1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۴)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قرآن سے حیاتِ عیسی علیہ السلام کا ثبوت (آیت نمبر ۴)
    آیت نمبر۴: ’’وبکفرہم وقولہم علی مریم بہتانا عظیماً وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اﷲ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الاتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اﷲ الیہ وکان اﷲ عزیزاً حکیما (نسائ:۱۵۷،۱۵۸)‘‘ {(اور ہم نے ان یہود پر لعنت کی) ان کے کفر اور مریم پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے اور کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر ڈالا ہے جو اﷲ کے رسول ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ان کو نہ قتل کیانہ سولی پر چڑھایا۔ البتہ ان کے لئے (ایک آدمی) مشابہ کر دیا گیا اور اس میں اختلاف کرنے والے (خود) شک کے اندر ہیں۔ ان کو اس واقعہ کا کوئی قطعی علم نہیں ہے۔ صرف ظن (تخمین) کی پیروی ہے اور انہوں نے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو یقینا قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اﷲتعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا اور اﷲ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں۔}
    اس آیت کریمہ نے اصل مسئلے کا بالکل فیصلہ کر دیا کہ نہ تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ ہی سولی چڑھایا۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ 2529مرزاجی کبھی کہتے ہیں کہ روح کو اٹھایا کبھی کہتے ہیں اٹھانا بمعنی عزت دی۔ بھلا آپ خود غور کریں۔
    ۱… کہ قرآن پاک میں اسی ذات کے اٹھانے کا ذکر ہے جس کے قتل کا یہودی دعویٰ کرتے تھے تو کیا وہ روح کو قتل کرتے تھے۔ یا جسم اور روح دونوں پر قتل کا فعل واقع ہونا تھا۔ اس سے صاف وصریح معلوم ہوا کہ رفع اس کا ہوا جس کو وہ قتل کرنا یا سولی پر چڑھانا چاہتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم اور روح دونوں تھے۔ صرف روح نہ تھی۔
    ۲… ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ اور پھر ’’وما قتلوہ‘‘ میں جب تمام ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں تو پھر رفعہ اﷲ کی ضمیر کیوں ان کی طرف راجع نہیں؟
    ۳… بات یہ بھی قابل غور ہے کہ رفع کا ذکر اسی وقت کا ہے جس وقت وہ قتل کرنا چاہتے تھے۔ مرزاجی روح کا رفع مراد لے کر ۸۷سال بعد کشمیر میں رفع روحانی کہتے ہیں۔
    ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند
    ۴… یہود مطلق قتل کے قائل نہ تھے۔ بلکہ وہ سولی پر چڑھا کر سولی کے ذریعے قتل کے قائل تھے تو جب اﷲتعالیٰ نے فرمایا ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ان یہودیوں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا۔ مرزاجی کا ترجمہ یوں ہے کہ نہ ان کو قتل کیا نہ سولی پر قتل کیا۔ (کتنا بھدا ترجمہ ہے)
    ۵… آیت میں ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ہر عقلمند جانتا ہے کہ بل کے بعد والی بات، بل سے پہلے والی بات کی ضد ہوتی ہے۔ جیسے کہا جائے کہ زید لاہور نہیں گیا، 2530بلکہ سیالکوٹ گیا۔ یا یوں کہیں زید مسلمان نہیں بلکہ مرزائی ہے تو اس کا یہی معنی ہے کہ دوسری بات پہلی بات کے خلاف ہے۔
    اب اﷲتعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ان کو قتل نہیں کیاگیا۔ بلکہ میں نے اپنی طرف اٹھالیا تو یہ تب ہی صحیح ہوسکتا ہے کہ رفع جسمانی مراد ہو۔ ورنہ مرزاجی کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ اﷲتعالیٰ نے ان کو موت دے دی تو قتل اور موت میں کوئی تضاد نہیں۔ کیونکہ قتل میں بھی موت ہوتی ہے۔
    اس ’’بل‘‘ نے بھی مرزائیوں کا بل نکال دیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ قتل میں بھی موت خدا ہی دیا کرتے ہیں تو اس کاکیا مطلب ہوا کہ انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے موت دے دی۔ (معاذ اﷲ)
    ۶… آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے ارادے کے وقت خداتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا کر بچا لیا اور مرزاجی کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے ۸۷سال بعد سری نگر میں گمنامی کی موت مرے۔ (معاذ اﷲ)

اس صفحے کی تشہیر