1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قومی اسمبلی میں چودھواں دن

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 11, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ فروری 11, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قومی اسمبلی میں چودھواں دن

    Thursday, the 29th August. 1974.
    (۲۹؍اگست ۱۹۷۴ئ، بروز جمعرات)
    ----------

    The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at six of the clock, in the Evening. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
    (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں شام ۶؍بجے چیئرمین جناب (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
    ----------
    (Recition from the Holy Quran)
    (تلاوت قرآن شریف)
    ----------

  2. ‏ فروری 11, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    1860REPORT ABOUT CH. MOHAMMAD IQBAL, EX- M.N.A's FATAL ACCIDENT

    جناب عبدالحمید جتوئی: جناب والا! جہاں تک مجھے یاد ہے، چوہدری اقبال صاحب کا جو ایکسیڈنٹ تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ اس کی پروسیڈنگ آئے گی تو میں ہاؤس کو بتاؤں گا۔ جو اطلاع ملی تھی اس کے مطابق ڈرائیور کے پاس لائسنس بھی نہ تھا اور وہ غیرذمہ داری سے گاڑی چلا رہا تھا۔ میرا خیال ہے، جہاں تک مجھے یاد ہے، اس ہاؤس کو ابھی تک اطلاع نہیں دی گئی۔
    جناب چیئرمین: ہمیں انہوں نے اطلاع نہیں دی۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: آخر وہ بھی اس ہاؤس کے معزز ممبر تھے۔
    جناب چیئرمین: میں اس کے متعلق انہیں چٹھی لکھوں گا کہ ہمیں مطلع کیا جائے کہ کیا پروسیڈنگ ہوئی اور اس انکوائری کا Ultimate Result (حتمی نتیجہ) کیا ہوا۔ ہمیں ابھی تک کسی نے مطلع نہیں کیا۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: کیونکہ ہ معزز ممبر تو…
    جناب چیئرمین: کوئی اطلاع نہیں ہے ابھی تک۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: … اس ہاؤس کی ڈیوٹی پر تھے اور ڈیوٹی سے واپس جارہے تھے جس کی بناء پر…
    جناب چیئرمین: Convey (مطلع) کرتے ہیں، ان کو لیٹر لکھتے ہیں کہ کیوں جواب نہیں دیا اور جس وقت اس کا جواب آئے گا میں ہاؤس کو Convey (مطلع) کروں گا۔
    مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: محترم سپیکر صاحب! اراکین اسمبلی، جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، کہ وہ اکثر سکھر تشریف لے گئے تھے اور ان کے آنے میں کچھ دیر ہوئی ہے اور ابھی تک وہ یہاں نہیں آسکے ہیں۔ تو نماز کا وقت بھی ہوگیا ہے تو…
    1861جناب چیئرمین: ایک منٹ، یہی بات کرنے لگا ہوں۔ مفتی صاحب سے تسلی کر لیں، تو ایک ریزولیوشن کی کاپی مرحوم کے لواحقین کو بھیج دی جائے گی اور ہم اپنے طور پر صوبائی حکومت کو لکھ دیں گے کہ اس کی جلد نہ صرف تفتیش مکمل کی جائے بلکہ اسکا پتہ لگایا جائے اور ہمیں اطلاع دی جائے With these words, I think, (انہی الفاظ کے ساتھ، میرا خیال ہے) ویسے کورم تو پورا ہے۔
    ----------
  3. ‏ فروری 12, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    PROCEDURE FOR GENERAL DISCUSSION ON THE QADIANI ISSUE
    (قادیانی مسئلہ پر عمومی بحث کا طریقہ کار)

    ملک محمد اختر: تو پھر ہم کیوں وقت ضائع کریں؟ کام سٹارٹ کر لیں، طریقہ کار طے کر لیں۔ آج نئی بات کرنی ہے تو دس منٹ بعد بریک کر لیں گے۔کیونکہ بلاوجہ ہم…
    جناب چیئرمین: ویسے بھی مغرب کا ٹائم ہوگیا ہے۔
    ملک محمد اختر: اگر ٹائم ہی ہوگیا ہے تو ٹھیک ہے۔
    جناب چیئرمین: ان گھڑیوں میں بھی فرق ہے، وہ دو منٹ پیچھے ہے۔
    ملک محمد اختر: چلئے جی! اگر ٹائم ہوگیا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔
    Mr. Chairman: Then we will meet at 7:30 pm. in the meantime, I will discuss procedure, Maulana Sahib.
    (جناب چیئرمین: پھر ساڑھے سات بجے شام دوبارہ ملیں گے۔ عین اس وقت میں طریقہ پر بحث کروں گا۔ مولانا صاحب!) کہ کس طرح سے سٹارٹ کرنا ہے۔
    ملک محمد اختر: تو ملتوی کرنے سے پہلے آپ اس چیز پر غور کر لیں کہ کسی نے شاید آپ سے بات کرنی ہو کہ یہ کتاب ہے سیکنڈ ریزولیوشن کے متعلق اس کا مطلب ہے۔ پہلے ریزولیوشن کو ڈسکس کئے بغیر ہم سیکنڈ پر جائیں گے یا سیکنڈ کو پہلے لے کر یا دونوں کو ہم اکٹھا لیں گے؟
    Mr. Chairman: This is open. Both can be taken up together. This is open for the members to settle whatever they like.
    (جناب چیئرمین: یہ اوپن ہے۔ دونوں پر اکھٹے حصہ لیا جاسکتا ہے۔ یہ ممبران کے لئے اوپن ہے کہ وہ جیسے چاہیں اس کو حل کریں)
    ملک محمد اختر: یہ آپ فیصلہ کر لیں جیسے آپ نے کرنا ہے۔
    1862جناب چیئرمین: کیونکہ اس پررولز نہیں اپلائی کریں گے اپنا پروسیجر Adopt (اختیار) کریں گے۔
    مولوی مفتی محمود: میرا خیال یہ ہے اس سلسلے میں کہ اس وقت دو تحریکیں آئی تھیں۔ پہلی تحریک جو جناب پیرزادہ صاحب نے پیش کی تھی وہ قرارداد کی صورت میں نہیں تھی۔ اس میں صرف یہ تھا کہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے، اس پر بحث کی جائے اور دوسری جو ہے وہ قرارداد کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ تو میرے خیال میں یہ ساری ایک ہی بات ہے اور اکٹھے سارے اس پر بحث کر سکتے ہیں۔
    جناب چیئرمین: اکٹھی بحث ہو جائے گی۔
    ملک محمد اختر: جناب! دونوں اکٹھی زیربحث آجائیں تو ہمیں اعتراض نہیں، تحریکیں دونوں ہی چلیں گی۔
    جناب چیئرمین: ابھی ہم نے Put to vote (رائے دہی کے لئے پیش) تو نہیں کیں۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب چیئرمین صاحب! پہلے ایک قراداد پیرزادہ صاحب نے پیش کی، پھر اپوزیشن ممبران نے پیش کی ایک قرارداد اور وہاں تو تجویز یا عبارت تھی۔ کوئی ایک تجویز ہم نے پیش کی تھی۔ وہ تجویز نہیں تھی بلکہ بل تھا۔ ہم نے تین ممبران کی طرف سے ایک تجویز پیش کی۔ وہ باقاعدگی کے ساتھ وہاں داخل ہوئی تو اس چیز کے بارے میں ہمیں بحث کرنے کی باقاعدہ اجازت ہونی چاہئے۔
    جناب چیئرمین: باقاعدہ ہوگی۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: اور اجازت ایسی ہو کہ جس طرح انہوں نے اپنا بیان سنایا ہے۔ اسی طرح ہم بھی سنائیں۔
    جناب چیئرمین: مغرب کے بعدمولانا! ہم یہاں بیٹھیں گے۔ سب سے پہلے طریقہ کار پر بحث کریں گے۔ اس میں جو پہلے طریقہ کار ہم نے ڈسکس کیا تھا۔ اس پر ہم پھر ڈسکس کریں گے جو ممبران زبانی بیان دینا چاہیں، پڑھنا چاہیں یا بحث میں حصہ لینا چاہیں، یہاں آکر بحیثیت گواہ پیش ہو جائیں۔ جو آپ مناسب سمجھیں گے آپ کو پورا حق ہے۔
    1863مولوی مفتی محمود: میں اس میں اتنی پوزیشن واضح کر دوں کہ پوزیشن یہ ہے کہ ہم یہاں پر بحیثیت گواہ کے، جیسے کہ وہ دو فریق پیش ہوئے تھے اس طرح ہم پیش نہیں ہوں گے اور ہم اس مسئلے میں ان کے مقابلے میں ایک فریق کی حیثیت اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا مؤقف تمام مسلمانوںکا مؤقف ہے۔ اس میں ہم ان کے فریق بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں یہ صورتحال ہے کہ ہم ایک ممبر کی حیثیت سے ہیں اور ممبران کو حقائق واضح کرنے کے لئے اس پر بحث کرنے کا حق ہے اور ایک ممبر کی حیثیت میں ہم بحث کر سکتے ہیں۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
    مولوی مفتی محمود: دلائل دیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے وہ دلائل اکٹھے کر لئے ہیں۔ ایک تحریک کی صورت میں تو آپ سے اجازت لے لیں گے۔ وہ ہم پڑھ لیں گے۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
    مولوی مفتی محمود: اور ہماری حیثیت یہ ہوگی کہ اگر ہم بطور گواہ کے پیش ہوتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم جج نہیں رہ سکتے اور ہم اس میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔
    جناب چیئرمین: کیونکہ وہ گواہ کی حیثیت سے پیش ہوگئے تو پھر وہ ووٹ نہیں دے سکتے۔
    مولوی مفتی محمود: ہاں! پھر ووٹ نہیں دے سکتے۔
    جناب چیئرمین: لازمی بات ہے۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: یہ مسئلہ شاید رہبر کمیٹی میں پیش ہو۔ اس میں فیصلہ ہو جائے گا طریقہ کار کے متعلق۔
    جناب چیئرمین: ہاں جی! یہ ڈسکس ہوگا۔ ہم جب دوبارہ نماز کے بعد شروع کریں گے تو ڈسکس کر لیں گے۔ میری ایک عرض ہوگی کہ آپ لوگ جب بحث میں حصہ لیں تو ساتھ تجاویز بھی دیتے جائیں کہ یہ تجویز صحیح ہے، یہ غلط ہے۔
    1864مولانا غلام غوث ہزاروی: وضاحت اس کی ہم یوں کر سکتے ہیں کہ یا تو بحیثیت ممبر کے ہم کوئی بات کریں۔ یہ اسمبلی فیصلہ کرنے والی ہے، یہ جج کی حیثیت میں ہے۔ یہ ملک کا قانون پاس کرنے کے لئے ہے یا تو اس حیثیت میں بحث کریں اور یہی حیثیت صحیح ہے کہ نہ ہم حلف اٹھائیں۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ جیسے آپ مناسب سمجھیں۔
    مولانا غلام غوث ہزاروی: آگے یہ طریقہ کار رہبر کمیٹی…
    جناب چیئرمین: اس کے بعد جتنی آپ کی پروسیڈنگ ہوگی اس پر سٹیرنگ کمیٹی بیٹھ جائے گی اور فائنل کرلیں گے۔
    مولوی مفتی محمود: میری گذارش یہ ہے کہ ہم نے یہ بات رہبر کمیٹی میں طے کر لی تھی کہ ہم کس طریقے سے پیش ہوں گے۔ اگر ہم گواہ کی حیثیت سے پیش ہوجاتے ہیں تواس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ ہم جج کی حیثیت میں اپنا ووٹ استعمال نہیں کر سکتے۔
    جناب چیئرمین: ہاں! پھر ووٹ نہیں ہو سکے گا۔ نیچرل جسٹس بھی یہی ہے، جیسا کہ مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ گواہ کی حیثیت میں پیش ہوں گے تو پھر ان…
    سردار عنایت الرحمن خان عباسی: میں، جناب! ایک چھوٹی سی گذارش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جیسے مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ گواہ کی حیثیت میں پیش ہوں گے تو پھر ان کی جج کی حیثیت مجروح ہو جائے گی۔ لیکن ایک مسئلہ ہے، اس میں میں چاہتا ہوں کہ اس کی کسی نہ کسی طریقے سے وضاحت ہو جائے۔ وہ یہ ہے، جناب والا! کہ انہوں نے ایک فریق کی حیثیت سے بہت سی باتیں ایسی کی ہیں کہ جن میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہاؤس کے ان اراکین میں سے میں بھی ایک ہوں جن کا علم اس ضمن میں محدود ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے ایسے فتوے پیش کئے ہیں جن میں ایک خیال کے علماء کی طرف سے دوسرے خیال کے علماء کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف بہت سارے نازیبا اور ناروا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے میں 1865آپ کی وساطت سے جناب مولانا صاحب سے گزارش کروں گا کہ آپ جج بے شک رہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ اگر ایسے دو یا تین علماء صاحبان یہاں جو بیٹھے ہوئے ہیں ان کو اگر یہ موقع فراہم کریں کہ کم ازکم ان کے اعتراض اور Charges (الزامات) کا وہ جواب دیں۔
    جناب چیئرمین: یہ پرائیویٹ طور پر مشورہ دے دیں ان کو۔
    سردار عنایت الرحمن خان عباسی: نہیں جی! مشورے کی بات تو نہیں ہے۔ میں تو چاہتا ہوں، جناب! مجھے تو ایسا فریق چاہئے جو اس ضمن میں تردید کرے یا پھر ہمیں خود اجازت دیں۔ ہم پھر جو کچھ اس ضمن میں درست ہے وہ کہہ دیں۔
    مولوی مفتی محمود: میں اس سلسلے میں یہ عرض کروں…
    جناب چیئرمین: نہیں جی! یہ ڈسکس کر لیں گے۔
    The House is adjourned to meet at 7:30 pm.
    (ہاؤس کو ساڑھے سات بجے شام تک کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)
    ----------
    [The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to meet at 7: 30 pm.]
    (خصوصی کمیٹی کو مغرب کی نماز کے لئے ساڑھے سات بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)
    ----------
    [The Special Committee re-assembled after Maghrib Prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
    (خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کے بعد دوبارہ شروع ہوا مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کرسی صدارت پر موجود ہیں)
    Mr. Chairman: I will request the honourable members to be attentive.
    (جناب چیئرمین: میری معزز ممبران سے درخواست ہے کہ وہ متوجہ ہو جائیں)
    مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: تقریریں بعد میں کریں گے۔ جو پچھلی پروسیڈنگز ہیں، میں آپ کو اس میں سے کچھ پورشن پڑھ کر سنادیتا ہوں تاکہ یاد دہانی ہو جائے۔ اس کے مطابق اپنا طریق کار طے کر لیں گے سٹیرنگ کمیٹی نے فیصلے کئے تھے تیرہ جولائی کو۔ اس میں پہلا جو Operative Portion (قابل عمل حصہ) ہے، اس میں پہلے تو کوئسچنز کا پورشن ہے۔
    1866Before the resolutions moved by the various members are considered in the Special Committee, the movers may make statement and explain thir view- point before the Steering committee.
    (خصوصی کمیٹی میں شامل ممبران کی جانب سے پیش کی گئی قراردادوں سے پہلے محرکین اپنا بیان دے سکتے ہیں اور سٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے اپنا نقطہ نظر واضح کر سکتے ہیں)
    In the House, it was decided that after the statement of Ahmadia Community (this was on 12th July, 1974) has been recorded, and questions have been answered, members of the House will have the right to have their observations and views recorded before the Special Committee in the light of the material that has come before the Special Committee.
    (ہاؤس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ احمدیوں کی جانب سے بیان دینے کے بعد (جو کہ ۱۲؍جولائی ۱۹۷۴ء کو دیا گیا) جسے ریکارڈ کیاگیا اور سوالات کے جوابات دئیے گئے تھے۔ ممبران کو حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مشاہدات اور خیالات خصوصی کمیٹی کے سامنے موجود مواد کی روشنی میں پیش کر سکیں)
    Mian Mohammad Attaullah: Lahori Jamaat Also. (میاں محمد عطاء اﷲ: لاہوری جماعت بھی)
    Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں!)
    Mlik Mohammad Akhtar: It will be a sort of written statement. (ملک محمد اختر: یہ ایک طرح کا تحریری بیان ہوگا)
    Mr. Chairman: Yes. They should submit their views in writing and also have liberty to have their written statements recorded on oath.
    (جناب چیئرمین: ہاں! انہیں اپنے خیالات تحریری شکل میں جمع کروانے چاہئیں اور انہیں آزادی ہوگی اپنے تحریری بیانات کو حلف نامہ کے ساتھ جمع کروانے کی)
  4. ‏ فروری 12, 2015 #4
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (عام بحث)
    جناب چیئرمین: یہ ہاؤس نے Decide (فیصلہ) کیا ہوا ہے۔ اب آنریبل ممبرز جو چاہیں کریں۔ چاہے بحث میں حصہ لے لیں، چاہے زبانی کہہ دیں۔ چاہے Written (تحریری) بتادیں۔ اس کے علاوہ وہ اگر کوئی چاہیں تو On Oath حلف اٹھا کر بھی سٹیٹمنٹ دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی Fact (حقائق) ان کے سپیشل نالج میں ہوں۔ یہ سب آنریبل ممبران کی صوابدید پر ہے۔ جیسے وہ مناسب سمجھیں۔ لیکن ایک بات میں یہ عرض کردوں۔ میں نے عرض کیاتھا کہ میں نے مولانا مفتی محمود اور پروفیسر غفور احمد سے دریافت کیا تھا انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ ہم دودن لیں گے ایک دن مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا عبدالحکیم لیں گے اور باقی حضرات کے متعلق مجھے پیرزادہ صاحب نے بتایا ہے کہ وہ ایک یا دودن لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار پانچ دن جنرل ڈسکشن ہوگی۔ اس واسطے جنرل ڈسکشن بھی رکھی گئی ہے۔ تاکہ ممبر صاحبان سپیشل کمیٹی میں Freely (آزادانہ) اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
  5. ‏ فروری 12, 2015 #5
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (بحث کے ساتھ تجاویز بھی)
    1867اس میں صرف یہ گزارش کروں گا کہ جب آپ اپنے خیالات کا اظہار کریں، چاہے ان کے بیانات کی روشنی میں کوئی بات اپنی طرف سے پیش کریں یا ان کی تردید کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لازمی ہے کہ آپ اپنی تجاویز بھی دیتے جائیں کہ اگر اقلیت قرار دے دی جائے تو پھر کیا کیا اس کے فوائد ہوں گے۔ کیا کیا نقصان ہوں گے۔ اس کے علاوہ کیا طریق کار ہونا چاہئے۔ آئین میں ترمیم ہونی چاہئے یا کوئی لیجسلیشن ہونی چاہئے یا اقلیت قرار نہیں دینی چاہئے۔ اس میں آپ ان تمام امور کو مدنظر رکھیں گے تو Finally (آخر کار) جب ڈسکشن ختم ہو جائے گی تو سٹیئرنگ کمیٹی کو آسانی ہوگی۔ کیونکہ سب حضرات کی تجویزیں اس کے سامنے ہوں گی۔ جتنے ریزولیوشن موو ہوئے ہیں… یا ایک ریزولیوشن پیرزادہ صاحب نے موو کیا ہے۔ ایک ریزولیوشن بائیس ممبر صاحبان نے پیش کیا ہے اور ایک ریزولیوشن تین ممبر صاحبان نے پیش کیا ہے۔ ایک ملک محمد جعفر صاحب نے پیش کیا ہے۔ وہ چاروں ریزولیوشنز اکٹھے Consider (شمار) ہوں گے۔ یہ نہیں کہ پہلے ایک ریزولیوشن پر بحث ہو جائے پھر دوسرے پر، پھر تیسرے پر۔ چاروں کے چاروں ریزولیوشنز جو ہیں وہ اکٹھے Consider (شمار) ہوں گے۔ ایک ریزولیوشن سردار شوکت حیات نے بھی پیش کیا تھا۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: سر! ایک ہمارا بھی تھا۔
  6. ‏ فروری 12, 2015 #6
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (سات قراردادیں)
    جناب چیئرمین: ہاں! ایک آپ کا بھی ہے۔ سات ریزولیوشن ہیں۔ وہ جتنے بھی ریزولیوشن ہیں، دوبارہ ایک دفعہ سائیکلو سٹائل کراکے تمام ممبر صاحبان کو سرکولیٹ کئے جائیں گے تاکہ: They can refresh their memory; and in the light of these resolutions, (وہ اپنی یادداشت کو تازہ کر سکتے ہیں اور ان قراردادوں کی روشنی میں) وہ اپنی Recommendations (تجاویز) بھی دے سکتے ہیں اور اس کے علاوہ ممبر صاحبان جو بھی تجاویز پیش کریں، وہ اگر لکھ کر دے دیں تو وہ بھی ساتھ شامل کر لیا جائے گا تو Automatically (ازخود) ریکارڈ پر آجائے گا۔ اس کے لئے اگر ممبر صاحبان نے زیادہ ٹائم 1868لینا ہے تو ٹائم پر کوئی بندش نہیں ہے۔ لیکن اس میں بیٹھنا زیادہ پڑے گا۔ اس میں پھر اسی طرح دو، دو سیٹٹنگز کرنی پڑیں گی اور سنڈے کو بھی بیٹھنا پڑے گا۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: پوائنٹ آف آرڈر، سر! آپ نے کہا ہے کہ کوئی ممبر اگر اوتھ پر بیان دینا چاہے تو دے سکتا ہے تو اس میں میرا پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ جو اوتھ پر بیان دے گا تو وہ میرے خیال میں گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا؟
    جناب چیئرمین: جی ہاں!
    جناب عبدالحمید جتوئی: اور جو گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا اس پر جرح بھی ہوسکتی ہے؟
    جناب چیئرمین: لازمی بات ہے، جرح بھی ہوسکتی ہے۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: ویسے عام طور پر جو بحث ہوگی ایسے ہی کریں گے۔
    جناب چیئرمین: ایسے ہی۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: اگر کوئی گواہ کی حیثیت سے پیش ہوگا تو پھر اس پر جرح ہوگی، پھر اس میں وہ ووٹ نہیں دے سکے گا۔
    جناب چیئرمین: جرح لازماً ہوگی، اور اسے اخلاقاً ووٹ نہیں دینا چاہئے۔
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, I will request information.
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب عالی! میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں)
    میردریاخان کھوسو: میری گزارش یہ ہے کہ ممبر حضرات سے گواہی نہیں لینی چاہئے۔
    جناب چیئرمین: یہ آپ کی مرضی ہے۔
    میر دریا خان کھوسو: میں عرض کروں کہ اگر گواہی لینی ہے تو ہمیں بہت سے ہمارے جاننے والے علماء باہر سے میسر آسکتے ہیں۔ ممبر صاحبان سے اگر آپ گواہی لینا شروع کریں گے اور ممبر صاحبان پر جرح کرنا شروع کریں گے تو یہ کوئی اچھی Tradition (روایت) نہیں ہے۔
    Mr. Chairman: Sir, this is optional.
    (جناب چیئرمین: جناب! یہ ایک اختیاری معاملہ ہے)
    1869میردریا خان کھوسو: میں عرض کروں گا کہ اس طریقے سے نہ ہو معزز ممبران جنرل ڈسکشن میں حصہ لیں۔
    جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، یہ آپ کی مرضی ہے۔
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, my request and submission is that, as you said, there may be many resolutions before the House; there may be, Sir, many things. Therefore, only those resolutions which are not in common should be discussed and those which are in common should not be discussed.
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب عالیٰ! میری درخواست یہ ہے کہ جیساکہ آپ نے کہا کہ ہاؤس کے سامنے بہت سی قراردادیں ہیں۔ وہ مختلف چیز میں ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا صرف ان قراردادوں پر بحث کرنی چاہئے جو مشترکہ نہیں ہیں اور ان قراردادوں پر بحث نہیں کرنی چاہئے جو کہ ایک جیسی ہیں)
    Mr. Chairman: The honourable members can point out these things in their arguments that these are common. Let us agree on this proposal. Strictly speaking, we are not following the procedure which is followed normally in legislation.
    (جناب چیئرمین: معزز ممبران اپنے دلائل کے دوران نشاندہی کر سکتے ہیں کہ یہ چیزیں ایک جیسی ہیں۔ ہمیں اس رائے پر متفق ہو جانا چاہئے۔ زور دیتے ہوئے ہم عام طور پر قانون سازی کے لئے اختیار کئے جانے والے طریقہ کار پر نہیں چل رہے)
    جناب عباس حسین گردیزی: میں جناب والا! جناب کھوسو صاحب کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ کسی ممبر کو بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہئے۔
    جناب چیئرمین: یہ مسئلہ ختم ہوچکا ہے دوسری بات کریں۔
    جناب عباس حسین گردیزی: دوسری بات یہ ہے کہ مجھے ۱۵؍منٹ دئیے جائیں۔
    جناب چیئرمین: آپ ۱۵؍منٹ کی بجائے آدھا گھنٹہ لیں۔ مسٹر عبدالعزیز بھٹی!
    جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب والا! جو بات جتوئی صاحب نے بتائی ہے میں اس تجویز سے متفق ہوں۔
    جناب چیئرمین: میں سردار عبدالحلیم کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ کل تک مجھے لسٹ دے دیں ان ممبروں کی جو بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اندازاً وقت بھی بتادیں۔ List the participants who want to express something. I shall be grateful; as he is the Whip of the Party. Barq Saheb! (ان لوگوں کی لسٹ فراہم کریں جو کہ اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں۔ میں شکر گزار ہوں گا کیونکہ برق صاحب اپنی پارٹی کے چیف وہپ ہیں)
    1870میاں محمد ابراہیم برق: کب سے شروع کرنا ہے؟
    Mr. Chairman: We do not wait for anything.
    (جناب چیئرمین: ہم کسی چیز کا انتظار نہیں کرتے)
    مفتی صاحب کو فلوردوں گا۔
    میاں محمد ابراہیم برق: ٹھیک ہے۔
    جناب چیئرمین: راؤ محمد ہاشم!
    جناب محمد ہاشم خان: جناب والا! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ سپیشل کمیٹی کے بعد جب نیشنل اسمبلی میں اوپن اجلاس ہوگا تو اس میں بھی تقریریں کرنے کا موقع ملے گا؟
    جناب چیئرمین: ابھی تو فیصلہ کریں کہ کس سٹیج پر پہنچتے ہیں۔ آپ تشریف رکھیں تاکہ یہ بھی واضح ہو۔ آپ نے ان کی سٹیٹمنٹ ریکارڈ کی ہیں۔ دونوں جماعتوں کی، اس کے بعد آپ اپنی رائے دیں گے۔ بحث کریں گے۔ اس کے بعد سٹیئرنگ کمیٹی بیٹھے گی۔ وہ ایک سفارش کو آخری شکل دے گی۔ مجھے تو امید ہے کہ یہ سفارشات کمیٹی آف دی ہول ہاؤس متفقہ طور پر منظور کر لے گی۔ منظوری کے بعد ان سفارشات کو نیشنل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ مثلاً وہ ایک سفارش پیش کرتی ہے کہ اس پر لیجسلیشن ہونی چاہئے۔ دستور میں ترمیم ہونی چاہئے۔
    Then there is no need of discussion in the National Assembly or debating its recommendations. It is premature at this stage to say whether there will be...
    (پھر قومی اسمبلی میں بحث اور ان کی آراء پر گفتگو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آخرکار کیا ہوگا)
    میاں مسعود احمد: جناب والا! میری گزارش ہے کہ جن پارٹیوں نے ریزولیوشن پیش کئے ہیں ان کے لیڈروں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ اس ایویڈنس سے مطمئن ہیں جو انہوں نے دی ہے یا ان کی تردید میں کوئی ایویڈنس دیں گے۔
    1871Mr. Chairman: We don't want to put this condition. Free expression.
    (جناب چیئرمین: ہم یہ شرط لاگو نہیں کرنا چاہتے۔ آزادانہ اظہار رائے کریں)
    اب میری گزارش ہے… ملک محمد جعفر!
    ملک محمد جعفر: جناب والا! آپ نے فرمایا ہے کہ لسٹ دے دی جائے ممبروں کی جو بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ میں گزارش کرتا ہوں کہ ایک عام اجلاس ہوتا ہے۔ اس میں ایک خاص بل ہوتا ہے۔ ایک ریزولیوشن ہوتا ہے تو اس میں ٹھیک ہے اور کمیٹی میں ۳،۴،۵ ریزولیوشن ہیں۔ ان میں پھر ترمیم ہوگی۔ جس طرح ہم آئینی کمیٹی میں کام کرتے ہیں۔ اس میں آپ اتنا…
    Mr. Chairman: If it is convenient. Strictly no restriction.(جناب چیئرمین: اگر یہ آسان ہے، یقینا کوئی پابندی نہیں ہے)
    ملک محمد جعفر: اتنا سٹرکٹ نہ ہوں۔
    Mr. Chairman: No, no. I will not.
    (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ میں نہیں ہوں)
    ملک محمد جعفر: ہوسکتا ہے کہ درمیان میں کوئی تجویز پیش ہو اس کے متعلق۔
    Sir, as far as possible, the National Assembly....
    (جناب! جہاں تک ممکن ہے قومی اسمبلی…)
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ میں سٹرکٹ نہیں ہوا ہوں۔ میں تو کبھی نیشنل اسمبلی میں بھی سٹرکٹ نہیں ہوا ہوں۔
    Just for convenience purpose, so that I could adjust timings. (صرف آسانی کے پیش نظر میں اوقات کار کو ایڈجسٹ کر سکا ہوں)
    جناب محمد خان چوہدری: جناب والا! گزارش ہے کہ ہم پبلک کے نمائندے ہیں۔ ہمیں بہت سے خطوط ملے ہیں کہ بحث میں ہم حصہ لیں۔ وہ ساری کارروائی شائع ہونی چاہئے۔
    1872جناب چیئرمین: یہ ساری پروسیڈنگ پبلش ہوں گی۔ اسی واسطے اس کو ان کیمرہ رکھا گیا ہے تاکہ Members should not play to the gallery. The members should come with some realistic approach to the problem. The members should sit without making any comments. (ممبران کو گیلری میں بیٹھ کر کھیلنا نہ چاہئے۔ ممبران کو مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ آنا چاہئے۔ ممبران کو خاموشی سے بیٹھنا چاہئے)
    یہ لازماً پبلش ہوں گی۔ لیکن مسٹر محمد خان! جو آپ یہاں تقریر کریں گے باہر جاکر نہیں بتائیں گے، بالکل نہیں بتائیں گے۔ مسٹر شنواری!
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: آج تک ہمیں ۲۴تاریخ تک کی رپورٹیں ملی ہیں۔ اگر ہمیں باقی رپوٹیں نہ مل سکیں تو ہم تقریریں کس طرح کریں گے؟
    جناب چیئرمین: آپ کو باقی بھی مل جائیں گی۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: یہی تو میں نے کہا تھا کہ دو دن کے بعد تقریریں ہونی چاہئیں۔
    Mr. Chairman: No adjournment. Take it for granted. (جناب چیئرمین: کوئی التواء نہیں، اس کو معمول کی بات سمجھیں)
    مفتی صاحب دودن لیں گے۔ مفتی صاحب! شروع کر دیں۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: مفتی صاحب کی تقریر ختم ہونے کے بعد تقریریں ختم ہو جائیںگی۔
    جناب چیئرمین: مجھے پتہ تھا کہ تکلیفیں راستے میں آئیں گی۔ میں نے مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ آپ سٹارٹ کر دیں۔
    جناب نعمت اﷲ خان شنواری: ان کی تقریر ہونے تک ہمیں باقی تقریریں مل جائیں گی؟
    جناب چیئرمین: ڈاکٹر شفیع!
    ڈاکٹر محمد شفیع: پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے۔
    The Samdani Report is also very relevant. Let us have a copy of that also.
    (صمدانی رپورٹ بھی اس مسئلہ سے متعلقہ ہے۔ اس کی بھی ایک نقل رکھ لیں)
    1873Mr. Chairman: I told the House; let the Law Minister come because it is not in my possession. The Government will release the Report; I cannot release it. I have noted it down. Therefore, when tomorrow Pirzada comes, I will take up this matter.
    (جناب چیئرمین: میں نے ہاؤس کو بتادیا ہے۔ وزیرقانون کو آنے دیں۔ کیونکہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ حکومت رپورٹ جاری کرے گی میں نہیں کر سکتا۔ میں نے اس کو نوٹ کر لیا ہے۔ لہٰذا جب کل پیرزادہ آئیں گے تو میں اس کو دیکھوں گا)
    ملک محمد اختر: ان کو سائیکلوسٹائل کروالیں گے۔
    جناب چیئرمین: ایک منٹ میں فوٹوسٹیٹ کاپیاں ہو جائیں گی۔
    شہزادہ سعید الرشید عباسی: میںیہی بات کرنے والا تھا۔
    جناب چیئرمین: اچھا جی! شہادت صاحب!
    رائے شہادت علی خان: جناب والا! آج جو کارروائی ہوئی ہے اس میں مرزائیوں اور احمدیوں نے اپنا نقطہ نگاہ پیش کیا ہے کہ ان کا نقطہ نگاہ کیا ہے اور کس طرح وہ اسلام کو سمجھتے ہیں۔
    جناب چیئرمین: یہی تو بحث کریں گے کہ اس وجہ سے مسلمان نہیں، اس وجہ سے وہ غیراحمدی ہیں۔ اس وجہ سے یہ ہے، اس وجہ سے وہ ہے۔ آپ تشریف رکھیں۔ اچھا! کوئی اور صاحب؟
    We should start with it? No other proposal?
    (ہمیں اس سے آغاز کر دینا چاہئے؟ اور کوئی رائے نہیں؟)
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, as my previous speaker friend told that anybody who wants to speak or express his views, he must express whether he is a Qadiani or Ahmadi.
    (سردار مولا بخش سومرو: جناب! جیسا کہ گزشتہ مقرر دوست نے بتایا کہ جو کوئی بھی بولنا یا اظہار خیال کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ بتانا چاہئے کہ کیا وہ احمدی یا قادیانی ہے)
    Mr. Chairman: No, no, rejected.
    (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ مسترد کیا گیا)
    بالکل وہ رجیکٹ ہے۔ ایک چھوٹی سی کتاب ہے، اس پر ڈسکشن ہوگی۔
    چوہدری ممتاز احمد: اس شرط پر یہ تجویز منظور کی جائے کہ یہ شیعہ ہیں یا سنی یا کیا ہیں۔
    Mr. Chairman: I will request the honourable members that now the discussion will be among the members, so I request them not to be hasty and not to leave the House before we finally conclude.
    (جناب چیئرمین: میں تمام معززممبران سے درخواست کرتا ہوں کہ اب بحث چونکہ ممبران کے درمیان ہوگی۔ لہٰذا میں ان سے گزارش کرتا ہوںکہ وہ جلد بازی نہ کریں اور جب تک ہم کسی حتمی نتیجہ تک نہ پہنچیں وہ ہاؤس نہ چھوڑیں) بالکل یہ بات غلط ہے۔ مفتی صاحب! تقریر کے لئے اٹھیں اور تقریر شروع کر دیں۔ (مداخلت)
    1874Rana Mohammad Hanif Khan (Minister for Labour and Works): Before him I may be permitted.
    (رانا محمد حنیف خان (وزیر لیبر اینڈ ورکس): ان سے قبل مجھے اجازت مل سکتی ہے)
    Mr. Chairman: Sir, I am not talking of walk- out, although they walkd stealthily out of the Door, and leaving ten members here.
    (جناب چیئرمین: جناب! میں باہر جانے کی بات نہیں کر رہا۔ اگرچہ وہ چپکے سے دروازہ سے باہر جارہے ہیں اور یہاں صرف دس ممبران رہ گئے ہیں)
    جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا! ایک وضاحت طلب پوائنٹ ہے۔
    (مداخلت)
    Mr. Chairman: I call the House to order.
    (جناب چیئرمین: میں ہاؤس کو آرڈر کہتا ہوں)
    Rana Mohammad Hanif Khan: After some time I may be permitted because I have to leave.
    (رانا محمد حنیف خان: کچھ دیر بعد مجھے اجازت مل سکتی ہے۔ کیونکہ مجھے جانا ہے)
    Mr. Chairman: This is not the final session.
    (جناب چیئرمین: یہ آخری سیشن نہیں ہے)
    جناب عباس حسین گردیزی: جناب والا! میں گزارش کرتا ہوں کہ کیا لکھی ہوئی تقریریں پڑھ سکتے ہیں؟
    جناب چیئرمین: ہاں جی! آپ پڑھ سکتے ہیں۔ شعر بھی پڑھ سکتے ہیں۔
    جناب عبدالحمید جتوئی: آپ پڑھے ہوئے کو لکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ (قہقہے)
    QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION
    جناب چیئرمین: مفتی محمود!
  7. ‏ فروری 12, 2015 #7
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (آغاز تقریر مولانا مفتی محمود)
    مولوی مفتی محمود: جناب اس تقریر میں جتنے بھی حوالے ہیں، کتابوں کے، اخبارات کے، وہ کتابیں یا اخباریں ہم نے یہاں پہنچا دی ہیں۔ کوئی صاحب بھی چاہیں تو وہ لائبریری میں جاکر وہاں سے یہ حوالے دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی کتاب یا حوالہ ایسا نہیں جو وہاں موجود نہ ہو۔
    1876ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا او قال اوحی الیّٰ ولم یوح الیہ شیٔ۰ (انعام:۹۳)
    ترجمہ: ’’اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اﷲ پر جھوٹ باندھے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو۔‘‘
    انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۰ (ارشاد آنحضرتﷺ)
    ترجمہ: ’’میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
    (ابوداؤد ج۲ ص۱۲۷، باب الفتن، ترمذی ج۲ ص۴۵، ابواب الفتن)
  8. ‏ فروری 12, 2015 #8
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مصور پاکستان کی فریاد

    ’’میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔‘‘
    (حرف اقبال ص۱۲۸)
    ’’ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوںکو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی 1877علیحدگی میں دیر کر ہی ہے۔ حکومت نے ۱۹۱۹ء میں سکھوں کی طرف سے (ہندوؤں سے) علیحدگی کا انتظار نہ کیا۔ اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے؟‘‘
    (حرف اقبال ص۱۳۸)
  9. ‏ فروری 12, 2015 #9
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مرزاغلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزابشیر احمد قادیانی کی رائے
    ’’مسیح موعود (یعنی مرزاغلام احمد صاحب) کا یہ دعویٰ کہ وہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اﷲتعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے، دو حالتوں سے خالی نہیں، یا تو وہ نعوذ باﷲ! اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتراء علی اﷲ کے طور پر دعویٰ کرتا ہے، تو ایسی صورت میں نہ صرف، وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے، اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خداسچ مچ اس سے ہم کلام ہوتا تھا، تو اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو۔‘‘
    (کلمتہ الفصل ص۱۲۳، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج۱۴، ماہ مارچ واپریل ۱۹۱۵ئ)
  10. ‏ فروری 12, 2015 #10
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    امیر جماعت لاہور محمد علی لاہوری صاحب کا ایک قول

    The Ahmadiyya Movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Jusaism.
    ’’تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا‘‘
    (اقتباس از مباحثہ راولپنڈی مطبوعہ قادیان ص۲۴۰)

    1881عقیدۂ ختم نبوت
    اور
    مرزائی جماعتیں

    1882ہم نے اپنی قرارداد میں کہا ہے کہ:
    ’’یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزاغلام احمد نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔‘‘
    اس کی مکمل تشریح آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے…
    !M1883
    قرارداد
    جناب سپیکر،
    قومی اسمبلی پاکستان، محترمی!
    ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں:
    ہر گاہ کہ یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمدﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا، نیز ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔ نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
    نیز ہرگاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزاغلام احمدکے پیروکار، چاہے وہ مرزاغلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    نیز ہر گاہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
    نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام ۶اور ۱۰؍اپریل ۱۹۷۴ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ۱۴۰ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی۔ متفقہ 1884طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
    اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہئے کہ مرزاغلام احمد کے پیروکار، انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے، تاکہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیرمسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق ومفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر