1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۵)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۵)
    آیت نمبر۵: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیم شہیدا (النسائ:۱۵۹)‘‘ {جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ علیہ السلام پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔}
    مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سارے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہل ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ اس آیت کریمہ نے تو بہت ہی صفائی سے اعلان کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ان کے مرنے سے پہلے یہود ونصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے۔ گویا وہ بیسیوں حدیثیں اس آیت کی 2533شرح ہیں۔ جن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عادل، حاکم (فیصلے کرنے والے) ہوکر نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ اس وقت اسلام تمام اکناف عالم میں پھیل جائے گا اور جو یہود ونصاریٰ بچیں گے سب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ایسے معجزات اور فتوحات دیکھنے کے بعد جو اسلامی روایات کے عین مطابق ظہور پذیر ہوں گے کیوں ایمان نہ لائیں گے۔ اب آپ ذرا چوتھی اور پانچویں آیت کا ترجمہ ملا کر پھر پڑھیں۔
    ۱… مرزاجی اس آیت کے ترجمے اور مطلب میں بری طرح پھنسے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ تو قیامت تک باقی رہیں گے۔ حالانکہ صور پھونکنے (بگل بجانے) کے بعد کون زندہ رہے گا۔ ایسی تمام آیتوں میں مراد قرب قیامت ہوتی ہے۔ ورنہ عام محاورہ ہے۔ مثلاً یہ کہیں کہ مرزائی قیامت تک مرزاغلام احمد کو مسلمان ثابت نہیں کر سکتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا مناظرہ قیامت تک جاری رہے گا۔
    ۲… کبھی مرزاجی کہتا ہے کہ مرنے سے پہلے سارے یہود ونصاریٰ صحیح بات پر ایمان لے آتے ہیں۔ کیونکہ موت کے وقت ان کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ ان باتوں سے مرزاجی اپنے مریدوں کو قابو رکھنے اور سادہ لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ورنہ سب سمجھ سکتے ہیں کہ آیت کریمہ میں ’’لیؤمنّن‘‘ کے صیغے نے اس بات کو مستقبل کے ساتھ خاص کر لیا ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا کہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ مگر مرزاجی اس کا معنی لیؤمنن کہ جگہ لیؤمن کرتے ہیں کہ تمام اہل کتاب ایمان لے آتے ہیں۔ حالانکہ یہ گرائمر (صرف نحو کے) قواعد کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔
    ۳… 2534پھر مرزاجی یہاں ایمان کامعنی وہ ایمان کرتے ہیں جو آخری وقت (غرغرہ اور نزع کے وقت) کا ایمان ہے جو ایمان مقبول نہیں جیسے فرعون کا ایمان ڈوبتے وقت کا نامنظور تھا۔ حالانکہ قرآن پاک میں صرف ایک سورۃ بقرہ میں ایمان یا اس کے مشتقات تقریباً پچاس جگہ ذکر ہوئے ہیں۔ ان سب مقامات پر بلکہ قرآن پاک کی دوسری سینکڑوں جگہوں پر ایمان سے مراد ایمان مقبول ہے۔
    جب مرزاجی کسی آیت کے معنی میں دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو لکھ مارتے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں اتنی جگہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے مگر یہاں سینکڑوں مقامات پر ایمان کے معنی ایمان مقبول سے گریز کر کے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔
    ۴… اگر ایمان سے، ایمان مردود اور نامقبول ہی مراد ہوتا ہے تو پھر لیؤمننّ بہ قبل موتہ نہ کہا جاتا۔ کیونکہ مرنے سے پہلے کا ایمان تو مقبول ومنظور ہے۔ وہاں موت کے وقت یعنی غرغرے کا ایمان مقبول نہیں ہوتا تو قبل موتہ کی جگہ عند موتہ ہونا چاہئے تھا کہ ان اہل کتاب کو موت کے وقت حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک جیسی فصیح وبلیغ کتاب عند موتہ نہیں فرماتی بلکہ قبل موتہ فرماتی ہے۔
    ۵… کبھی مرزائی آڑ لیتے ہیں کہ قبل موتہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع نہیں ہے اور ایک شاذ قرأت کا سہارا لیتے ہیں۔ جس میں قبل موتہ کی جگہ قبل موتہم آیا ہے۔ حالانکہ پہلے تو قرأت متواترہ کے مقابلہ میں قرأت شاذہ کا کیا اعتبار ہے۔ جب کہ وہ کمزور ہے؟ پھر اگر مان لیا جائے تو اس صورت میں معنی اس طرح کریں گے جو قرأت متواترہ کے مطابق ہوں۔ اس طرح معنی 2535یوں ہوں گے کہ جب (عیسیٰ علیہ السلام) دوبارہ آئیں گے تو اس وقت کے بچے ہوئے سارے اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور یہ معنی ان بیسیوں حدیثوں کے عین مطابق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔
    ۶… اب آیت نمبر۴ اور آیت نمبر۵ کو ملا کر پھر پڑھیں۔ یہاں ذکر ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ ان کو قتل نہیں کیا۔ ان کو سولی نہیں دی۔ ان کو اﷲتعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پر ان کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب کو ایمان لانا ہوگا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ تمام ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ انہیں کا ذکر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معنی کرنا قرآن پاک سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن پاک کا فیصلہ بالکل صاف ہے۔
    ۷… اب آپ مرزاقادیانی کا ترجمہ دیکھ کر ذرا لطف اٹھائیں۔ وہ اس کا معنی (ازالہ اوہام ص۳۷۲، خزائن ج۳ ص۲۹۱) میں یوں لکھتے ہیں: ’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیںجو ہمارے اس بیان مذکورہ پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے۔ جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔‘‘
    پہلے تو مرزاجی کے اس ترجمے کا مطلب ہی کوئی نہ سمجھے گا اگر سمجھ بھی جائے تو مرزاناصر احمد اور سارے مرزائی بتائیں کہ یہ الفاظ جو مرزاجی نے ترجمہ میں گھسیٹے ہیں۔ قرآن پاک کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے؟ ورنہ پھر حدیث رسول ﷺ کے مطابق جہنم کے لئے تیار رہیں۔ خود مرزاجی نے لکھا ہے کہ 2536’’مؤمن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘
    (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)
    اگر ایمان ہے تو تیرہ سو سال کے مجددین یا کسی حدیث سے یہ معنی ثابت کریں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب بالکل صاف ہے۔ مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مزید وضاحت یا تائید کے لئے بعض بزرگان سلف کے ارشادات بیان کر دئیے جائیں۔
    (امام شعرانی الیواقیت والجواہر جلد نمبر۲ ص۱۴۶) میں لکھتے ہیں: ’’الدلیل علیٰ نزولہ قولہ تعالیٰ وان من اہل الکتب الا لیؤمننّ بہ قبل موتہ اے حین ینزل… والحق انہ رفع بجسدہ الی السماء والایمان بہ واجب‘‘

اس صفحے کی تشہیر