1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۷)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۷)
    آیت نمبر۷: ’’واذ قال اﷲ یا عیسی ابن مریم أانت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اﷲ قال سبحٰنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق، ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم مافی نفسک انک انت علام الغیوب ما قلت لہم الا ما 2541امرتنی بہ ان اعبدو اﷲ ربی وربکم، وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علیٰ کل شیٔ شہید ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (مائدہ:۱۱۵تا۱۱۸)‘‘ {اور جب کہیں گے اﷲتعالیٰ اے عیسیٰ بن میریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خداتعالیٰ کے سوا معبود بنالو۔ وہ عرض کریں گے کہ اے اﷲ آپ برتر (اور شرک سے) پاک ہیں۔ یہ میرے لئے کیسے ممکن ہے کہ وہ بات کہوں جس کا کسی طرح مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے کہا تھا تو آپ اس کو جانتے ہیں۔ آپ میرے دل کی بات جانتے ہیں۔ میں آپ کی بات نہیں جانتا۔ آپ بے شک غیب کی باتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے ان کو وہی بات کہی ہے جس کا آپ نے حکم دیا کہ میرے اور اپنے مالک کی عبادت کرو اور میں ان کا نگہبان (یا گواہ) تھا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا۔ آپ خود ہی نگہبان (یا گواہ) تھے اور آپ ہر بات کے گواہ (اور واقف) ہیں اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں۔ (آپ کو حق حاصل ہے) اور اگر آپ ان کو بخشش دیں تو آپ (پوری طرح) غالب اور حکمتوں والے ہیں (سب کچھ) کر سکتے ہیں۔}
    یہاں اﷲتعالیٰ قیامت کے دن کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ اﷲتعالیٰ جانتے نہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باﷲ ملزم ہیں۔ بلکہ اہل کتاب کو ذلیل ورسوا اور لاجواب کرنے کے لئے پوچھا جائے گا۔ کیونکہ عیسائی ان کو خدا اسی لئے بناتے تھے کہ 2542ان کا خیال تھا یا جان بوجھ کر جھوٹ گھڑ لیا تھا کہ یہ تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔ اس سوال کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی کچھ کہیں گے جو ایک پیغمبر کی شایان شان ہے۔ آخر میں فرمائیں گے جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران تھا۔ مگر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا پھر آپ خود ہی نگران اور گواہ تھے۔ مرزاجی نے یہاں بھی ’’توفیتنی‘‘ کا معنی غلط کیا ہے کہ ’’جب آپ نے مجھے وفات دی۔‘‘ مگر صریحاً غلط ہے کیونکہ مرزاجی تو ستاسی سال واقعہ صلیب کے بعد سری نگر میں ان کو مارتے ہیں اور اس وقت تک بقول ان کے وہ زندہ تھے اور عیسائی ان سے پہلے ہی بگڑ چکے تھے۔
    چنانچہ (چشمہ معرفت ص۲۵۴، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶) پر لکھتے ہیں: ’’انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ خدا کی جگہ عاجز انسان کی پرستش نے لے لی۔‘‘
    اس طرح بقول مرزاجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے اسی نوے سال پہلے عیسائی بگڑ چکے تھے تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرنے سے پہلے میں گواہ تھا۔ وہ تو دروں، پہاڑوں، دریاؤں اور بیابانوں میں پریشان پھرتے پھراتے سری نگر پہنچے جب کہ اس زمانہ میں وہاں بغیر لشکر کے پہنچنا اور اپنی قوم کے حالات سے واقف ہونا مشکل تھا۔ نیز آیت کریمہ سے مرزائی ترجمہ کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علیحدگی ان لوگوں سے موت کے ذریعے ہوئی تھی۔ حالانکہ بقول مرزاجی علیحدگی عرصہ دراز پہلے ہوئی اور موت بعدمیں۔
    اب آپ آیت کریمہ کا اعجاز ملاحظہ کریں کہ ’’مادمت فیہم‘‘ فرمایا ہے۔ ’’مادمت حیا‘‘ نہیں فرمایا کہ جب تک میں زندہ رہا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ جب تک میں ان میں رہا۔ مطلب صاف ہے کہ جب آپ آسمان کی طرف لے جائے گئے تو آپ کی ذمہ داری یا نگرانی کیسے باقی رہی؟
    2543مرزاجی لوگوں کو احمق بنانے کے لئے کہتے ہیں کہ جب ان کو دوبارہ آنا ہے تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے کوئی علم نہیں۔
    ۱… حالانکہ قرآن پاک میں ایسا نہیں ہے اور اگر یہی مطلب ہو تو سارے انبیاء علیہم السلام کے بارے میں مرزاجی کا کیا خیال ہے جب ان سے قیامت میں پوچھا جائے گا۔ ’’ماذا اجبتم قالوا لاعلم لنا‘‘ {تمہیں کیا جواب دیا گیا وہ عرض کریں گے ہمیں کوئی علم نہیں۔}
    مرزاجی! جو جواب یہاں دیں وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔
    ۲… دوسرے مرزاجی خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کی بے راہ روی کا علم ہوا تو انہوں نے زمین پر اپنا مثیل اور صفاتی رنگ میں اپنا بروز چاہا۔ جب مرزاجی کو بروزی مسیح بننے کی ضرورت ہوئی تو یہاں تک مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان میں ان کی امت کی برائیوں کا علم ہوا اور جب مسلمانوں کو دھوکا دینا ہو تو یوں گویا ہوتے ہیں کہ لاعلمی ظاہر کریں گے؟ حالانکہ آنے سے پہلے ہی ان کو اﷲتعالیٰ نے سب باتوں کا علم دے دیا ہوتا ہے اور غیاب کے زمانہ کی کوئی ذمہ داری ان پر عائد نہیںہوتی نہ وہ نگران ہوتے ہیں۔ باقی انہوں نے علم سے انکار نہیںکیا ہے۔
    ’’کنت انت الرقیب علیہم‘‘ میں شہید کے مقابلہ میں رقیب استعمال کر کے صاف بتادیا کہ یہاں علم کا سوال ہی نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں نے ان غلط باتوں کا نہیں کہا اور جب تک میں ان میں رہا میں نگران تھا۔ میرے اٹھائے جانے کے بعد آپ خود ہی نگران تھے۔

اس صفحے کی تشہیر