himself says? Sir, I am taking this example.
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص خود کہتا ہے کہ میں بات کر رہا ہوں یہ اک مثال ہے جناب)
    Mirza Nasir Ahmad: This is a common fact you know in our courts; quite a few people are sent to the gallows without any murder committed by them, اور nobody to blame.
    (مرزاناصر احمد: ہماری کچہریوں میں یہ ایک عام حقیقت ہے۔ اکثر لوگ سولی پر لٹکادئیے جاتے ہیں۔ جب کہ انہوں نے قتل ہی نہیں کیا ہوتا۔ کیا کسی کو مورد الزام نہ بنائیں۔ کسی کو ذمہ دارانہ ٹھہرائیں؟ کیونکہ جج جو ہے اس نے شہادت کی رو سے کیا اور کرنا ہے۔ دیکھیں نہ جی!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I ....
    مرزاناصراحمد: کیونکہ جو Nobody is to blame اس واسطے جج ہے اس نے Evidence کے اوپر کرنا ہے۔
    72جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں جی!
    This is a daily thing. When boys get admission, they get domicile certificates or a certificate of permanent residence. I belong to Quetta. Now if I want .......
    (یہ روز کا مشاہدہ ہے۔ جب لڑکے داخلہ لیتے ہیں وہ ڈومیسائل یا مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ میں کوئٹہ کا رہنے والا ہوں۔ لیکن اگر میں چاہوں تو …)
    Mirza Nasir Ahmad: Now I tell you this thing that this thing can never happen in America.... false declaration to secure a seat in one of the educational institutions.
    (مرزاناصر احمد: میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ امریکہ میں کبھی ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جھوٹے ڈکلیئریشن سے کسی تعلیمی ادارے میں سیٹ مل جائے) تو ہم اپنے آپ کو اتنا ایک Extreme example بنانے کے لئے اتنا Degrade کیوں کریں اپنی قوم کے نوجوان کو کہ وہ ایسا کرے گا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی!
    I am giving you an example. I tell you another example. Now, if you think that degrading. For various destricts, in these colleges, some quotas are fixed for backward areas. Now Baluchistan has got about thirty seats in the Dow Medical College. And if people belonging to those areas get from the Deputy Commissioner the certificate of permanent residence and they file a declaration with it that. "I was born there and I am permanently settled in that destrict." On the basis of that they apply for admission. Now, supposing that he makes a false declaration.... and I can assure you Mirza Sahib there are many of them....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو ایک مثال دی تھی۔ دوسری مثال دیتا ہوں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ذلیل کرتی ہے۔ یہاں کے کالجوں میں مختلف اضلاع کے لئے کوٹے مقرر ہوئے ہیں۔ کم ترقی یافتہ طبقے کے لئے۔ کوٹے مقرر ہیں۔ اب بلوچستان کی تین سیٹ ہیں ڈاؤ میڈیکل کالج میں لیکن جو لوگ اس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر وہ ڈپٹی کمشنر سے مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیں اور یہ ڈکلیئریشن کریں کہ میں فلاں جگہ پیدا ہوا تھا اور فلاں ضلع کا مستقل رہائشی ہوں تو اس بناء پر وہ داخلے کے لئے درخواست دے گا۔ فرض کریں وہ جھوٹا ڈکلیئریشن داخل کرتا ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں۔ مرزا صاحب کہ ان میں سے بہت کو…)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and a false certificate is issued to him.... (مرزاناصر احمد: جھوٹا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ....for a few rupees....
    (جناب یحییٰ بختیار: چند روپیوں کے عوض)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and false certificate has been issued to him ....
    (مرزاناصر احمد: اور وہ جھوٹا سرٹیفکیٹدیا گیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... by the District Magistrate .... (مرزاناصراحمد: ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: ....on the basis of his declaration and oath he gets the certificate and he gets the admission.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس لڑکے کے جھوٹے ڈکلیئریشن کی بنیاد پر حلف کے بعد اس کو سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے اور داخلہ مل جاتا ہے)
    73Mirza Nasir Ahmad: We should condemn his acts .... (مرزاناصر احمد: اس کے ان افعال کی مذمت کرنی چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I know, but will the Principal of court interfere or not? Or they should enter .....
    (جناب یحییٰ بختیار: جانتا ہوں۔ لیکن کیا کورٹ یا پرنسپل اس معاملہ میں مداخلت کریں گے یا وہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: .... because the first depends on the evidence before the court ....
    (مرزاناصر احمد: یہ منحصر ہے شہادت پر کورٹ کے روبرو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. So it means that on evidence, if it is found false, the court can interfere?
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں! تو معنی ہوئے کہ شہادت اگر جھوٹی پائی جاتی ہے تو کورٹ مداخلت کرسکتی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: If the evidence is there, they should decide accordingly.
    (مرزاناصر احمد: بشرطیکہ شہادت ہے۔ ان کو شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That means ....
    Mirza Nasir Ahmad: That is obvious.
    (مرزاناصراحمد: یہ بات ظاہر ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, someone has to enquire? You give this right to somebody to enquire into the fact whether this person has made a false declaration or a true declaration?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کو حق دے گا تحقیق کرنے کا۔ اس بات میں کہ اس شخص نے جھوٹا ڈکلیئریشن دیا ہے یا سچا)
    Mirza Nasir Ahmad: In some cases, yes.
    (مرزاناصر احمد: چند صورتوں میں ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes?
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: In some cases, yes.
    (مرزاناصراحمد: چند صورتوں میں ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. I do not say in every case. Normally it is not needed.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں بھی نہیں کہتا کہ ہر صورت میں۔ بالعموم اس کی ضرورت نہیں پڑتی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am sorry to bother you because you raised a question of fundamental right no.20 and the Constitution has got other fundamental rights also.
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب میں آپ کو تکلیف دوں گا۔ کیونکہ آپ نے ایک سوال بنیادی حق نمبر۲۰ کے بارے میں اٹھایا تھا اور دستور میں دیگر بنیادی حقوق بھی ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes.
    (مرزاناصر احمد: جی، جی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now. Article 18 deals with freedom of trade, profession end it reads:
    74"Subject to such qualification, if any, as may be prescribed by law, every citizen shall have the right to enter upon any lawful profession or occupation and to conduct any lawful trade or business."
    Now, this is also one of the rights just like freedom or religion, freedom of trade, profession and business.
    (جناب یحییٰ بختیار: دفعہ نمبر۱۸ آزادی تجارت وپیشہ سے متعلق ہے۔ الفاظ یہ ہیں:
    ’’ان قیود کی شرط کے ساتھ اگر کوئی ہوں جو قانون مقرر کرے ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی جائز پیشہ یا کام اختیار کرے یا کوئی مجاز تجارت یا بزنس کرے۔‘‘
    اب یہ حق بھی ایسا ہی حق ہے جیسے کہ مذہب اختیار کرنے کا حق ہے یا تجارت کاروبار، بزنس کرنے کی آزادی کا حق ہے)
    مرزاناصر احمد: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹری کا Profession اختیار کرنا چاہئے اور ڈاکٹری کا اس کے پاس ڈپلومہ نہ ہو تو Law اسے منع کر دے۔
    جناب یحییٰ بختیار: منع کر دے، Because this is subject to such qulification. (کیونکہ وہ ان قیود کے ساتھ مشروط ہے)
    مرزاناصر احمد: ہاں ہاں!
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب!…)
    Mirza Nasir Ahmad: Such very rational, very fundamental .... (مرزاناصراحمد: اس قسم کی کوئی معقول یا بنیادی…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... qualification we expect from ....
    (مرزاناصراحمد: قسم کی شرائط ہم مانتے ہیں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just trying ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف بتانا چاہ رہا ہوں)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... to show that fundamental rights are subject to certain ....
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ بنیادی حقوق چند پابندیوں سے مشروط ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: The fundamental?
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... restrictions, some qualification. They are not absolute. Now, Sir....
    (جناب یحییٰ بختیار: کچھ حدود ہیں۔ وہ مطلق العنان نہیں ہیں۔ اب جناب!)
    75Mirza Nasir Ahmad: No, no. That means they are absolute .... (مرزاناصراحمد: جی نہیں! وہ قطعاً مطلق ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: But, Sir, ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... because these exceptions only prove that the rule, these exceptions you mentioned here only, prove that the rule is absolute.
    (مرزاناصر احمد: کیونکہ یہ مستثنیات صرف ضابطہ کو ثابت کرتی ہیں۔ لیکن جو مستثنیات یہاں مذکور ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ ضابطہ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, thousands of persons are not qualified; a few hundred are qualified. Only qualified can practise. So this is no exception to prove the rule. This a very strict qualification ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب!ہزاروں لوگ مستند نہیں ہوتے۔ چند سو مستند ہوتے ہیں صرف مستند شخص ہی پریکٹس کر سکتا ہے تو ضابطہ کو ثابت کرنے کے لئے یہ کوئی استثناء نہ ہوا۔ یہ قطعاً سخت شرط ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: All right, let us ....
    (مرزاناصر احمد: ٹھیک ہے چلئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... on medicine.
    Mirza Nasir Ahmad: .... not quarrel over these trifles. (مرزاناصراحمد: ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہ الجھیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, now the next point is that the trade, it says, or business or profession is a any lawful proession, occupation or to conduct any lawful trade or business. Now, the trade and business is lawful to begin with.
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اب اگلا پوائنٹ ہے تجارت، بزنس، پیشہ۔ کیا ناجائز طریق ایک جائز کاروبار کے چلانے کے لئے صحیح ہے۔ تجارت، بزنس شروع کرنا بالکل قانونی بات ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if I start smuggling, I cannot say that this is my fundamental right?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اگر میں سمگلنگ شروع کر دوں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا بنیادی حق ہے)
    مرزاناصر احمد: اس سے زیادہ اچھی مثال ہے جو انڈسٹری نیشنلائز ہوگئی ہے۔ اگر وہ کوئی چالاکی سے انڈسٹری Establish کرنا چاہیں تو وہ Illegal (غیرقانونی) ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: But, apart from that.... Sir, I am going into a different field now.... even those trades which are lawful are subject ....
    (جناب یحییٰ بختیار: علاوہ ازیں جناب! میں دوسری اور مختلف تجارتوں کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ تمام کاروبار جو قانون میں مجاز ہیں اور مشروط …)
    76Mirza Nasir Ahmad: They have their own moral code.
    (مرزاناصر احمد: ہر کاروبار کے اپنے چھوٹے چھوٹے مورال کوڈ ہوتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No under the law because the law can make any trade legal or illegal. Now, selling of soap or selling of cars or selling sweats, these are lawful trades in our country at the moment. Now, Sir, you know there is a well known company.... Lever Brothers. They sell soap under the label of Lux, one of them sunlight.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں قانون کی زد سے کوئی باہر نہیں چھوٹا یا بڑا۔ اگر قانون کسی کاروبار کو غیرقانونی قرار دیتا ہے یا قانونی قرار دیتا ہے مثلاً صابن کا بیچنا، کاروں کا بیچنا، مٹھائیوں کا بیچنا۔ یہ سب ہمارے ملک میں آجکل قانونی کاروبار ہیں۔ مثلاً لیوربرادرز ایک کمپنی ہے اور یہ صابن بیچتے ہیں۔ مختلف برانڈ نام میں مثلاً لکس، سن لائٹ وغیرہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, supposing I start business and call myself.... because everybody is free to call his business with any name, there is no restriction....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب بالفرض میں ایک کاروبار شروع کرتا ہوں اور چونکہ ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بزنس کا کوئی نام رکھے تو کیا پابندی ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: There is restriction.
    (مرزاناصراحمد: ہے نہ پابندی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is another law. Under the fundamental rights ....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن اس کے ساتھ ایک اور قانون ہے اور وہ ہے بنیادی حقوق کا ضابطہ)
    Mirza Nasir Ahmad: In the fundamental rights there is a restriction because this law.... the Constitution.... was framed for the honest people of Pakistan.
    (مرزاناصر احمد: بنیادی حقوق کے ضابطہ میں ایک پابندی ہے نہ۔ کیونکہ یہ قانون یہ دستور ایماندار پاکستانیوں کے لئے بنایا گیا تھا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Honest people?
    (جناب یحییٰ بختیار: ایماندار آدمی؟)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, that is understood, you know.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! ظاہر ہے ایمانداروں کے لئے بنایا گیا آپ جانتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no. Supposing I say, Sir, I start business and I call myself Lever Brothers and I also produce soap and call it Lux soap, similar label, similar wraping ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ فرض کریں میں ایک کاروبار شروع کرتا ہوں جس کا نام لیور برادرز رکھتا ہوں اور صابن کا کارخانہ لگا کر صابن کا نام لکس وغیرہ رکھتا ہوں اور ویسا ہی لیبل اور ویسا ہی اوپر کا کاغذ…)
    Mirza Nasir Ahmad: Has there been an example of this? (مرزاناصر احمد: کہیں اس کی کوئی مثال ہے کہ ایسا ہوا ہو؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: There is?
    (مرزاناصر احمد: یہاں ہے؟)
    77Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: So, I am asking this that we should be very careful.
    (مرزاناصراحمد: اس لئے تو ہم کو (نقالوں) سے ہوشیار رہنا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is why I am giving you a concrete example.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو آپ کو ایک محسوس نوعیت کی مثال دی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, if I start selling soap in the name of Lever Brothers under their label....
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر میں لیوربرادرز کے نام پر صابن بیچنا شروع کر دوں ان کا لیبل لگا کر)
    مرزاناصر احمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... can the Lever Brothers go to court or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا لیور برادرز میرے خلاف کورٹ میں جائیں گے یا نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: They should.
    (مرزاناصراحمد: ان کو جانا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And what will the court say? Change the label, change the label, change your name?
    (جناب یحییٰ بختیار: پھر کورٹ کیا کہے گا۔ لیبل تبدیل کرے گا، نام تبدیل کرے گا؟)
    Mirza Nasir Ahmad: The court would decide on the evidence. (مرزاناصر احمد: کورٹ شہادت پر فیصلہ دے گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. Let us say Lever Brothers are already there.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! چلئے لیور برادرز والے موجود ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں if, the evidence proves it, yes. (مرزاناصراحمد: اگر شہادت سے ثابت ہو جائے تو ٹھیک ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They are a firm or reputation for years. They have built up a reputation. That is their soap. You are trading in their name and, therefore, you must change the label, you must change the name of your firm, that they are registered. So, freedom or trade is limited by many considerations that you can't usurp someone else's right. You can't usurp someone else's trade.
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مشہور فرم ہے اور تجارت میں یہ نام استعمال کرتے ہیں تو اس صورت میں آپ مجبور ہو جائیں گے کہ اپنی فرم کا نام تبدیل کریں۔ لیبل دوسرا کریں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تجارت وکاروباری آزادی کچھ باتوں کے پیش نظر مشروط ہے۔ کسی دوسرے کا حق آپ نہیں مار سکتے۔ کسی دوسرے کی تجارت کو ہڑپ نہیں کر سکتے)
    78Mirza Nasir Ahmad: Yes, if religion, say christionity, is the monopoly of a certain group then no other group ....
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! مذاہب میں لیجئے! اگر عیسائی مذہب کسی ایک خاص گروپ کی بلا شرکت غیرسے اجارہ داری ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... can have the label of christianity.
    (مرزاناصراحمد: تو کیا کوئی اور گروپ عیسائی کا لیبل نہیں لگاسکتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am not insinuating anything, please I am just dealing with the restrictions on fundamental rights that, in principle, these rights are restricted by Law.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں جناب کسی بات کی پیش بندی نہیں کر رہا ہوں۔ میں تو سردست پابندیوں کا ذکر کر رہا ہوں۔ بنیادی حقوق پر کہ اصول یہ ہے کہ بنیادی حقوق پر قانونی پابندیاں ہوا کرتی ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: By rational law.
    (مرزاناصر احمد: لیوربرادرز کو اجارہ داری حاصل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally. Law is suppose to be rational. Till it is declared void by the Constitution or the court .... it is suppose to be rational.
    (جناب یحییٰ بختیار: قدرتی طور پر قانون معقول رہتا ہے تاوقتیکہ دستور یا کورٹ اس کو کالعدم قرار نہ دے دے۔ اس لئے قانون معقول ہی ہوا کرتا ہے۔ عقل پر اترنے والا)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... it is supposed to be rational.
    Now, law can impose restrictions on the right of tade, on the rights given in Article:20, that if a person .... now I will take ....
    (جناب یحییٰ بختیار: قانون معقول رہتا ہے تو جناب قانون کو اختیار ہے کہ تجارت کے حقوق پر پابندیاں عائد کرے اور جو حقوق کہ دفعہ نمبر:۲۰ کے تحت دئیے ہیں ان پر پابندیاں لگائے)
    Mirza Nasir Ahmad: Lever Brothers has got the monopoly to use that label.
    (مرزاناصر احمد: لیور برادرز کو اجارہ داری حاصل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but that is their patent. On that I say....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ لیکن اس کا بنانا گارنٹی شدہ اور مضبوط ہے)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I say but who made it patent? The law?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا اس کا بنانا گارنٹی ہے قانونی طور پر)
    Mirza Nasir Ahmad: The law, yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں! قانونی طور پر)
    79Mr. Yahya Bakhtiar: We are supposing the law....
    Mirza Nasir Ahmad: As far as one's faith is concerned, there is no group which has got monopoly of any faith.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I have not come to that. Yet I am just on the principle of restriction.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! ابھی میں اس بات پر نہیں آیا۔ ابھی تو میں پابندیوں کے اصولی ضابطہ کی بات کر رہا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: You are moving towards that direction on a very narrow and muddy road.
    (مرزاناصر احمد: آپ اسی طرف جارہے ہیں۔ ایک نہایت تنگ اور کیچڑ بھرے راستے سے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am not. I have not gone that I may come to it; but it will not be in this form or this shape.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! میں اسی پر آؤں گا مگر اس شکل اور صورت میں نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: All right.
    (مرزاناصر احمد: اچھا ٹھیک ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just asking that, on principle, if a person takes advantage of somebody ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں صرف پوچھتا ہوں کیا اصول ہے اگر ایک شخص فائدہ اٹھاتا ہے کچھ لوگوں سے)
    Mirza Nasir Ahmad: You are right, you are perfectly right, but these examples, to my mind.... I am very humble; don't claim that I am on right.... but, to my mind, they are irrelevant.
    (مرزاناصر احمد: آپ صحیح ہیں۔ بالکل صحیح ہیں۔ لیکن یہ مثال، میں تو سیدھا آدمی ہوں۔ میں نہیں دعویٰ کرتا کہ میں صحیح ہوں۔ لیکن میری نظر میں یہ مثالیں غیرمتعلق ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They are not irrelevant.
    (جناب یحییٰ بختیار: غیرمتعلق نہیں ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: They are not relevant to the question we are discussing here.
    (مرزاناصر احمد: جو سوال زیربحث ہے۔ اس سے غیرمتعلق ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, this is for the Committee. I can't say anything, but ......
    (جناب یحییٰ بختیار: اب یہ کمیٹی پر ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن …)
    Mr. Chairman: It is for the Chair to decide whether a question is relevant or irrelevant.
    (جناب چیئرمین: یہ بات چیئرمین کے فیصلہ کرنے کی ہے کہ سوال غیرمتعلق ہے یا نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, it is for the Committee. It is not for me or for you to say which is relevant and which is not.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس پر کمیٹی کو فیصلہ کرنا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کون متعلق ہے کون غیرمتعلق)
    Mirza Nasir Ahmad: Which is certainly not for me. (مرزاناصر احمد: یقینا چیئرمین کو فیصلہ کرنا ہے)
    80Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, not for ....
    Mirza Nasir Ahmad: I am a witness here.
  3. ‏ نومبر 23, 2014 #43
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (متعلقہ اتھارٹی کسی کے مسلم یا غیرمسلم ہونے کی تفتیش کر سکتی ہے)
    (بقیہ حصہ)

    Mr. Yahya Bakhtiar: But this is for the Committee to decide whether this is relevant or not. But all I wanted to know is whether the legislature can put restrictions on the fundamental rights like this. If a person falsely trades in someone's name.
    Now, Sir, reverting back to freedom of religion under Article:20, It says:
    "Every citizen shall have the right to profess, practise and propagate his religion."
    Now, will you please tell us the forms of practice .... no, not only of Islam; I am not talking of it .... generally religions, what does it mean and how you profess and how you practise in your mind?
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ کمیٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا یہ متعلق ہے یا غیرمتعلق۔ لیکن میں تو صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا مجلس قانون ساز اس نوعیت کی پابندیاں بنیادی حقوق پر لاگو کر سکتی ہے یا نہیں۔ وہ یہ کہ ایک شخص دوسرے کے نام پر جھوٹا کاروبار کرتا ہے۔ اگر… جناب ضابطہ نمبر۲۰ آزادی مذہب کے بارے میں رقمطراز ہے: ’’ہر شہری کو حق حاصل ہوگا۔ اپنے مذہب کے ماننے کا اس پر عمل کرنے کا اور اس کی اشاعت کرنے کا۔‘‘
    کیا آپ فرمائیں گے اور بتائیں گے عمل کی مختلف اشکال کے بارے میں نہ صرف اسلام کی بلکہ دوسرے مذاہب کی بالعموم۔ اس کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ کیسے کسی مذہب پر اعتقاد رکھا جاتا ہے اور اپنے ذہن میں آپ کس طرح اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں! ہر مذہب کے عقائد جو ہیں اس کے نتیجہ میں کچھ عبادات ہیں۔ جو اﷲتعالیٰ نے کہا ہے کہ عبادت کرو۔ مثلاً عیسائی جو ہیں وہ چرچ میں جاتے ہیں۔ یہ عبادت ہے ان کی اور ایک خاص طریقے پر کرتے ہیں۔ ساتھ باجا بھی بجتا ہے۔ گانا بھی ہورہا ہے تو وہ ان کا طریقہ ہے اور چونکہ اسلام بڑا پیارا مذہب ہے، اسلام نے یہ اعلان کر دیا نبی کریمa کی زبان سے: جعلت لی الارض مسجداکہ اگر کوئی شخص مسجد سے اتنا دور ہے کہ عصر کی نماز کا وقت قضا ہو جائے اگر کسی مسجد کی طرف وہ جائے، اس کو حکم ہے جہاں چاہے نماز پڑھ لے۔ عیسائیوں کے لئے یہ سہولت نہیں۔ وہ اپنے طریق پر کرتے ہیں۔ ایک مسلمان اپنے طریق پر نماز پڑھتا ہے۔ مختلف مسلمانوں کے فرقے جو ہیں وہ بالکل ذیلی فرق کے ساتھ…
    81Mr. Yahya Bakhtiar: His practice is only confined to prayers or it is more than that, some rituals are also involved?
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کا عمل صرف نماز تک محدود ہے یا اس سے زیادہ بھی ہے۔ کچھ عبادت کی رسوم بھی ہوں گی)
    مرزاناصر احمد: اسلام میں تو نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج اور کلمہ شہادت کا اعلان جو ہے اس کے علاوہ عید ہے۔ عید جو ہے وہ ہماری اس کا اپنا ایک بڑا عظیم، بڑا گہرا، بڑا عمیق اور بڑا فلسفہ ہے۔ اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ وہ عیدین ہیں دو، قربانیوں کے بعد وہ آتی ہیں، بڑے سبق ہیں ہمارے لئے۔ اس کے علاوہ حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ میں نے تو نہیں گنے۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ سات سو احکام قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور اگر ان کی شرائط پوری ہوں تو سات سو کے سات سو احکام کی پابندی کرنا انسان کے لئے لازمی ہے۔ اس کا عام جو ہمارا استعمال ہے ’’Ritual‘‘ کے لفظ کا یعنی میں سیکھ رہا ہوں آپ سے، میں نے…
    جناب یحییٰ بختیار: میں سیکھ رہا ہوں۔ I ask you.
    مرزاناصر احمد: میں نے نہیں پڑھا کہ وہ ’’Ritual‘‘ کا لفظ ان کے اوپر استعمال ہورہا ہو۔ جو مسلمان ہو… عیدین کے اوپر ہو جاتا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ میں کہتا ہوں، میرے دماغ میں انڈین اتھارٹیز ہیں کچھ۔
    مرزاناصر احمد: ہاں؟
    جناب یحییٰ بختیار: وہاں جو عید پر، بقرعید پر گائے کی قربانی کرتے تھے، And you may have seen those cases. (آپ نے دیکھی ہوں یہ باتیں)
    مرزاناصر احمد: میںہاں، ہاں!
    جناب یحییٰ بختیار: اور وہاں انہوں نے Prevention of Cows Slaughter Act (وہاں پر گاؤ کشی امتناع کا ایکٹ ہے) بنایا ہوا ہے کہ گائے کو ذبح نہیں کرتے۔
    مرزاناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: تو کیا مذہب کی…
    82مرزاناصر احمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: … پریکٹس میں دخل ہے یا نہیں؟
    مرزاناصر احمد: ہاں جی! ٹھیک ہے۔ جو یہ ہماری ہیں عیدین، ہمارے احکام دو قسم کے ہیں۔ ایک جن کا کرنا ضروری ہے، ایک وہ جن کا کرنا جائز ہے۔ جو جائز ہیں اور ضروری نہیں، اگر ان کے خلاف کوئی قانون بن جاتا ہے کسی ملک میں دنیا کے، تو آدمی گنہگار نہیں ہوتا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں Fundamental, from the point of view of Fundamental Right? It is guaranteed in the Indian Constitution in similar terms more or less.
    (بنیادی حقوق کی رو سے ہندوستانی دستور میں کم وبیش انہیں الفاظ میں یہ حقوق گارنٹی شدہ ہیں)
    مرزاناصر احمد: جب مذہب نے اجازت دے دی تو یہ جو ہیں ہمارے Fundamental Rights (بنیادی حقوق) وہ اس کی مخالفت کیسے کریں گے؟
    جناب یحییٰ بختیار: وہ تو انہوں نے کی۔
    مرزاناصر احمد: نہیں نہیں۔ Fundamental Right (بنیادی حقوق) جو ہیں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Fundamental Right says you can practise your religion in all the world.
    (جناب یحییٰ بختیار: بنیادی حق کہتا ہے کہ تم اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوسکتے ہو)
    مرزاناصر احمد: ریلجن کہتا ہے کہ تمہارے لئے ضروری نہیں ہے گائے کو ذبح کرنا۔
    There is no clash in this case, in the example you give here.
    (اس معاملہ میں جو آپ یہاں مثال دیتے ہیں کوئی مزاحمت نہیں ہے)
    ہمارا مذہب اسلام یہ نہیں کہتا کہ گائے کو ضرور ذبح کرنا۔
    جناب یحییٰ بختیار: ابھی اگر ایک آدمی کے پاس صرف گائے ہے بقر عید پہ اور وہ بیچارہ اس کو قربان کرنا چاہتا ہے…
    مرزاناصر احمد: اور ہمارا مذہب یہ بھی نہیں کہتا کہ ہر آدمی قربانی دے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کہتا ہے کہ میرے پاس پیسے ویسے ہیں اور گائے بھی میرے پاس ہے اور میں…
    83مرزاناصر احمد: اگر اس کے پاس پیسے ویسے ہیں تو پھر وہ جاکر دنبہ خریدے موٹا سا، چکی والا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور، اور یہ بتائیے کہ Is this not the freedom of religion? (کیا یہ مذہبی آزادی نہیں ہے؟) کوئی Interference نہیں ہوگا آپ کے ساتھ اگر…
    مرزاناصر احمد: جہاں جواز ہے وجوب نہیں وہاں نہیں ہوگا۔
    جناب یحییٰ بختیار: اور اگر قصائی کہیں جی کہ ہمارا Freedom of trade (آزادی تجارت) پر بھی Effect (اثر) پڑا ہے، وہ بھی نہیں ہوگا؟
    مرزاناصر احمد: اگر قصائی یہ کہے کہ میں سوائے گائے…
    جناب یحییٰ بختیار: میں گائے کا گوشت بیچتا ہوں۔ میری…
    مرزاناصر احمد: … میں صرف گائے کا گوشت بیچتا ہوں اور بکری کا گوشت میں بیچ ہی نہیں سکتا…
    جناب یحییٰ بختیار: ہاں! میں بیچتا ہوں، میرا باپ دادا سے یہی پروفیشن رہا ہے…
    مرزاناصر احمد: نہیں۔ وہ پروفیشن جو ہے وہ کوئی فرق نہیں ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
    مرزاناصر احمد: تو ہمات کی دنیامیں…
    جناب یحییٰ بختیار: آپ اجازت دیتے ہیں کہ The state should interfere in these matters? (حکومت ان معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: It is not interference in the freedom of trade. (یہ آزادی تجارت میں مداخلت نہیں ہے)
    اس واسطے کہ وہ بغیر کسی نقصان کے گوشت بیچ سکتا ہے۔ آپ لیتے ہیں کہ پروفیشن ہے۔ جو ٹریڈ ہے گوشت بیچنے کی، آپ نے اس کی تعریف یہ کی… گائے کا گوشت بیچنا…
    84جناب یحییٰ بختیار: یہ…
    مرزاناصراحمد: … اور میں تعریف یہ کرتا ہوں… گوشت بیچنا… چاہے وہ گائے کا ہو چاہے بکری کا ہو۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: The Constitution says:
    "Any lawful profession or trade."
    Now, this was lawful when the fundamental rights came into existence. Then the law was promulgated after that ....
    (جناب یحییٰ بختیار: دستور کہتا ہے کوئی مجاز پیشہ یا تجارت ہو۔ یہ اس وقت تک مجاز تھا۔ جب تک بنیادی حق معرض وجود میں آیا۔ قانون اس کے بعد نافذ ہوا)
    Mirza Nasir Ahmad: Then it was not lawful after the promulgation of the law.(مرزاناصر احمد: تب یہ قانونی نہ رہا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: The law, as Article:8 our Article:8 says similar the Indian parallel Article says Corresponding Article.
    (جناب یحییٰ بختیار: قانون کی دفعہ نمبر۸ اور اسی طرح ہندوستان کی متوازی دفعہ کہتی ہے کہ کوئی قانون…)
    مرزاناصر احمد: مجھے یہ…
    Mr. Yahya Bakhtiar: Any law which is in conflict with ....
    مرزاناصراحمد: میں بڑا جاہل آدمی ہوں۔ مجھے آپ کی یہ دلیل…
    جناب یحییٰ بختیار: بہرحال! آپ…
    مرزاناصر احمد: … سمجھ نہیں آئی۔
    جناب یحییٰ بختیار: … سمجھتے ہیں کہ یہ لاء ٹھیک ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے؟
    مرزاناصر احمد: جہاں جواز ہے وہاں ٹھیک ہے۔ جہاں…
    جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔
    85مرزاناصر احمد: … وجوب ہے وہاں نہیں۔ مثلاً اگر کوئی قانون یہ بنادے کہ پانچ شادیاں ضرور کرو۔
    جناب یحییٰ بختیار: یہ اسی پر میں آرہا ہوں۔
    مرزاناصراحمد: نہیں۔ وہ تو بالکل نہیں، وہ تو پھر Clash ہوگیا۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ اگر قانون نہیں، ان کا مذہب یہ کہے۔ جیسے Mormons کا؟
    مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں نے آپ کو عرض کیا…
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    جناب یحییٰ بختیار: … کہ امریکہ میں Mormans میں This is not only allowed but....
    Mirza Nasir Ahmad: Let them solve their problems, let us solve ours.
    (مرزاناصر احمد: وہ اپنے سوال حل کریں۔ ہم اپنے کریں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, we are concerned with the freedom of religion all over the world. You have got Ahmadis there also, you have to worry about their welfare.
    (جناب یحییٰ بختیار: ہم کو مطلب ہے آزادی مذہب کا تمام دنیا میں۔ وہاں بھی تو آخر احمدی ہیں۔ آپ کو ان کی بھی تو فکر چاہئے)
    مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں۔ ہمارے احمدی جو ہیں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں…)
    مرزاناصراحمد: … اور جو عیسائی ہیں ان کا وہاں کوئی Clash نہیں…
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔میں Generally (عام طور پر) کہتا ہوں۔ We are...
    مرزاناصراحمد: … اور نہ دوسرے مسلمانوں کا۔
    86Mr. Yahya Bakhtiar: You have relief on declaration of human rights because.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے حقوق انسانی کے منشور کا سہارا لیا ہے۔ کیونکہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: Universal Declaration of Human Rights does not clash with the Mormans, to my mind.
    (مرزاناصر احمد: حقوق انسانی کا ہمہ گیر منشور میرے خیال میں مارمن کے ساتھ تصادم نہیں کرتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, a Morman says that it is obligatory on me, my religion enjoins, it that if circumstances permit ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں مارمن کہتا ہے کہ یہ اس پر فرض ہے۔ اس کا مذہب حکم دیتا ہے کہ اگر حالات اجازت دیں…)
    مرزاناصر احمد: اور وہ ساتھ یہ بھی کہتا ہے…
    جناب یحییٰ بختیار: پریکٹس کو لیجئے۔
    مرزاناصراحمد: … کہ میرا فرض پورا ہو جاتا ہے۔ اگر میں چھپ کے کوئی عورت رکھ لوں شادی کر کے، چھپا کے قانون سے، ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے۔ میں نے پڑھی ہیں ان کی کتابیں، اور یہی ان کی پریکٹس ہے۔ یعنی Mormans جو ہیں اگر وہ یہ کہتے کہ…
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب!…
    مرزاناصراحمد: … دوسری شادی کا اعلان کرنا ضروری ہے تو Clash ہو جاتا۔
    جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب! میں پوچھتا ہوں جب States میں ایک آدمی Railer تھا، اس نے دو شادیاں کر لیں بدبختی سے۔ And he said that I belong to mormon Church and it is obligatory.... (اور یہ کہتا ہے کہ میں مارمن چرچ سے تعلق رکھتا ہوں اور مجھ پر یہ فرض ہے) اس نے بات چھپائی نہیں۔ It is obligatory and this is part of my religion and be produced the authority .... مجھ پر یہ فرض ہے اور میرے مذہب کا حصہ ہے۔
    Mirza Nasir Ahmad: I have read their books.
    (مرزاناصراحمد: میں ان کی کتابیں پڑھ چکا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... and the court said: "We send you to jail for five years of 7 years for bigamy, for disrupting our society. We do not accept this much freedom of religion." So, the state could interfere?
    (جناب یحییٰ بختیار: …اور کورٹ کے سامنے سند پیش کرتا ہے اور کورٹ کہتی ہے ہم تم کو پانچ سال یا سات سال کے لئے جیل میں بہ جرم کثیر الازدواجی بھیجتے ہیں کہ تم نے سوسائٹی کو خراب کیا۔ ہم اس قدر مذہبی آزادی کو نہیں تسلیم کرتے تو پھر حکومت کو مداخلت کرنی چاہئے)
    87Mirza Nasir Ahmad: The state commits one type of blunder that gentelman commits another type of blunder.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now I take another extreme example, Sir. Supposing a Hindu lady at Noshki or Tharparkar, in Pakistan, says that she want to observe their old Hindu law .... satti .... and wants to burn herself with her dead husband.
    (جناب یحییٰ بختیار: اب میں دوسری مثال لیتا ہوں۔ فرض کریں نوشکی یا تھرپارکر کی ایک ہندوخاتون کہتی ہے کہ میں ہندو کا قانون ’’ستی‘‘ پر عمل کرنا چاہتی ہوں۔ پاکستان میں اور اپنے مرے ہوئے خاوند کے ساتھ جل جانا چاہتی ہے۔
    Mirza Nasir Ahmad: I do not know of any such law of satti in Hindu Mazhab. (مذہب)
    (مرزاناصراحمد: مجھے کسی ایسے ستی کے قانون کا علم نہیں ہندو مذہب میں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing that we....
    Mirza Nasir Ahmad: But there is no such law.
    Mr. Yahya Bakhtiar: They used to parctise this.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ اس پر عمل پیرا تھے)
    مرزاناصراحمد: نہیں۔ آپ مثال کیسے دے سکتے ہیں؟ جو چیز ابھی…
    جناب یحییٰ بختیار: یہ ہوتا ہے کہ نہیں؟
    مرزاناصراحمد: لیکن وہ مذہب کے مطابق نہیں ہوتا رہا۔ روایات کے مطابق ہوتا رہا ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ہندومت تو سارا روایات ہے۔ ان کا مذہب ہے کیا؟ But they call it religion. (لیکن وہ اس کو اپنا مذہب کہتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Why don't we ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: But, no, you cannot deny that?
    Mirza Nasir Ahmad: Right. آپ اسلام کی مثال دیں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just saying, supposing....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو بالفرض طور پر کہا کہ فرض کریں)
    مرزاناصراحمد: نہیں! ہم… یہ تو Supposition (فرض کرنے میں) ہماری بہت دور چلی گئی۔
    88جناب یحییٰ بختیار: نہیں! میں تو جب پھر آپ سے اور سوال پوچھوں گا…
    مرزاناصر احمد: ہاں، ہاں! پوچھئے میں…
    جناب یحییٰ بختیار: … تاکہ پوزیشن Clarify ہو۔
    مرزاناصراحمد: ہاں، ہاں، صاحب! میں تو جواب دیتا رہوں گا جو میری عقل اور سمجھ کے مطابق ہو۔
    جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا کہ Anybody has the right to choose his religion. (کوئی بھی جو چاہے مذہب اختیار کرلے)
    مرزاناصراحمد: جی، بالکل!
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now by choose, you mean to select one of the religions already existing' or you can found and start a new religion also? Freedom of religion.
    (جناب یحییٰ بختیار: پسند سے مطلب یہ ہے کہ جو مذہب وجود میں ہیں ان میں سے ایک یا کوئی نیا مذہب بھی شروع کر سکتے ہیں۔ کیونکہ مذہب بنانے کی آزادی ہے؟
    مرزاناصر احمد: جی، یہ جو Universal diclaration Human Rights. (انسانی حقوق کا ہمہ گیر منشور) ہے۔ اس میں Religion (مذہب) کے اندر انہوں نے Atheism بھی رکھا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: So he can start a new religion also.... a person.
    مرزاناصر احمد: Atheism میں نے بتایا ہے نا۔ انہوں نے خود اسے اس Universal Declaration … یہ چائنا نے جو Freedom … مجھے صحیح یاد نہیں۔ لیکن Universal Declaration of Human Right (انسانی حقوق کے ہمہ گیر منشور) میں Atheism بطور ریلجن کے انہوں نے…
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, but I say that a new religion could be started by a person?
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص نیا مذہب بھی شروع کر سکتا ہے)
    89Mirza Nasir Ahmad: A sect of Atheism, yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but they may not say Atheism, they may say a new sect of Christians, for instance they say. There are a hundred, two hundred and three sects, Christian Sects, in America only.
    (جناب یحییٰ بختیار: مثلاً عیسائی کہتے ہیں کہ صرف امریکہ میں ۲۰۳ فرقے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: I thought we were talking religion.... (مرزاناصر احمد: ابھی تک تو ہم مذہب کی بات کر رہے تھے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... Now I find that we are talking of sects in religion.
    (مرزاناصراحمد: اب مذہب کے اندر فرقوں کی بات بھی ہونے لگی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sects?
    (جناب یحییٰ بختیار: فرقے؟)
    مرزاناصراحمد: ہاں، ہاں! Sects جو ہیں وہ ہر ایک میں There are hundreds, thousand onece schools of .... (فرقے تو ایک ہزار ایک ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing somebody starts a new sect in a religion ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں کہ کچھ لوگ مذہب میں نیا فرقہ شروع کر لیتے ہیں)
    مرزاناصراحمد: ہاں! ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... he also has the freedom? (جناب یحییٰ بختیار: تو کیا اس کو اس کی آزادی ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں! بالکل۔ مثلاً میں آپ کو مثال دے دوں تاکہ میری بات واضح ہو جائے۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
    مرزاناصر احمد: ایک شخص یہ اعلان کرتا ہے کھڑے ہو کے کہ میں مثلاً… میں کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا… کہ دیوبندی مذہب جو ہے اس میں یہ یہ چیزیں، انہوں نے رکھا ہوا 90ہے۔ میں اس عقیدے کو چھوڑ کے اور باقی باتوں میں دیوبندی ہوں، تو نیا Sect بن گیا۔ اگر وہ ایک بات بھی چھوڑ دیں تو نیا Sect بن گیا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am talking ....
    مرزاناصراحمد: اس کی میرے خیال میں اجازت ہونی چاہئے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I have taken the extreme example, that supposing, a group of Hippies in Pakistan.... we have got a lost of Hippies these days .....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب میں ایک انتہائی نوعیت کی مثال لیتا ہوں۔ فرض کریں کہ ایک گروپ ’’ہیپی‘‘ کا پاکستان میں ہے۔ آج کل تو بہت ’’ہیپی‘‘ نظر آتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Are they humans?
    (مرزاناصر احمد: کیا وہ انسان ہیں؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Of course, I hope you will not deny them that right?
    (جناب یحییٰ بختیار: بلاشک! میں امید کرتا ہوں آپ ان سے یہ حق تو نہ لیں)
    Mirza Nasir Ahmad: I did, in England and ....
    (مرزاناصر احمد: میں نے تو انگلینڈ میں یہ کیا اور…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: These Hippies?
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ’’ہیپی‘‘؟)
    Mirza Nasir Ahmad: .... they accepted my version. (مرزاناصراحمد: انہوں نے میری بات کو تسلیم کیا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: These Hippies declare, announce, proclaim, that they are Christians of Hippy sect, and then they further announce ....
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ’’ہیپی‘‘ اعلان کر دیں خبر کر دیں، باقاعدہ مطلع کر دیں کہ ہم عیسائی ہیپی فرقے کے ہیں اور باضابطہ یہ مزید یہ کہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: Have they been punished for this? (مرزاناصر احمد: کیا ان کو اس کی سزا ملی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Nobody can punish them.
    (جناب یحییٰ بختیار: ان کو کوئی سزا نہیں دے سکتا)
    Mirza Nasir Ahmad: Then that question is quite clear. (مرزاناصر احمد: تو پھر سوال صاف ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I am asking further question when I come to their rituals. Supposing they further say that marriage is not an institution, with divine sanction. Christ never married. Therefore, all sex relation are.... 91promissible, all sorts of them. One declaration. Then they further declare that man was born naked and he has the right to go about naked everywhere. That is the second declaration. Now this is the religion. Thirdly, they say that human sacrifice, ritual, feelings is good for human......
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! میں ایک اور سوال کر رہا ہوں جب میں رسومات کی بات کرتا ہوں کہ فرض کریں وہ یہ کہیں کہ شادی کوئی روایت نہیں ہے۔ جس کا نفوذ ہونا اس میں خدائی منظوری ہے۔ عیسیٰ مسیح نے کبھی شادی نہیں کری۔ اس واسطے تمام قسم کے جنسی تعلقات کی اجازت ہے۔ یہ تو ایک اعلان ہوا۔ مزید اعلان کرتے ہیں کہ انسان دنیا میں ننگا پیدا ہوا تھا اور اس کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ہر جگہ ننگا جاسکتا ہے۔ یہ ان کا دوسرا اعلان ہے۔ یہ ہے ان کا مذہب۔ پھر تیسرا یہ کہ انسان کی قربانی یعنی انسان کو مارنا انسانیت کے لئے ٹھیک ہے جائز ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Is that a problem for Pakistan?
    (مرزاناصر احمد: کیا پاکستان میں ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No Sir. I am just asking a proposition, that if they declare this is our religion and we call ourselves Christians, and they practise is then we have come to practise, they start going naked in the streets. Do you think that the state should interfere?
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں تو فرض کر رہا ہوں کہ اگر وہ اپنے عیسائی ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مذہب ہے اور یہ ہمارے مذہبی اعمال اور رسوم ہیں تو کیا آپ کے خیال میں حکومت کو دخل اندازی کرنی چاہئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Subject to morality.
    (مرزاناصر احمد: اخلاقیات کے تحت)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So you agree that ........
    (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے تسلیم کر لیا …)
    Mirza Nasir Ahmad: Subject to morality yes, I agree. (مرزاناصر احمد: اخلاقیات کے تحت ہاں۔ میں تسلیم کرتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And they cannot kill either, subject to morality, or subject to public order?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو بشرط اخلاقیات اور بشرط امن عامہ وہ انسانی بھینٹ کا ارتکاب نہیں کر سکتے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں!)
  4. ‏ نومبر 23, 2014 #44
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مذہبی آزادی مشروط ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So you agree that there are restrictions on freedom of religion?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے تسلیم کر لیا کہ آزادیٔ مذہب پر پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: There are restrictions, and they should be very wisely complied with.
    (مرزاناصر احمد: بیشک پابندیاں ہیں۔ مگر ان پر مدبرانہ طور پر عمل پیرا ہونا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And those restrictions have to be judged by?
    (جناب یحییٰ بختیار: اور ان پابندیوں کے جانچنے کا معیار؟)
    Mirza Nasir Ahmad: By the competent authority.
    (مرزاناصر احمد: مجاز اتھارٹی کے پاس)
  5. ‏ نومبر 23, 2014 #45
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مجاز اتھارٹی قانون بناسکتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Competent authority. That is, they will make law and the court will carry out public morality?
    (جناب یحییٰ بختیار: مجاز اتھارٹی کے پاس یعنی کہ وہ اس سے متعلق قانون بنائے گی اور کچہریاں بروئے اخلاقیات عامہ عمل کروائیں گی؟)
    Mirza Nasir Ahmad: By the competent authority.
    (مرزاناصر احمد: اتھارٹی مجاز رکھنے والی ہو)
    92Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, by the competnet authority. I do not want to ask you further questions because you mean legislature and courts. One will make the law and the other will interpret.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں جناب! مجاز اتھارٹی ہی کرے گی۔ میں اب آپ سے اور زیادہ سوال نہیں کرتا۔ کیونکہ آپ نے قانون ساز ادارے کو ذہن میں رکھ رکھا ہے اور کچہریوں کو کہ ایک ادارہ قانون سازی کرے اور دوسرا اس کے مفہوم کی توضیح کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: By competent authority I do mean competent authority.
    (مرزاناصر احمد: میں کہتا ہوں مجاز اتھارٹی۔ میرا بالکل مطلب مجاز اتھارٹی سے ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you do not want to define it any further?
    (جناب یحییٰ بختیار: اور آپ اس لفظ کی مزید تشریح نہیں کرنا چاہتے مجاز اتھارٹی کی)
    Mirza Nasir Ahmad: I need not.
    (مرزاناصر احمد: مجھے مزید تشریح کی ضرورت نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: And you don't mean ....
    Mirza Nasir Ahmad: It is quite clear.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. So, this freedom of religion is subject to law; the law cannot say that inspite of the fact that a particular group of people ...........
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی یہ ہوئے کہ آزادی مذہب قانون کے نیچے ہے اور قانون یہ نہیں کہہ سکتا کہ باوجود اس کے کہ لوگوں کا ایک خاص طبقہ …)
    مرزاناصر احمد: اچھا، یہاں میں وضاحت کردوں۔ اخلاق جو ہے ناں Public Morality اس کو دو معنوں میں ہم استعمال کرتے ہیں۔ ایک مذہبی معنی میں مثلاً اسلام نے بڑا تفصیلی Code of Morality (ضابطہ اخلاق) ہمیں دیا ہے اور ایک وہ Morality (اخلاق) ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ہے۔ In the very nature of man. (افتاد طبع میں ہے) وہ خداتعالیٰ نے اس کو دی ہے جس کے اوپر مثلاً وہ قومیں بھی عمل کر رہی ہیں جو اﷲتعالیٰ پر ایمان ہی نہیں لائیں۔ لیکن ان کی فطرت کے اندر یہ ہے کہ یہ Morality (اخلاق) ہے۔ یہ اخلاق نہیں۔ ہمیں ان کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس کی موٹی مثال چین کی ہے۔ چیئرمین ماؤزے تنگ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ طلباء جو ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھ کر باہر نکلیں، پوری طرح بااخلاق ہوں۔ تو ’’وہ بااخلاق ہوں‘‘ کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ جو اسلام نے اخلاق پیش کئے ہیں۔ اس کے مطابق با93اخلاق انسان کے سامنے پیش کئے ہیں۔ ان کے سامنے بااخلاق ہوں تو یہ جو اس سے بھی نیچے گرتا ہے وہ تو پھر مذاق ہے Subject to Morality (حسن اخلاق وعمل کی شرط) کا۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Subject to morality, but the concept of morality changes from time to time, from area to area, and from place to place.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ حسن عمل واخلاق سے مشروط ہے۔ مگر اخلاق کا ذہن تصور بدلتا رہتا ہے۔ جگہ جگہ وقت وقت خطے خطے سے)
    Mirza Nasir Ahmad: As for as a non-religious type of morality is concerned, you are right. As far as Islam is concerned, the fundamental truths and realities of morality do not change ever.
    (مرزاناصر احمد: جہاں تک غیرمذہبی قسم کے اخلاق کا تعلق ہے آپ کی بات صحیح ہے۔ مگر جہاں تک اسلام کا تعلق ہے۔ بنیادی اصول صدق اور اخلاقیات کے حقائق واقعی کبھی نہیں تبدیل ہوتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. But if a person does not observe "Purdah" or goes about semi-naked, do you call it immoral? In some cases, it will not be considered immoral.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! اگر کوئی پردہ نہیں اختیار کرتا اور بے پردہ ہے یا نیم برہنہ پھرتا ہے تو کیا آپ اس کو غیر اخلاقی کہیں گے کچھ صورتوں میں یہ بداخلاقی نہیں سمجھی جائے گی)
    Mirza Nasir Ahmad: Why call it immoral? Call it against the laws of Quran.
    (مرزاناصر احمد: بداخلاقی کیوں کہتے ہیں۔ یہ کہئے کہ قرآنی قانون کے خلاف ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: You call everthing against the law of Quran? Not ....
    (جناب یحییٰ بختیار: تو ہر چیز کو آپ کیا قرآنی قانون کے خلاف کہیں گے؟ نہیں…)
    Mirza Nasir Ahmad: I call everything against the law of Quran when we find a law in Quran about it.
    (مرزاناصر احمد: میں ہر اس چیز کو قرآنی قانون کے خلاف کہوں گا جہاں ہم قرآن میں اس کے لئے قانون پائیں گے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... not otherwise.
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... a person is a Christian and he says that it is my right, I am not a Muslim ....
    (جناب یحییٰ بختیار: ایک شخص عیسائی ہے وہ کہتا ہے یہ میرا حق ہے۔ میں مسلمان نہیںہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: He has got every right. You cannot interfere.
    (مرزاناصر احمد: بیشک ایسا کہنا اس عیسائی کا حق ہے۔ آپ مداخلت نہیں کر سکتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: He can go about naked?
    (جناب یحییٰ بختیار: چاہے وہ ننگا پھرے)
    94Mirza Nasir Ahmad: Not naked, without "purdah".
    (مرزاناصر احمد: ننگا نہیں۔ بغیر پردے کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why not?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں؟)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
  6. ‏ نومبر 23, 2014 #46
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آزادی مشروط ہے کہ دوسرے کی آزادی میں خلل نہ پڑے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why not? If you say the man is born free, man is born naked, why wear clothes?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہ پھرے ننگا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ ننگا پیدا ہوا ہے تو کیوں کپڑے پہنے وہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Because it is against the right of other people.
    (مرزاناصر احمد: اس لئے کہ دوسروں کے حقوق کی تلفی ہوتی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly. That means that you can exercise your freedom of religion so long as you do not affect others or deprive others of their rights?
    (جناب یحییٰ بختیار: بالکل ٹھیک! اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ اپنی مذہبی آزادی کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ تاوقتیکہ آپ دوسروں پر اثر انداز نہ ہوں یا دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کریں)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite, quite.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.
    (جناب یحییٰ بختیار: شکریہ)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now Sir, if this sect of Hippies who call themselves Christians ....
    (جناب یحییٰ بختیار: اچھا جناب!! اب یہ جو ’’ہیپی‘‘ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو عیسائی کہتا ہے۔ میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it a fact?
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just giving you a ridiculous example.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے اس بارے میں ایک مضحکہ خیز مثال دی ہے)
    مرزاناصر احمد: میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے ۱۹۷۰ء میں ویسٹ افریقہ اور یورپ کا بھی دورہ کیا۔ وہاں مجھ سے یہ سوال انہوں نے کیا کہ Hippies (ہیپی) کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ میرے نزدیک تو انسانوں کی سی زندگی وہ نہیں گزارتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔ یا حقارت کے نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان پر رحم آتا ہے95۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ انسانی اقدار کو سمجھنے لگیں۔ ہماری بنیادی چیز جو اسلام نے ہمیں دکھائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو پہلے انسانی اقدار سیکھنی چاہی اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔ تب روحانی ترقیات کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, all these examples were simply meant to show that freedom of religion, as given, is subject to restrictions, and it may be by law. All I was submitting was that this freedom of religion is subject to restrictions which could be made by law, imposed by law. That was all I was saying.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب جس قدر یہ مثالیں دی گئی ہیں۔ اس مدعا سے دی گئی ہیں کہ یہ بتایا جائے کہ مذہبی آزادی جو میسر ہے وہ پابندیوں سے مشروط ہے۔ چاہے وہ پابندیاں قانون کی طرف سے ہوں۔ میرا مفروضہ یہ تھا کہ مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی پر قدغن ہے۔ چاہے قانون ضابطہ بنا کر پیش کرے یا قانون ضابطہ پر عمل کرائے۔ میں یہی کچھ کہنا چاہتا تھا)
    Mirza Nasir Ahmad: Very carefully and extremely rationally applied.
    (مرزاناصر احمد: ہاں مگر بہت احتیاط سے عمل کروائے انتہائی معقول طور پر عقلیت کے ساتھ)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Rationally.
    (جناب یحییٰ بختیار: معقول طور پر)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally, because we persume the law is rational, we presume the courts are working honestly and properly. That presumtion is there.
    (جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں ہی کہ قانون معقول ہوا کرتے ہیں اور ہم نے یہ بھی مان رکھا ہے۔ پہلے سے یہ کچہریاں ایماندارانہ صحیح طور پر اپنا کام کرتی ہیں۔ یہ مفروضہ تو ہم نے تسلیم کر ہی رکھا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: And we hope that those who execute these laws are also very honest and rational.
    (مرزاناصر احمد: اور ساتھ ہم امید کرتے ہیںکہ جو قانون پر عمل کرواتے ہیں۔ وہ بھی ایماندار اور معقول ہوں گے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, rational and honest, that is presumed.
    (جناب یحییٰ بختیار: بیشک! معقول اور ایماندار۔ یہ مانی ہوئی بات ہے)
    Now. Sir, you have seen the Constitution of Pakistan, In the preamble of the Constitution, the title is called: "The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan". That shows what sort of character is aimed at or it has, that will be for anybody to judge. Then in the Preamble, it is stated, among other things, that
    "Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in 96accordance with the teachings and requirements of Islam as said out in the Holy Quran and Sunnah."
    (اب جناب! آپ نے پاکستان کا دستور دیکھا ہے۔ دستور کی افتتاحیہ تمہید بھی دیکھی ہے۔ دستور کا نام ہے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور‘‘ اس سے پتہ لگتا ہے کہ دستور کی نوعیت کی قسم کیا ہے۔ ہر شخص اپنا فیصلہ کر سکتا ہے تو دستور کی افتتاحیہ تمہید میں دیگر باتوں کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں۔‘‘ تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات وضروریات اسلام کے بموجب گذار سکیں جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی)
    Mirza Nasir Ahmad: And as they believe.
    (مرزاناصر احمد: اور بموجب مسلمانوں کے اعتقاد کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Naturally every sect is free.
    (جناب یحییٰ بختیار: قدرتی طور پر ہر فرقہ آزاد ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں Every sect is free.
    (مرزاناصراحمد: کہ ہر فرقہ آزاد ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Every sect as they believe. Now, but that shows, you known, that religion is part of the duty imposed on the legislature to see that the Muslims .......
    (جناب یحییٰ بختیار: ظاہر ہے قدرتی بات ہے۔ ہر فرقہ آزاد ہے۔ بہرحال اس تمہید سے یہ اخذ ہوا کہ مقننہ نے مقننہ پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ اس پر نظر رکھے کہ مسلمان …)
    Mirza Nasir Ahmad: That all sects of Muslims.
    (مرزاناصر احمد: مسلمانوں کے سارے فرقے)
  7. ‏ نومبر 23, 2014 #47
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (میری بات پوری ہونے دیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: All sects, I am not excluding anybody, I am not excluding, you need not jump to conclusions that I am excluding you.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں سارے فرقے مسلمانوں کے ہیں۔ میں کسی کو خارج نہیں کر رہا۔ آپ کو میری بات کے اختتام سے پہلے کودنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کو خارج والوں میں شامل کروں گا)
  8. ‏ نومبر 23, 2014 #48
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (مرزاناصر کی معافی)
    Mirza Nasir Ahmad: I am sorry.
    (مرزاناصر احمد: معاف کیجئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: The point is simple....
    "Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam..."
    So, that means that the Legislature Will see to it that it frames laws which require the Muslim to live their lives in accordance with the requirements of Quran and Sunnah as interpretted by different sects?
    (جناب یحییٰ بختیار: میرا پوائنٹ سادہ ہے۔ تمہید کے الفاظ ’’تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات وضروریات اسلام کے بموجب گزار سکیں۔ جو کہ قرآن پاک اور سنت نبوی کے موافق جیسے کہ مختلف فرقوں نے ان کا مفہوم لیا ہو۔‘‘)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں as interpretted.
    (مرزاناصر احمد: جیسا انہوں نے سمجھا ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: That means there is a duty imposed on the Legislature to make laws in religious matters? That is my first question.
    (جناب یحییٰ بختیار: اس کے معنی ہوئے کہ مجلس قانون ساز پر فرض عائد کر دیا گیا ہے کہ مذہبی امور میں قانون سازی کرے۔ کیا ایسا نہیں ہے۔ یہ میرا پہلا سوال ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: We should not generalise.
    (مرزاناصر احمد: ہمیں قاعدہ کلیہ نہیں بنانا چاہیے)
    97Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking that because they have to make laws to see to it that they live their lives in accordance with the injunctions of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: ایسا نہیں ہے۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ چونکہ مقننہ کو قانون سازی کرنی ہے۔ اس مقصد سے مسلمان اپنی زندگیوں کو احکام اسلامی کے مطابق بنا کر رہ سکیں…)
    مرزاناصر احمد: اس کا مطلب یہ ہے کہ …
    Mr. Yahya Bakhtiar: I won't say that because a law is made by a Sunni .....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ نہیں کہتا کہ چونکہ ایک سنی نے قانون بنایا…)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, ....
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... it should be enforced on a Shia.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو شیعہ پر اس کو لاگو کرنا چاہیے)
    مرزاناصر احمد: اس میں کوئی جھگڑا ہی نہیں آپس میں۔ وہ جھگڑا نہیں میرے ذہن میں اس وقت اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ اگر جماعت احمدیہ یہ سمجھتی ہے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق قبروں پر چڑھاوے نہیں چڑھانے چاہئیں…
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am not suggesting this.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس طرف اشارہ نہیں کر رہا ہوں)
    مرزاناصر احمد: نہیں نہیں… تو ان کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ جماعت احمدیہ قبروں پر چڑھاوے نہیں چڑھاتی۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
    مرزاناصراحمد: ٹھیک ہے، یہ ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I say but they can make laws? I am only concerned with the principle that Legislature and the Parliament can make laws on this subject. Second thing is, Sir .....
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ٹھیک ہے، یہی میں کر رہا ہوں کہہ وہ قانون بنا سکتے ہیں۔ میرا مطلب تو اصولوں سے ہے کہ مقننہ اور پارلیمنٹ اس بارے میں قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ جناب …)
  9. ‏ نومبر 23, 2014 #49
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (قانون سازی بنیادی عقائد کے مطابق)
    Mirza Nasir Ahmad: In the liht of the fundamental belief....
    (مرزاناصر احمد: قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں بنیادی اعتقاد کے موافق…)
    98Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... of every sect.
    (مرزاناصراحمد: ہر فرقے کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: You are going, Sir, in deatils. But, Sir, I am saying in principle you give this power to the Legislature?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب آپ تو تفصیل میں جارہے ہیں۔ میں اصول کی بات کر رہا ہوں کہ ان کو آپ نے یہ قانون سازی کا حق دیا ہے)
    مرزاناصر احمد: میں اس لئے Detail (تفصیل) میں جارہا ہوں کہ یہ نہ ہو کہ کل کو ہم Detail (تفصیل) بھول جائیں۔
    جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی نہیں۔ You can explain and add to anything which you say in answer to my question. I am not ....
    (آپ میرے سوال کے جواب میں وضاحت کر سکتے ہیں۔ اپنا جواب دیتے وقت گھٹا بڑھا سکتے ہیں)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔ نہیں، ٹھیک ہے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... suggesting that. But I am just saying that in principle this is a duty imposed by the Constitution?
    (جناب یحییٰ بختیار: اس وقت میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اصولی طور پر دستور نے مجلس قانون ساز پر یہ فرض عائد کیا ہے)
    (Interruption)
    مرزاناصراحمد: یہ (مائیک) کام نہیں کر رہا شاید۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: The other one?
    مرزاناصراحمد: … یا مرضی نہیں کام کر رہی، یہاں نقصان نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے جی۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am just submitting that, in principle, the Constitution has imposed a duty on the National Assembly or the Parliament, that they should see to it, by making laws, that the Musalamans live their lives in accordance with the injunctions of Quran and Sunnah?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ اصولی طور پر دستور نے قومی اسمبلی پر یہ فرض عائد کیا ہے۔ یعنی پارلیمنٹ پر کہ وہ یہ دیکھے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جس کے باعث مسلمان اپنی زندگیاں احکام قرآن وسنت کے موافق گزار سکیں)
    99Mirza Nasir Ahmad: That Ahmadis live their lives in accordance with their interpretation?
    (مرزاناصر احمد: احمدی لوگ اپنی زندگیاں اپنے مفہوم احکام کے مطابق گزار رہے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: And Wahabis live their lives in accordance with their interpretation?
    (مرزاناصر احمد: وہابی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: And Barelvi, .... yes.
    (مرزاناصراحمد: اور بریلوی حضرات اپنی توضیح اور ترجمانی کے مطابق)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am only asking ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میرا مدعا کہنے کا یہ ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that the Legislature can do it?
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ مقننہ ایسا کر سکتی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: With that detail ....
    (مرزاناصراحمد: بشرط اس تفصیل کے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... I quite agree with it.
    (مرزاناصراحمد: جو میں نے بتائی ہے اس کے مطابق صحیح ہے۔ میں بالکل مانتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, the next provision of Constitution to which I respectfully draw you attention is Article:2 of the Constitution.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب! دستور کی اگلی دفعہ یہ ہے کہ میں بصد احترام آپ کی توجہ منعطف کراتا ہوں۔ دستور کی دفعہ نمبر۲ یہ ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It says: "Islam shall be the state religion of Pakistan."
    (جناب یحییٰ بختیار: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)
    Mirza Nasir Ahmad: This is Preamble.
    (مرزاناصر احمد: یہ تمہید ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, this is Article:2, this is not Preamble.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ یہ دفعہ نمبر۲ ہے تمہید یہ نہیں ہے)
    100مرزاناصراحمد: (اپنے وفد کے رکن سے) دکھاؤ کانسٹی ٹیوشن ہے یہاں؟
    جناب یحییٰ بختیار: کانسٹی ٹیوشن دے دیجئے۔
    مرزاناصراحمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) آرٹیکل نمبر:۲ نکالنا۔
    This is Introduction. Yes.
    Mr. Yahya Bakhtiar: This is Article:2.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ دفعہ نمبر:۲ ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں! In the Introduction. Very wise.
    Mr. Yahya Bakhtiar: And if you could kindly tell us what are the implications of this; what does it mean?
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ براہ کرم یہ بتاسکیں گے کہ اس کا کیا مطلب ہوا۔ اس سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: It is quite clear. Islam is the religion of the State.
    (مرزاناصر احمد: یہ ایک صاف بات ہے۔ حکومت کا مذہب اسلام ہوگا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: It means that, in our Constitution, politics and religion are not kept separately. We are not a secular state and that....
    (جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ ہے کہ سیاست اور مذہب علیحدہ علیحدہ رکھے گئے ہیں۔ ہم غیرمذہبی حکومت نہیں ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: I don't know. To my mind, it means that the politics takes on itself the responsibility to guard the interests of the religion.
    (مرزاناصر احمد: میں کہہ نہیں سکتا۔ میرے خیال میں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت کی سیاست مذہب کے مفاد کی حفاظت کی ذمہ دار ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, exactly, because of the difference.... (جناب یحییٰ بختیار: بالکل صحیح۔ قطعاً)
    Mirza Nasir Ahmad: Because something different. And it is not the mixture of the two.
    (مرزاناصر احمد: کیونکہ کچھ چیزیں مختلف ہیں اور یہ کہ ان دونوں کا یہ کوئی مرکب نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that, under the American Constitution, it is provided that the State shall not establish any religion or another, it will not side with one sect or another; it will be absolutely neutral in religious matters. But ....
    (جناب یحییٰ بختیار: امریکہ کے دستور میں یہ ہے کہ حکومت مذہب کے اندر قائم نہیں ہوگی۔ یعنی کہ اس مذہب کی یا اس مذہب کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی۔ ایک فرقہ کی یا دوسرے فرقہ کی حمایت نہیں کرے گی اور مذہبی معاملات میں قطعاً غیرجانبدار رہے گی)
    101Mirza Nasir Ahmad: They also mean that State will not side with one religion or the other.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں۔ حکومت کسی ایک خاص مذہب کا ساتھ نہیں دے گی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but here ....
    Mirza Nasir Ahmad: It only says on the opposite side, you know, that the politics of this country takes upon itself the responsibility to safeguard the interests of Islam.
    (مرزاناصر احمد: لیکن ادھر یہ بات ہے کہ جیسے آپ جانتے ہیں کہ اس ملک کی حکومت نے اسلام کے مفاد کی حفاظت کے لئے ذمہ داری اٹھالی ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! یہی تو میں کہہ رہا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: It does not say that we would not be partial to these who do not believe in Islam.
    (مرزاناصراحمد: لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو لوگ اسلام کے معتقد نہیں ہیں ان کے ساتھ ہم جانبدار رہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not saying that. No that is their fundamental rights.... No, not in the least, not as far the non-Muslims are concerned....
    Mirza Nasir Ahmad: That clears the matter now.
    (مرزاناصر احمد: اس سے اب یہ بات صاف ہوگئی)
    Mr. Yahya Bakhtiar: As far as the Muslims are concerned, it will encourage them to see that they live their lives in accordance with the injunctions of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: مسلمان اپنی زندگی احکام اسلام کے مطابق گذاریں گے)
    Mirza Nasir Ahmad: They say their prayers, they don't drink, they pay their Zakat, things like that.
    (مرزاناصر احمد: جی ہاں گزار رہے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں۔ شراب نہیں پیتے۔ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, there is further provision in the Constitution, Article:41 and Article:91....
    (جناب یحییٰ بختیار: تو جناب دستور میں ایک دفعہ نمبر۴۱ اور نمبر۹۱ بھی ہے…)
    Mirza Nasir Ahmad: That is ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that requires that the President and the Prime Minister shall be Muslims.
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ صدر اور وزیراعظم مسلمان ہوں گے)
    Mirza Nasir Ahmad: That is not the fundamental.... (مرزاناصر احمد: یہ بنیادی نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, this is part of the Constitution.
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ یہ بات دستور کا حصہ ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Under the heading?
    102Mr. Yahya Bakhtiar: This is not a directly part but obligatory part.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ہدایت نہیں ہے بلکہ لازمی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Obligatory part?
    (مرزاناصراحمد: لازمی حصہ ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because Preamble is not enforceable. (جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ تمہید نافذ العمل نہیںہوتی)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: But this part ....
    Mirza Nasir Ahmad: This is enforceable?
    (مرزاناصراحمد: یہ بات نافذ العمل ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Enforceable part.
    (جناب یحییٰ بختیار: نافذ العمل ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: This is after the Principles of Policy. Yes. (مرزاناصراحمد: یہ اصول پالیسی کے تحت ہے۔ جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, I am going again to give that example. Supposing somebody, a very important man, a very popular man in our country, but not a Muslim, he files a declaration that "I am a Muslim and want to contest a election." Can anybody question that?
    (جناب یحییٰ بختیار: اب جناب! فرض کریں کوئی شخص کوئی اہم شخص کوئی ہمارے ملک کا بڑا ہر دلعزیز آدمی جو مسلمان نہیں ہے۔ یہ ڈکلیئریشن لگا دیتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور اس عہدے کے لئے لڑنا چاہتا ہوں کیا کوئی شخص اس پر اعتراض کر سکتا ہے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: He could neither be pious nor great.
    (مرزاناصر احمد: ایسا آدمی نہ اہم ہوسکتا ہے نہ بڑا اور نہ خداترس پارسا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: If he is not a Muslim?
    (جناب یحییٰ بختیار: اسی صورت میں کہ اگر وہ مسلمان نہیں ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, i f he files this declaration, how could you call him a pious man and a great man?
    (مرزاناصر احمد: نہیں اگر ایسا شخص ڈکلیئریشن لگاتا ہے تو آپ اس کو کیسے متقی اور بڑا کہہ سکتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but he makes a false declaration. People say: "Well somehow we made a mistake; we want to ...."
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ لیکن وہ ایک جھوٹا اعلان کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ: ’’کسی نہ کسی طرح ہم نے ایک ایک غلطی کی ہے ہم چاہتے ہیں…‘‘
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, if he files such on horrid declaration, then he is neither pious nor great.
    (مرزاناصر احمد: اگر وہ ایسا سخت قابل اعتراض ڈکلیئریشن لگاتا ہے تو وہ نہ پارسا ہے اور نہ بڑا آدمی)
    103Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am just asking. Supposing a person....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ فرض کریں ایک شخص …)
    Mirza Nasir Ahmad: It is not possible.
    (مرزاناصر احمد: یہ ممکن نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: A pious man to file a false declaration?
    (مرزاناصراحمد: ایک پارسا آدمی کے لئے کہ وہ جھوٹا ڈکلیئریشن کرے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, let's take an example neither a Christian nor a Hindu. Supposing a person who does not believe in one, or two of the essentials of Islam....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں! چلیں ایک مثال لیتے ہیں۔ نہ وہ کسی عیسائی کی ہے نہ کسی ایک ہندو کی۔ فرض کریں ایک ایسا شخص ہے جو اسلام کی لازمی ضروریات میں سے کسی ایک یا دو کا انکار کر دیتا ہے)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... like he denies Zakat, is Munkir of Zakat, and he files a declaration that 'I am a Muslim', and still he says he is a Muslim....
    (جناب یحییٰ بختیار: مثلاً زکوٰۃ ہے۔ وہ زکوٰۃ کو منع کرتا ہے۔ منکر زکوٰۃ ہے اور ساتھ ہی وہ ڈکلیئریشن لگاتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور بااصرار کہتا ہے میں مسلمان ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: And he ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... still says he is a Muslim.... (جناب یحییٰ بختیار: بااصرار کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں! Can he say? A pious Muslim files a declaration and ....
    (مرزاناصراحمد: ایک پارسا مسلمان جھوٹا ڈکلیئریشن دے۔ کیا وہ ایسا کہہ سکتا ہے…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am not talking of a pious Muslim. (جناب یحییٰ بختیار: میں کسی پارسا مسلمان کی بات نہیں کر رہا)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, I am; I am talking about him. And the authority declares that he is not. Just the opposite of what you say; and opposite is also possible.
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am just asking whether somebody has a right to declare him one way or the other?
    (جناب یحییٰ بختیار: میں پوچھتا ہوں کہ کسی کو اختیار ہے نا۔ اعلان کرنے کا کہ متنازعہ شخص ادھر کا ہے یا ادھر کا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Nobody has got the right to say that he is a Muslim when he feels, he thinks ....
    (مرزاناصر احمد: کسی کو حق نہیں پہنچتا کہنے کا کہ وہ مسلمان ہے۔ جب کہ وہ کہتا ہے اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ نہیں ہے)
    104Mr. Yahya Bakhtiar: But supposing ....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن فرض کریں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and believes that he is not .... (مرزاناصراحمد: اور اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing he has done it, has filed a form ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں اس نے ایسا نہیں کیا اور فارم داخل کرتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: But he is a Muslim, but the authority concerned declares him as non-Muslim, then?
    (مرزاناصر احمد: لیکن وہ ایک مسلمان ہے۔ لیکن اتھارٹی کہتی ہے کہ وہ غیرمسلم ہے۔ تب؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I will just give the opposite example, you know. I agree with you, that is possible. He will go to the court tell the court.....
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ جانتے ہیں کہ میں نے صرف آپ کو مخالف مثال دی ہے۔ میں آپ کے ساتھ متفق ہوں۔ یہ ہوسکتا ہے وہ عدالت جائے گا اور عدالت میں کہے گا)
    مرزاناصراحمد: ہاں! So, there is one way open to him. (تو اس کے لئے ایک راستہ کھلا ہوا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, that is what I say. So, for a person who formally declares that he is a Muslim, when he denies one of the fundamentals of Islam or two fundamentals of Islam, openly denies, and still he says that he is a Muslim....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! یہی میں کہتا ہوں کہ ایک شخص جو باضابطہ طور پر مسلمان ہونے کا مدعی ہے۔ مگر ایک ضروری اسلام کی بنیادی شرط کو نہیں مانتا یا دو شرطوں کا کھلم کھلا انکاری ہے اور پھر بھی کہتا ہے میں مسلمان ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: Then the Government should go to the Court.
    (مرزاناصر احمد: تو اس صورت میں حکومت کو کورٹ میں جانا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: The Government is interested that he should be elected, he is a popular, I say. Can anybody go to the Court and say "no"?
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں گورنمنٹ کو دلچسپی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ الیکشن میں کامیاب ہو جائے۔ وہ ہردلعزیز ہے تو کیا کسی شخص کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کورٹ کو رجوع کرے اور کہے۔ یہ غلط ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Well, I personally condemn that Government.
    (مرزاناصر احمد: میں ایسی حکومت کی ذاتی طور پر مذمت کرتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Government I ....
    Mirza Nasir Ahmad: I don't know about the others. (مرزاناصراحمد: اوروں کے لئے تو نہیں کہہ سکتا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Government is not the member of the Assembly we elect; Government is nobody in the Assembly. (جناب یحییٰ بختیار: اسمبلی میں حکومت کی کوئی شخصیت نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No?
    (مرزاناصراحمد: نہیں؟)
    105Mr. Yahya Bakhtiar: It is the members of the Assembly who elect; Government is nobody in the Assembly.
    Mirza Nasir Ahmad: No, you used the word "Government", that is why I repeated that.
    (مرزاناصر احمد: جی نہیں۔ حکومت کا لفظ آپ نے استعمال کیا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, because ....
    Mirza Nasir Ahmad: You change the word and I will change that word.
    (مرزاناصراحمد: اگر آپ لفظ تبدیل کر دیں تو میں بھی تبدیل کر دوں گا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because you have been saying again and again, 'the Government'; I think you meant Legislature.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ باربار خود کہتے رہے ہیں کہ حکومت کو مقننہ سمجھا جائے)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, whoever is the authority concerned. (مرزاناصراحمد: نہیں! جو بھی متعلقہ اتھارٹی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: Whichever is the proper authority. (مرزاناصر احمد: جو بھی صحیح اتھارٹی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing he thinks he is a popular man, he is a nice man, he is a man of character, his religious beliefs are somehow fair, but he does not believe in Zakat, Jehad or something, but we are not concerned. He says he is a Muslim, but he openly says "No, I don't accept Zakat as part of Islam and I don't think it is necessary"....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں وہ سمجھتا ہے میں ہردلعزیز ہوں۔ اچھا آدمی ہوں۔ باکردار ہوں۔ مذہبی لیکن زکوٰۃ میں یا جہاد میں اعتقاد نہیں رکھتا۔ وہ صاف کہتا ہے۔ نہیں! میں زکوٰۃ کو اسلام کا حصہ نہیں سمجھتا اور اس کو ضروری خیال نہیں کرتا)
    Mirza Nasir Ahmad: They should not support him. (مرزاناصر احمد: ان کو اس کی تائید نہیں کرنی چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but supposing they support him, can that be questioned ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ لیکن فرض کریں وہ اس کی تائید کرتے ہیں تو کیا قانوناً اس پر سوال جواب ہوسکتا ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں… ہیں۔ (Pause)
    106Mr. Yahya Bakhtiar: .... or his declaration is enough under the law? I am speaking of law.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا اس کا ڈکلیئریشن قانون کے اعتبار سے کافی۔ میں قانون کی بات کر رہا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: Is there a provision in this constitution that when such a thing is suspected, it should be settled by a court or, if it is not there, then who is going to decide? Suppose there is one member of this august House who says that the declaration is false,....
    (مرزاناصر احمد: کیا دستور میں یہ ہے کہ اگر اس طرح کی کوئی بات شبہ کی آجائے تو کورٹ اس کا فیصلہ کرے اور اگر کورٹ نہیں ہے تو کون فیصلہ کرے گا۔ فرض کریں ایک اسی جلیل القدر ہاؤس کے ممبر صاحب یہ کہتے ہیں کہ ڈکلیئریشن جھوٹا ہے…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... a members from the Opposition, you know.
    (مرزاناصراحمد: حزب اختلاف کے کوئی ممبر صاحب۔ آپ جانتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, member of the Opposition can tell the Chief Election Commissioner when form is filled.
    (جناب یحییٰ بختیار: حزب اختلاف کے ممبر صاحب چیف الیکشن کمشنر صاحب کو کہہ سکتے ہیں جب فارم داخل کیا جارہا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: And his word is final.
    (مرزاناصر احمد: اور اس کا فیصلہ حتمی ہوگا)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, his word is final as far as they are concerned. But, If the objection is raised by one person that this man is not Muslim,....
    (جناب یحییٰ بختیار: اگر ایک شخص اعتراض اٹھاتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... can, on the basis of your argument, the candidate say that it is none of your buiness?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو کیا آپ کی بحث کی بنیاد پر امیدوار کہہ سکتا ہے۔ آپ کا اس سے کوئی سروکار نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: What is the basis?
    (مرزاناصراحمد: بنیاد کیا ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Why? Declaration is the final word.
    (جناب یحییٰ بختیار: کیوں! جو میں نے ڈکلیئریشن دیا ہے وہ قطعی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: What is the basis of existing law? I must know that before I ....
    (مرزاناصر احمد: موجودہ قانون اس پر کیا کہتا ہے۔ مجھے بتایا جائے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Chief Election Commissioner can see. But the conduct ....
    (جناب یحییٰ بختیار: چیف الیکشن کمشنر کہہ سکتا ہے کہ…)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it the Chief Election Commissioner? (مرزاناصر احمد: اس صورت میں الیکشن کمشنر ہے؟)
    107Mr. Yahya Bakhtiar: .... of the President cannot be questioned in the court of law.
    (جناب یحییٰ بختیار: کہ صدر کے طور طریق پر کورٹ میں فیصلہ نہیں اٹھایا جاسکتا)
    Mirza Nasir Ahmad: Is it the Election Commissioner who decides....
    (مرزاناصراحمد: تو ایسی صورتوں میں چیف الیکشن کمشنر ہے جو فیصلہ کرتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... in such cases ....
    (مرزاناصراحمد: ان معاملات میں…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. He scrutinizes the form; he has to see to it ....
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! فارم کی وہی چھان بین کرتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: .... that whether he is qualified for Presidentship ....
    (مرزاناصر احمد: کہ وہ صدارت کے لئے اہل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. And he is to take oath before him.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! اور اس کو اس کے سامنے حلف لینا ہوگا)
    Mirza Nasir Ahmad: .... that he is qualified or not. (مرزاناصر احمد: …کہ وہ اہل ہے یا نہیں ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Oath is taken later, but he has to file the form before him that he is a Muslim, because....
    Mirza Nasir Ahmad: Has he got the right to question that oath?
    (مرزاناصراحمد: تو کیا وہ حلف پر شک کا اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: There scrutiny takes place.
    Mirza Nasir Ahmad: No, no; he takes; has he got the right?
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I am asking you. Supposing somebody ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں بلکہ آپ بتائیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no, I must know the law before I can....
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں۔ جواب دینے سے قبل مجھے قانون تو معلوم ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, yes.
    (جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں!)
    Mirza Nasir Ahmad: .... answer that question.
    108Mr. Yahya Bakhtiar: Supposing some Christian files a form ....
    (جناب یحییٰ بختیار: فرض کریں۔ چند عیسائی فارم پر کرتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: And ....
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... The Chief Election Commissioner can throw it out and say, no, only Muslims can do it ....
    (جناب یحییٰ بختیار: چیف لیکشن کمشنر کہتا ہے نہیں۔ صرف مسلمان ڈکلیئر کر سکتے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No .....
    (مرزاناصراحمد: جی نہیں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... for the Presidentship or the Prime-Ministership.
    (جناب یحییٰ بختیار: صدارت کے عہدے کے لئے یا وزارت عظمیٰ کے لئے)
    Mirza Nasir Ahmad: Supposing a Christian is faithful to himself and does it ....?
    (مرزاناصر احمد: فرض کریں ایک عیسائی حلف اٹھاتا ہے اس کے لئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, .....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... then he takes the oath before the Election Commissioner....
    (مرزاناصراحمد: اس نے الیکشن کمشنر کے سامنے حلف اٹھایا تب)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: .... the Election Commissioner has got the right to refuse to take his oath or not? (مرزاناصراحمد: الیکشن کمشنر کو حق نہیں پہنچتا کہ حلف کو نامنظور کر دے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, no, I am not talking of oath yet; that comes after the election. I am at the stage of filling nomination papers. When the nomination papers are filed, the Chief Election Commissioner will look at them. The first thing he is to see is that the papers carried a certificate that a person is 45 yesrs old. If the person is 30 years old, the Chief Election Commissioner say, "Well, I am sorry, you are not qualified."
    (جناب یحییٰ بختیار: جی نہیں۔ میں حلف کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ وہ تو الیکشن کے بعد کی بات ہے۔ میں تو ابھی کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے مقام پر ہوں۔ جب کاغذات نامزدگی داخل ہوں گے چیف الیکشن کمشنر ان پر نظر ڈالے گا۔ پہلی چیز وہ یہ دیکھے گا کہ کاغذات میں سرٹیفکیٹ ہے کہ وہ شخص ۴۵برس کی عمر کا ہے۔ اگر وہ تیس برس کا ہے تو چیف الیکشن کمشنر کہے گا جناب افسوس ہے آپ اہل نہیں ہیں)
    مرزاناصراحمد: ہاں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Because the Contitution says ....
    109مرزاناصراحمد: ہاں! Under age
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, I say, he is the authority on the spot to say that your papers are rejected.
    (جناب یحییٰ بختیار: تو میرا مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اس موقعہ پر وہی اتھارٹی ہے جو مجاز ہے کہنے کا تمہارے کہنے کاغذات مسترد ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: But can he reject? Can he reject his papers on the assumption that his declaration as a Muslim is incorrect?
    (مرزاناصر احمد: لیکن کیا وہ کاغذات کو مسترد کر سکتا ہے۔ اس مفروضہ کے تحت کہ اس کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا غلط ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, I am saying on the assumption, he cannot do it; but supposing the objection is raised ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں! اپنے مفروضہ پر وہ نہیں کہہ سکتا۔ مگر فرض کریں کہ اعتراض اٹھتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Who is going to decide?
    (مرزاناصر احمد: تو فیصلہ کون کرے گا؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: He.
    (جناب یحییٰ بختیار: وہی)
    Mirza Nasir Ahmad: That Election Commissioner.... whether he is a Muslim or not?
    (مرزاناصر احمد: چیف الیکشن کمشنر کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, Sir, I am asking you if somebody objects that....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں جناب! میں آپ سے پوچھ رہا ہوں اگر کوئی اس پر اعتراض کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: Well I am very sorry, I cannot.... I find myself just incapable of....
    (مرزاناصر احمد: مجھے معاف کیجئے۔ میں اپنے آپ کو ناقابل پاتا ہوں کہ…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No, but if you kindly hear for a minute.
    Mirza Nasir Ahmad: .... making you understand what I want to know. My question is that I can form....
    (مرزاناصراحمد: میں آپ کو سمجھا سکوں کہ میں کیا معلوم کرنا چاہتا ہوں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: If you kindly listen to my question.
    Mirza Nasir Ahmad: .... I can form my opinion when I know the law.
    (مرزاناصراحمد: میر امفروضہ یہ ہے کہ میں اپنی رائے اسی وقت پیش کر سکتا ہوں جب مجھے معلوم ہو کہ قانون کیا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. I am not talking about the law. The law is ....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں قانون کی بات نہیں کر رہا ہوں)
    110Mirza Nasir Ahmad: My opinion would be formed on the knowledge of the law....
    (مرزاناصر احمد: میں تو اپنی رائے اسی وقت دے سکتا ہوں جب قانون کا مجھے علم ہو…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Will you please....
    (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ مہربانی کریں گے؟)
    Mirza Nasir Ahmad: .... and not otherwise.
    (مرزاناصراحمد: ورنہ نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... let me explain the case again? (جناب یحییٰ بختیار: میں دوبارہ کیس کو سمجھاتا ہوں)
    Mirza Nasir Ahmad: ہاں Yes, yes, جزاک اﷲ
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now you have said that if a person announces, declares, proclaims, that he is a Muslim, nobody has any right to question his declaration.
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ہے کہ اگر ایک شخص اعلان کرتا ہے۔ بیان دیتا ہے۔ باضابطہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کے اعلان کرنے پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا)
    Mirza Nasir Ahmad: Quite.
    (مرزاناصر احمد: بالکل!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, if a person files a false form....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب ایک شخص ہے جو جھوٹا فارم بھر دیتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: If such a person ......
    (مرزاناصر احمد: اگر ایسا شخص …)
    Mr. Yahya Bakhtiar: No. No. Any person....
    (جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔ کوئی بھی شخص…)
    مرزاناصراحمد: ہاں، Any person.
    Mr. Yahya Bakhtiar: That is the principle.
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ اصول ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: Yes, yes.
    (مرزاناصراحمد: جی ہاں، جی ہاں!)
    Mr. Yahya Bakhtiar: A person can be a Christian or anybody. That declaration cannot be questioned. Now supposing a man files his nomination paper for the office of the President of Pakistan and he says he is a Muslim, he writes there and declares that 'I am a Muslim', but some members or voters of Senate or National Assembly know that he denies certain fundamentals of Islam .....
    (جناب یحییٰ بختیار: وہ شخص عیسائی ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس پر اعتراض نہیں کیاجاسکتا۔ اب فرض کریں کہ ایک شخص صدارت کے عہدے کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، تحریر میں دیتا ہے۔ لیکن کچھ ممبران یا ووٹر قومی اسمبلی یا سینیٹ کے جانتے ہیں کہ یہ شخص اسلام کے کچھ بنیادی اصول سے انکار کرتا ہے…)
    111Mirza Nasir Ahmad: And the knowledge....
    (مرزاناصراحمد: اور ان کا یہ علم…)
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... and they raise ....
    Mirza Nasir Ahmad: .... is based on facts which they got to know two days ago? There might be a change within these two days.
    (مرزاناصر احمد: ان واقعات پر مبنی ہے جو انہیں دو دن پہلے معلوم ہوئے تو ممکن ہے کہ ان دو دن میں کچھ تبدیلی آگئی ہو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I am coming, I am coming to that. I have to explain the whole case.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں اس بات پر آرہا ہوں۔ پوری صورتحال واضح کروں گا)
    مرزاناصراحمد: ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Now, after the nomination papers are filled, the date of scrutiny of papers is fixed.
    (جناب یحییٰ بختیار: کاغذات نامزدگی کے بعد جانچ پڑتال کی تاریخ مقرر ہوتی ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: They see he is 45 years old.
    (مرزاناصراحمد: دیکھا جاتا ہے کہ وہ ۴۵برس کا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: They see he declares himself to by Muslim.
    (جناب یحییٰ بختیار: دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: He is otherwise qualified.
    (مرزاناصر احمد: مگر ویسے وہ اہل ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Otherwise qualified on the face of it.
    (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! ویسے وہ اہل ہے ظاہری طور پر)
    مرزاناصر احمد: ہاں، ناں۔ Yes.
    Mr. Yahya Bakhtiar: But objection is raised....
    (جناب یحییٰ بختیار: لیکن اعتراض اٹھتا ہے)
    مرزاناصراحمد: ہاں، ناں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... objection is raised that he says he is a Muslim, but in fact he is not, because he denies certain essentials of Islam.
    (جناب یحییٰ بختیار: اعتراض اٹھتا ہے اور وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں۔ جب کہ دراصل وہ مسلمان ہے نہیں۔ کیونکہ چند اسلام کی بنیادی باتوں سے انکار کرتا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: For instance?
    (مرزاناصراحمد: مثلاً بتائیں؟)
    112Mr. Yahya Bakhtiar: Zakat for instance
    (جناب یحییٰ بختیار: مثلاً زکوٰۃ)
    Mirza Nasir Ahmad: He says that?
    (مرزاناصراحمد: وہ کیا کہتا ہے؟)
    Mr. Yahya Bakhtiar: "It is not necessary; I don't believe in it."
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ ضروری نہیں ہے۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا)
    Mirza Nasir Ahmad: This institution of Zakat should be abolished?
    (مرزاناصر احمد: وہ کہتا ہے کہ ادارۂ زکوٰۃ کو منسوخ کر دو)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Abolished or it never existed; "I do not believe in it."....
    (جناب یحییٰ بختیار: منسوخ کر دو یا اس کا کبھی وجود ہی نہ تھا میں اس میں اعتقاد نہیں رکھتا…)
    مرزاناصراحمد: ہوں، ہوں۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: .... that is his view. The Chief Election Commissioner asks, "Is it so?" he says, "Yes, Sir, but you are not concerned. You are concerned only with my declaration. I have written I am a Muslim. It is none of your business whether I believe in one tenant or not, or I believe in others or not." What will the Chief Election Commissioner do? Has he the right to interfere or not?
    (جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کے تأثرات ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس سے پوچھتا ہے کیا ایسا ہے وہ کہتا ہے ہاں۔ لیکن آپ کا اس سے مطلب نہیں۔ آپ کو تو صرف میرے ڈکلیئریشن سے مطلب ہے جس میں نے لکھ دیا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اس سے کیا مطلب۔ آپ کو اس سے کیا غرض کہ میں کسی عقیدہ پر اعتراض رکھتا ہوں یا نہیں اور چیف الیکشن کمشنر کا اس سے کیا تعلق کہ میں کیا عقیدہ رکھتا ہوں اس کو دخل اندازی کا کیا حق ہے۔
    Mirza Nasir Ahmad: What will the members of this House do?
    (مرزاناصر احمد: اس ہاؤس کے ممبران بتائیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Members of the House are not under oath to give evidence, Sir.
    (جناب یحییٰ بختیار: ممبران نے حلف نہیں اٹھایا ہے کہ وہ گواہ ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: No, no.
    (مرزاناصراحمد: نہیں، نہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: You are asking ....
    (جناب یحییٰ بختیار: آپ کہہ رہے ہیں)
    Mirza Nasir Ahmad: They are supposed to elect or reject.
    Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you will guide them. In such circumstances, you will tell us that in the light of your interpretation of Article:20, the Chief Election Commissioner says, 'Yes, I will have to accept the declaration on the face of it?"
    (جناب یحییٰ بختیار: ان حالات میں دفعہ نمبر۲۰ کی اپنے مفہوم کے رو سے اگر چیف الیکشن کمشنر کہتا ہے کہ اس ڈکلیئریشن کو ظاہری حالت میں قبول کرنا پڑے گا تو پھر؟)
    113Mirza Nasir Ahmad: I have already humbly submitted so many times that these extreme examples, these imaginary examples, cannot solve the problem we are facing today. Let us face facts. You know .....
    (مرزاناصر احمد: میں نے کئی بار گذارش کی ہے کہ اس طرح کی انتہائی سخت مثالیں اس طرح کی خیالی مثالیں ان پرابلم کو حل نہیں کر سکتیں۔ جن کا ہم کو آج کل سامنا ہے۔ واقعاتی حالات کو سامنے رکھیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I think we will continue after....
    (جناب یحییٰ بختیار: اب میرے خیال میں اس پر بعد میں بات ہونی چاہئے)
    Mr. Chairman: Yes, the Delegation is permittid to withdraw, to be in the House at 6: 00 pm.
    (جناب چیئرمین: درست ہے۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے اور شام چھ بجے پھر آجائیں)
    (The Delegation left the Chamber)
    Mr. Chairman: The Special Committee is ....
    بات کرنی ہے جی؟
    Maulana Shah Ahmad Noorani: If you permit me.
    (مولانا شاہ احمد نورانی: آپ کی اجازت ہے)
    جناب چیئرمین: ہاں جی! مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی۔
  10. ‏ نومبر 23, 2014 #50
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    EVASIVE ANSWERS TO QUESTION IN THE
    CROSS- EXAMINATION

    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ یہ آنریبل اٹارنی جنرل جو ہیں، جو سوالات کرتے ہیں، تو اس کا Definite (قطعی صاف صاف) جواب جو ہے وہ نہیں دے پاتے۔ آپ میرے خیال میں ان کو Bound (مجبور) کریں کہ وہ Definite (قطعی صاف صاف) جواب دیں۔
    Mr. Chairman: This matter can be taken up with the Attorney General.
    (جناب چیئرمین: اس بات کے لئے اٹارنی جنرل سے رجوع کریں)
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: یہ آپ کی پریولیج میں ہے۔
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ میں نے ان کو…
    114مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: آپ کو رائٹس ہیں یہ۔
    جناب چیئرمین: ہاں؟
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: وہ ادھر ادھر ٹال جاتے ہیں اور الٹا اٹارنی جنرل صاحب سے سوال کر لیتے ہیں۔
    ایک رکن: جناب ایسا لگتا ہے وہ جرح کر رہے ہیں۔
    جناب چیئرمین: نہیں۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: اس کا یہ طریقہ غلط ہے۔
    جناب چیئرمین: یہ بات میں نے ان سے کی تھی۔
    جناب یحییٰ بختیار: سر! میں ذرا جارہا ہوں۔
    جناب چیئرمین: آپ بالکل اس میں مطمئن رہیں۔ He has got his own method. (ان کا اپنا طریقہ ہے)
    A Member: All right, Sir.
    (ایک رکن: بہت اچھا)
    جناب چیئرمین: کہیں سے ایک Portion (حصہ) ہوتا ہے، کہیں سے دوسرا۔
    جناب یحییٰ بختیار: کوئی Object (اعتراض) کر سکتا ہے کہ آپ نہیں مانتے۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: صحیح ہے۔
    جناب یحییٰ بختیار: میں نہیں جانا چاہتا اس میں۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بیشک۔
    جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک نہیں ہے، تیز نہیں ہوسکتا۔
    مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: لیکن سر! ایک بات ضرور ہے۔ سر! میں یہ عرض کرنا چاہتا تھا…
    115مولانا غلام غوث ہزاروی: ایک بات واضح ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کا سوال تو ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن ان کا جواب سمجھ میں نہیں آتا۔
    Mr. Chairman: The Special Committee is adjourned to meet at 6 : 00 pm.
    In the meantime, the honourable members can discuss the questions, or methods of putting them, with the Attorney- General.
    Thank you very much.
    (جناب چیئرمین: خصوصی کمیٹی اب شام چھ بجے بیٹھے گی۔ اس دوران ممبران صاحب ان سوالات پر بحث کر سکتے ہیں جو پوچھے جائیں گے یا کیسے ان سوالات کو پوچھا جائے۔ اس کے طریقہ کار کو اٹارنی جنرل سے مشورہ کر کے متعین کریں۔ شکریہ!)
    A Member: In your Chamber, Sir?
    (ایک رکن: آپ کے چیمبر میں)

    (The Special Committee adjourned to meet at 6 : 00 pm)
    ----------
    {The Special Committee re-assembled after the break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.}
    (ہاؤس کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں دوبارہ شروع ہوا)
    Mr. Chairman: A suggestion, Mr. Attorney General, from certain members, that certain questions put by you, the witness avoids, to answer, and there is a suggestion that a second question may be put. When a definite answer is to be given by the witness, Yes or no, he say 'I don't want to give.'
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل سے مخاطب ہو کر، کچھ ممبران کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ چند ایک سوال جو آپ نے کیئے ہیں ان کا جواب گواہ ٹال دیتا ہے اور یہ تجویز ہے کہ اگلا دوسرا سوال تب ہی کیا جائے جب کہ پہلے سوال کا صاف صاف جواب گواہ دے دے۔ یعنی یا تو وہ کہے ہاں یا کہے ناں یا کہے مجھے نہیں معلوم)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I said in the beginning that we can't compel the witness. And the House can draw its own inference that he is avoiding the answer to the question and if he gives the answer, probabley that will be not favourable to him. So, this is for the Court, as they say, to decide.
    (جناب یحییٰ بختیار: میں نے شروع ہی میں کہہ دیا تھا کہ ہم گواہ کو جواب پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اس لئے گواہ کے جواب سے جو بھی وہ دے ممبران مطلب خود اخذ کر لیں اور دیکھ لیں کہ وہ جواب کو ٹال رہا ہے۔ اگر وہ مجبوری جواب دے گا تو غالباً وہ اس کے خلاف ہوگا اور مناسب حال نہ ہوگا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ گواہ کا جواب دیکھ کر پھر فیصلہ کیا کرتی ہے)
    جناب چیئرمین: نہیں، ابھی نہیں۔ اس کو یہاں بلوالیں، ادھر بٹھادیں۔

    (Interruption)
    116Mr. Chairman: Yes, they may be called.
    جناب چیئرمین: ہاں! اب ان کو بلالو۔
    (The Delegation entered the Chamber)
    (وفد چیمبر میں داخل ہوتا ہے)

    CROSS- EXAMINATION OF THE QADIAN
    GROUP DELEGATION

    Mr. Chairman: Yes, the Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل صاحب)
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر