1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۶)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۶)
    آیت نمبر۶: ’’اذ قال اﷲ یا عیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک اذ ایدّتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا واذ علمتک 2537الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل واذ تخلق من الطین کہیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیراً باذنی واتبرئی الاکمہ والابرص باذنی واذ تخرج الموتیٰ باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین (مائدہ:۱۱۰)‘‘ {اور جب کہے گا اﷲ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے میری مہربانی یاد کر جو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کی۔ جب میں نے تمہاری مدد روح القدس سے کی۔ تم گود میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور جب میں نے تمہیں کتاب وحکمت اور تورات وانجیل کی تعلیم دی اور جب تم گارے سے پرندے کی طرح شکل میرے حکم سے بنا کر اس میں پھونک دیتے تھے تو وہ پرندہ ہو جاتا میرے حکم سے اور جب میں نے بنی اسرائیل کو روکے رکھا تم سے۔ جب تم ان کے پاس کھلے دلائل لائے تو کافروں نے ان میں سے کہا یہ تو بس صاف صاف جادو ہے۔}
    اس آیت کریمہ میں اﷲتعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس دن اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے علاوہ اور احسانات کے یہ بھی فرمائیں گے کہ میں نے ان کو تم سے روکے رکھا۔ یعنی دست درازی اور ہاتھوں کو روکنا تو درکنار ہم نے ان کو آپ تک پہنچنے بھی نہ دیا۔ اس میں کمال حفاظت کی نعمت کا ذکر ہے اور اسی صورت میں یہ اﷲتعالیٰ کی نعمت اور احسان ہے۔ ورنہ جس طرح مرزاقادیانی نے بیان کیا۔ وہ ایک مذاق ہی ہے۔
    یہاں مرزائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ وعدۂ عصمت کے بعد رسول اﷲ ﷺ کو جنگ احد میں تکلیف پہنچی۔ 2538پہلے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عصمت اور بچانا اور چیز ہے اور کف بمعنی روکے رکھنا اور چیز ہے۔
    پھر یہ آیت کریمہ سورۂ مائدہ کی ہے جو ۵ھ اور ۷ھ کے درمیان نازل ہوئی۔ مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور نے اپنی تفسیر (بیان القرآن مطبوعہ ۱۳۴۰ھ ص۵۸۸) میں اس بات کااقرار کیا ہے اور خاص کر یہ آیت کریمہ ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ دوران سفر ذات الرقاع غزوۂ انمار میں نازل ہوئی تھی۔ جو ۵ھ میں واقع ہوا۔ یہ بات مرزائیوں کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام سیوطیؒ نے (تفسیر اتقان جزو اوّل ص۳۲) میں لکھی ہے۔ پس (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹) میں مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ ’’وعدہ عصمت کے بعد حضور کو جنگ احد میں تکلیف پہنچی تھی۔‘‘ بالکل جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے۔ اب مجددین کی رائے ملاحظہ ہوں۔
    اس میں اﷲتعالیٰ نے اپنے احسانات میں صفائی سے یہ بیان کیا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے روکے رکھا۔ جب کہ مرزاجی کے ہاں تو خداتعالیٰ نے ان یہود کو اس طرح روکے رکھا کہ وہ پکڑ کر لے گئے۔ منہ پر تھوکا، طمانچے مارے۔ مذاق اڑایا۔ سولی پر چڑھایا اعضاء میں میخیں ٹھونکیں۔ وہ چیختا رہا کہ اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ پھر یہودیوں نے اس کو مردہ سمجھ کر اتار دیا۔ خفیہ علاج ہوا۔ مرہم رکھتے رہے آخر اچھا ہو کر وہ وہاں سے بھاگے اور پہاڑوں، دریاؤں، بیابانوں کو طے کرتے ہوئے سرحد پنجاب پہنچے۔ پھر کسی طرح کشمیر پہنچ گئے اور سری نگر میں (توبہ کر کے) خاموش زندگی گزادی اور وہیں مر گئے۔ مرزائیوں کے ہاں یہ اﷲتعالیٰ کی کامیاب تدبیر تھی اور اس طرح اﷲتعالیٰ نے یہود کو عیسیٰ علیہ السلام تک نہیں پہنچنے دیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون!

اس صفحے کی تشہیر